| عنوان: | خواجہ بندہ نواز کی بارگاہ میں ایک نیاز مند کی حاضری |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | ارشد رضا مدنی |
سرکار بندہ نواز گیسو دراز کی بارگاہِ ناز میں حاضری ایک دیرینہ خواب تھا جو اس بار فروری کے دورے میں شرمندۂ تعبیر ہوا، حیدرآباد میں شہبازِ دکن علیہ الرحمہ کے چمنستانِ علم و فضل یعنی مرکزِ اہل سنت میں حاضری اس کی تمہید بنی۔ چنانچہ گلبرگہ شریف کی سرزمین پر مسلکِ اعلیٰ حضرت کے سچے اور بیباک ترجمان مولانا بہاء الدین صاحب کو حیدرآباد میری آمد کی خبر ہوئی تو انھوں نے جھٹ دو روزہ پروگرام سیٹ کر لیا۔ فقیر مرکزِ اہل سنت حیدرآباد میں شہبازِ دکن کے یومِ ولادت کے موقع پر یعنی 3 فروری کو ہونے والے پروگرام میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مدعو تھا، مولانا موصوف نے گلبرگہ شریف سے گاڑی بھیج دی اور ہم جلسہ سے فارغ ہوتے ہی گلبرگہ شریف کی طرف روانہ ہو گئے۔ گلبرگہ شریف حیدرآباد سے تقریباً دو سو چالیس کلومیٹر دور ہے۔ رات کے آخری پہر سفر شروع ہوا اور صبح 8 بجے تک گلبرگہ شریف پہنچ گئے۔
یوں تو گلبرگہ شریف ایک عام سا شہر ہے، لیکن جب کسی کی محبت سویدائے دل میں سرایت کر جاتی ہے تو اس کی بستی کا چپہ چپہ اور در و دیوار پرکشش لگنے لگتے ہیں، اور ہر ذرے سے محبوب کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ عنفوانِ شباب میں ہی کسی مکتبے پر “جوامع الکلم” ہمارے ہاتھ لگ گئی، جو سرکار بندہ نواز گیسو دراز علیہ الرحمہ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے۔ اس وقت ہم اپنی ذاتی لائبریری ترتیب دے رہے تھے اور توجہ تصوف کی کتابوں کی طرف تھی، اپنے ذخیرۂ کتب میں اس خوبصورت اضافہ پر ہم دل ہی دل میں خوش تھے، کیوں کہ ملفوظات کے ذخیرے میں ہمیں “جوامع الکلم” سب سے دل چسپ اور معلوماتی کتاب لگی، جس زمانے میں کتاب خوانی ہمارا سب سے دل چسپ اور اہم مشغلہ تھا اسی وقت ہم نے پوری کتاب چاٹ ڈالی۔
یہ کتاب بہت ضخیم ہے پھر بھی صفحہ اول سے آخر تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہ لگا، فقہی اور مذہبی رجحانات کی بنا پر ہم اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے ملفوظ شریف کو سب پر ترجیح دیتے ہیں۔ مخدومِ بہار حضرت خواجہ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کی مکتوباتِ صدی کے مطالعہ نے دل کی دنیا میں ایک ہیجان پیدا کر دیا تھا، مکتوباتِ صدی کی خصوصیت یہ ہے کہ توجہ سے پڑھنے والا اپنے اندرون میں ایک غیر معمولی تبدیلی اور انقلاب محسوس کرے گا، جس پر اپنے مرشد کا سایہ نہ ہو وہ اس کتاب کو پڑھ کر عالمِ جذب میں بھی جاسکتا ہے، مگر جوامع الکلم ایسے جذبات کو کنٹرول کرنے میں نسخۂ کیمیا بن سکتی ہے۔ سبع سنابل شریف اور داتا صاحب کی کشف المحجوب تو ہم نصاب کی کتاب سمجھتے ہیں، جسے ہر طالب کو درسِ نظامی کے دوران ہی چند بار پڑھ لینا چاہیے۔ ہم نے ملفوظات اور مکتوبات پر مشتمل تصوف کی متعدد کتابیں پڑھیں لیکن تاثر “مکتوبات صدی” اور “جوامع الکلم” سے زیادہ رہا۔ مکتوباتِ صدی سے عقیدت نے ہمیں چار سال قبل مخدومِ بہار کی بارگاہ میں جانے پر مجبور کر دیا، راج گیر کے جنگلات اور پہاڑیوں سے ہوتے ہوئے جہاں مخدومِ بہار نے دس سال صحرانوردی میں گزار دیے تھے، جہاں ان کا چلہ گاہ بھی ہے ہم بہار شریف پہنچے اور مخدومِ بہار کی بارگاہ میں حاضری لگا دی۔ اس بارگاہِ عالی کا ذکرِ خیر کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ ابھی بات کرتے ہیں بندہ نواز کی، جن کی بارگاہ کی حاضری کا موقع اب تک میسر نہ آیا تھا، لیکن اس بار حاضری ہو ہی گئی۔ الحمد للہ علیٰ ذلک۔
ہمارے مرکزِ عقیدت سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے بندہ نواز کا ذکر اپنے ملفوظات میں اس طرح کیا کہ دل فطری طور پر ان کی طرف مائل ہو گیا، اعلیٰ حضرت نے بندہ نواز کے گیسو دراز ہونے کی وجہ ذکر کی، فرمایا کہ ایک بار سرکار بندہ نواز اپنے مرشدِ گرامی حضور نصیر الدین چراغ دہلوی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جب آپ سواری پر سوار تھے، بندہ نواز نے اپنے مرشد کی دست بوسی کی تو مرشد نے کہا: اور نیچے! گھٹنے پر سر دے دیا، فرمایا: اور نیچے، پاؤں پر گر گئے اور قدم بوسی کی، سر کے بال رکاب میں الجھ گئے، پھر بندہ نواز کی عقیدت نے اپنے مرشد کے رکاب سے الجھے ہوئے ان بالوں کو کٹانا گوارا نہ کیا، اور یوں ہی چھوڑ دیا جو خوب دراز ہوئے۔ بندہ نواز نے خود فرمایا: جب میں نے دست بوسی کی تو میرے مرشد نے مجھے عالمِ ناسوت سے عالمِ ملکوت کی سیر کرادی، جب ران پر سر دے دیا تو عالمِ ملکوت سے عالمِ جبروت کی سیر کرادی، پھر جب قدموں پر گر گیا تو عالمِ جبروت سے عالمِ لاہوت کے مقامات طے کرادیے۔
ہم جب یہ واقعہ پڑھتے ہیں تو لگتا ہے کہ مرشدِ کامل اور طالبِ صادق کا قصہ یہاں آکر ختم ہوجاتا ہے کہ اب اس درجے کی ارادت نہیں رہی۔
بندہ نواز کا نام سید محمد حسینی ہے، شاہ راجو قتال جو محبوبِ الٰہی کے خاصانِ خاص میں تھے سرکار بندہ نواز کے دادا تھے، دس سال کی عمر میں والد کا انتقال ہوا، ماموں نے پرورش کی، کسی سبب سے والدہ اپنے بھائی سے ناراض ہوکر بیٹے کو دہلی لے آئیں، پندرہ سال کی عمر میں خواجہ قطب کی جامع مسجد میں حضور چراغ دہلوی سے ملاقات ہوئی، پھر انھیں کے ہوکر رہ گئے۔ جب آپ کے گیسو شیخ کے رکاب میں الجھے تو تکلیفِ شدید کے باوجود جدا نہ کیے، اس پر شیخ نے برجستہ یہ شعر کہا:
ہر کہ مرید سید گیسو دراز شد
واللہ شکے نیست کہ او عشق باز شد
تب سے ہی آپ گیسو دراز کی عرفیت سے یاد کیے جانے لگے۔ تیمور نے جب دہلی پر حملہ کیا اس وقت آپ دولت آباد چلے گئے، اس طرح آپ کے ذریعہ سلسلۂ چشتیہ دکن جا پہنچا، پھر بہمنی سلطان فیروز شاہ کی دعوت پر گلبرگہ شریف میں اقامت اختیار کر لی، اور یہاں سے پورے دکن میں تبلیغِ دین کا کام کیا۔ اور آپ سے سلسلہ کی تبلیغ کا کام بھی ہوا۔ آپ مشرباً چشتی، مذہبًا حنفی اور مسلکاً ماتریدی تھے۔ آپ نے طویل عمر پائی اور ایک سو ایک سال کی عمر میں 16 ذی قعدہ 825ھ میں وصال ہوا، اور گلبرگہ شریف میں ہی مدفون ہوئے۔ آپ کی درگاہ شریف بہت بڑے خطے پر پھیلی ہوئی ہے، جس میں باقاعدہ مہمان خانہ، لائبریری، دکانیں، مسجد وغیرہ ہیں۔ درگاہ شریف کے قلب میں روضہ شریف ہے۔ جس کی پیشانی پر یہ شعر کندہ ہے۔
یہ بارگاہِ خواجۂ بندہ نواز ہے
اس در پہ جس کا سر ہے وہی سرفراز ہے
ادب و احترام کے تمام تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہم روضہ شریف میں داخل ہوئے ہمارے ساتھ احباب کی ایک جماعت تھی، فاتحہ پڑھ کر دعائیں کیں، کچھ عرضیاں لگائیں اور الٹے پاؤں واپس نکل آئے۔ آپ کے روضہ شریف کے قریب ہی آپ کے صاحبزادے، اہلیہ اور دیگر اہل خاندان کے بھی مزارات ہیں۔ آپ کا خانوادہ علمی خانوادہ تھا، آپ خود بھی زبردست عالم دین اور صاحبِ تصانیفِ کثیرہ تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی میں دو سو کے قریب کتابیں لکھیں؛ معراج العاشقین اور آداب المریدین آپ کی مشہور تصانیف سے ہیں۔
ہم گلبرگہ کا قلعہ بھی دیکھنے گئے جو قدیم بہمنی سلطنت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ قلعہ اصل میں ایک ہندو راجہ گل چند نے تعمیر کروایا تھا، جس کی توسیع کا کام بعد میں بہمنی سلاطین نے کیا اور اس کے اندر ایک شاندار جامع مسجد تعمیر کی جو اس دور کے فنِ تعمیر کا نمونہ ہے۔ یہ قلعہ بہت بڑی اراضی پر واقع ہے، اور اس کے تین طرف بہت اونچائی پر توپ خانے بنائے گئے ہیں۔ گلبرگہ کا یہ قلعہ ایک زمانے تک بہمنی سلاطین کا دارالسلطنت رہا۔ مگر اب اس قلعہ پر موجودہ حکومتوں کی توجہ نہیں رہی، ہمیں کہیں اس کی مرمت اور صفائی کا نظام دیکھنے کو نہ ملا، شاید اسی وجہ سے اس قلعہ کو دیکھنے کے لیے کم ہی لوگ آتے ہیں۔ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کام تو شہروں کے نام بدلنا ہے۔ چنانچہ یہ حرکت یہاں بھی دیکھنے کو ملی اور اچھے خاصے “گلبرگہ” کو “کالابرگی” کر دیا گیا ہے۔
یہاں دو روز قیام رہا، مولانا بہاء الدین قبلہ نے اچھی ضیافت کی، پہلے دن گلبرگہ شریف سے ستر کلومیٹر دور ایک بستی میں محفل رکھی، دوسرے روز اپنے مدرسہ میں ہی معراج النبی کا پروگرام رکھا۔ واپسی کے وقت آپ نے اپنا مدرسۂ نسواں دکھایا جو گزشتہ پندرہ سالوں سے اس علاقے میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان کی اہلیہ ذی استعداد عالمہ فاضلہ اور کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں۔
ہمارے لیے سب سے خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس خطے میں ان لوگوں نے مسلکِ اعلیٰ حضرت کا جھنڈا بلند رکھا ہوا ہے، اور ہزار رکاوٹوں اور الجھنوں کے باوجود معتقدات و معمولات کسی بھی معاملہ میں مخالفین سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ [سہ ماہی امجدیہ، جنوری تا مارچ 2024، ص: 3]
