| عنوان: | ٹیلیگرام کی بندش اور اعمال نامے کی یاد |
|---|---|
| تحریر: | اے۔ایس۔رضویہ |
| پیش کش: | نورِ زہرہ |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
ٹیلیگرام کی بندش اور اعمال نامے کی یاد
آج کی رات معمول کی راتوں سے کچھ مختلف تھی۔ خبر پھیلی کہ ہندوستانی حکومت کی جانب سے ٹیلیگرام کو 21 جون تک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ رات کا وقت ہونے کی وجہ سے زیادہ لوگوں کو اس بات کا علم نہ ہو سکا، لیکن سب جانتے تھے کہ آنے والی صبح عام صبحوں جیسی نہیں ہوگی۔
رات گزر گئی اور نئی صبح طلوع ہوئی۔ جب درس کا وقت ہوا تو خصوصاً وہ طالبات سخت پریشان ہو گئیں جن کی تعلیم کا بڑا حصہ ٹیلیگرام کے ذریعے جاری تھا۔ ہر طرف بے چینی کی کیفیت تھی۔ کوئی انٹرنیٹ بند کرکے دوبارہ چلاتا، کوئی فون ری اسٹارٹ کرتا، اور کوئی مسئلے کی وجہ جاننے کی کوشش کرتا، مگر ٹیلیگرام بدستور بند تھا۔ آہستہ آہستہ سب کو معلوم ہو گیا کہ یہ سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
اب طالبات، اساتذہ کرام اور مدرسین سب ہی فکر مند تھے کہ تعلیم کا سلسلہ کیسے جاری رکھا جائے۔ دینی تعلیم ایسا کام نہیں جسے چند دنوں کے لیے آسانی سے موقوف کر دیا جائے، اس لیے ہر شخص کسی نہ کسی حل کی تلاش میں تھا۔
اس واقعے نے حیا کے دل میں ایک گہرا خیال پیدا کیا۔ اس نے سوچا کہ آج صرف ایک ٹیلیگرام بند ہونے پر لوگوں میں اتنی بے چینی، اضطراب اور پریشانی پیدا ہو گئی ہے، تو اس دن کیا ہوگا جب ہمارا اعمال نامہ بند ہو جائے گا؟ اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہوگا، مہلت عمل ختم ہو گئی ہوگی، اور قیامت کی صبح طلوع ہوگی؟
جب ہم اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے، ہمارے اعمال پیش کیے جائیں گے، اور ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب لیا جائے گا، تو ہماری حالت کیا ہوگی؟ آج ایک دنیاوی ذریعے کے بند ہونے پر ہم پریشان ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر نیک اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جائے اور ہم اللہ کے حضور خالی ہاتھ پہنچ جائیں تو کیا جواب دیں گے؟
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس طرح ہم اپنی دنیاوی ضروریات کے لیے فکر مند رہتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنی آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ کیونکہ اصل کامیابی ٹیلیگرام، انٹرنیٹ یا دنیاوی وسائل میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور نیک اعمال کے ذخیرے میں ہے، جو قیامت کے دن ہمارے کام آئیں گے۔
