Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

نظم وقت کامیاب زندگی کا راز

نظم وقت کامیاب زندگی کا راز
عنوان: نظم وقت کامیاب زندگی کا راز
تحریر: محمد احسان مصطفیٰ
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار ناگ پور

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نہایت ہی قیمتی، حسین اور بے بدل نعمت وقت ہے، جسے اس نے ہر انسان کو یکساں عطا فرمایا ہے۔ کائنات کا نظام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وقت کی پابندی کس قدر اہم ہے؛ سورج کا وقت پر طلوع و غروب ہونا، چاند کا مقررہ گردش میں رہنا، دن اور رات کا ایک خاص ترتیب کے ساتھ آنا جانا۔ یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ پوری کائنات ایک مضبوط نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کے اصول پر قائم ہے۔

اسی منظر کو قرآن کریم نے نہایت عمدہ انداز میں بیان فرمایا:

وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ [سورۃ یٰسٓ: 38]

ترجمہ کنز الایمان: “اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔”

انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، اگر اس فطری نظام سے سبق حاصل کرے اور اپنے اوقات کو منظم انداز میں گزارے تو یقیناً کامیابی اس کا مقدر بن جائے گی نیز وقت کی پابندی نہ صرف انسان کی شخصیت میں سنجیدگی، ذمہ داری اور وقار پیدا کرے گی بلکہ اسے عملی زندگی میں بھی نمایاں مقام عطا کرے گی۔

جبکہ اس کے برعکس جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے اور اسے سستی، غفلت اور بے مقصد مشاغل میں ضائع کر دیتے ہیں، وہ بالآخر ناکامی اور شرمندگی کا شکار بن جاتے ہیں۔ اور جب وہ ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ بے سود کھو دیا ہے۔

یقیناً عقلمند اور کامیاب انسان وہی ہے؛ جو وقت کی پابندی کو اپنی عادت بنائے اور نظم و ضبط کے ساتھ اس کا درست استعمال کرے، چنانچہ وقت کی قدر کے متعلق قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۙ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ [سورۃ العصر: 1 تا 3]

ترجمہ کنز الایمان: “اس زمانۂ محبوب کی قسم۔ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔”

قارئین کرام! اب ہم اسی موضوع پر مزید احادیث مبارکہ اور اسلاف امت کے بصیرت افروز اقوال و افعال پیش کرتے ہیں۔

Waqt Aur Taleemat-e-Nabwi وقت اور تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو جہاں عقائد، احکام، اذکار اور دیگر فرائض و واجبات کی جامع تعلیم دی، وہیں وقت کو نہایت عمدہ، بامقصد اور مؤثر طریقے سے گزارنے کی بھی واضح اور حکیمانہ رہنمائی فرمائی۔ چنانچہ:

  1. نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: “پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اور اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اور دولت مندی کو غربت سے پہلے، اور اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔” [المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، ج: 4، ص: 341، ح: 7845، دار الکتب العلمیہ بیروت]

  2. نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے: “روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت دن یہ اعلان کرتا ہے: اگر آج کوئی اچھا کام کرنا ہے تو کر لو آج کے بعد میں کبھی پیٹ کر نہیں آؤں گا۔” [شعب الایمان، ج: 3 sabotage، ص: 386، ح: 3840، دار الکتب العلمیہ بیروت]

مذکورہ احادیث پاک علم و عمل، عبادت و ریاضت بلکہ دنیا و آخرت کے بے شمار امور کو جامع ہیں؛ جو انسان کو ہمہ گیر رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ لہذا جو شخص ان احادیث کے پیش نظر اپنے شب و روز کو گزارے گا یقیناً وہ فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور دونوں جہاں کی ذلت و رسوائی سے محفوظ رہے گا۔

اقوال اسلاف اور وقت

تاریخ کا صفحہ قرطاس اس بات پر شاہد عدل ہے کہ ہمارے اسلاف نے وقت کے نظم و ضبط کو اپنی حیات کا اٹل شعار بنا رکھا تھا۔ انہوں نے ہر لمحہ شعور، ترتیب اور استقامت کے ساتھ اس طرح گزارا کہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ بے مقصد نہ رہا۔ ان کے نزدیک وقت ایک بیش قیمت امانت تھا؛ اس کا ضیاع صریح خسارہ اور اس کی حفاظت عین کامیابی تھی۔ یہی مثالی نظم و ضبط ان کی علمی رفعت اور عملی عظمت کا بنیادی راز بنا۔ ذیل میں اسلاف امت کے چند اقوال و افعال پیش کیے جاتے ہیں؛ جو وقت کی قدر و قیمت، حسن استعمال اور منظم درخشاں مثالیں پیش کرتے ہیں۔

  1. حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنه نے فرمایا:

    إِنِّي لَأَمْقُتُ الرَّجُلَ أَنْ أَرَاهُ فَارِغًا، لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الدُّنْيَا وَلَا عَمَلِ الْآخِرَةِ

    یعنی بیشک مجھے اس فارغ اور بیکار شخص سے نفرت ہے جسے کسی دنیاوی اور اخروی عمل کی پرواہ نہیں۔ [المصنف لابن أبی شیبہ، ج: 19، ص: 340، ح: 37282، دار کنوز اشبیلیا ریاض]

  2. امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مدت تک صوفیائے کرام کی صحبت اختیار کی، تو ان کے دو جملوں نے مجھے بہت زیادہ فائدہ دیا۔ ایک یہ کہ:

    الْوَقْتُ سَيْفٌ، فَإِنْ قَطَعْتَهُ وَإِلَّا قَطَعَكَ

    یعنی “وقت تلوار ہے، اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو وہ تمہیں کاٹ دے گا۔”

    اور دوسرا:

    وَنَفْسُكَ إِنْ لَمْ تَشْغَلْهَا بِالْحَقِّ وَإِلَّا شَغَلَتْكَ بِالْبَاطِلِ

    یعنی “تم نے اگر اپنے نفس کو حق و صداقت کے کاموں میں مشغول نہ کیا تو وہ تمہیں باطل کاموں میں لگا دے گا۔” [الجواب الکافی، ج: 1، ص: 106، دار المعرفۃ]

  3. امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “خدا عزوجل کی قسم! کھانا کھاتے وقت علمی مشغلہ ترک ہو جانے کا مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ وقت نہایت ہی قیمتی دولت ہے۔” [عیون الأنباء فی طبقات الأطباء، ص: 12، دار الحیاۃ بیروت]

  4. علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے “تذکرۃ الحفاظ” میں خطائب بغدادی علیہ الرحمہ کے حوالے سے لکھا ہے: “آپ راہ چلتے بھی مطالعہ جاری رکھتے۔” [تذکرۃ الحفاظ، ج: 3، ص: 224، دار الکتب العلمیہ بیروت]

  5. ایک بزرگ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں: “علماء و عقلاء سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی سب سے اہم پونجی جس کو بچا بچا کر استعمال کرنا چاہیے، وقت ہے۔ لمحات زندگی فراہم کرنے والا وقت درحقیقت بڑی غنیمت ہے، اس لیے اس کو بچا بچا کر رکھنا چاہیے کہ انسان کے ذمہ کام بہت ہیں جبکہ وقت اچک کر بہت جلد غائب ہونے والی چیز ہے۔” [کتاب الذیل علی طبقات الحنابلہ لابن رجب، ج: 1، ص: 149، مطبعۃ السنۃ المحمدیۃ]

  6. عظیم ترین مصنف: امام اہلسنت مجدد دین و ملت مولانا شاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک ہزار سے زائد کتابیں تصنیف فرمائیں اور فتویٰ نویسی کی ابتدا سوا تیرہ سال کی عمر میں کی اور دن رات میں اڑھائی، تین گھنٹے کے قریب آرام فرماتے۔ بیماری کی حالت میں بھی کبھی مطالعہ و تصنیف و تحریر کو نہ چھوڑا بلکہ اگر کسی جگہ آب و ہوا کی تبدیلی کے لیے جانا ہوا تو وہاں جانا اگرچہ ڈاکٹروں کے بقول سیر کے لیے ہوتا مگر آپ وہاں بھی اپنی کتابیں لے کر جاتے اور مطالعہ و تصنیف کا سلسلہ وہاں بھی جاری رہتا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں صحیح اسلامی عقائد موجود ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق خاص کے ساتھ وقت کی اہمیت جاننے اور اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔ [وقت کی اہمیت، ص: 5، مکتبہ علمی دنیا]

اللہ پاک ہمیں اسلاف کے طرز عمل پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

قارئین محترم! آج ایک حقیقت سب کے سامنے ہے کہ بچے ہوں یا بوڑھے، لڑکے ہوں یا لڑکیاں ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ہے، لیکن سوال یہ ہے ہم اس کا استعمال کیسے کر رہے ہیں؟ یقیناً ٹیکنالوجی مثلاً موبائل، انٹرنیٹ اور ٹی وی اپنی جگہ مفید ہیں، لیکن اس کا بے جا استعمال قیمتی وقت کو ضائع کر دیتا ہے، اس لیے اسے ضرورت تک محدود رکھیں اور اپنی زندگی کا مقصد اور نصب العین مقرر کریں اور اپنے شب و روز کو باقاعدہ ترتیب دیں، مثلاً نمازوں کو باجماعت اپنے وقت پر ادا کریں، تلاوت و اذکار، علمی مشاغل، کسب معاش، گھریلو امور اور اچھی صحبت کے لیے اوقات مقرر کریں، شروع میں تھوڑی دشواری محسوس ہو سکتی ہے، مگر جب عادت بن جائے گی تو اس کی برکتیں نمایاں ہونے لگیں گی اور کامیابی قدم چومتی نظر آئے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر اور اس کے درست استعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمارے اوقات میں برکت دے کر ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب کرے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!