| عنوان: | محرم الحرام: اہمیت و جامعیت، معارف و نکات، اعمال و وظائف |
|---|---|
| تحریر: | طارق محمود رضوی |
| پیش کش: | محمد رفیع مرکزی |
محرم الحرام: اہمیت و جامعیت، معارف و نکات، اعمال و وظائف
عالم کامل، شیخ الاسلام، امام زین العابدین عبد الرحمن ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے ایک نہایت مایہ ناز کتاب “لَطَائِفُ الْمَعَارِفِ فِيمَا لِمَوَاسِمِ الْعَامِ مِنَ الْوَظَائِفِ” تحریر فرمائی ہے۔ بارہ مہینوں کے فضائل، مخصوص ایام و لیالی کی خصوصیات اور ان سے متعلق اعمال و وظائف کے موضوع پر علمائے کرام نے ہر دور میں گراں قدر تصانیف پیش کی ہیں، جن میں بعض مختصر اور بعض مفصل ہیں۔ علامہ ابن رجب حنبلی کی یہ شاہکار تصنیف اسی سنہرے سلسلے کی ایک زریں کڑی ہے۔ چوں کہ اس موضوع پر لکھی جانے والی اکثر کتابیں اس کے بعد منظر عام پر آئیں، اس لیے یہ تصنیف ہر دور میں اہل علم کے نزدیک ایک ماخذ و مرجع اور مرکزی و بنیادی حیثیت کی حامل رہی ہے۔ علامہ ابن رجب حنبلی نے اس میں علم و عرفان کے ایسے اسرار و نکات سے پردہ اٹھایا ہے جن کی طرف عموماً توجہ نہیں جاتی، یوں محسوس ہوتا ہے کہ پوری کتاب علم و عرفان کا ایک بحر ناپیدا کنار ہے، مزید یہ کہ اس کا انداز بیان ایسا دل نشیں اور اثر آفریں ہے کہ مطالعہ کے بعد ایسا ممکن ہی نہیں کہ بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کا جذبہ بیدار نہ ہو اور وہ حیات مستعار کے ہر لمحے کی قیمت وصول کرنے پر آمادہ و سرگرم نہ ہو جائے۔
اسی کتاب کے پہلے باب “وَظَائِفُ شَهْرِ اللّٰهِ الْمُحَرَّمِ” کا ترجمہ حضرت علامہ افروز قادری چریاکوٹی حفظہ اللہ نے “محرم الحرام: اہمیت و جامعیت، معارف و نکات، اعمال و وظائف” کے نام سے کیا ہے۔ ترجمہ نہایت سلیس، رواں اور شگفتہ ہے، یہاں تک کہ قاری اصل اور ترجمے کے درمیان فرق محسوس نہیں کر سکتا، اور مطالعہ کے دوران کہیں بھی ثقالت یا دشواری کا احساس نہیں ہوتا۔ فقیر نے ماہ محرم الحرام کی مناسبت سے اسے اپنی میز مطالعہ کی زینت بنایا، دو ہی دن میں کتاب کس طرح ختم ہو گئی، اس کا احساس بھی نہ ہوا، اور دل کی روحانی کیفیت میں ایک عجیب لطافت اور تازگی پیدا ہو گئی، کتاب کے پہلے صفحے سے لے کر آخری صفحے تک ایک سطر بھی غیر ضروری محسوس نہیں ہوئی، خواہ وہ مقدمہ ہو یا کوئی اور حصہ۔
کتاب کے آغاز میں تفصیلی فہرست اور اسی سے متصل علامہ ابن رجب حنبلی کے احوال و آثار پر ایک تحقیقی تحریر ہے، بعدہ کتاب پر ہونے والے علمی کام کی تفصیل بیان کی گئی ہے، جس کا ایک ایک لفظ مترجم کی محنت اور جانفشانی کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ ترجمہ تین مجالس پر مشتمل ہے، پہلی مجلس میں ماہ محرم کے فضائل اور اس کے عشرۂ اولیٰ کی اہمیت کا بیان ہے، اس میں دو فصلیں ہیں؛ پہلی نفلی روزوں کی فضیلت اور دوسری قیام اللیل کی فضیلت پر مشتمل ہے، دوسری مجلس یوم عاشورا سے متعلق ہے، جس میں عاشورا کے روزے اور اس کے فضائل پر نہایت عمدہ اور مدلل گفتگو کی گئی ہے، جب کہ تیسری مجلس حاجیوں کی آمد کے حوالے سے ہے، جس میں نہایت ایمان افروز اور فکر انگیز مباحث شامل ہیں۔
فقیر نے جب اس کتاب کا انتخاب کیا تو عنوان دیکھ کر یہ گمان ہوا کہ ماہ محرم الحرام کے مخصوص اعمال و وظائف بھی تفصیل کے ساتھ ذکر کیے گئے ہوں گے جیسا کہ ترجمہ کے نام سے مفہوم ہوتا ہے تاکہ انہیں معمول میں لا کر اسلامی تقویم کے پہلے مہینے کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کیا جا سکے، مگر مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ نفلی روزوں، قیام اللیل اور یوم عاشورا کے اعمال کے علاوہ الگ سے کوئی مخصوص اوراد و وظائف ذکر نہیں کیے گئے، البتہ “اذکار نافعہ اور اعمال صالحہ کی برکتیں” کے عنوان کے تحت تسبیح و تحمید کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اور اہل علم پر مخفی نہیں کہ عاشورا کے سوا یہ اعمال محرم کے ساتھ خاص نہیں ہیں، اس لیے فقیر کو محرم الحرام: اہمیت و جامعیت، معارف و نکات، اعمال و وظائف میں موجود “اعمال و وظائف” کا جزو اپنے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے پوری طرح اسم بامسمیٰ محسوس نہیں ہوتا، تاہم یہ بات میری کم علمی اور محدود فہم کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔ باقی مترجم کا سیال قلم، شگفتہ اسلوب، دل نشیں طرز نگارش اور بہترین انداز ترتیب قابل تحسین اور اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ تعالیٰ سلف صالحین کی ضوبار شعاعوں سے ہمارے قلوب کو منور و مجلیٰ فرمائے، اور مترجم و قارئین سب کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین ثم آمین۔
