Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (قسط: پنجم)

امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
عنوان: امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: مہر تاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

”کلام“ صفتِ الٰہی کی بحث

علمِ اصول میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام کے بارے میں تفصیل سے کلام کیا گیا ہے۔ عموماً متکلمین کلام کی دو قسمیں کرتے ہیں: کلامِ نفسی اور کلامِ لفظی۔ زبان پر آنے سے پہلے جو بات دل میں ہوتی ہے وہ کلامِ نفسی ہے، اور زبان پر آجائے تو وہ کلامِ لفظی ہے۔ بلفظِ دیگر مفہوم و معنی کلامِ نفسی ہے اور جو حروف و اصوات سے مرکب ہے وہ کلامِ لفظی ہے۔

کلام جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے وہ کلامِ نفسی ہے جو نہ عربی ہے نہ عبرانی، نہ کہ کلامِ لفظی، کیوں کہ کلامِ لفظی تو حادث ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کلامِ نفسی کو سنا جا سکتا ہے؟ امام اشعری کا جواب اثبات میں ہے، کہ جس طرح بے رنگ و بے جسم شے کو دیکھنا ممکن ہے اسی طرح بلا صوت کلام کو سننا بھی ممکن ہے۔ صاحبِ ”تبصرۃ الادلہ“ نے امام ماتریدی کی ”کتاب التوحید“ کی عبارت سے استدلال کرتے ہوئے لکھا کہ امام ماتریدی نے بھی بلاصوت کلام کے سماع کو جائز قرار دیا، مگر ان کی طرف امام اشعری سے اس اختلاف منسوب ہے۔

امام اشعری اور امام ماتریدی کا یہ اختلاف دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو سماعِ کلامِ الٰہی کا واقعہ ہوا اُس میں ہے۔ امام اشعری فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کلامِ نفسی سنا، امام ماتریدی فرماتے ہیں کہ ایسی آواز سنی جو اللہ کے کلام پر دلالت کرتی ہے۔ پہلے قول کی بنا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ”کلیم اللہ“ ہونا واضح ہے، کہ کلامِ نفسی عام لوگ نہیں سن سکتے، اُنھوں نے سننے کی سعادت حاصل کی۔ دوسرے قول کی بنا پر کلیم اللہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے خرقِ عادت کے طور پر (یعنی کسی کتاب اور فرشتے کے واسطے کے بغیر) وہ آواز سنی جو کلامِ الٰہی پر دال تھی، یہ ان کی خصوصیت تھی۔

کلامِ حسی اور کلامِ لفظی کی تقسیم اور امام احمد رضا کا موقف

اعلیٰ حضرت اس تقسیم سے اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اس کا شد و مد سے رد کرتے ہیں۔ آپ نے خاص اسی تقسیم کے خلاف ایک مفصل رسالہ لکھا۔ اس تعلق سے اعلیٰ حضرت ”المستند المعتمد“ میں نہایت اختصار کے ساتھ فرماتے ہیں:

کلامِ نفس اور کلامِ لفظی کی تقسیم متاخرینِ متکلمین کی ایجاد ہے۔ انھوں نے معتزلہ کو خاموش کرنے اور عام لوگوں کی تقریبِ فہم کے لیے ایسا کیا، جیسا کہ آیاتِ متشابہات میں تاویل کا مسلک اختیار کیا، ورنہ اصل مذہب وہ ہے جو اسلافِ ائمہ کرام کا ہے: کہ کلامِ الٰہی ایک ہے، اس میں کوئی تعدد نہیں، اللہ سے الگ ہوا نہ ہو، دل، زبان یا کاغذ، کان میں سرایت نہیں، پھر بھی ہمارے سینوں میں وہی محفوظ ہے، ہماری زبانوں سے اس کی تلاوت ہوتی ہے، ہمارے مصاحف میں وہی مکتوب ہے، ہمارے کانوں سے وہی سنا جاتا ہے۔ وہی ہے جو دلوں میں محفوظ ہے، متلو و مکتوب و مسموع ہے، وہی قدیم ہے، ہم اور ہمارا پڑھنا یاد کرنا، ہماری زبان اور ہماری تلاوت، ہمارے ہاتھ اور ہماری کتابت، ہمارے کان اور ہمارا سننا حادث ہے۔ [ملخصاً مترجماً المعتقد مع المستند، ص: 35]

خاص اسی موضوع پر امام احمد رضا نے ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا جس کا نام ہے ”انوارِ المنان فی توحیدِ القرآن“۔ یہ رسالہ علمِ کلام کا ایک شاہکار ہے جس کی سابق میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

امام احمد رضا کے تجدیدی کارنامہ ”انوارِ المنان“ کا خلاصہ

اعلیٰ حضرت نے علمِ اصول میں ایک تجدیدی کارنامہ یہ انجام دیا ہے کہ متاخرینِ متکلمین نے جو کلامِ الٰہی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا، آپ نے دلائل سے اس کا رد کیا ہے۔ ہم یہاں پر رسالہ ”انوارِ المنان“ کی اہم ابحاث اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں:

کسی چیز کے وجود کے چار مراتب ہوتے ہیں: وجودِ اعیان، وجود فی الاذہان، وجود فی العبارۃ، وجود فی الکتابۃ۔ جیسے زید کی ذات جو خارج میں ہے وہ وجودِ فی الاعیان ہے اور جو اس کی صورت ذہن میں حاصل ہوتی وہ وجودِ فی الاذہان ہے، اور وجودِ فی العبارۃ یہ کہ تم زبان سے کہہ دو ”زید“ کہ اسم عینِ مسمیٰ ہوتا ہے، اور وجودِ فی الکتابۃ جیسے زید کا نام لکھ دیا جائے۔ ہمارے ائمہ اسلاف کا عقیدہ ہے کہ یہ چاروں اقسامِ وجود ایک وجود کی تجلیات ہیں۔ اسی طرح قرآنِ مجید کے وجود کے مقامات ہیں، تو وہ قرآنِ پاک جو اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدیمہ ہے، ازلاً و ابداً اس کی ذات سے قائم ہے، جو نہ عینِ ذات ہے نہ غیرِ ذات، نہ خالق ہے نہ مخلوق۔ جب ہم پڑھتے، سنتے، لکھتے ہیں تو اس کو پڑھتے، اس کو سنتے اور اسی کو لکھتے ہیں، اور وہی ہمارے سینوں میں محفوظ ہوتا ہے۔

اس کی مثال حضرت جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام کی ان مختلف صورتوں میں تجلیات ہیں جن کے تعدد سے جبریل متعدد نہیں ہو گئے۔ اسی طرح قرآنِ پاک بھی واحد ہے، مقرو، مسموع، مکتوب و محفوظ فی الصدور ہونا اس کی مختلف تجلیات ہیں جن سے اس میں تعدد لازم نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ“ [سورۃ العنکبوت: 49]۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ”الفقہ الاکبر“ میں فرماتے ہیں: ”القرآن في المصاحف مكتوب وفي القلوب محفوظ وعلى الالسن مقرو وعلى النبي صلى الله عليه وسلم منزل، ولفظنا بالقرآن مخلوق، وكتابتنا له وقراءتنا له مخلوق والقرآن غير مخلوق“۔

رسالہ انوارِ المنان کی تین بنیادی ابحاث

کچھ ابحاث کی تکمیل کے بعد اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں کہ یہاں ہمیں تین امور کا ذکر مقصود ہے:

  1. اول: اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی صفتِ قدیمہ قائم بذاتہ تعالیٰ ہے، جو نہ عینِ ذات ہے نہ غیرِ ذات، وہ اس کلام سے ازلاً و ابداً متکلم ہے۔

  2. ثانی: ہماری ذات، صفات، افعال، اصوات، ہمارے حروف و کلمات سب حادث ہیں، جنھیں قدم سے کوئی تعلق نہیں۔

  3. ثالث: ہم نے جو اپنی زبانوں سے پڑھا، اپنے کانوں سے سنا، اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا اور اپنی سطروں میں لکھ لیا وہ وہی قرآنِ کریم و قدیم ہے جو ہمارے رب کے ساتھ قائم ہے، جو ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل ہوا، اور یہ سب اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے۔

آخر میں اعلیٰ حضرت پوری بحث کے خلاصے کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں: اس مسئلے کا آسان حل وہی حضرت جبریل امین علیہ السلام کا اونٹ کی شکل میں ابو جہل پر حملے والا واقعہ ہے۔ جس طرح جبریل امین علیہ السلام کا مختلف شکلوں میں آنا ان کے متعدد ہونے کو مستلزم نہیں، اسی طرح قرآن کا مکتوب، مقرو، مسموع اور محفوظ ہونا اس کی مختلف تجلیات ہیں جن سے اس کی حقیقت میں تعدد لازم نہیں آتا۔ یہی حق و صواب ہے اور عقلِ سلیم اس کو قبول کرتی ہے، اور یہی مذہب ہمارے ائمہ سلف کا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!