| عنوان: | برے خاتمے کا خوف (ماخوذ از کتاب: جہنم میں لے جانے والے اعمال) |
|---|---|
| پیش کش: | صغری انجم حنفی |
سرکارِ والا تبار، بے کسوں کے مددگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کی قسم اٹھا کر فرماتے تھے: ”جو موت کے وقت ایمان کے چھن جانے سے بے خوف رہے گا، اس کی موت کے وقت اس کا ایمان چھین لیا جائے گا۔“ یعنی اس کا ایمان اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنے کی وجہ سے چھینا جائے گا۔
حضرت سیدنا عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”جب حضرت سیدنا سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نزع کا عالم طاری ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے، ایک شخص نے دریافت کیا: اے ابو عبداللہ! کیا گناہ کی کثرت نظر آ رہی ہے؟ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر اٹھایا اور زمین سے کچھ مٹی اٹھا کر ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل کی قسم! میرے گناہ میرے نزدیک اس مٹھی بھر مٹی سے بھی زیادہ حقیر ہیں، میں تو موت سے پہلے ایمان چھن جانے کے خوف سے رو رہا ہوں۔“
حضرت سیدنا عبداللہ بن احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”جب میرے والد گرامی (امام احمد بن حنبل) پر نزع کا عالم طاری ہوا تو میں ان کے قریب بیٹھ گیا، میں نے ان کے جبڑے باندھنے کے لیے ہاتھ میں کپڑے کا ایک ٹکڑا پکڑ رکھا تھا، آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کبھی بے چین ہو جاتے اور کبھی افاقہ محسوس کرتے اور کہتے: خبردار! مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔ میں نے عرض کی: ابا جان! آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ اس عالم میں ایسے انداز میں کس سے مخاطب ہیں؟ تو آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا: اے میرے بیٹے! کیا تم نہیں جانتے؟ میں نے عرض کی: نہیں، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ابلیس میرے سامنے کھڑا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے: اے احمد! مجھے ایک بار تو آزما لو (یعنی تم میرے چنگل سے نکل گئے)۔ لیکن میں اس سے کہہ رہا ہوں: جب تک میں مر نہ جاؤں، مجھ سے دور رہو۔“
حضرت سیدنا سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”مرید گناہوں میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے جبکہ عارف کفر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے۔“ منقول ہے کہ کسی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنی بھوک اور سردی کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی بھیجی: ”اے میرے بندے! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تیرے دل کو اپنی ناشکری سے محفوظ کر دیا ہے، پھر بھی تو مجھ سے دنیا کا سوال کرتا ہے۔“ تو وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر عرض کرنے لگے: ”کیوں نہیں، یا رب عزوجل! بے شک میں راضی ہوں، مجھے ناشکری سے بچائے رکھنا۔“
جب راسخ قدمی اور قوتِ ایمانی کے باوجود عارفین کے برے خاتمے سے خوف کا یہ عالم ہے تو ہم جیسے کمزور و ناتواں بندے کیوں نہ ڈریں۔ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”موت سے پہلے برے خاتمہ کی چند علامات ظاہر ہوتی ہیں، مثلاً بدعت میں مبتلا ہونا اور عمل میں نفاق۔“
ان کی پہلی بات کی تائید دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحر و بر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانِ عالیشان بھی کرتا ہے کہ: ”بدعتی لوگ جہنم میں جہنمیوں کے کتے ہوں گے۔“
[کنز العمال، کتاب الایمان والاسلام، باب البدع والرفض من الاکمال، الحدیث: ۱۱۲۱، ج ۱، ص ۱۲۳]
دوسری بات کی طرف نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں اشارہ فرمایا ہے: ”منافق کی تین علامتیں ہیں: (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور (۳) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے، اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو، روزے رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔“
[صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب خصال المنافق، الحدیث: ۲۱۱، ص: ۶۹]
اسی وجہ سے ہمارے اسلاف اس معاملہ میں بہت زیادہ ڈرتے تھے بلکہ ان میں سے بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا: ”اگر مجھے پتہ چل جائے کہ میں نفاق سے بری ہوں تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ پسند ہوگا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔“ حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: ”نفاق والے خشوع سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگا کرو۔“ آپ سے عرض کی گئی: نفاق والا خشوع کیا ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جسم تو خاشع نظر آئے مگر دل فاسق و فاجر ہو۔“
حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”تم لوگ کچھ ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے زیادہ باریک ہیں جبکہ ہم صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں انہیں ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال شمار کرتے تھے۔“
[صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من محقرات الذنوب، الحدیث: ۲۴۹۲، ص: ۵۴۵]
اپنے زمانہ کے شافعی مذہب کے امام حضرت سیدنا شیخ نصر المقدسی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے چار باتوں کی وصیت فرمائی، جو مجھے دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ پیاری ہیں؛ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! کشتی کی مرمت کر لو کیونکہ دنیا کا سمندر بہت گہرا ہے، بوجھ کو ہلکا رکھو کیونکہ سفر بہت طویل ہے، توشہ ساتھ لے لو کیونکہ گھائی بہت لمبی ہے اور عمل میں اخلاص پیدا کر لو کیونکہ تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرنے والا صاحبِ بصیرت ہے۔“
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خشیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”خشیت یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل سے اتنا ڈرو کہ اس کا ڈر تمہارے اور نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے۔“ اللہ عزوجل سے غافل ہونے سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ عزوجل کی معصیت میں انتہا کو پہنچ جائے اور اس کے باوجود بخشش کی تمنا رکھے۔
ایک شخص کسی تفریح گاہ میں داخل ہوا، اس کے دل میں معصیت کا خیال آیا تو اس نے سوچا کہ یہاں مجھے کون دیکھے گا؟ اچانک اس نے ایک بے چین کر دینے والی آواز سنی:
أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
ترجمہ کنز الایمان: کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار۔
[پ ۲۹، الملک: ۱۴]
حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ
ترجمہ کنز الایمان: اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔
[پ ۲۲، فاطر: ۵]
آپ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد گناہوں پر ہمیشگی اختیار کرنے کے باوجود مغفرت کی تمنا رکھنا ہے۔“
حضرت سیدنا بشر حافی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی: ”اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، مجھے کوئی نصیحت فرمائیے؟“ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”جو اللہ عزوجل کا خوف رکھتا ہو تو یہی خوف ہر خیر کی طرف اس کی رہنمائی کر دیتا ہے۔“
ایک شخص نے حضرت سیدنا طاؤس رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی تو اس کے پاس ایک بزرگ تشریف لائے، اس نے ان سے پوچھا: کیا آپ ہی طاؤس ہیں؟ تو اس بزرگ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! میں ان کا بیٹا ہوں۔“ تو اس شخص نے کہا: ”اگر تم طاؤس کے بیٹے ہو تو یقیناً تمہارے والد گرامی سٹھیا گئے ہوں گے یعنی بڑھاپے کی وجہ سے ان کی عقل جاتی رہی ہوگی۔“ اس بزرگ نے جواب دیا: ”عالم کبھی نہیں سٹھیا تا۔“ پھر انہوں نے مزید ارشاد فرمایا: ”جب تم ان کے پاس جاؤ تو گفتگو مختصر کرنا۔“ جب وہ شخص حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ کے بیٹے نے پھر اس سے کہا: ”اگر تم کوئی سوال کرنا چاہو تو مختصر سوال کرنا۔“ تو اس نے کہا: ”اگر وہ مجھ سے مختصر کلام کریں گے تو میں بھی مختصر کلام کروں گا۔“ اس پر حضرت سیدنا طاؤس رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”مستند باتیں سنو، میں تمہیں اپنی اس مجلس میں تورات، انجیل اور قرآن کریم (کا نچوڑ) سکھاؤں گا۔“ تو اس نے عرض کی: ”اگر آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے یہ تینوں کتابیں سکھائیں گے تو میں بھی آپ سے کوئی سوال نہ کروں گا۔ Hawk“ تو آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل سے اتنا ڈرو کہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ خوف میں ڈالنے والی کوئی چیز نہ ہو، اور اس سے اپنے خوف سے زیادہ امید رکھو، اور جو چیز اپنے لیے پسند کرتے ہو لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کرو۔“
حضرت سیدنا طاؤس رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیٹے کی اس بات کہ ”عالم کبھی نہیں سٹھیا تا“ کی تائید حضرت سیدنا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان کی تفسیر میں بیان کیا ہے:
وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ
ترجمہ کنز الایمان: اور تم میں کوئی سب سے ناقص عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے۔
[پ ۱۴، النحل: ۷۰]
آپ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جس نے قرآن کریم کا حق ادا کرتے ہوئے اسے پڑھا، وہ اس حالت کو نہیں پہنچے گا۔“ عالم کے نہ سٹھیانے سے مراد یہ ہے کہ بڑی عمر میں عالم کی عقل میں عام لوگوں کی طرح فساد پیدا نہیں ہوتا یعنی جس طرح عام لوگ بڑی عمر میں بچوں کی سی بلکہ ان سے بھی بدتر حرکتیں کرنے لگتے ہیں، عالم اس طرح نہیں کرے گا؛ یہی وہ برائی ہے جس سے اللہ عزوجل کی طرف سے علماء کی حفاظت کی جاتی ہے۔
حضرت سیدنا مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں فرمایا:
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ
ترجمہ کنز الایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔
[پ ۲۷، الرحمن: ۴۶]
آپ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ کے بارے میں سوچے پھر اسے اللہ عزوجل کا خیال آ جائے اور وہ اللہ عزوجل کے خوف اور اس سے حیا کرتے ہوئے اس گناہ کو چھوڑ دے۔“
*جہنم میں لے جانے والے اعمال، صفحہ ۹۱ تا ۹۴*
