Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم عقائد وکلام (قسط: ششم)

امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
عنوان: امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: مہر تاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

قرآنِ مجید پر ایمان یعنی تمام آیات پر ایمان

قرآنِ پاک پر ایمان لانا ضروریاتِ دین سے ہے، اور اس پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآنِ پاک میں صراحت کے ساتھ کوئی بات ذکر کی گئی ہو تو جو محکمات سے ہو، یعنی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ ہو، تو اس کو ماننا بھی لازمی ہو جاتا ہے۔ بلفظِ دیگر وہ بات عقیدہ کا حصہ بن جاتی ہے۔ مثلاً حضرت عائشہ عفیفہ، طیبہ، طاہرہ، ام المومنین رضی اللہ عنہا پر منافقین نے غزوۂ مریسیع سے واپسی پر تہمت لگا دی جس کا قرآنِ پاک نے سورۂ نور میں کھلا رد کیا اور حضرتِ صدیقہ عفیفہ رضی اللہ عنہا کی عفت کا اعلان کیا۔ اب چونکہ قرآن نے صراحت اعلان کر دیا، اس لیے یہ عقیدہ کا حصہ ہو گیا اور اس کے بعد جو کوئی اُن پر تہمت لگائے وہ قرآنِ پاک کا انکار اور کفر کا ارتکاب کرے گا۔ اسی طرح کچھ ایسے امور ہیں جن کو اعلیٰ حضرت نے قرآنِ پاک کے بیان کے خلاف ہونے کے سبب رد کیا ہے اور اس کے رد و ابطال میں فتاویٰ اور رسالے لکھے۔ مثلاً ایک رسالہ ہے: ”نزولِ آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان“۔

قرآن سے نظریہ حرکتِ زمین و آسمان کا رد

اصل میں فلاسفہ آسمان کی حرکت کے قائل ہیں اور جدید سائنس داں زمین کی حرکت کے قائل ہیں۔ اعلیٰ حضرت ان دونوں نظریات کو قرآنِ پاک کے خلاف قرار دیتے ہوئے پورے شد و مد کے ساتھ اس کا رد فرماتے ہیں۔ اس کے رد میں یہ رسالہ ”نزولِ آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان“ [1339ھ] لکھا، جس میں آیاتِ قرآنی سے یہ ثابت کیا کہ زمین و آسمان دونوں اپنی اپنی جگہ ثابت ہیں، اور سیارے گردش میں ہیں۔ اعلیٰ حضرت کا استدلال اس آیتِ کریمہ سے ہے:

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا [سورۃ فاطر: 41]

ترجمہ: بیشک اللہ آسمان و زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکنے نہ پائیں اور اگر وہ سرکیں تو اللہ کے سوا انھیں کون روکے، بیشک وہ حلم والا بخشنے والا ہے۔

اس میں قرآنِ پاک نے لفظ ”امساک“ (روکنا) ارشاد فرمایا جس کی متعدد جہتوں سے تحقیق کرتے ہوئے اس لفظ سے سکونِ زمین و آسمان ثابت کیا۔ اپنے مدعا کو قرآنِ کریم کی آٹھ آیتوں سے ثابت کیا ہے کہ زمین و آسمان حرکت میں نہیں ہیں۔ یہ رسالہ ”فتاویٰ رضویہ مترجم“ جلد 27 میں موجود ہے۔

عقلی دلائل سے حرکتِ زمین کا رد

عقلی دلائل سے سکونِ زمین کے اثبات اور نظریہ حرکتِ زمین کے ابطال کے لیے مستقل رسالہ ”فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین“ تحریر فرمایا۔ یہ رسالہ علومِ عقلیہ خصوصاً ریاضی اور ہیئت میں امام احمد رضا کی عبقریت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہ رسالہ ایک مقدمہ، چار فصول اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ مقدمہ میں 35 ایسے امور ذکر کیے جو سائنس دانوں کے نزدیک مسلم ہیں، جن میں اکثر کی کمزوری کو اپنی نادر تحقیقات سے واضح کیا، بلکہ بعض کو مکمل رد کیا۔ فصلِ اول میں بارہ دلیلوں سے نظریہ نافریت کا رد کر کے حرکتِ زمین کا ابطال فرمایا، فصلِ دوم میں پچاس دلیلوں سے نظریہ جاذبیت کا رد کر کے حرکتِ زمین کا ابطال فرمایا، فصلِ سوم میں 43 دلائل سے حرکتِ زمین کا ابطال کیا۔ تینوں فصول میں 105 دلائل سے زمین کی حرکت کو باطل قرار دیا ہے۔ یہ رسالہ ”فتاویٰ رضویہ مترجم“ جلد 27 میں موجود ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!