| عنوان: | وہابیت کا جھگڑا (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | سیدہ کلثوم امجدی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
مولوی رشید احمد صاحب کے مرثیے لکھ کر چھاپنا بھی بدعت نہ ہو، بہت سے ناجائز مبالغوں پر مشتمل، اور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر جمیل و بیانِ ولادت کی محفل بدعت ہو جائے؟ اور ساری جماعت میں کوئی اتنا کہنے والا نہیں کہ جو حیلے حوالے میلاد مبارک اور عرس و فاتحہ، تیجہ و جہلم کو بدعت بنانے کے لیے تم پیش کرتے ہو اس سے بدرجہا زیادہ خود آپ کے عمل میں ہیں، مگر نہ مدرسہ کو بدعت کہا جاتا ہے، نہ دستار بندی کو، نہ جلسہ سالانہ کو، نہ تعینِ اوقاتِ اسباق کو، نہ قوانینِ مدرسہ کو، تو پھر کیا یہ ناجائز کا حکم غیروں ہی کے لیے ہے؟ تم اس سے مستثنیٰ ہو؟
اتنی بڑی جماعت میں کوئی تو انصاف کرتا، مگر معلوم نہیں قلوب کا کیا حال ہے۔ نور بجھ گئے، اور نام کو روشنی باقی نہ رہی کہ دوسروں کے افعال کو جن وجوہ سے بدعت بتائیں، جنگ کی بنا ٹھہرائیں، اپنے آپ بے دریغ انہیں عمل میں لاتے چلے جائیں، ذرا نہ شرمائیں۔ یہ مسائل ایسے نہ تھے کہ لکھے پڑھے آدمی انہیں سمجھ نہ سکتے، اور اصحابِ عقل و خرد ان کو موردِ بحث بناتے۔
یہ ایسی کھلی باتیں تھیں جن کو ہر سمجھدار انسان جان سکتا تھا کہ ان میں کوئی شائبہ عدمِ جواز کا نہیں ہے۔ میلاد مبارک کی محفل حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کے بیانِ احوال کے لیے منعقد کی جاتی ہے اور حضور کے احوالِ کریمہ کا جاننا اور اس سے باخبر ہونا ایماندار کے لیے اعلیٰ ترین سعادت ہے۔
حدیث شریف میں حضور کے ذکر کو ذکرِ اللہ بتایا گیا ہے۔ کلمہ میں آپ کا نامِ نامی وصفِ رسالت کے ساتھ اس طرح داخل ہے کہ جیسے اللہ تعالی کی ذات و صفات اور اس کی توحید و بے مثالی کا منکر مومن نہیں ہو سکتا، اسی طرح سے آپ پر ایمان نہ لانے والا اور آپ کی رسالت کا اقرار نہ کرنے والا بھی ایماندار نہیں ہو سکتا۔ جس ذات پر ایمان کا مدار ہے اور جس پر ایمان لائے بغیر کفر کی ظلمتوں سے نجات نہیں مل سکتی، اس کے احوالِ پاک کا بیان یقیناً شانِ احترام سے ہونا چاہیے۔ اور وہ مجلس جو اس مقصد کے لیے منعقد کی گئی ہو اس کو زیب و زینت دینا اور نظرِ عوام میں باوقعت بنانا تقاضائے ایمان ہے۔ حضور کا ذکر اللہ حدیث شریف میں وارد ہوا:
ذِكْرُكَ ذِكْرِيْ
آپ کا ذکر میرا ہی ذکر ہے۔
دوسری حدیث شریف میں ارشادِ باری ہے:
مَنْ ذَكَرَكَ ذَكَرَنِيْ
جس نے آپ کا ذکر کیا میرا ذکر کیا۔
اور ذکرِ الہی کی محافل کو حدیث میں جنتی چمنستان بتایا گیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے:
إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوْا، قَالُوْا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: حِلَقُ الذِّكْرِ
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارا جنتی چمنستانوں پر گزر ہو تو تم میوہ چینی کیا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا جنتی چمنستان کیا ہیں؟ حضور نے فرمایا: ذکر کی محفلیں۔[سنن ترمذی، ج: 5، ص: 431]
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ میلاد مبارک کی محفلیں جن میں ذکرِ حبیب ہوتا ہے جس کو حدیث شریف میں ذکرِ اللہ بتایا گیا ہے، وہ جنتی چمنستان ہیں۔ حدیثیں تو جنتی چمنستان بتائیں، بہشتی باغ فرمائیں مگر معاندِ متعصب اس کو بدعت کہے، ناروا پکارے۔
ہوش مند انسان متحیر ہوتے ہیں کہ ان لکھے پڑھے جاہلوں نے کس طرح ذکرِ حبیب کی محافلِ متبرکہ کو ناجائز کہہ دیا۔ یہ بات عقل میں نہیں آتی۔ دریافت کرتے ہیں کہ ان محافل کے ناجائز ہونے کا سبب کیا ہے۔ اس وقت ان معاندین و متعصبین کو حیرانی و پریشانی ہوتی ہے اور اس سراسیمگی میں کبھی تو یہ کہہ گزرتے ہیں کہ ذکر شریف تو درست ہے مگر قیام وقتِ ذکرِ ولادت پر اعتراض ہے۔ مگر اس بات کو کوئی عاقل باور نہیں کر سکتا کہ قیام ناجائز ہے۔ اور ناجائز بھی ایسا کہ محفل شریف ہی کو ناجائز کر ڈالے۔ اس لیے دریافت کیا جاتا ہے کہ قیام میں کیا مضائقہ؟ اس کی ممانعت کہاں وارد ہوئی؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیام وقتِ ذکرِ ولادت قرونِ ثلاثہ میں کیا نہیں گیا، اس کی اصل ثابت نہیں، اس لیے بدعت ہے۔ مگر ان کی یہ بات ایک لایعنی حیلہ اور بہانہ ہے۔ خود حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت خاتونِ جنت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے لیے قیام فرمانا ثابت ہے۔ اس پر یہ لکھنا کہ ایک شخص موجود و حاضر کے لیے تو جو آنکھوں کے سامنے ہو اور سب کو نظر آتا ہو، قیام کرنا درست ہے، مگر جو ایسا نہ ہو اور سب اس کو نہ دیکھتے ہوں اس کے لیے قیام شرک ہے، ایک بالکل بے حقیقت بات ہے۔ کیونکہ جو چیز شرک ہے وہ حاضر کے لیے، غائب کے لیے، سبھی کے لیے شرک ہے۔ اس میں یہ تفریق نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی عظیم خبر کو سن کر جذباتِ شوق یا خوف کے ساتھ متاثر ہو کر کھڑا ہو جانا طبیعت انسانی کے لیے ایک امرِ عادی ہے۔ اور حدیث شریف سے بھی ثابت ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے۔
