Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیث افک|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیث افک
عنوان: حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیث افک
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: اقصیٰ عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اس بحث سے پہلے حضور شارحِ بخاری علیہ الرحمہ نے بخاری شریف کی حدیثِ افک کا من و عن ترجمہ ذکر فرمایا ہے، پھر اس کی توضیح و تشریح کرتے ہوئے مخالفین کی ریشہ دوانیوں کی ایسی بیخ کنی کی ہے، جس سے سارے مخالفین دم بخود ہو کر رہ گئے۔ اب مضمون ملاحظہ فرمائیں۔ (مرتب)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عادتِ کریمہ تھی کہ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے بارے میں قرعہ ڈالتے۔ جن کے نام کا قرعہ نکل آتا انہیں ہمراہ لے جاتے۔ ایک غزوہ کے موقع پر قرعہ ڈالا تو میرا نام نکل آیا۔ میں حضور کے ساتھ گئی۔ یہ واقعہ آیتِ حجاب کے نازل ہونے کے بعد کا ہے، میں ہودج ہی میں رہتی اور مجھے سوار کرایا جاتا اور سواری سے اتارا جاتا۔ ہم چلے، جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس غزوہ سے فارغ ہو کر لوٹ رہے تھے۔ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو ایک رات کو ٹھہرنے کے لیے اعلان فرمایا، کوچ کے اعلان کے بعد میں اٹھی اور قضاءِ حاجت کے لیے لشکر کے باہر چلی گئی، رفع حاجت کر کے جب میں واپس ہوئی اور کجاوہ کے قریب پہنچی تو اپنے سینے کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ہے، جو جزعِ اضفار کا تھا، اس لیے میں لوٹی اور ہار تلاش کرنے لگی۔ اس کی تلاش میں دیر ہو گئی۔ اس درمیان وہ لوگ آ گئے جو میرے ہودج کو اٹھانے اور باندھنے پر مامور تھے، تو ان لوگوں نے میرا ہودج اٹھا کر اس اونٹ پر باندھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی، ان کا گمان یہ تھا کہ میں ہودج میں ہوں۔ اس وقت عورتیں دبلی پتلی تھیں، بھاری بدن نہ تھیں۔ ان پر گوشت نہیں چڑھا تھا، کیونکہ کھانا تھوڑی مقدار میں کھاتی تھیں۔ اس لیے ہودج اٹھانے والوں کو ہودج کے وزن کی کمی کا ذرا بھی احساس نہ ہوا، اور انہوں نے ہودج اٹھا لیا، اور میں اس وقت نو عمر بچی تھی۔ ان لوگوں نے اونٹ اٹھایا اور چل دیے، لشکر کے چلے جانے کے بعد میں نے اپنا ہار پایا، اور میں ان کی قیام گاہ پر آئی تو وہاں کسی کو نہ پایا، میں بالقصد وہیں آ گئی جہاں ٹھہری تھی۔ میں نے سوچا کہ جب لوگ مجھے ہودج میں نہیں پائیں گے تو یہیں لوٹ کر تلاش کے لیے آئیں گے۔

میں بیٹھی تھی کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور میں سو گئی۔ اور صفوان بن معطل سلمی ذکوانی لشکر کے پیچھے تھے، صبح کے وقت میرے قیام کی جگہ پہنچے تو ایک سونے والے انسان کو دیکھا، وہ میرے قریب آ گئے۔ انہوں نے آیتِ حجاب نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھا تھا، میں ان کے “إِنَّا لِلَّهِ” پڑھنے سے جاگ گئی۔ انہوں نے اپنا اونٹ بٹھا کر اس کے اگلے پاؤں کو دبائے رکھا، یہاں تک کہ میں سوار ہو گئی۔ اب وہ پیدل چلے اور میری سواری کی مہار پکڑ کر آگے آگے چلتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم لشکر میں اس وقت پہنچے جب وہ لوگ عین ظہر کے وقت منزل کر چکے تھے۔ اس کے بعد جسے ہلاک ہونا تھا، وہ ہلاک ہوا، اور افترا پردازی کرنے والوں کا امیرِ کارواں عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔

ہم مدینہ آئے تو میں ایک مہینے تک علیل رہی، اور بہتان طرازوں کی باتیں لوگوں میں پھیلتی رہیں۔ دورانِ علالت اس بات سے مجھے کچھ شبہ ہوتا کہ ان دنوں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جانب سے وہ مہربانی نہیں دیکھتی تھی جو اور علالت کے دنوں میں دیکھا کرتی تھی۔ بس اتنا ہوتا کہ حضور تشریف لاتے اور سلام کرتے پھر دریافت فرماتے، کیسی ہو؟ اور مجھے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں ہوئی۔ بیماری کی وجہ سے میں کمزور ہو گئی۔ میں اور ام مسطح قضاءِ حاجت کے لیے میدان میں جانے کے لیے نکلیں، ہم صرف رات ہی رات کو نکلتی تھیں، اور یہ اس لیے کہ قضاءِ حاجت کے لیے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنائے جانے سے پہلے ہمارا طریقہ پہلے عرب والوں کا طریقہ تھا کہ میدان میں جاتے تھے۔ میں اور ام مسطح بنتِ ابی رہم نکلیں اور چل رہے تھے، ام مسطح اپنی چادر میں الجھ کر گر پڑی۔ اس نے کہا: ہلاک ہو جائے مسطح! میں نے اس سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم بدر میں شریک ہونے والے مہاجر کو برا کہتی ہو۔ تو اس نے کہا: اے خاتون! کیا آپ نے وہ نہیں سنا جو لوگ کہہ رہے ہیں؟ اب اس نے افترا پردازوں کی بات بتائی، تو بیماری پر میری بیماری اور بڑھ گئی۔ جب لوٹ کر گھر آئی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا، تم کیسی ہو؟ میں نے عرض کیا: مجھے اجازت دیں کہ اپنے والدین کے گھر جاؤں۔ میرا مقصد یہ تھا کہ میں اپنے والدین سے اس خبر کی تحقیق کروں۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی، اس کے بعد میں اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔

میں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا: لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا اے بیٹی! اس کا اثر نہ لو! بخدا کوئی عورت خوبصورت ہو اور شوہر اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سوکنیں ہوں تو اس کے بارے میں اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے۔ میں نے کہا: سبحان اللہ، لوگ یہ کہتے پھر رہے ہیں، اس رات کو صبح تک نہ میرا آنسو تھمتا تھا اور نہ نیند آتی تھی۔ اس کی صبح رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو بلایا جبکہ وحی آنے میں تاخیر ہو گئی۔ ان لوگوں کو اس لیے بلایا تھا کہ اپنے اہل سے جدائی کے بارے میں مشورہ فرمائیں۔ اسامہ چونکہ ازواجِ مطہرات کے ساتھ حضور کی محبت کو جانتے تھے، اس لیے اس کے مطابق اشارہ کیا، اور عرض کیا: یہ آپ کی اہل ہیں یا رسول اللہ! خدا کی قسم! ان کے بارے میں اچھائی کے سوا ہم اور کچھ نہیں جانتے۔ اور حضرت علی بن ابی طالب نے یہ عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو ضیق میں ہرگز نہیں ڈالے گا، اور عورتیں ان کے سوا بہت ہیں، اور حضور کنیز سے دریافت فرما لیں وہ بھی سچی بات بتا دے گی۔

اس پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا، اور دریافت فرمایا، اے بریرہ! کیا تو نے ان میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تجھے شک میں ڈالے؟ بریرہ نے عرض کی قسم ہے اس ذات کی، جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے ان میں ایسی کوئی بات نہیں دیکھی ہے، جو قابلِ اعتراض ہو، سوائے اس کے کہ وہ نو عمر ہیں، آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں اور بکری کھا جاتی ہے۔ اس کے بعد اس دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے مقابلے میں مدد کے خواستگار ہوئے اور فرمایا: اس شخص کے مقابلے میں میری کون مدد کرے گا، جس نے میری رفیقہ حیات کے بارے میں مجھے اذیت پہنچائی ہے، جس کی اذیت ناک باتیں مجھ تک پہنچی ہیں۔ خدا کی قسم! میں اپنے اہل کے بارے میں اچھائی کے سوا کچھ نہیں جانتا۔ اور لوگوں نے ایسے شخص کا نام لیا ہے جس کے بارے میں بھی اچھائی کے سوا اور کچھ نہیں جانتا، اور وہ میرے گھر میں جب بھی جاتا ہے میرے ساتھ جاتا ہے۔

یہ سن کر حضرت سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں ان کے مقابلے میں حضور کی مدد کروں گا، اگر وہ آدمی اوس سے ہے تو ہم اس کی گردن اڑا دیں گے اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج میں سے ہے تو ہمیں حکم دیں، ہم آپ کے حکم کے مطابق عمل کریں۔ یہ سن کر سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور وہ خزرج کے سردار تھے، اس سے پہلے وہ نیک انسان تھے، اس وقت پاسداری نے انہیں مشتعل کر دیا، انہوں نے کہا تو نے غلط کہا۔ بخدا! نہ تو اسے قتل کر سکتا ہے اور نہ اس کی قدرت رکھتا ہے اب اسید بن حضیر کھڑے ہو گئے اور کہا: تو نے غلط کہا: بخدا ہم اسے قتل کر دیں گے تو منافق ہے اور منافقین کی پاسداری میں لڑتا ہے۔ اب اوس و خزرج کے دونوں قبیلے مشتعل ہو گئے، اور لڑنے پر تل گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما رہے، آپ نیچے تشریف لائے اور حاضرین کو ٹھنڈا کیا، یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے، اور حضور بھی خاموش ہو گئے۔

ام المومنین نے فرمایا: اور میں دن بھر روتی رہی نہ آنسو تھمتا تھا اور نہ نیند آتی تھی۔ میں اپنے والدین کے یہاں رات بھر اور دن بھر روئی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گریہ میرے جگر کو پھاڑ دے گا۔ میں اپنے والدین کے یہاں بیٹھی رو رہی تھی کہ انصار کی ایک خاتون نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اجازت دے دی، وہ آ کر میرے پاس بیٹھ گئیں اور میرے ساتھ رونے لگیں، ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، جس دن سے یہ افواہ پھیلی تھی، آج تک کبھی میرے پاس نہ بیٹھے تھے اور ایک مہینہ تک میرے بارے میں وحی کا نزول رکا رہا۔

حضور نے بیٹھنے کے بعد شہادتین پڑھ کر فرمایا: اے عائشہ! تیرے بارے میں میرے پاس ایسی ایسی بات پہنچی ہے، اگر تو بری ہے تو بہت جلد اللہ تیری براءت بیان فرمائے گا، اور اگر بالفرض تو گناہ سے آلودہ ہے تو اللہ سے استغفار کر اور اس کی طرف رجوع کر، کیونکہ بندہ جب گناہ کا اعتراف کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی بات پوری فرما چکے تو میرا آنسو تھم گیا، یہاں تک کہ ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوا۔ میں نے اپنے والد ماجد سے عرض کیا میری طرف سے آپ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جواب دیں، انہوں نے فرمایا بخدا! میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں کیا عرض کروں، پھر میں نے اپنی والدہ سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جواب دیں انہوں نے بھی وہی کہا بخدا میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کیا عرض کروں، اب میں نے خود عرض کیا اور میں نوجوان لڑکی تھی، ابھی بہت زیادہ قرآن بھی نہیں پڑھا تھا، میں نے عرض کیا میرے علم میں یہ بات آ گئی ہے کہ آپ حضرات نے وہ سب سن لیا ہے جو لوگ کہتے پھر رہے ہیں اور وہ آپ حضرات کے دل میں بیٹھ گئی ہے اور آپ حضرات نے اسے سچ سمجھ لیا ہے۔

اب اگر میں یہی کہتی ہوں کہ میں اس سے بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے اس میں ضرور بلا شبہ بری ہوں، تو آپ حضرات مجھے سچا نہیں جانیں گے۔ اور اگر میں اس بات کا اعتراف کر لوں حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ حضرات مجھے سچا مان لیں گے۔ بخدا! میں اپنی اور آپ حضرات کی مثل یوسف علیہ السلام کے والد کے سوا اور کوئی نہیں پاتی جبکہ انہوں نے فرمایا تھا: پس اچھا صبر ہی خوب ہے، ان باتوں پر جو تم بیان کرتے ہو اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔ [سورۃ یوسف: 18] اس کے بعد میں نے اپنے بچھونے پر کروٹ لی، اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ میری براءت بیان فرمائے گا۔ مگر بخدا! میں یہ گمان نہیں کرتی تھی کہ میرے بارے میں وحی نازل ہوگی۔ اور میں اپنے آپ کو اس رتبے کا نہیں جانتی تھی کہ میرے بارے میں قرآن کلام فرمائے گا۔ ہاں! مجھے یہ امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب دکھایا جائے گا جس میں اللہ میری براءت بیان فرمائے گا۔

بخدا! حضور اپنی جگہ سے ہٹے بھی نہیں تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ حضور پر وحی نازل ہونے لگی اور حضور پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو نزولِ وحی کے وقت طاری ہوتی تھی کہ سردی کے دنوں میں بھی پسینے کے قطرے موتی کی طرح ٹپکتے تھے۔ جب وحی کی کیفیت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے فرو ہوئی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے، سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اللہ کا شکر کرو بے شک اللہ نے تیری پاکدامنی بیان فرمائی۔ اس پر میری والدہ نے مجھ سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو۔ میں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہوں گی اور سوائے اللہ کے اور کسی کا شکر نہیں ادا کروں گی۔ اس وقت اللہ عزوجل نے یہ دس آیتیں نازل فرمائیں۔

“ان لوگوں نے جو بہتان گھڑا ہے وہ تمہاری ہی میں سے ایک گروہ ہے” [سورۃ النور: 11] (اور بقیہ آیتیں) جب اللہ نے میری براءت میں یہ آیات نازل فرمائیں تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مسطح کو کبھی کچھ نہ دوں گا کیونکہ اس نے عائشہ کے بارے میں ایسا کہا ہے اور وہ مسطح بن اثاثہ کو رشتہ داری کی بنا پر دیا کرتے تھے۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں: “اور تم میں سے جو فضیلت اور وسعت والے ہیں، وہ اس بات پر قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دیں گے...” (پوری آیت غفور رحیم تک) [سورۃ النور: 22] ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! بخدا! میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے، اور مسطح کو وہ دینا جاری کر دیا جو پہلے عطا فرماتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا سے میرے معاملے میں دریافت فرمایا تھا، اور پوچھا تھا اے زینب! تم کیا جانتی ہو؟ تم نے کیا دیکھا ہے، تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے کان اور آنکھ کو محفوظ رکھتی ہوں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!