| عنوان: | امام احمد رضا قادری اور فن صرف (قسط: ششم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ ظفر بنت محمد شہاب الدین |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
دلیل دوم
مصدر فی نفسہ مستقل ہے اور فعل سے بے نیاز ہے، برخلاف فعل کے، کیوں کہ فعل اسم کا محتاج ہے اور اس سے بے نیاز نہیں ہے، پس وہ غیر مستقل ہے، اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مستقل راجح ہوتا ہے اور غیر مستقل مرجوح، پس اگر فعل اشتقاق میں اصل ہو، اور اصل راجح ہوتی ہے تو فعل کو اصل قرار دینے سے مرجوح کو ترجیح دینا لازم آئے گا، اور یہ محال ہے۔
دلیل سوم
مصدر کا مفہوم ایک ہے، اور وہ صرف حدث ہے اور فعل کا مفہوم متعدد ہے، اس کے حدث پر دلالت کرنے کی وجہ سے ایک دوسری چیز کے ساتھ اور وہ زمانہ ہے، اور نسبت پر دلالت کرنے کی وجہ سے، پس مصدر کا مفہوم فعل کے مفہوم کے تین اجزا میں سے ایک جز ہے، اور جزو وجود کے اعتبار سے کل پر مقدم ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ کل کے علل ناقصہ میں سے ہوتا ہے، اور علت کی بحث میں ثابت ہو چکا ہے کہ علت ناقصہ اپنے معلول پر تقدم طبیعی کے طور پر مقدم ہوتی ہے، اور تقدم طبیعی وجود کے اعتبار سے مقدم ہونا ہے، نیز وجدان بھی اس پر گواہ ہے، پس کیا ہی دو بہتر گواہ ہیں: برہان اور وجدان۔
دلیل چہارم
جو رضی نحوی نے کہا کہ ہر فرع اپنی اصل سے بنائی جاتی ہے، اور اس سے اخذ کی جاتی ہے، پس مناسب ہے کہ فرع میں وہ ہو جو اصل میں ہے، کچھ زیادتی کے ساتھ، یہی بنائی ہوئی چیز کا مقصود ہوتا ہے، جیسے دروازہ لکڑی سے اور انگوٹھی چاندی سے بنائی جاتی ہے اور رہی حال فعل کا ہے، اس میں مصدر کا معنی ہے، تینوں زمانوں میں سے کسی ایک زمانہ کی زیادتی کے ساتھ اور یہی فعل کی وضع سے مقصود ہے، اس لیے کہ زید کے لیے تمہارے “ضَرَبَ” کہنے سے زید کی طرف ضرب کی نسبت حاصل ہو جاتی ہے، لیکن اہل عرب نے اختصار کے ساتھ فعل کے زمانے کو بیان کرنا چاہا تو اس کے لیے فعل وضع کیا جو اپنے حروف مادہ سے مصدر پر اور اپنے وزن سے زمانہ پر دلالت کرنے والا ہے۔
دلیل پنجم
اشتقاق، مصدر سے ایک ہیئت اور ایک معنی کو پیدا کرنا ہے، مصدر کے حروف مادہ اور معنی کو باقی رکھتے ہوئے پس اگر ہم کہیں کہ مصدر فعل سے مشتق ہے، تو ضرور اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ مصدر فعل سے بنایا ہوا ایک لفظ ہے، جس میں ایک ہیئت اور ایک دوسرا معنی ہے اور اس کے معنی کی زیادتی کے ساتھ، اور ظاہر ہے کہ فعل کا معنی اس میں سے ہے کہ جس میں ایک ہیئت اور ایک دوسرا معنی ہے، فعل کے مادہ اور اس کے معنی کے ساتھ، اور ظاہر ہے کہ فعل کا معنی حدث ہے، فاعل کی طرف نسبت اور تینوں زمانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ، اور مصدر میں نہ فاعل کی طرف نسبت ہے اور نہ تینوں زمانوں میں سے کسی ایک پر دلالت ہے تو مصدر فعل سے بنایا ہوا نہیں ہو گا، اور یہ استدلال میرا ہے، اور دیگر جو رضی نحوی کے استدلال سے قریب ہے، لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ رضی نحوی نے فعل میں معنی اشتقاق کو موجود مان کر استدلال کیا اور میں نے مصدر کو مشتق فرض کرنے پر لازم محال کے ذریعہ استدلال کیا، پس وہ رضی نحوی کا قول معارضہ کی طرح ہے اور یہ امام ممدوح کا قول نقض کی طرح ہے اور فرق ظاہر ہے، پس غور کر اور شکر کر۔
توضیح و تخصیص دلائل
دلیل اول میں مصدر کے نام سے استدلال کیا گیا ہے، یعنی مصدر کا نام مصدر اسی لیے رکھا گیا ہے کہ وہ فعل کے صادر ہونے کی جگہ ہے، یعنی فعل اس سے مشتق ہوتا ہے۔
دلیل دوم میں یہ بتایا گیا ہے کہ فعل اپنے وجود کے لیے اسم کا محتاج ہوتا ہے، اور فعل میں کسی فاعل کی جانب نسبت ملحوظ ہوتی ہے، جس فاعل سے وہ فعل وجود میں آتا ہے۔ اسی طرح فعل میں موجود معنی حدث بھی اسی معنی ہوتا ہے۔ اس طرح فعل، اسم سے بے نیاز نہیں ہو سکتا، پس فعل محتاج ہوا، اور محتاج تابع، اور محتاج الیہ متبوع، اور محتاج الیہ راجح اور محتاج مرجوح ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے مصدر راجح ہوا، اور فعل مرجوح ہوا، اگر فعل کو مشتق منہ تسلیم کیا جائے تو مرجوح کو راجح قرار دیا جانا لازم آئے گا اور مرجوح کا راجح ہونا محال ہے۔
دلیل سوم میں بتایا گیا کہ فعل کا معنی تین معانی کا مجموعہ مصطفیٰ اعظم نمبر ماہنامہ “پیغام شریعت” 756 ہے۔ اور مصدر کا ایک ہی معنی ہے، اور وہ معنی، فعل کے مفہوم کا جز ہے اور جز کا وجود مقدم ہوتا ہے اور کل کا وجود متاخر ہوتا ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ مصدر کا وجود مقدم ہو گا، اور جس کا وجود مقدم ہو گا، وہ مشتق منہ ہو گا، وہ اپنے متاخر سے مشتق نہیں ہو سکتا۔
دلیل چہارم کا خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز کسی دوسری چیز سے بنائی جائے، ضروری ہے کہ اس بنائی جانے والی چیز میں اصل سے کچھ زیادہ معنی ہو، ورنہ پھر شیئ اصلی سے ایک نئی چیز بنانے سے کیا فائدہ۔ یہاں مصدر کا ایک ہی معنی ہے، یعنی حدث اور فعل میں تین معانی پائے جاتے ہیں، پس فعل مصدر سے مشتق ہو گا، نہ کہ مصدر فعل سے مشتق ہو گا۔
دلیل پنجم کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مصدر فعل سے مشتق ہوتا تو مصدر میں فعل سے زیادہ معانی ہونے چاہیے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ فعل میں تین معانی ہیں (1) حدث (2) فاعل کی طرف نسبت (3) زمانہ۔ مصدر میں صرف حدث کا معنی پایا جاتا ہے، پس اسی سے ظاہر ہو گیا کہ مصدر فعل سے مشتق نہیں ہے۔
اہل کوفہ کے دلائل
اہل کوفہ کا قول ہے کہ باب اشتقاق میں فعل اصل ہے اور مصدر اس کی فرع ہے۔ اس پر اہل کوفہ کے پانچ دلائل ہیں۔ امام موصوف نے رقم فرمایا:
وَاسْتَدَلَّ الْكُوفِيُّونَ عَلَى مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ بِخَمْسَةِ دَلَائِلَ أَيْضًا: الدَّلِيلُ الْأَوَّلُ: أَنَّ الْفِعْلَ أَصْلٌ، لِأَنَّ إِعْلَالَ الْمَصْدَرِ مَوْقُوفٌ عَلَى إِعْلَالِ الْفِعْلِ، فَمَتَى أُعِلَّ أُعِلَّ الْمَصْدَرُ، وَمَتَى لَمْ يُعَلَّ لَمْ يُعَلَّ؛ نَحْوُ: “قِيَامًا” أُعِلَّ بِتَبْدِيلِ الْوَاوِ يَاءً لِأَنَّهُ أُعِلَّ فِعْلُهُ وَهُوَ “قَامَ” بِتَبْدِيلِ الْوَاوِ أَلِفًا، وَأُعِلَّ “عِدَةً” بِحَذْفِ الْوَاوِ وَإِتْيَانِ التَّاءِ مَقَامَهَا لِأَنَّهُ أُعِلَّ “وَعَدَ” بِإِسْقَاطِ الْوَاوِ لِوُقُوعِهَا بَيْنَ الْكَسْرَةِ وَالْيَاءِ الَّتِي هِيَ أُخْتُ الْكَسْرَةِ، وَلَمْ يُعَلَّ “قِوَامًا” لِأَنَّهُ لَمْ يُعَلَّ “قَاوَمَ”، وَكَذَا لَمْ يُعَلَّ “وَجَلًا” لِأَنَّهُ لَمْ يُعَلَّ “يَوْجَلُ”. وَلَا يَخْفَى عَلَيْكَ أَنَّ الْمَوْقُوفَ عَلَيْهِ رَاجِحٌ وَالْمَوْقُوفَ مَرْجُوحٌ، فَلَوْ جُعِلَ الْمَصْدَرُ الْمَوْقُوفُ أَصْلًا فِيهِ مَعَ أَنَّ الْأَصْلَ رَاجِحٌ، لَزِمَ تَرْجِيحُ الْمَرْجُوحِ وَهَذَا مُحَالٌ. هَذَا! ثُمَّ يَصِحُّ جَعْلُ هَذَا الِاسْتِدْلَالِ مُعَارَضَةً لِلِاسْتِدْلَالِ الثَّانِي لِلْبَصْرِيِّينَ. وَالثَّانِي: أَنَّ الْمَصْدَرَ يُؤَكَّدُ بِهِ الْفِعْلُ، يُقَالُ: “اضْرِبْ ضَرْبًا”، وَالْمُؤَكِّدُ أَيْضًا رَاجِحٌ وَالْمُؤَكَّدُ مَرْجُوحٌ، فَلَوْ جُعِلَ الْمَصْدَرُ الْمُؤَكَّدُ أَصْلًا لَزِمَ مَا لَزِمَ هُنَاكَ. وَيَصِحُّ هَذَا أَيْضًا مُعَارِضًا. وَالثَّالِثُ: أَنَّ عَمَلَ الْمَصْدَرِ فَرْعُ عَمَلِ الْفِعْلِ، فَإِنْ كَانَ فِعْلُهُ لَازِمًا يَعْمَلُ عَمَلَ اللَّازِمِ، وَإِنْ كَانَ مُتَعَدِّيًا يَعْمَلُ عَمَلَ الْمُتَعَدِّي، فَالْفِعْلُ أَصْلٌ رَاجِحٌ وَالْمَصْدَرُ فَرْعٌ مَرْجُوحٌ، فَيَلْزَمُ فِي صُورَةِ الْعَكْسِ الْمُحَالُ الْمَذْكُورُ، وَيَصِحُّ هَذَا أَيْضًا مُعَارِضًا لَهُ. وَالرَّابِعُ: وَقَدْ ذَكَرَهُ الرَّضِيُّ أَنَّ الْفِعْلَ يَعْمَلُ فِي الْمَصْدَرِ نَحْوُ: “قَعَدْتُ قُعُودًا” وَ“ضَرَبْتُ تَأْدِيبًا”، وَقَدْ تَقَرَّرَ فِي النَّحْوِ أَنَّ الْعَامِلَ حَقُّهُ أَنْ يَكُونَ مُقَدَّمًا وَالْمَعْمُولَ حَقُّهُ أَنْ يَكُونَ مُؤَخَّرًا، فَالْفِعْلُ الْعَامِلُ مُقَدَّمٌ وَالْمَصْدَرُ الْمَعْمُولُ مُؤَخَّرٌ، فَكَيْفَ يُشْتَقُّ الْفِعْلُ الْمُقَدَّمُ مِنَ الْمَصْدَرِ الْمُؤَخَّرِ، فَإِنَّ وُجُودَ الْمُشْتَقِّ يَكُونُ بَعْدَ الِاشْتِقَاقِ، فَكَيْفَ يَتَفَرَّعُ وُجُودُ الْمُشْتَقِّ وَلَمْ يُوجَدِ الْمُشْتَقُّ مِنْهُ إِلَى الْآنَ. هَذَا! ثُمَّ يَصِحُّ جَعْلُهُ أَيْضًا مُعَارَضَةً لِلِاسْتِدْلَالِ الثَّالِثِ لِلْبَصْرِيِّينَ. وَالْخَامِسُ: أَنَّ الْمَصَادِرَ تَابِعَةٌ لِأَفْعَالِهَا فِي كَوْنِهَا مُجَرَّدًا وَمَزِيدًا، فَإِذَا كَانَ الْفِعْلُ مُجَرَّدًا كَانَ الْمَصْدَرُ مُجَرَّدًا، وَإِذَا كَانَ الْفِعْلُ مَزِيدًا كَانَ الْمَصْدَرُ مَزِيدًا، فَالْفِعْلُ مَتْبُوعٌ وَالْمَصْدَرُ تَابِعٌ، وَالْمَتْبُوعُ رَاجِحٌ وَالتَّابِعُ مَرْجُوحٌ، فَيَلْزَمُ عَلَى أَصَالَةِ الْمَصْدَرِ تَرْجِيحُ الْمَرْجُوحِ. وَثُبُوتُ أَنَّ الْمَصَادِرَ تَابِعَةٌ لَهَا فِي التَّجَرُّدِ وَالزِّيَادَةِ أَنَّ النَّصْرَةَ وَالْكَرَامَةَ وَالْبَعْثَرَةَ تُسَمَّى مُجَرَّدًا مَعَ التَّاءِ زَائِدَةً فِيهَا لِأَنَّ نَصَرَ وَكَرُمَ وَبَعْثَرَ مُجَرَّدَةٌ، وَمِثَالُ الزِّيَادَةِ وَلَوْ لَمْ يُوجَدْ لَكِنْ قِيَاسٌ عَلَى التَّجَرُّدِ. وَأَيْضًا يُؤَيِّدُهُ مَا فِي فُصُولِ أَكْبَرِي: “لَكِنْ مَصْدَرٌ مُشْتَقٌّ دَر إِطْلَاقِ مُجَرَّدٍ وَمَزِيدٍ تَبَعِ فِعْلِ مَاضِي مَذْكُورٍ”. وَهَذَا الِاسْتِدْلَالُ وَلَوْ كَانَ وَاهِيًا أَيْضًا كَالِاسْتِدْلَالَاتِ الْأَرْبَعَةِ الْأُوَلِ، لَكِنِّي اسْتَنْبَطْتُهَا مِنْ كَلِمَاتِهِمْ عَلَى طِبْقِ اسْتِدْلَالَاتِهِمُ الْأُوَلِ. هَذَا! [مخطوط: تَبْلِیغُ الْكَلَامِ إِلَى دَرَجَةِ الْكَمَالِ فِي تَحْقِيقِ أَصَالَةِ الْمَصْدَرِ وَالْأَفْعَالِ، ص: 5، 3]
ترجمہ: اہل کوفہ نے بھی اپنے مذہب پر پانچ دلیلوں سے استدلال کیا:
دلیل اول
فعل اصل ہے، اس لیے کہ مصدر کی تعلیل فعل کی تعلیل پر موقوف ہے، پس جب فعل کی تعلیل ہوگی، مصدر کی تعلیل ہوگی، اور جب فعل کی تعلیل نہیں ہوگی تو مصدر کی تعلیل نہیں ہوگی، جیسے “واو” کو یاء سے بدل کر “قیام” کی تعلیل کی گئی، کیوں کہ “واو” کو یاء سے بدل کر کے اس کے فعل کی تعلیل کی گئی، اور وہ “قام” ہے، اور “واو” کو حذف کر کے “تاء” کو اس کے قائم مقام بنا کر “عدة” کی تعلیل کی گئی، کیوں کہ “وعد” کی تعلیل کی گئی واو کو ساقط کر کے، اس کے کسرہ اور “یاء” کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے، جو یاء کے کسرہ کے موافق ہے اور “قوام” کی تعلیل نہیں کی گئی، اس لیے کہ “قوم” کی تعلیل نہیں کی گئی ہے، اور اسی طرح “وجل” کی تعلیل نہیں کی گئی، کیوں کہ “یوجل” کی تعلیل نہیں کی گئی، اور تم پر پوشیدہ نہیں ہے کہ موقوف علیہ راجح ہوتا ہے اور موقوف مرجوح ہوتا ہے، پس اگر باب اشتقاق میں مصدر موقوف کو اصل بنایا جائے، باوجود اس کے کہ اصل راجح ہوتی ہے تو مرجوح کو ترجیح دینا لازم آئے گا، اور یہ محال ہے۔ اسے محفوظ کرلو، پھر اس استدلال کو اہل بصرہ کے استدلال ثانی کے لیے معارضہ بناتا ہوں۔
دلیل دوم
مصدر کے ذریعہ فعل کی تاکید کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے: “اضرب ضربا” اور مؤکد تاکید کیا جانے والا راجح ہوتا ہے، اور مؤکد تاکید کرنے والا مرجوح ہوتا ہے، پس اگر مصدر کو اصل بنایا جائے تو لازم آئے گا کہ دلیل اول میں لازم آ چکا یعنی مرجوح کو ترجیح دینا لازم آئے گا اور اس کو بھی معارضہ بناتا ہوں جس طرح استدلال اول کو اہل بصرہ کے استدلال ثانی کا معارضہ بناتا ہوں۔
دلیل سوم
مصدر کل فعل کے عمل کی فرع ہے، پس اگر اس کا فعل لازمی ہوتا مصدر لازمی کا عمل کرے گا، اور اگر فعل متعدی ہو تو مصدر متعدی کا عمل کرے گا، پس فعل اصل راجح ہے اور مصدر فرع مرجوح ہے، پس عکس صورت میں مذکورہ محال لازم آئے گا یعنی مرجوح کو ترجیح دینا لازم آئے گا اور اس استدلال کا بھی اس کے لیے معارضہ ہوں گا جس طرح استدلال اول کو اہل بصرہ کے استدلال ثانی کا معارضہ بناتا ہوں، اسی طرح اہل کوفہ کے استدلال ثانی کا بھی اہل بصرہ کے استدلال ثانی کا معارضہ بناتا ہوں۔
دلیل چہارم
رضی نحوی نے ذکر کیا کہ فعل مصدر میں عمل کرتا ہے، جیسے “قعدت قعودا و ضربت تادیبا” اور نحو میں ثابت ہو چکا ہے کہ عامل کا حق یہ ہے کہ مقدم ہو، اور معمول کا حق یہ ہے کہ مؤخر ہو، پس فعل عامل مقدم ہو گا اور مصدر معمول مؤخر ہو گا، پس فعل مقدم، مصدر مؤخر سے کیسے مشتق ہو گا، اس لیے کہ مشتق کا وجود اشتقاق کے بعد ہوتا ہے، پس کیسے مشتق کے وجود کا قول کیا جا سکتا ہے، حالاں کہ ابھی تک مشتق منہ پایا نہیں گیا۔ اسے محفوظ کر لو، پھر اس کو بھی اہل بصرہ کے استدلال ثالث کا معارضہ بناتا ہوں۔ مصطفیٰ اعظم نمبر ماہنامہ “پیغام شریعت” 757
دلیل پنجم
مصادر مجرد و مزید فیہ ہونے میں اپنے افعال کے تابع ہوتے ہیں، پس جب فعل مجرد ہو گا تو مصدر بھی مجرد ہو گا اور جب فعل مزید فیہ ہو گا تو مصدر بھی مزید فیہ ہو گا، پس فعل متبوع ہے اور مصدر تابع ہے، اور متبوع راجح ہوتا ہے اور تابع مرجوح ہوتا ہے تو مصدر کے اصل ہونے پر مرجوح کو ترجیح دینا لازم آئے گا، اور مصدر مجرد و مزید فیہ ہونے میں فعل کے تابع ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ
جاری ہے
