Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سرکار نور اور ردِ بد مذہباں (قسط دوم)|سید رضوان اللہ حسنی مصباحی

سرکار نور اور ردِ بد مذہباں (قسط دوم)
عنوان: سرکار نور اور ردِ بد مذہباں (قسط دوم)
تحریر: سید رضوان اللہ حسنی مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

سرکار نور اور ردِ بد مذہباں (قسط دوم)

کیونکر ہوتا کہ اسلام کی فطرت ہی یہی ہے جتنا دبانے کی کوشش کی جائیگی اتنا ہی ابھرے گا اور بمطابق فطرتِ اسلام ایسا ہی ہوا کہ جس اسلام کے ماننے والے کبھی فقط چالیس کی تعداد پر مشتمل تھے اب وہ ہزاروں اور پھر لاکھوں کی تعداد میں ہو گئے؛ مگر جب اعلانیہ طور پر کچھ بگاڑ نہ سکے تو پوشیدہ طور پر سردارِ منافق عبد اللہ بن سبا اور اس کے متبعین بظاہر لباسِ اسلام اوڑھ کر مسلمانوں میں شامل ہو گئے تاکہ مسلمانوں کے عقائد و نظریات میں فساد برپا کر دیا جائے اور مسلمان منادیِ توحید ہونے کے باوجود ایک نہ رہیں۔ پس ان کا یہ مشن ایک حد تک کامیاب رہا اور یہ منافقین آستین کے سانپ مسلمانوں کے مابین رہ کر ان کے عقائدِ حقہ صحیحہ کو عقائدِ فاسدہ میں بدلنے میں کوشاں رہے۔

پس وہ اسلام جو بہر اعتبار متحد تھا، عقائد و نظریات میں منتشر ہو کر شامیانۂ توحید کے نیچے رہتے ہوئے بھی شیعیت، خارجیت، رافضیت اور تفضیلیت وغیرہ میں بٹ گیا؛ لیکن قربان جاؤں وارثینِ انبیاء پر کہ جب ہر سمت سے فتنے اٹھنے لگے، نئی نئی جماعتیں معرضِ وجود میں آئیں اور غیر دینی عقائد تراشے جانے لگے تو ضرورت محسوس ہوئی اس بات کی کہ ان گمراہ کن عقائد کا پردہ چاک کر کے عقائدِ حقہ کو واضح کیا جائے اور علمائے حق ان بد مذہبوں کا کھل کر رد کریں۔

عہدِ رسالت سے لے کر اب تک یہی ہوتا آیا ہے، انہیں علمائے حق میں سے ایک نور العارفین، خاتم الاکابر، مرشدِ اجازت و خلافت و استاذِ اعلیٰ حضرت و مرشدِ برحق حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری علیہ الرحمہ ہیں؛ جنہوں نے چند کتابیں لکھ کر مسلکِ اہلِ سنت والجماعت کے عقائدِ حقہ ثابتہ اور بد مذہبوں کے عقائدِ باطلہ کا رد کر کے بتا دیا کہ یہی ہمارے اسلاف کا طریقہ کار اور شیوہ رہا ہے۔ خاص کر دلیل الیقین من کلمات العارفین اور سراج العوارف فی الوصایا والمعارف نیز العسل المصفیٰ فی عقائد ارباب سیدنا المصطفیٰ جیسی مایہ ناز کتابیں۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!