Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علم اصول حدیث (قسط دوم) فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور علم اصول حدیث (قسط دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول حدیث (قسط دوم)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

علمِ حدیث کی تاریخ

اگر علمِ حدیث کی تاریخ باعتبارِ تدوین و کتابت دیکھا جائے؛ تو اس کی ابتدا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہی ہو چکی تھی، چنانچہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد خطبہ دیا تو خطبہ کے بعد یمن کے ایک شخص کھڑے ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے لیے لکھوا دیں۔" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اكْتُبُوا لِأَبِی شَاهٍ» (ابو شاہ کے لیے لکھ دو)۔

اس حدیث کے ایک راوی ولید بن مسلم رحمہ اللہ نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے عرض کیا: اس صحابی کے قول ”اکتبوا لی یا رسول اللہ“ سے کس چیز کا لکھنا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو اس نے خطبہ سنا وہی لکھنا مراد ہے۔" (صحیح البخاری، کتاب فی اللقطۃ، باب کیف تعرف لقطۃ أھل مکۃ، رقم: ۲۴۳۴)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ حَدِيثًا عَنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ“
ترجمہ: "اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ حدیث والا نہیں تھا البتہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ زیادہ حدیث والے تھے؛ کیونکہ وہ حدیث لکھ لیا کرتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔" (صحیح ابن حبان، رقم: ۱۵۲)

اور شک یا شبہ کی بنا پر حدیث قبول کرنے یا نہ کرنے میں احتیاط و تثبت کا آغاز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ادوار میں ہی ہو چکا تھا، اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

قبیصہ بن ذویب سے مروی ہے کہ ایک جدہ (دادی) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور آپ سے وراثت کا مطالبہ کیا۔ تو آپ نے فرمایا: ”میں آپ کے لیے کلامِ پاک میں کچھ نہیں پاتا اور میرے علم میں بھی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے لیے کچھ ذکر کیا ہے۔" پھر آپ نے لوگوں سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا؛ تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ انہیں چھٹا حصہ دیتے تھے۔" حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: "کیا تمہارے ساتھ کوئی اور ہے؟" اس مطالبہ پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسی کے مثل گواہی دی؛ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے نافذ فرما دیا۔ (تذکرۃ الحفاظ بطبقات الحفاظ، امام ذہبی رحمہ اللہ، ج۱، ص ۹)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن قیس ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا مگر انہیں اجازت نہیں دی گئی تو وہ لوٹ آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے آئے اور فرمایا: "آپ کیوں لوٹ گئے؟" تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جب تم میں سے کوئی تین مرتبہ سلام کرے اور اسے جواب نہ دیا جائے؛ تو وہ لوٹ جائے۔" اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بطورِ احتیاط فرمایا: "آپ جو کہہ رہے ہیں اس پر دلیل قائم کریں ورنہ میں آپ کے ساتھ سختی کروں گا۔" تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور ان کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: کیا بات ہے؟ تو آپ نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، پھر انہیں میں نے حدیث سنائی؛ تو کیا تم میں سے کسی نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ سب نے کہا: ہم سب نے اس حدیث کو سنا ہے، پھر ان لوگوں نے ان میں سے ایک شخص کو ان کے ساتھ بھیجا، جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کی گواہی دی۔

اسناد کی اہمیت اور ائمہ کے اقوال

اسی طرح ایک اور اہم نام جو احتیاطِ حدیث کے حوالے سے سامنے آتا ہے، وہ امام ابن سیرین رحمہ اللہ (ت ۱۰۱ھ) ہیں، آپ فرماتے ہیں: ”إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ“ (یہ علم دین ہے؛ لہذا جس سے اپنا دین سیکھو اسے پرکھ لو)۔

نیز آپ ہی فرماتے ہیں: ”لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الْإِسْنَادِ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ، قَالُوا: سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ“
ترجمہ: ”علمائے کرام اسناد کے بارے میں نہیں پوچھتے تھے؛ مگر جب فتنہ واقع ہوا؛ تو ان حضرات نے کہنا شروع کیا: ہمیں اپنے رجال کے نام بتاؤ تاکہ اہل سنت کی حدیث لی جائے اور اہلِ بدعت کی حدیث چھوڑ دی جائے۔“ (صحیح مسلم، مقدمۃ، ج۱، ص ۱۵)

عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ (ت ۱۸۱ھ) فرماتے ہیں: ”الْإِسْنادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ“
ترجمہ: ”اسناد دین میں سے ہے، اور اگر اسناد نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا بیان کر دیتا۔“ (صحیح مسلم، مقدمۃ، ج۱، ص ۱۵)

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عِيسَى الطَّالَقَانِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ...
ترجمہ: ابو اسحاق ابراہیم بن عیسیٰ طالقانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ اے ابو عبد الرحمن! اس حدیث کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں: "نیکی کے بعد نیکی یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ اپنے والدین کے لیے نماز پڑھو اور اپنے روزے کے ساتھ اپنے والدین کے لیے روزہ رکھو۔" عبد اللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "اے ابو اسحاق! یہ حدیث کس سے مروی ہے؟" میں نے عرض کیا: یہ شہاب بن خراش کی حدیث سے ہے۔ تو آپ نے فرمایا: "وہ ثقہ ہیں، انہوں نے کس سے روایت کی ہے؟" میں نے عرض کیا: حجاج بن دینار سے۔ آپ نے فرمایا: "یہ ثقہ ہیں، انہوں نے کس سے روایت کی ہے؟" میں نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ آپ نے فرمایا: "اے ابو اسحاق! بے شک حجاج بن دینار اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان اتنا لمبا فاصلہ ہے کہ اس میں چلنے والے کی زندگیاں ختم ہوجائیں، لیکن بہر حال صدقہ میں کوئی اختلاف نہیں۔" (صحیح مسلم، مقدمۃ، ج۱، ص ۱۶)

عَنْ عُبَيْدِ بْنِ شَقِيقٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ عَلَى رُؤُوسِ النَّاسِ: «دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَسُبُّ السَّلَفَ»
ترجمہ: عبید بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو مجمعِ عام میں کہتے ہوئے سنا: ”عمرو بن ثابت کی حدیث چھوڑ دو؛ کیونکہ وہ سلفِ صالحین کو گالی دیتا ہے۔“ (صحیح مسلم، مقدمۃ، ج۱، ص ۱۶)

فن کے ماہرین اور ان کی کتابوں کا اجمالی تذکرہ

فنِ علومِ حدیث میں کام کرنے والے سلفِ صالحین کثرت سے پائے جاتے ہیں، صحابہ کرام میں جیسے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم، امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ، تابعین میں جیسے امام اعظم ابو حنیفہ، امام شعبی اور امام ابن سیرین رحمہم اللہ وغیرہ۔ اس فن کے مباحث ابتدا میں اصولِ فقہ وغیرہ کی کتابوں میں مخلوط ذکر کیے جاتے تھے، اس وقت اس فن میں مستقل کسی کتاب کا تصور نہیں تھا۔ سب سے پہلے اس فن میں مستقل کتاب تقریباً چوتھی صدی کے نصف میں لکھی گئی، اس پہلی کتاب کا نام ”المحدث الفاصل بین الراوی والواعی“ ہے جس کے مؤلف ابو محمد حسن بن عبد الرحمن رامہرمزی فارسی رحمہ اللہ (ت ۳۶۰ھ) ہیں۔

اس کے بعد امام حاکم، ابو نعیم اصبہانی اور خطیب بغدادی رحمہم اللہ وغیرہ نے مستقل مفید کتابیں تصنیف کیں اور آج تک یہ علمی سلسلہ جاری ہے۔ اس فن کے بعض اہم علما اور ان کی کتابوں کے نام ملاحظہ فرمائیں:

معرفۃ علوم الحدیث: مؤلف ابو عبد اللہ حاکم محمد بن عبد اللہ نیساپوری رحمہ اللہ (ت ۴۰۵ھ)
المستخرج علی معرفۃ علوم الحدیث: مؤلف ابو نعیم احمد بن عبد اللہ اصبہانی رحمہ اللہ (ت ۴۳۰ھ)
الکفایۃ فی علم الروایۃ، الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع: مؤلف ابو بکر احمد بن علی بغدادی رحمہ اللہ (ت ۴۶۳ھ)
الإلماع إلی معرفۃ أصول الروایۃ وتقیید السماع: مؤلف ابو الفضل عیاض بن موسیٰ سبتی رحمہ اللہ (ت ۵۴۴ھ)
مالا یسع المحدث جہلہ: مؤلف ابو حفص عمر بن عبد المجید میانجی رحمہ اللہ (ت ۵۸۰ھ)
علوم الحدیث (معروف بہ مقدمہ ابن الصلاح): مؤلف ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن شہرزوری رحمہ اللہ (ت ۶۴۳ھ)
التقریب والتام المیَسّر لمعرفۃ سنن البشیر النذیر صلی اللہ علیہ وسلم: مؤلف محی الدین یحییٰ بن شرف نووی رحمہ اللہ (ت ۶۷۶ھ)
نظم الدرر فی علم الأثر: مؤلف زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی رحمہ اللہ (ت ۸۰۶ھ)
نخبۃ الفکر فی مصطلح أھل الأثر: مؤلف ابو الفضل احمد بن علی عسقلانی رحمہ اللہ (ت ۸۵۲ھ)
الفتح المغیث فی شرح الفیۃ الحدیث: مؤلف محمد بن عبد الرحمن سخاوی رحمہ اللہ (ت ۹۰۲ھ)
تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی: مؤلف جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر سیوطی رحمہ اللہ (ت ۹۱۱ھ)
المنظومۃ البیقونیۃ: مؤلف عمر بن محمد بیقونی رحمہ اللہ (ت ۱۰۸۰ھ)
اور ان کے علاوہ ’قواعد التحدیث‘ کے مصنف جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ (ت ۱۳۳۲ھ) وغیرہ بھی قابلِ ذکر ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!