| عنوان: | حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیثِ افک (قسط سوم) |
|---|---|
| تحریر: | شارحِ بخاری علامہ شریف الحق امجدی |
| پیش کش: | انس احمد خان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار، نیپال گنج |
بہر حال! جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طیش آ گیا۔ چونکہ آپ خزرج کے سردار تھے، آپ نے مشتعل ہو کر کہا: ”بخدا! تو نہ اسے قتل کر سکتا ہے اور نہ اس کی قدرت رکھتا ہے۔“ حالانکہ وہ اس سے پہلے منافقین کی حمایت نہیں کرتے تھے، مگر اس وقت قبیلے کی حمایت میں انہیں غصہ آ گیا تھا اور اس غصے کی وجہ غلط فہمی تھی۔ چونکہ واقعۂ افک کا بانی مبانی اور لیڈر ابنِ ابی سلول (رأس المنافقین) بھی بنی خزرج کا تھا، انہوں نے یہ سمجھا کہ حضرت سعد بن معاذ اسی بہانے خزرج سے پرانی عداوت نکالنا چاہتے ہیں۔ اس کی دلیل ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نے کہا: ”تم نے یہ بات صرف اس بنا پر کہی ہے کہ تم جانتے ہو کہ یہ بنی خزرج سے ہے۔“ اور ابنِ ابی حاتم کی روایت میں ہے: ”اے معاذ! تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مدد نہیں کرنا چاہتا، اور تمہارے درمیان جاہلیت میں جو کینے تھے وہ اب تک تمہارے سینوں سے نہیں نکلے ہیں۔“
اس پر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا: ”تم یہ کام منافق کا کر رہے ہو کیونکہ منافق کی حمایت میں غصہ ہو رہے ہو۔“ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اسید بن حضیر دونوں حضرات قبیلہ اوس کی شاخ بنی عبدالاشہل سے تھے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات پر جلال اور غضب میں ان کے منہ سے یہ کلمات نکل گئے۔ اس وقت اس فتنے سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انتہائی ملول اور الجھن میں تھے، اس وقت ضرورت تھی کہ خاطرِ اقدس سے گردِ ملال دور کی جاتی، اور اطاعت و ہمدردی زیادہ سے زیادہ کی جاتی مگر حضرت سعد بن عبادہ نے غلط فہمی کی بنا پر وہ کہہ دیا جس پر انہیں جلال آ گیا۔ شورش اور فتنہ کے موقع پر اس قسم کی باتیں تعجب انگیز نہیں، خصوصاً اس وقت کہ ابھی یہ لوگ صرف چار سال ہوئے حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے تھے۔ اس اختلاف کی وجہ سے اوس اور خزرج دونوں قبیلے مشتعل ہو گئے تو حضور منبرِ اقدس سے نیچے تشریف لائے اور حاضرین کو خاموش رہنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ اور دیگر حضرات خاموش ہو گئے اور حضور بھی خاموش ہو گئے۔
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مؤمنِ مخلص اور سچے محبِ رسول ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس جوش اور طوفان میں جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سمجھایا بجھایا تو وہ ٹھنڈے ہو گئے اور ان کا ایمانِ صادق اور ان کی بے لوث حبِ رسول ان کے جوش اور طوفان پر غالب آ گئی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)۔ اس حادثہ سے حضرت سیدتنا ام المؤمنین بہت دل گرفتہ تھیں، کسی پہلو قرار نہ تھا۔
مسجدِ نبوی کی اس گفتگو کے بعد سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”عائشہ! تیرے بارے میں میرے پاس ایسی ایسی بات پہنچی ہے، اگر تو بری ہے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ تیری براءت بیان فرمائے گا۔“ یہ سننے کے بعد اخیر میں ام المؤمنین نے عرض کیا: ”میرے علم میں یہ بات آ چکی ہے کہ آپ حضرات نے وہ سب سن لیا ہے جو لوگ کہتے پھر رہے ہیں اور وہ آپ حضرات کے دل میں بیٹھ چکی ہے اور آپ حضرات نے اسے سچ سمجھ لیا ہے، اور اب میں یہ کہتی ہوں کہ میں اس سے بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے ضرور بلا شبہ بری ہوں تو آپ حضرات مجھے سچا نہیں جانیں گے؛ اور اگر میں اس بات کا اعتراف کر لوں حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ حضرات مجھے سچا مان لیں گے۔ بخدا! میں اپنی مثال اور آپ حضرات کی مثال یوسف کے والد (حضرت یعقوب علیہ السلام) کے علاوہ اور کچھ نہیں پاتی جب کہ انہوں نے فرمایا تھا: 'پس اچھا صبر ہی خوب ہے، ان باتوں پر جو تم بیان کرتے ہو اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔'“ اس کے بعد میں نے اپنے بچھونے پر کروٹ بدل لی، اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ میری براءت بیان فرمائے گا۔
غالباً ام المؤمنین چار سال خدمتِ اقدس میں گزار چکی تھیں، انہیں یقین تھا کہ حضور خوب جانتے ہیں کہ یہ افترا، بہتان اور کذبِ محض ہے، مگر جب حضور نے وہ فرمایا تو ان کی انا کو ٹھیس لگی اور شانِ محبوبی کی بنا پر بطورِ ناز و ادا وہ عرض کیا، خطاب اگرچہ حضور سے تھا مگر مراد عوام تھے جن کی عادت کی ام المؤمنین نے کما حقہ ترجمانی فرمائی ہے۔ اس وقت وہ عرض کر دیا مگر جب غور فرمایا کہ میں نے کیا کہہ دیا تو بطورِ معذرت ارشاد فرمایا: ”میں اس وقت نو عمر بچی تھی، اور قرآن بہت زیادہ نہیں پڑھا تھا اس لیے وہ کلمات منہ سے نکل گئے۔“ ام المؤمنین کی الجھن اور کرب کا اس سے اندازہ لگتا ہے کہ اس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کا نامِ نامی ذہن مبارک میں نہ آیا تو 'ابا یوسف' (یوسف کے والد) عرض کیا۔ یعنی اس صورتِ حال میں میں بھی صبرِ جمیل کروں گی اور اللہ عزوجل سے استعانت کروں گی، مجھے امید ہے کہ جیسے حضرت یعقوب کو ان کا گمشدہ یوسف مل گیا، میری بھی براءت اللہ عزوجل بیان فرما دے گا؛ اور جو ام المؤمنین کی امید تھی وہ بدرجہ اتم پوری ہوئی۔
پھر حضرت ام المؤمنین نے سرکار کی جانب سے جو رخ پھیرا تھا یہ بظاہر اعراض ہے مگر اس ظاہری اعراض میں کتنی یگانگت، کتنی کشش، اور کتنی لذت ہے، وہ اربابِ محبت ہی جانتے ہیں۔ اور یہ اس کی دلیل ہے کہ ام المؤمنین کو پورا وثوق تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو میری پاک دامنی اور براءت پر کامل یقین ہے، ورنہ موقع ایسا تھا کہ خوشامد کی جاتی اور انتہائی لجاجت آمیز گفتگو کی جاتی، اور ایسی حرکت ہوتی جو ان کی مظہر ہو؛ مگر سچے محب و محبوب کا رابطہ خوشامد اور لجاجت سے بالا ہے، ایک محبوب خوب جانتا ہے کہ میرے محب کو میری کیا ادا پسند ہے۔
یہی نہیں، اسود کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں نے چھڑا لیا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا۔ یہ سب وہی محبوبانہ ادائیں ہیں۔ ام المؤمنین کے قلبِ مبارک پر اس کا بہت اثر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سنتے ہی اس کی تردید کیوں نہیں فرمائی، جب کہ وہ خوب جانتے تھے کہ میں اس سے بری ہوں۔ اس ماحول میں جب اللہ عزوجل نے ان کی براءت نازل فرمائی، تو یہ محبوبانہ شکوہ اپنے کمال پر پہنچ گیا، جس کا یہ ثمرہ ہوا کہ عرض کیا ”میں صرف اللہ کی حمد کروں گی“ وغیرہ وغیرہ۔ پھر اسی وقت اللہ تعالیٰ نے سیدنا ام المؤمنین کی براءت میں سورہ نور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں:
إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ (الى) وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
ترجمہ: بے شک جو لوگ بھاری بہتان لائے وہ تمہاری ہی ایک جماعت ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم لوگ نہیں جانتے۔
سورہ نور کی تفسیر میں "العشر الآیات" (دس آیتیں) کا ذکر ہے مگر یہ دس نہیں نو ہیں، اس کے بعد کی آیت ملائی جائے تو دس ہوں گی۔ لیکن عطا خراسانی کی روایت میں ہے: "إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ" سے "وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ" تک نازل ہوئیں۔ یہ بارہ آیتیں ہوئیں۔ طبری میں حکم بن عتبہ کی مرویات میں ہے کہ اللہ عزوجل نے پندرہ آیتیں نازل فرمائیں: "الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ" تک، مگر یہ پندرہ نہیں سولہ آیتیں ہیں۔ تفسیر ابنِ ابی حاتم اور حاکم کی اکلیل میں سعید بن جبیر سے ہے کہ مسلسل اٹھارہ آیتیں نازل فرمائیں۔
اس عاجز کی رائے یہ ہے کہ صحیحین کی روایت راجح ہے کہ پہلے دس آیتیں نازل ہوئیں، اس پر واقعات کی ترتیب دلیل ہے۔ آیت کریمہ: "وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ" کا مضمون بتا رہا ہے کہ یہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قسم کے بعد نازل ہوئیں، اور یہ بھی طے ہے کہ آیاتِ براءت کے نزول کے بعد انہوں نے وہ قسم کھائی تھی۔ زمخشری نے کہا: "مختصر اور جامع عبارت کے ساتھ اتنی سخت وعید کسی معصیت میں وارد نہیں، وہ بھی مختلف اسلوب اور متعدد طریقوں کے ساتھ کہ ان میں ہر ایک اپنی جگہ کافی اور وافی ہے، حتیٰ کہ بت پرستوں کے بارے میں بھی اتنی سخت وعیدیں اور اتنا تند و تیز لہجہ استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سارے دین کا دار و مدار حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔" اس فتنے کے بانی اور سربراہ عبداللہ بن ابی کا منشا یہ تھا کہ اگر اس میں کامیاب ہو گئے تو پھر لوگوں کو یہ باور کرانا آسان ہوگا کہ جو شخص اپنی سب سے زیادہ محبوب بیوی کے اندر پاک دامنی کا جذبہ نہیں پیدا کر سکا، اور جس کی شب و روز کی صحبت اسے ایسی گندگی سے محفوظ نہیں رکھ سکی، وہ اللہ کا رسول کیسے ہو سکتا ہے؟
پھر اس بہتان پر یقین کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یقیناً حضرت ام المؤمنین کو طلاق دے دیتے جس کا اثر حضرت صدیقِ اکبر پر پڑتا۔ وہ کم ظرف یہ سمجھے ہوئے تھا کہ اس کے نتیجے میں حضرت صدیقِ اکبر، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے علیحدہ ہو جائیں گے، اور مہاجرین کا ایک طبقہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے الگ ہو جائے گا، یوں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایک بڑے معاون سے محروم ہو جائیں گے، اور یہ ہم سے مل جائیں گے۔ یوں اس نے اپنا ڈبل فائدہ سوچا ہوگا۔ اس لیے اللہ عزوجل نے سخت سے سخت اور تیز سے تیز اسلوب میں اس کا ردِ بلیغ فرمایا تاکہ آئندہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کا سدِ باب ہو جائے۔
کتاب المغازی اور کتاب التفسیر میں اس کے بعد یہ زائد ہے:
وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ ثُمَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ مِنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ.
ترجمہ: اور ام المؤمنین حضرت زینب کی بہن حمنہ ان کے لیے لڑتی رہیں اور ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو کر ہلاک ہو گئیں۔ ابنِ شہاب نے کہا کہ اس گروہ کی جو حدیث مجھے پہنچی ہے وہ یہ ہے۔ اس کے بعد عروہ نے روایت کیا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ نے کہا: "بخدا! اس شخص نے (صفوان) جس کے بارے میں یہ کہا گیا، یہ کہتا رہا: 'سبحان اللہ! (یہ کہا جا رہا ہے) اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کا ستر نہیں کھولا ہے۔'" ام المؤمنین نے فرمایا: "اس کے بعد وہ راہِ خدا میں شہید ہوا۔"
ہشام بن عروہ کی حدیث کے اخیر میں ہے:
وَكَانَ الَّذِي تَكَلَّمَ بِهِ مِسْطَحٌ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْمُنَافِقُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ وَهُوَ الَّذِي يَسْتَوْشِيهِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ هُوَ وَحَمْنَةُ.
ترجمہ: اسے مسطح، حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی منافق نے پھیلایا۔ عبداللہ بن ابی ہی وہ ہے جس نے اس میں سب سے زیادہ حصہ لیا، اور حمنہ نے۔
حمنہ بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حقیقی بہن تھیں۔ ان دونوں کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب ہیں۔ یہ بیعت کرنے والی خواتین میں تھیں۔ جنگِ احد میں شریک تھیں، پانی پلاتیں، زخمیوں کو اٹھا لاتیں، اور علاج کرتیں۔ پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ ان کی شہادت کے بعد طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حبالۂ عقد میں آئیں جن سے محمد سجاد اور عمر تولد ہوئے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خیبر کی پیداوار سے تین وسق دیا تھا۔ بہن کی حمایت میں ان سے یہ لغزش ہو گئی اور طبیعت میں جوش تھا، اس لیے حد سے آگے بڑھ گئیں۔
ابو داود وغیرہ میں ہے کہ آیاتِ براءت کے نزول کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور جن لوگوں نے یہ افواہ پھیلائی تھی، ان میں سے حضرت حسان بن ثابت، حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت جحش پر حدِ قذف جاری فرمائی۔ ان میں عبداللہ بن ابی کا ذکر نہیں، جب کہ وہی اس کا بانی مبانی تھا۔ غالباً یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ منافق تھا، اس کے ساتھ ایک جتھا تھا؛ نیز قبائلی عصبیت بالکلیہ ختم نہیں ہوئی تھی، اس کا اندیشہ رہا ہو گا کہ اندرونِ شہر کوئی خلفشار پیدا ہو جائے اور مخالفین کو یہ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع مل جائے کہ: "لو! اب جن لوگوں نے انہیں پناہ دی، انہی سے لڑنے لگے۔" ویسے امام حاکم کی 'اکلیل' میں ابواولیس کی روایت میں جو حسن بن زید اور عبداللہ بن ابوبکر بن حزم وغیرہ سے ہے کہ اس (عبداللہ بن ابی) پر بھی حد قائم کی گئی۔
یہ واقعہ اگرچہ انتہائی دل خراش ہے اور اس کے اثر سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو انتہائی ذہنی و اعصابی اذیت اٹھانی پڑی، بلکہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بھی انتہائی الجھن میں گرفتار کر دیا، مگر اس کی برکتیں بے شمار ہیں۔ سند الحفاظ علامہ ابنِ حجر نے سورہ نور کی تفسیر کی تو اس حدیث کے سو سے زائد فوائد بیان فرمائے ہیں۔ علامہ بدرالدین محمود عینی نے اس میں مزید اضافے فرمائے۔ اس خادم کے ذہن میں ان دونوں حضرات کے فوائد کے علاوہ مزید فوائد ہیں۔ خصوصیت سے اس واقعہ کے نتیجے میں زنا اور تہمتِ زنا کی سزاؤں کا نزول وہ برکت ہے کہ قیامت تک کے لیے ان گنت عورتوں کی عصمت محفوظ ہو گئی، اور شترِ بے مہار عوام میں ذرا ذرا سے شبہات پر الزام و اتہام کی جو عادت ہے، اس پر سخت قدغن لگ گیا۔ مجھے چونکہ اختصار مقصود ہے، اس لیے تفصیل سے درگزر کرتا ہوں۔
