| عنوان: | امام احمد رضا اور علم اصول حدیث (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
تمہیدی کلمات
فنِ حدیث دیگر فنون علمِ فقہ وغیرہ کی طرح بہت ہی پسندیدہ اور اہمیت کا حامل فن ہے، اسی فن کے ذریعہ احادیث کی صحت و ضعف کا علم ہوتا ہے، اسی کی مدد سے احادیث گڑھنے والوں کا چہرہ سامنے لا کر اسلام اور احادیثِ نبوی کا دفاع کیا جاتا ہے، اسی کا طرۂ امتیاز ہے کہ اس فن کی خدمات حاصل کر کے جاہلوں کے تعصب و تحریف کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جاتا ہے اور اسی کے ذریعہ دینِ اسلام، قرآنِ پاک اور احادیثِ طیبہ پر کیے گئے اعتراضات کا کامل جواب دیا جاتا ہے۔ بہر حال یہ فن بہت ساری خوبیوں اور امتیازات و کمالات کا جامع ہے، اسی سبب روزِ اول ہی سے علمائے ربانیین کی ایک بڑی جماعت نے اس فن میں مہارت حاصل کی اور اس کے ذریعہ اس جماعت نے دینِ متین کی بیش بہا خدمت انجام دی اور ان شاء اللہ تا قیامِ قیامت انجام دیتی رہے گی۔
انہی علمائے ربانیین میں سے چودہویں صدی کے مجددِ دین و ملت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ ہیں۔ احادیث کی مختلف اقسام پر سیر حاصل ناقدانہ گفتگو آپ کی مہارتِ علمِ حدیث پر شاہدِ عدل ہے۔ ان ابحاث و اقسام کو راقم نے ’تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی‘ کی ترتیب پر رکھا ہے۔ راقم الحروف اسی عبقری شخصیت کی بارگاہ میں اپنی یہ ادنیٰ کاوش "محدث بریلوی اور اصولِ حدیث ایک تحقیقی جائزہ" کے طور پر بطورِ خراجِ عقیدت مندرجہ ذیل عناوین کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کرے گا:
(الف) اصولِ حدیث کا تعارف۔
(ب) علمِ حدیث اور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی: علمِ حدیث میں اعلیٰ حضرت کی مہارت اقوالِ علما کی روشنی میں اور آپ کے افکار کی روشنی میں۔
(ج) محدث بریلوی کی علمِ حدیث پر مستقل کتب اور حواشی۔
(الف) اصولِ حدیث کا تعارف
علم حدیث کی تعریف: علمِ حدیث کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں: شیخ عز الدین ابن جماعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ایسے قوانین کا علم رکھنا جس کے ذریعہ سند و متن کے احوال کو جانا جا سکے۔“ اور امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”قواعد اور راوی و مروی کی حالت جاننے کا نام علمِ حدیث ہے۔“
موضوع: اس علم کا موضوع سند و متن ہے۔
غرض و غایت: اس علم کی غرض و غایت صحیح اور غیر صحیح کا جاننا ہے۔ امام کرمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی غرض و غایت دارین کی سعادت سے سرفراز ہونا ہے۔"
علمِ حدیث کی اہمیت
علمِ حدیث بہت اہم علم ہے، اس علم سے کسی بھی دور میں کنارہ کشی نہیں کی جا سکتی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے حاصل کرنے اور اس کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
ترجمہ: "اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔" (کنز الایمان) (الحشر: 59، الآیۃ: 7)
اس آیتِ مبارکہ میں قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہ کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو احکام بتائے امت کو اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مختلف احادیث میں بھی اس علم کی اہمیت و فضیلت خوب اجاگر کی گئی ہے، اسی لیے حضورِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس علم کو دوسروں تک پہنچانے کی ترغیب دلائی اور اس کی نشر و اشاعت کا حکم دیا۔ حدیث ملاحظہ فرمائیں:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَلِّغُوا عَنِّی وَلَوْ آیَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَلاَ حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "میری طرف سے لوگوں تک اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو، اسے پہنچاؤ، بنی اسرائیل سے بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے۔"
(صحیح البخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل، رقم: ۳۴۶۱)
مذکورہ بالا آیات اور بعض احادیث سے پتہ چلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو قرآنِ پاک اور احادیث سے ثابت شدہ احکام پر عمل کرنے اور ان کو لوگوں تک پہونچانے کا حکم دیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ احادیث اور احکام کو بیان کرنے والے جہاں عادل و ثقہ یا قابلِ اعتماد و اعتبار بھی ہوں گے وہیں غیر معتبر بلکہ جھوٹے لوگ بھی ہوں گے؛ اس لیے احادیث کو قبول کرنے اور نہ کرنے میں چھان بین اور تحقیق کی ضرورت پیش آئے گی۔ اسی تحقیق و تدقیق اور قبول و عدمِ قبول کی اہمیت کی طرف آنے والی آیتِ کریمہ اور حدیثِ مبارکہ مزید توجہ دلاتی ہوئی نظر آرہی ہے:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَن تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَیٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ﴾
ترجمہ: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔" (کنز الایمان) (الحجرات: 49، الآیۃ: 6)
عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: «یَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ یَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِیفَ الْغَالِینَ، وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِینَ، وَتَأْوِیلَ الْجَاهِلِینَ»
ترجمہ: حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اس علم کو ہر آنے والی نسل کے عادل لوگ حاصل کریں گے، جو اس علم سے غلو کرنے والوں کی تحریف، اہلِ باطل کی جھوٹی باتیں اور جاہلوں کی غلط تاویلات کو دور کریں گے۔"
(شرح مشکل الآثار، امام طحاوی رحمہ اللہ، رقم: ۳۸۸۳)
ان آیات و احادیثِ کریمہ کی روشنی میں ائمہ عظام نے احادیثِ طیبہ کی حفاظت، صحیح اور موضوع (من گھڑت) روایات کے درمیان امتیاز کرنے کے لیے جن اصول و قواعد کو مقرر کیا ہے اسے ہی "علمِ اصولِ حدیث" کہا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حدیثِ پاک کی تفہیم اور اس پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہونے کے لیے علمِ اصولِ حدیث کا جاننا ناگزیر ہے؛ اس لیے ائمہ محدثین نے اس فن پر مستقل تصانیف فرمائیں اور اس فن کے ارتقاء میں اپنا اہم کردار ادا کیا، جن میں خطیب بغدادی، ابن الصلاح، امام نووی اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ وغیرہم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کا فرمان
چودہویں صدی میں اس علم کے ماہرین اور اس کی باریکیوں سے واقف کار شخصیات میں ایک ممتاز نام امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کا ہے، جنہوں نے اپنے تبحرِ علمی اور دقتِ نظر سے اس فن میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اس ضمن میں خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”پھول رہے تھے، اس علم کے ماہر مستنبطین کی وجہ سے اسے نیازی حاصل تھی، پھر اس فن کے جاننے والے کم ہوتے رہے یہاں تک کہ ان کی تعداد بہت کم ہو گئی، اس کے حصول کی طرف توجہ صرف غفلت کے ساتھ سننے کے سوا کچھ نہیں، اس کے مقید کرنے میں اس کے علوم کو چھوڑتے ہوئے جس کی وجہ سے اس کی قدر و منزلت تھی، اس کے معارف سے دور ہوتے رہے جس کی وجہ سے اس علم کی عظمت تھی اب صرف لکھنے کے سوا کچھ نہیں رہا۔“ (مقدمہ ابن الصلاح، ص ۵-۶، ط: دار الفکر، بیروت)
مزید فرماتے ہیں: ”علمِ حدیث کی قدر و منزلت بہت ہے، قابلِ فخر اور قابلِ ذکر بھی ہے، ہر نیک عالم اس سے شغف رکھے گا اور ہر نا تجربہ کار جاہل اس سے محروم رہے گا، اس کے محاسن ہمیشہ باقی رہیں گے، اور میں اس علم کے موجِ سمندر میں غوطہ زن ہوا، جب کہ میرے علاوہ دوسرے لوگ اس فن کے ابتدائی مراحل تک پہونچنے پر ہی اکتفا کیے رہے، میں نے صرف اس کی گزرگاہ کے پاس آنے پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے چشمہ اور پیدا ہونے کی جگہ کو بھی کھولا اور میں نے راحت پر اعتماد کرنے والے کو شاعر کے اس قول سے مثال پیش کرتے ہوئے کہا: اگرچہ ہم حسب والے ہیں مگر کسی دن بھی ہم حسب و نسب پر بھروسہ نہیں کرتے، ہم اپنے اگلوں کی طرح کام کرتے ہیں اور انہوں نے جس طرح کام کیا اسی طرح کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“
پھر دوسرے علوم میں اپنی خدمات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”میں نے ان تمام فنون پر کتابیں لکھیں اور قواعد و مبہمات کو ان کتابوں میں بہتر طریقہ سے بیان کیا، میں ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو علم کے بغیر حدیث کا دعویٰ کرے، جس کا مبلغِ نظر فقط ہر شیخ اور بزرگ سے زیادہ سماعت کرنا ہے، اس کی نظرِ التفات محدث کو جس کی حاجت ہے اس کے حاصل کرنے کی طرف نہیں ہوتی اور نہ ہی جائز و ناجائز چیز تلاش کرنے سے بچتا ہے، پھر گمان کرتا ہے کہ بہت ساری کتابیں میں نے جمع کر لیں اور حد تو یہ ہے کہ ان کتابوں سے طلبہ کو فائدہ اٹھانے نہیں دیتا، اس کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جو بہت ساری کتابیں اپنے جسم پر لادے ہوتا ہے مگر اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔“
”اگر مصنف کے متعلق اس سے کوئی سوال کر لیا جائے؛ تو اس کا جواب دینے کی استطاعت نہیں رکھتا یا کوئی دینی مسئلہ پیش آ گیا؛ تو غلط و صحیح کے درمیان امتیاز نہیں کر پاتا یا حدیث کا کوئی کلمہ بولا؛ تو اس کے اعراب میں غلطی کرنے سے مامون نہیں ہوتا؛ جس کی وجہ سے لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ حسیبی وهو نعم الناصرین۔“ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، محدث سیوطی رحمہ اللہ، ص ۲۳-۲۴، ط: دار طیبۃ)
