| عنوان: | وہابیت کا جھگڑا (قسط:چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | سیدہ کلثوم امجدی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
گیارہویں شریف
اسی طرح گیارہویں تاریخ کسی خوش عقیدت مسلمان نے حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی فاتحہ کر دی تو وہابی صاحب بھن گئے۔ مرچیں لگ گئیں۔ آپ کا کیا نقصان ہوا؟ آپ کو کیا ایذا پہنچی؟ آپ کے دل میں کیوں درد اٹھا؟
او میاں! ناٹکوں سے نہ چڑنے والو! سینماؤں سے نہ کھسیانے والو! کانگریسی جلسوں اور جلوسوں میں بے پردہ عورتوں کے ساتھ اختلاط رکھنے والو! ان کی تقریریں سننے والو!
ایسے مجامع میں جہاں بے پردہ عورتیں بے حجابانہ تقریریں کرتی ہوں شرکت کرنے والو! گیارہویں شریف میں کیوں کھسیاتے ہو؟ اس میں تمہیں آزردہ کرنے والی چیز کیا ہے؟ قرآن کریم کی تلاوت مومن کے تو گھبرانے کی بات نہیں، بے ایمان ضرور اس سے چڑتے ہیں۔
إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَةِ[پارہ: 24، سورہ زمر، آیت: 45]
جب خدائے وحدہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل پریشان ہوتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ[پارہ: 24، سورہ حم السجدہ، آیت: 26]
کافروں نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں بیہودہ شور مچاؤ تاکہ تم غالب ہو۔
قرآن پاک سننے سے گھبرانا، اس سے چڑنا اور برا ماننا یہ تو قرآن پاک نے کفار کا کام بتایا ہے۔ گیارہویں کی فاتحہ میں قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے آپ اس سے کیوں گھبراتے ہیں؟ اس کے علاوہ اور کیا ہوتا ہے کچھ طعام یا شیرینی ہدیۂ حاضرین کر دی جاتی ہے۔ اس میں کیا مضائقہ ہے؟ حسن سلوک اور احسان، شریعت میں محمود ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی علامتوں میں شمار فرمایا ہے۔ کوئی بہت ہی بڑا سخت دل کنجوس ہوتا وہ بھی دوسرے کے خرچ کرنے پر برا نہ مانتا۔ آپ میں کیا صفت ہے جو آپ انفاق علی المسلمین پر بگڑ کر مناع للخير بنے جاتے ہیں۔ اس میں آپ کو کون سی چیز ناجائز نظر آئی؟
ہاں ایک یہ بات شاید آپ کہیں کہ تلاوت و طعام کا ایصال ثواب کیا جاتا ہے، حضور غوث پاک کو۔ تو آپ کو یہ معلوم نہیں کہ ایصال ثواب عبادات بدنیہ و مالیہ کا شریعت نے جائز رکھا ہے۔ حضرت سعد نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب ارشاد اپنی والدہ کے ایصال ثواب کے لیے کنواں بنوایا۔ حدیث شریف میں موجود ہے، اس مسئلہ پر تمام اہل سنت کا اتفاق ہے۔ شرح عقائد اور تمام دینی کتب میں مصرح ہے۔ پھر وہ چیز کیا ہے جو آپ کو بدعت لگتی ہے؟ صرف گیارہویں تاریخ کا تعین! تو کیا اس کی ممانعت میں کوئی حدیث وارد ہوگئی ہے؟ عمل خیر کے لیے تعین اور خاص اموات کے ایصال ثواب کے لیے حدیث شریف سے ثابت ہے۔ خود حضور انور روح مجسم جان مصور صلی اللہ علیہ وسلم سالانہ شہداء احد کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ اس سے تعین کا پتہ چلا، اور تعین کا پتہ چلانا ہو تو احادیث کی کتابیں مالامال ہیں۔
حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کے روز فتح کی خوشی کے لیے اسی تاریخ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کے لیے فرمایا۔ اپنی ولادت شریف کے روز یعنی دوشنبہ کو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے:
فِيْهِ وُلِدْتُ
اس دن میں میری پیدائش ہوئی ہے۔
یہ تعین ہوئی یا کیا؟ غرض کوئی عذر و حیلہ ان کے بنائے نہیں بنتا لیکن مسلمانوں میں نزاع پیدا کرنے اور اختلاف ڈالنے کے لیے ضد ہے، اصرار ہے۔ گیارہویں شریف سے عداوت ہے۔ اس کے نام سے چڑتے ہیں۔ کوئی ادنیٰ سی وجہ بھی ہوتی، کوئی شرعی دلیل اس امر کی ممانعت پر قائم ہوتی تو موقع تھا کہ انکار کرتے مگر نفس و ہویٰ کے لیے انکار اور جماعت اہل اسلام میں تفرقہ اندازی نہایت افسوس ناک جرم ہے۔ اسی طرح اور مسائل میں نزاع ہے۔
مدعا یہ ہے کہ یہ امور ایسے دقیق و غامض اور ایسے مشکل و لاینحل تو ہیں نہیں، جہاں تک صاحب عقل و ہوش کی رسائی نہ ہو سکے۔ سمجھ میں آتا ہے اور صاف سمجھ میں آتا ہے اور ہر منصف مزاج جب نظر ڈالتا ہے اس کو یقین ہو جاتا ہے کہ ان فرعیات میں ان کا اعتراض بے جا ہے۔ صرف نفسانیات کا کرشمہ ہے۔ شرعی دلائل اور قوی برہانیں ان امور کے جواز پر موجود ہیں۔ ایسے ہی اصولی مسائل جن میں وہابیہ نے طوفان برپا کر دیا ہے اس قدر مشکل نہیں ہیں کہ کسی وہابی کی فہم ان تک رسائی نہ کر سکے۔ یہ تو سب کو تسلیم ہے کہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت اور تعظیم و توقیر اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ حضور کی جناب میں گستاخی بے شبہ کفر ہے۔ پھر مولوی رشید و خلیل، محمد قاسم، اشرف علی وغیرہ کی طرف داری میں اس قدر وارفتہ ہو جانا کہ حضور کی شان میں ان کے ناقص کلمات اور گستاخانہ الفاظ برداشت کیے جائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ شد و مد سے ان کی طرف داری کی جائے۔ ایسی کتابیں جن میں یہ کفری مضامین ہوں ان کو بکرات و مرات چھاپ کر شائع کیا جائے۔
تمام عرب کے مسلمان آزردہ و رنجیدہ ہوں۔ حرمین طیبین تک سے ان ناقص کلمات پر کفر کے فتوے آجائیں مگر ضد اور ہٹ میں کمی نہ آئے۔ بارگاہ الٰہی میں سر نہ جھکے، توبہ کے لیے زبان نہ ہلے۔ حضور کی گستاخی کرنے کے باوجود ان مولویوں کو نہ چھوڑا جائے، نہ انہیں توبہ پر مجبور کیا جائے۔ کتنی بڑی بے حمیتی ہے۔ ہندوستان میں ایک عظیم فتنہ برپا ہے۔ گھر گھر میں جنگ ہے۔ ہر جگہ شور ہے، غوغا ہے۔ کچھ تو سنجیدہ طبیعت انسان اس درد کا احساس کریں اور مسلمانوں کو اس کمزور کر دینے والے نزاع سے نجات دلائیں۔ اور وہابی صاحبان ذرا سی ضد چھوڑ دیں تو یہ تمام جھگڑا ایک دم ختم ہو جائے اور ہندوستان کے گوشے گوشے میں جنگ و تعصب کے بھڑکانے والے شعلے بجھ جائیں اور یہ آگ سرد ہو جائے۔ اگر چند کلماتِ ناشائستہ تمہاری زبان سے نکلے، تمہارے قلم سے لکھے گئے، تمام ملک ان سے آزردہ خاطر ہے، تمام مسلمان ان سے رنجیدہ ہیں۔ ہر مسلمان کا دل اس سے دکھا ہوا ہے۔ تو تمہیں ان کلموں پر کیا اصرار ہے؟ تم اس بات کی پچ کرنے پر کیا مجبور ہو؟ توبہ کے دو کلموں سے اس نزاع کا خاتمہ کیوں نہیں کر دیتے؟ اگر کوئی باہمت وہابی اپنے اکابر کو توبہ کی ہمت دلائے، اور ان پر زور دے تو تمام ہندوستان کی یہ صد سالہ جنگ منٹوں میں طے ہو سکتی ہے۔ کیا ہے کوئی ایسا صلح جو؟ کیا ہے کوئی ایسا امن پسند؟ کیا ہے کوئی ایسا درد مند جو اس کوشش کے لیے کمربستہ اور تیار ہو؟ جاہل سے جاہل انسان اور سرکش سے سرکش شخص بھی خدا کے حضور توبہ کرنے اور جبینِ نیاز خاک پر رکھنے میں نہیں جھجکتا۔ کیا دعویدارانِ علم و ہمہ دانی عملی طور پر ثابت کریں گے کہ ان میں بھی اتنی حمیت باقی ہے؟ اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے۔[السواد الاعظم، شعبان و رمضان 1349ھ، ص: 14 تا 25۔ اخبار الفقیہ امرتسر، 1931ء، 14 جولائی، ص: 6، 7، 7 اگست، ص: 3، 4، 21 اگست ص: 2 تا 4]
