Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیثِ افک (قسط دوم)|علامہ شریف الحق امجدی

حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیثِ افک (قسط دوم)
عنوان: حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیثِ افک (قسط دوم)
تحریر: شارحِ بخاری علامہ شریف الحق امجدی
پیش کش: انس احمد خان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار، نیپال گنج

اب اس طویل متنِ حدیث کی تشریحات ملاحظہ کریں: واقعۂ افک میں یہ بہتان باندھنے والے چار مرد تھے۔ راس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول، حضرت حسان بن ثابت، حضرت مسطح بن اثاثہ اور عبداللہ بن ابی احمد۔ اور ایک عورت حمنہ بنت جحش (ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش کی بہن) تھیں۔

اس فتنے کا بانی راس المنافقین تھا۔ اس نے اس کی ابتدا کی اور یہی اسے کرید کرید کر ابھارتا رہتا تھا، اور قولِ مختار یہی ہے کہ آیتِ کریمہ: "الَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ" سے مراد وہی شقیِ ازلی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت حسان ہیں، (مگر پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے)۔

یہ واقعہ غزوۂ بنی مصطلق میں واقع ہوا جسے غزوۂ مریسیع بھی کہتے ہیں، یہ بربنائے قولِ راجح شعبان ۵ھ میں ہوا تھا۔ اس واقعہ کی بنیادی کڑی وہ ہار ہے جو سیدنا ام المؤمنین کے گلے مبارک سے گر کر کھو گیا تھا، یہ ہار 'جزع' نامی ایک قیمتی پتھر کا بنا ہوا تھا۔ جزع عقیق کی ہی ایک قسم ہے، زیتون کے تیل میں پکانے سے اس کی خوبصورتی بڑھ جاتی ہے۔ مشہور ہے کہ اس کا پہننے والا غم و اندوہ میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور اگر بچے کو پہنا دیا جائے تو اس کی رال بہت بہتی ہے؛ نیز دردِ زہ میں مبتلا عورت کے بال پر پھیر دیا جائے تو بچے کی پیدائش میں آسانی ہوگی۔

یمن کے علاقے میں 'ظفار' ایک جگہ کا نام ہے، جہاں یہ عقیق بکثرت پیدا ہوتا ہے اور چین سے بھی آتا ہے، اس لیے اس کو 'جزعِ ظفاری' بھی کہتے ہیں۔ اکثر روایتوں میں ظفار کے بجائے اظفار بھی آیا ہے۔ اظفار ایک قسم کی خوشبودار لکڑی کو بھی کہتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ اس لکڑی کے منکوں سے ہار بناتے ہوں، اس ہار کی قیمت بارہ درہم تھی یعنی آج کل چاندی کی قیمت کے اعتبار سے لگ بھگ ڈھائی سو روپے تھی۔ یہ ہار ان کی والدہ نے اس وقت عطا فرمایا تھا جب انہیں رخصت کیا تھا۔

جب ام المؤمنین ہار کی تلاش میں قافلے سے پیچھے رہ گئیں تو اس جگہ تشریف لے آئیں جہاں پہلے قافلہ ٹھہرا ہوا تھا، پھر حضرت صفوان کی رہنمائی میں قافلہ کے ساتھ آ ملیں۔ یہ حضرت ام المؤمنین کی اس نوعمری میں اعلیٰ ذہانت کی دلیل ہے کہ وہیں اپنی جائے قیام پر تشریف فرما رہیں، ورنہ اگر گھبرا کر چل دیتیں تو اس کا خطرہ تھا کہ بھٹک جاتیں اور راہ ملنا دشوار ہو جاتا۔

حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی، قبیلہ بنی سلیم کے فرد تھے، خلافِ قیاس اس کی طرف انتساب میں 'سلامی' کہا جاتا ہے، ان کے آباؤ اجداد میں ذکوان نام کے ایک شخص تھے جن کی نسبت میں ان کو ذکوانی کہا گیا۔ یہ اس خدمت پر مامور تھے کہ لشکر کی روانگی کے بعد منزل کا جائزہ لے لیا کریں کہ اگر کسی کی کوئی چیز رہ گئی ہو تو اسے مالک کو پہنچا دیں۔ سب سے پہلا غزوہ جس میں یہ شریک ہوئے مریسیع ہی تھا، اس کے بعد خندق وغیرہ تمام مشاہد میں شریک ہوئے۔ بہت بہادر اور مخیر صحابی تھے، اور شاعر بھی تھے۔ آرمینیہ کی جنگ میں ان کا پیر ٹوٹ گیا مگر پھر بھی لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے؛ یہ جنگ ۳۸ھ میں ہوئی تھی۔

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ افک کے معاملے میں ملوث تھے، اس لیے انہوں نے (حضرت صفوان نے) غصے میں حضرت حسان پر تلوار چلائی مگر وہ بچ گئے۔ حضرت حسان نے دربارِ رسالت میں شکایت کی تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسان سے فرمایا کہ: "اپنا حق مجھے بخش دو۔" انہوں نے نذر کر دیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے عوض حضرت صفوان سے انہیں ایک کھجور کا باغ دلوا دیا۔ حضرت صفوان اس کے قبل ہی مشرف باسلام ہو چکے تھے، آگے ام المؤمنین کا ارشاد آ رہا ہے کہ انہوں نے نزولِ حجاب سے پہلے مجھے دیکھا تھا اور بربنائے قولِ مختار آیتِ حجاب کے نزول کا سنہ بھی یہی ۵ھ ہے۔ اس کا حاصل یہ نکلا کہ آیتِ حجاب اس واقعہ سے چند مہینے پہلے نازل ہوئی تھی۔

حضرت صفوان کو جب اس افواہ کی اطلاع ہوئی تو فرمایا: "بخدا! میں نے اب تک کسی عورت سے صحبت نہیں کی، نہ حلال طور پر نہ حرام طور پر۔" ابنِ اسحاق نے یہ بھی روایت کیا کہ وہ 'حصور' تھے یعنی عورتوں کے لائق نہ تھے (ان میں جنسی رغبت نہ تھی)۔ خود ام المؤمنین نے ان کا یہ قول نقل فرمایا ہے: "سبحان اللہ! میں نے کبھی کسی عورت کا ستر نہیں کھولا ہے۔" حضرت صفوان نے جب ام المؤمنین کو دیکھا تو انہیں سخت حیرت ہوئی ہوگی کہ کوئی عظیم سانحہ ہو گیا ہے، اس لیے بے ساختہ ان کی زبان پر کلمۂ استرجاع جاری ہو گیا ہوگا۔ یا ہو سکتا ہے انہوں نے آواز دے کر جگانے کے بجائے بلند آواز سے اسے پڑھا، یہ غایتِ ادب و احترام کی بنا پر تھا۔

مسلم کی روایت میں ہے کہ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ: "میں نے انہیں دیکھتے ہی چادر سے منہ چھپا لیا۔ واللہ! انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے سوائے استرجاع کے اور کچھ ان کی زبان سے سنا۔" حضرت صفوان نے اونٹ بٹھا کر اس کے اگلے پاؤں کو اس لیے دبا دیا کہ ام المؤمنین از خود بغیر کسی سہارے کے اونٹ پر سوار ہو جائیں، یہ ان کی ذہانت اور ان کا ادب تھا۔ صحاح کی تمام روایتوں میں یہی ہے کہ حضرت صفوان پیدل اونٹ کی مہار تھامے آگے آگے چل رہے تھے، ابنِ حبان کی ایک روایت میں ہے کہ اونٹ پر ام المؤمنین کے ساتھ بیٹھے تھے، مگر یہ صحیح نہیں۔

ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ ہم دونوں لشکر میں اس وقت پہنچے جب ٹھیک دوپہر کے وقت لشکر نے پڑاؤ کر لیا تھا۔ ابنِ اسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ ام المؤمنین فرماتی ہیں ابھی قافلہ اترا ہی تھا اور ابھی میری گم شدگی کا علم بھی کسی کو نہیں ہوا تھا کہ ہم لوگ پہنچ گئے۔ راس المنافقین عبداللہ بن ابی نے سب سے پہلے بہتان کے کلمات نکالے اور پھر تھوڑی دیر میں یہ افواہ پورے لشکر میں پھیل گئی۔

حضرت مسطح بن اثاثہ کی ماں حضرت صدیقِ اکبر کی خالہ تھیں جن کا نام 'رائطہ' تھا۔ مسطح اور ان کی ماں سابقینِ اولین مہاجرین میں سے تھے۔ اثاثہ (مسطح کے والد) بچپنے ہی میں فوت ہو گئے تھے، لہذا ماں اور بیٹے دونوں کی حضرت صدیقِ اکبر کفالت فرما رہے تھے۔ چونکہ مسطح بھی بہتان طرازوں میں شامل ہو گئے تھے، اس لیے ان کی والدہ نے ان کے لیے بددعا کے یہ الفاظ نکالے کہ "مسطح ہلاک ہو جائے"۔

جب سیدنا مولائے کائنات علیِ مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سلسلہ میں سرکار نے مشورہ طلب فرمایا تو آپ نے عرض کی: "یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز تنگی میں نہ ڈالے گا اور عورتیں ان کے سوا بہت ہیں، حضور کنیز (بریرہ) سے دریافت فرما لیں وہ سچی بات بتا دے گی۔" حضرت علیِ مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ عرض اس بنیاد پر تھی کہ معاملے کی جو صورت اس وقت تھی اس کے پیش نظر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قلق و اضطراب اور پریشانی کے ازالے کی سب سے آسان صورت یہی تھی جو انہوں نے عرض کی۔ ظاہر ہے کہ بفرضِ محال اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ام المؤمنین سے جدائی اختیار فرما لیتے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی تھی۔ یہ حضرت شیرِ خدا کی ایک رائے تھی، اگرچہ اس کا دوسرا پہلو بہت نازک تھا کہ پھر ام المؤمنین کی پاکدامنی و عصمت مشتبہ ہو جاتی، بلکہ اس کے خلاف لوگوں کو یقین ہو جاتا۔ یہ رحمتِ عالم کی شانِ کریمی کو گوارا نہ ہوا کہ جسے اپنے حریم میں جگہ دے چکے ہیں، اسے بلا کسی جرم کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طعن و تشنیع کا نشانہ بننے کے لیے چھوڑ دیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ معاذ اللہ معاذ اللہ! ام المؤمنین کی عصمت پر کسی قسم کا شبہ رکھتے تھے۔ اگر انہیں اس میں ذرا بھی شبہ ہوتا تو بلا جھجک ظاہر فرما دیتے۔ اس وقت نہ تقیہ کی ضرورت تھی، نہ حضرت شیرِ خدا سے اس کی توقع تھی؛ بلکہ یہ عرض کرنا کہ "کنیز یعنی بریرہ سے دریافت فرما لیں وہ حضور کو سچی بات بتا دے گی"، اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت بریرہ نے جو کچھ عرض کیا (کہ وہ بالکل پاک دامن ہیں) وہ خود حضرت شیرِ خدا کی بھی رائے تھی۔

اس مشاورت کے بعد سرکار منبرِ اقدس پر تشریف لے گئے اور فرمایا: "جن لوگوں نے یہ افترا پردازی کر کے مجھے ایذا پہنچائی ہے، انہیں اگر میں سزا دوں تو کون مجھے حق بجانب سمجھ کر معذور جانے گا یا اس خصوص میں کون میری مدد کرے گا۔" اس وقت حضرت سعد بن معاذ کھڑے ہو گئے اور عرض کی: "یا رسول اللہ! میں ان کے مقابلے میں حضور کی مدد کروں گا، اگر وہ آدمی (قبیلہ) اوس سے ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر خزرج سے ہے تو ہمیں حکم دیجیے، ہم آپ کے حکم کے مطابق عمل کریں گے۔"

اس پر امام قاضی عیاض وغیرہ نے یہ اشکال پیش کیا کہ اس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ باحیات نہیں تھے، کیونکہ یہ متفق علیہ ہے کہ ان کا وصال غزوۂ خندق کے بعد بنی قریظہ کے استیصال کے وقت ہو گیا تھا۔ غزوۂ خندق ۵ھ میں ہوا ہے جیسا کہ ابنِ اسحاق نے ذکر کیا ہے۔ لیکن یہ اشکال صحیح نہیں؛ صحیح یہ ہے کہ غزوۂ مریسیع شعبان ۵ھ میں ہوا ہے اور خندق شوال ۵ھ میں (لہذا اس وقت وہ حیات تھے)۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!