| عنوان: | امام احمد رضا اور اصول حدیث (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
محدث بریلوی اور علمِ حدیث
حضور اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے علمِ حدیث سے متعلق عمدہ افکار اور تحقیقی کارنامے ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں، یہ وہ کارنامے ہیں جو آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں، آپ کے اس فن سے متعلق کارنامے اور افکار و نظریات مندرجہ ذیل عناوین کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں، ان شاء اللہ روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ کو فنِ اصولِ حدیث میں بھی یدِ طولیٰ اور مہارتِ تامہ حاصل تھی:
(۱) علمِ حدیث میں اعلیٰ حضرت کی مہارت اقوالِ علما کی روشنی میں
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کی شخصیت اہل سنت و جماعت کے نزدیک ایسی شخصیت ہے جو پچاس سے زائد علوم و فنون میں مہارت رکھتی ہے بلکہ غیر بھی علمِ فقہ وغیرہ میں آپ کی مہارتِ تامہ کا اعتراف کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے، ہاں علمِ حدیث کی بات آتی ہے؛ تو غیر اپنی لاعلمی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ علمِ حدیث کو ان کے ماہرین کے ساتھ ہی خاص رکھا جائے، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ کو ماہرینِ علمِ حدیث میں شمار نہ کیا جائے، میں یہاں پر محض دعویٰ کے بجائے علمائے کرام، خاص کر علمائے عرب کی آراء کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی حدیث دانی و مہارت کے بارے میں پیش کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں تاکہ اپنوں کا اضطراب دور ہو اور غیروں کی آنکھیں کھلیں اور حق قبول کرنے کی سعیِ مسعود کرنے کی کوشش کر سکیں، توجہ فرمائیں:
استاذی المکرم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مصطفیٰ محمد ابوعمارۃ دام ظلہ، استاذِ علمِ حدیث، جامعہ ازہر شریف، مصر فرماتے ہیں:
"کتاب 'الہاد الکاف فی حکم الضعاف' ایسی عبارتوں کے متعلق گفتگو پر مشتمل ہے جن کو محدثینِ کرام حدیثِ ضعیف کے بارے میں استعمال کرتے ہیں، صاحبِ کتاب ان عبارات کی عمدہ طریقہ سے تحلیل اور ان کی مراد بیان کرتے ہیں، مثلاً آپ 'کلمہ لا یصح' کی توضیح و تحلیل دیکھ سکتے ہیں جسے محدثینِ کرام عموماً استعمال کرتے ہیں، جس سے عادتاً پڑھنے والے کو یہ گمان ہو سکتا ہے کہ جب یہ عبارت محدثین کے کلام میں پایا جائے؛ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث ضعیف ہے حالاں کہ یقینی طور پر محدثین کی یہ مراد نہیں؛ کیوں کہ یہ عبارت صحیح کے علاوہ حسن لذاتہ، حسن لغیرہ اور ضعیف کی دونوں قسموں کو شامل ہے۔ لہٰذا حدیث کے متعلق صحت کی نفی سے حدیث کے حسن یا خفیف ضعیف کی نفی مستلزم نہیں۔"
اسی طرح مصنف علیہ الرحمہ مصطلحِ حدیث کے قضایا کے متعلق شرح وبسط کے ساتھ کلام کرتے ہیں اور اپنے کلام کی تائید ائمہ علمِ حدیث کے کلام سے پیش کرتے ہیں، جیسے امام نووی، عراقی، ابنِ صلاح اور ابنِ حجر رحمہم اللہ وغیرہ ۔۔۔ الخ، اور مصنف علیہ الرحمہ ناقلِ محض نہیں بلکہ آپ آراء کے درمیان موازنہ کرتے ہیں، یہ ایسا موازنہ ہے، جس کے ذریعہ قاری کو پتہ چلے گا کہ آپ قواعدِ محدثین کو سمجھنے میں دقتِ نظر رکھتے ہیں اور قواعد کی حرفیت ہی پر ٹھہرے نہیں رہتے بلکہ قواعد کے مضمون اور اس کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ اپنی اس سمجھ کو سابقین اہل فن کی سمجھ وفہم سے توثیق بھی کرتے ہیں۔
آپ کے فقہِ علمِ حدیث کا انوکھا پن ہی ہے کہ آپ فرماتے...ہیں۔ حدیث کے ذریعہ جن قضایا کے متعلق استدلال کیا جاتا ہے، ان کی تین اقسام ہیں: عقائد: عقائد میں خبرِ آحاد کافی نہیں، احکام: ان میں حدیثِ صحیح لذاتہ، صحیح لغیرہ، حسن لذاتہ اور حسن لغیرہ کافی ہیں، فضائل: ان میں ضعیف احادیث بھی مقبول ہیں۔۔۔ آپ ان تمام اقسام اور ان کے علاوہ دیگر مباحثِ رصینہ اور فوائدِ جمہ کے متعلق شرح وبسط کے ساتھ کلام کرتے ہیں، یہ ایسی گفتگو ہے جو آپ کو صرف اسی کتاب میں ملے گی بلکہ یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے 'توضیح الأفکار للہ غانی' کی صف میں رکھا جائے؛ کیوں کہ اس کتاب میں علمی مناقشات اور دلائل سے پر گفتگو موجود ہے۔
بہر حال عام طور سے کتاب اپنے باب میں منفر د اور مواد کے اعتبار سے بے مثال ہے، علمِ حدیث کا طالب علم اس کتاب سے بے نیاز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی علمائے اسلاف سے اپنا دامن جھاڑ سکتے ہیں۔ (الھاد الکاف فی حکم الضعاف، محدث بریلوی رحمہ اللہ ،ص ۶۷،ط: مرکز اہلسنت برکاتِ رضا فوربندر، گجرات، الھند)
فضیلۃ الاستاذ ڈاکٹر محمد فواد شاکر رحمہ اللہ، استاذ: جامعہ عین شمس، قاہرہ، مصر، لکھتے ہیں:
"قاری محترم جو چیز آپ کے ہاتھ میں ہے وہ موہوبِ ربانی کی بڑی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے شریعتِ اسلامیہ کے اعلام میں سے ایک علم اور نہجِ محمدی کا دفاع کرنے والے ایک عظیم فارس کو مختص کیا؛ وہ ہمارے شیخ امام محدث احمد رضا خان اپنے زمانے کے حنفی اعلام میں سے ایک اور سیدی عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ کے سلسلہ سے منسلک ہیں، ہمارے مبارک و محترم شیخ نے سیدنا ومولانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سننے کے وقت تقبیلِ ابہامین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہارِ محبت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے، اس کو حدیثِ ضعیف کے دراسہ اور اس کے متعلق موقفِ شریعت کو جاننے کا اہم ذریعہ بنایا؛ اسی وجہ سے آپ نے محدثین کے نزدیک حدیثی الفاظ کے مدلولات کا ذکر کیا، اور کسی کسی محدث کے نزدیک لفظِ حدیث سے کوئی مراد ہوگی جو دوسرے کے نزدیک مقصود نہیں ہوگی، نیز اس بات کی تاکید فرمائی کہ کسی راوی کے متہم یا کسی ضعیف طریق یا کسی محدث کا اسے ضعیف قرار دینے کی وجہ سے حدیث پر وضع کا حکم لگانے میں جلدی کرنا سخت اٹکل پچو مارنا ہے، ہاں اگر اس طرح کا حکم لگانا ہے؛ تو اس کے لیے ضروری ہے کہ خوب تفتیش و تدقیق سے کام لیا جائے اور قرائن کا لحاظ کرتے ہوئے اس حدیث پر وضع کا حکم لگایا جائے لہٰذا اگر یہ چیزیں خبر میں موجود نہ ہوں تو اس پر وضع کا حکم لگانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ کیوں کہ کتنی ایسی احادیث ہیں جو کتبِ موضوعات میں ذکر کی گئیں اور انہیں موضوع قرار دیا گیا پھر علمائے حدیث نے ان پر تعقب کیا اور ان کے دوسرے طرق کے پائے جانے جس نے ان احادیث کو قوی کر کے ان کے مرتبہ کو بلند کر دیا یہاں تک کہ وہ احادیث قابلِ احتجاج ہو گئیں اور علامہ حبیب اللہ شراود جزاہ اللہ من الاسلام خیر نے ثابت کیا کہ اہل علم کا کسی حدیث پر عمل کرنا اس کو تقویت دیتا ہے، آپ نے بہت ساری دلائل پیش کی ہیں جو اس خبر کے مطابق اہل علم کے عمل کرنے کو ثابت کرتی ہیں جس کی وجہ سے آپ نے حدیثِ ضعیف کا حکم اور حدیثِ ضعیف اور حدیثِ موضوع کے درمیان فرق بیان کرنے میں تفصیل کی ہے، علامہ محدث رحمہ اللہ نے علومِ حدیث کے غایت درجہ دقیق مباحث میں لکھا اور اس کی مزید توضیح و تفصیل کی اور بہت سارے مفاہیم سے پردہ اٹھایا جن سے علومِ حدیث میں بحث کرنے والوں کی فکر متعلق ہوتی ہے۔" (الھاد الکاف فی حکم الضعاف، محدث بریلوی رحمہ اللہ ، ص ۸۳،ط: مرکز اھل السنہ برکات رضا فوربندر،گجرات،الھند)
عالمِ جلیل حضرت مولانا یٰسین رضوی صاحب قبلہ لکھتے ہیں:
"جب ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کی تصانیفِ عالیہ کو دیکھتے ہیں؛ تو فنِ حدیث، طریقِ حدیث، عللِ حدیث اور اسماء الرجال وغیرہ میں وہ انتہائی منزلِ کمال پر دکھائی دیتے ہیں اور یہی وہ وصف ہے جس میں کمال و انفرادیت ایک مجدد کے تجدیدی کارناموں کا رکنِ اہم ہے، فنِ حدیث میں ان کی جو خدمات ہیں ان سے ان کی علمی بصیرت اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔" (امام احمد رضا اور علمِ حدیث، مولانا یٰسین رضوی، ج ۱، ص ۶، ط: رضوی کتاب گھر، دہلی)
(۲) علمِ حدیث میں اعلیٰ حضرت کی مہارت آپ کے افکار کی روشنی میں:
