Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ترکِ تقلید کی تباہ کاریاں | محمد بسم اللہ جمالی رضوی

ترکِ تقلید کی تباہ کاریاں
عنوان: ترکِ تقلید کی تباہ کاریاں
تحریر: محمد بسم اللہ جمالی رضوی (جامعہ اشرفیہ مبارک پور)
پیش کش: ام ماجد
منجانب: نالج آف اسلام اکیڈمی

تقلید کسے کہتے ہیں؟

تقلید کہتے ہیں "تسلیم قول الغير بلادلیل" یعنی دوسرے کا قول بغیر دلیل کے مان لینے کو (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سرے سے دلیل ہی نہیں ہوتی بلکہ ائمہ مجتہدین دلائل سے مکمل واقف ہوتے ہیں ہاں مقلدین کا حق ہے کہ یہ قولِ امام پر بلا چوں و چرا عمل کریں)۔

اسلامی نقطہ نظر سے اس کا وجوب ایسا بدیہی ہے جس پر حقیقتاً دلیل کی حاجت نہیں چوں کہ کسی بھی عقل مند کو اس بات میں شک نہیں کہ قرآن وحدیث کو کامل طور پر سمجھنا ہر شخص کے بس میں نہیں اور علم کے باوجود بھی ہر ایک کو استخراجِ مسائل پر قدرت بہت بعید بلکہ ناممکن ہے، تاہم تسکینِ خاطر کے لیے بطورِ لمحہ کہا جائے تو حقیقتاً تقلید کا ثبوت قرآنِ مقدس کی آیتوں سے ملتا ہے۔

چنانچہ اللہ رب العزت فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں۔ [پارہ ۵]

مفسرین کی ایک بڑی تعداد جن میں حضرت عبداللہ ابن عباس، حضرت امام مجاہد اور حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہم جیسے اساطینِ تفسیر شامل ہیں، کا یہی قول ہے کہ اس آیت میں "اولی الامر" سے مراد ماہر علماء و متبحر فقہاء ہیں۔

اسی طرح قرآنِ کریم ہی میں ایک دوسرے مقام پر ہے:

فَسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

ترجمہ: تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔ [پارہ ۱۷]

اس آیت کے مفہوم میں بھی تقلید کا معنی واضح ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت ساری آیتیں ہیں جن سے تقلید کا ثبوت ملتا ہے۔ غرض یہ کہ لوگ دو گروہوں میں منقسم ہیں ایک گروہ تو مجتہدین کا ہے جبکہ دوسرا گروہ غیر مجتہدین یعنی مقلدین کا، مجتہدین کی علمی لیاقت یہ ہوتی ہے کہ انہیں علومِ قرآن اور علومِ حدیث پر عبور، نیز ناسخ و منسوخ و دیگر امورِ ضروریہ پر مکمل دسترس حاصل ہوتی ہے اور خداداد صلاحیتوں سے وہ آیات و احادیث سے مسائل کا استنباط کرتے ہیں جبکہ مقلدین کے اندر یہ صلاحیت و طاقت نہیں ہوتی کہ وہ استخراجِ مسائل کر سکیں۔ اور یہ کوئی اختراعی بات نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی آیت اس پر واضح اور روشن دلیل ہے۔ چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے:

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَةً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لْيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ

ترجمہ: اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکل جائیں تو ان میں ہر گروہ میں سے ایک جماعت کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں اور جب ان کی طرف واپس آئیں تو وہ انہیں ڈرائیں تا کہ یہ ڈر جائیں۔ [پارہ: 11]

علاوہ ازیں ہمارے اسلاف کرام، اولیاء و علمائے امت نے نہ صرف اس کے وجوب کا قول کیا ہے بلکہ خود انہوں نے ائمہ اربعہ (جن کی امامت پر اجماع ہے) کی تقلید کی ہے، یہ ایک ایسی تعداد ہے جو سواد اعظم کہلاتی ہے اور سواد اعظم کے حوالے سے خود سرور کائنات فخر موجودات نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عزت نشان ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : "إِنَّ اللهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْ قَالَ: أُمَّةً مُحَمَّدٍ عَلَى ضَلَالَةٍ وَيَدُ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ وَمَنْ شَدَّ شَدَّ فِي النَّارِ" رَوَاهُ التَّرْمِذِي

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینا اللہ میری امت کو یا فرمایا امت محمد مصطفی کو گمراہی پر متفق نہ ہونے دے گا جماعت پر اللہ کا دست کرم ہے جو جماعت سے الگ رہا وہ دوزخ میں الگ ہی جائے گا۔ [مشکاۃ شریف، ح ۱۷۳]

دوسری حدیث پاک ہے:

قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَدَّ شَدَّ فِي النَّارِ" رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهُ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گروہ کی پیروی کرو کیونکہ جو الگ رہا وہ الگ ہی آگ میں جائے گا۔ اسے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ابن ماجہ نے روایت کیا۔ [مرجع سابق]

ان آیات و احادیث سے انکشاف ہو گیا کہ تقلید ہی میں کامیابی ہے، کیونکہ اس میں قرآن و حدیث اور اسلاف کے عمل کی موافقت ہے، اس کو ترک کرنا قران وحدیث کی مخالفت اور طریق اسلاف سے بے راہروی اختیارکرنے کے مترادف ہے اور یہ ایسا عمل ہے جو جہنم کی راہ ہموار کرتا ہے۔ بلا شک یہی سب سے بڑا خسارہ ہے۔ لیکن اس دور پر فتن میں کچھ لوگوں نے تقلید کے خلاف بڑی شورشیں مچا رکھی ہیں اور اس (ترک تقلید) کی تحریک کو فروغ دینا ان کا مشغلہ بن چکا ہے نیز اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں اور دنیا کے سارے مقلدوں کو باطل پر مانتے ہیں۔

پھر یہ جاننا بھی از حد ضروری ہے کہ تقلید کے بغیر قرآن و حدیث کا فہم اور احکام شرع پر عمل نہ صرف یہ کہ نا ممکن ہے بلکہ اس سے منفی اثرات کا ترتب ہوتا ہے۔ ذیل میں ہم ترک تقلید کے چند تباہ کن نتائج بالاختصار بیان کرتے ہیں، ان شاء اللہ ہماری یہ باتیں اہل نظر واہل خیر کے لیے نافع جبکہ اہل شر کے لیے دافع ہوں گی۔ اللہ الموفق وھو المعین

تکلیف مالا یطاق

اگر ہر ایک کو یہ ذمہ داری دے دی جائے کہ وہ خود قرآن و حدیث پڑھ کر مسائل سمجھے اور اس پر عمل کرے نیز کسی کی تقلید نہ کرے تو یہ ایک انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بے جا بوجھ ڈالنا ہے، وجہ ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث میں ہر چیز کا بیان تو ضرور ہے مگر سب کے لیے ظاہر نہیں، ہاں! اس میں کچھ واضحتیں ہیں ان میں تو کوئی پریشانی نہیں؛ لیکن مغلقات کو سمجھنا اور ان سے احکام کا استنباط یہ ایک ایسا امر ہے جس پر ہر ایک شخص قادر نہیں ہو سکتا لہذا اس کا اسے ذمہ دار بنانا بےجا تکلیف میں ڈالنا ہے۔

مقصد اصلی میں ناکامی

ما قبل ہی سے ظاہر ہے کہ اگر ہر آدمی کو فقیہ و مجتہد بننے کی ذمہ داری تھوپ دی جائے تو سوائے اس کے کہ وہ پوری عمر کشمکش میں رہے گا، کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو گا اور مقصد حیات جو تھا کہ قرآن و حدیث کے مطابق عمل کر کے معرفت خداوندی حاصل کرے، اس میں کامیاب نہ ہو پائے گا کیونکہ ظاہری اختلافات ہی میں پڑا رہ جائے گا اور پوری عمر مسائل کے استحضار ہی میں گزر جائے گی۔

انتشار و اختلاف

اگر ہر کس و ناکس کو یہ آزادی دے دی جائے کہ خود سے مسائل کا استخراج کر کے ان پر عمل کرے تو اتحاد و اتفاق جس کی اسلام دعوت دیتا ہے اور آپسی انتشار کو "تذھب ریحکم" کے ذریعہ دفع کرتا ہے، یکسر افتراق میں تبدیل ہو جائے گا، کیوں کہ اس صورت میں کوئی کسی کو تسلیم کرنے کو تیار نہ ہو گا جس کا نتیجہ اختلاف و انتشار کے علاوہ کچھ نہ ہو گا۔

ہوائے نفس کا فروغ

اگر تقلید کا قلادہ گلے سے اتار دیا جائے اور ترک تقلید ہی کو حق جانا اور مانا جائے تو ہر ایک اپنے نفس کے مطابق عمل کرے گا نیز حلال و حرام میں تمیز باقی نہ رہے گی ہر ایک اپنے نفس کے مطابق عمل کرے گا اور ظاہر ہے کہ نفس کے مطابق عمل کرنا اللہ پاک کو ناراض کرنا ہے۔

یہ کچھ نمونے تھے ورنہ ایسی سینکڑوں خرابیاں ہیں جو عدم تقلید کا نتیجہ ہیں، یہاں سب کی گنجائش نہیں۔ اخیر میں تقلید سے متعلق علما کے کچھ اقوال ذکر کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں:

علامہ ابن رجب حنبلی علیہ الرحمہ اپنی کتاب "بیان فضل علم سلف علی علم الخلف، صفحہ 56" میں فرماتے ہیں:

خُذُوا مِنَ الرَّأْيِ مَا يُوَافِقُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَعْلَمَ مِنْكُمْ

یعنی حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے فرمایا کہ رائے میں سے صرف اس کو لو جو تم سے پہلے والوں کے موافق ہو کیوں کہ وہ تم سے زیادہ علم والے تھے۔

سرکار اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنا مایہ ناز رساله "الفضل الموھبی فی معنى إذا صح الحدیث فھو مذھبی" میں فرماتے ہیں:

امام اجل سفیان بن عیینہ کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ و امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے استاد اور امام بخاری و امام مسلم کے استاذ الاستاذ اور اجلہ ائمہ محدثین و فقہائے مجتہدین و تبع تابعین سے ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہم اجمعین ارشاد فرماتے ہیں:

الحديث مضلة الا للفقهاء

(حدیث سخت گمراہ کرنے والی ہے مگر مجتہدوں کو)۔

علامه ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں:

يُرِيدُ أَنَّ غَيْرَهُمْ قَدْ يَحْمِلُ الشَّيْءَ عَلَى ظَاهِرِهِ وَلَهُ تَأْوِيلٌ مِنْ حَدِيثٍ غَيْرِهِ أَوْ دَلِيلٌ يَخْفَى عَلَيْهِ أَوْ مَتْرُوكٌ أَوْجَبَ تَرْكَهُ غَيْرُ شَيْءٍ مِمَّا لَا يَقُومُ بِهِ إِلَّا مَنْ تَبَحَّرَ وَتَفَقَّهَ

ترجمہ: امام سفیان کی مراد یہ ہے کہ غیر مجتہد کبھی ظاہر حدیث سے جو معنے سمجھ میں آتے ہیں اُن پر جم جاتا ہے حالانکہ دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں مراد کچھ اور ہے، یا وہاں کوئی اور دلیل ہے جس پر اس شخص کو اطلاع نہیں، یا متعد د اسباب ایسے ہیں جن کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔ ان باتوں پر قدرت نہیں پاتا مگر وہ جو علم کا دریا بنا اور منصب اجتہاد تک پہنچا۔ [الفضل الموھبی، جلد ۲۱، ص ۵۴۴ بحوالہ المدخل لابن حجاج، فصل فی ذکر النعوت]

امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں: جس شخص کا گمان ہے کہ تقلید کوئی چیز نہیں اور وہ دین کے معاملے میں کسی کی تقلید نہیں کرتا تو اس شخص کا قول خدا اور اس کے رسول کے نزدیک ایک نافرمان کا قول ہے جو اپنے اس قول کے ذریعے علم و سنت کو رائیگا اور اثر کو باطل کرنا چاہتا ہے اور خود رائی بکواس بدعت اور اختلاف کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے۔ [ترک تقلید ایک بدعت ہے، صفحہ نمبر 11]

امام جلیل الفقیہ ابوالحسن میمون فرماتے ہیں: امام احمد ابن حنبل نے مجھ سے فرمایا اے ابو الحسن تم کسی ایسے مسئلے میں گفتگو کرنے سے پر ہیز کرو جس میں تمہارا کوئی امام نہ ہو۔ [مرجع سابق ص 15 بحوالہ اعلام الموقعین]

مذکورہ تمام اقتباسات سے ثابت ہوا کہ تقلید کے بنا قران و حدیث کی فہم اور ان پر عمل ممکن نہیں نیز ترک تقلید کے اثرات ایسے تباہ کن ہیں جو انسان کی دینی و دنیاوی نامرادی کے خطر ناک اسباب ہیں، اب رہا ایک سوال کہ ائمہ اربعہ ہی کی تقلید کیوں کی جاتی ہے؟ تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ تمام تر سلاطین امت نے ان کی تقلید پر اتفاق کیا اور ان کے سوا کی تقلید کے عدم جواز کا قول کیا ہے۔

تفسیر صاوی میں ہے:

لَا يَجُوزُ تَقْلِيدُ مَاعَدَا الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ وَالْخَارِجُ عَنِ الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ ضَالٌّ مُضِلٌّ

[جلد سوم، سورہ کہف]

وجہ یہی ہے کیوں کہ ان شخصیات کو اللہ پاک نے وہ کمال بخشا تھا جس کے ذریعے انہوں نے قیامت تک در پیش ہونے والے جملہ مسائل کا حل صراحتاً یا قانوناً اس طرح کر دیا ہے کہ بڑے بڑے فقہا انہی کی بار گاہوں کی خوشہ چیں اور انہیں کے قواعد وضوابط کو سامنے رکھ کر مسائل حل فرماتے ہیں نیز سب نے ان کو ائمہ مجتہدین تسلیم کیا اور ان کے مذاہب کے شیوع کی گواہی دی ہے، لہذا ثابت ہوا کہ تقلید میں بھلائی ہے اور اس کے ترک میں حدیث:

اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ

کی مخالفت ظاہر ہے۔ اللہ پاک ہمیں صحیح صحیح دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

[حوالہ: سہ ماہی القلم شمارہ 10 جمادی الاخریٰ تا شعبان المعظم 1446ھ]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!