Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سرکارِ نور اور ردِ بدمذہباں | رضوان اللہ حسنی مصباحی

سرکارِ نور اور ردِ بدمذہباں
عنوان: سرکارِ نور اور ردِ بدمذہباں
تحریر: رضوان اللہ حسنی مصباحی (الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ)
پیش کش: ام ماجد
منجانب: نالج آف اسلام اکیڈمی

یہ بات شبہ سے بالا تر ہے کہ اسلام ہی وہ مذہبِ مہذب ہے جو سب سے قدیم اور مبنی بر حق مذہب ہے جیسا کہ اللہ جل وعلا نے سورۂ آلِ عمران میں ارشاد فرمایا:

إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

اور اسلام ہی کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بطورِ دین پسند فرمایا چنانچہ اللہ عزوجل نے سورۂ مائدہ میں ارشاد فرمایا:

وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

حضرت آدم علیہ السلام تا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہر زمانے میں اسلام مخالف لوگ رہے ہیں اعلانیہ طور پر اور اسلام کے لبادے میں خفیہ طور بھی خاص کر جب ہادیٔ انس و جاں نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سرزمینِ عرب کو اپنی تشریف آوری سے شرفِ قدومت بخشا اور لوگوں کو کفر و شرک اور ظلم و جبر کی تاریکیوں سے نکال کر پیغامِ توحید و رسالت کی چاند نما بھینی بھینی روشنی میں لاکر اسلام کی چھاؤں میں قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی جینے کا مکمل ضابطۂ حیات عطا فرمایا۔ مگر ہر زمانے کی طرح اس زمانے میں بھی اسلام اور شارعِ اسلام مخالف قوتوں کو یہ پر امن مذہبِ مہذب ایک آنکھ نہ بھایا اور کفار و مشرکینِ عرب نے اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ اولاً تو اسلام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا مگر ایسا نہ ہو سکا اور کیونکر ہوتا کہ اسلام کی فطرت ہی یہی ہے جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی اتنا ہی ابھرے گا اور بمطابق فطرتِ اسلام ایسا ہی ہوا کہ جس اسلام کے ماننے والے کبھی فقط چالیس کی تعداد پر مشتمل تھے اب وہ ہزاروں اور پھر لاکھوں کی تعداد میں ہو گئے۔

مگر جب اعلانیہ طور پر کچھ بگاڑ نہ سکے تو پوشیدہ طور پر سردارِ منافق عبد اللہ بن سبا اور اس کے متبعین بظاہر لباسِ اسلام اوڑھ کر مسلمانوں میں شامل ہو گئے تاکہ مسلمانوں کے عقائد و نظریات میں فساد برپا کر دیا جائے اور مسلمان منادیِ توحید ہونے کے باوجود ایک نہ رہیں پس ان کا یہ مشن ایک حد تک کامیاب رہا اور یہ منافقین آستین کے سانپ مسلمانوں کے مابین رہ کر ان کے عقائدِ حقہ صحیحہ کو عقائدِ فاسدہ میں بدلنے میں کوشاں رہے۔ پس وہ اسلام جو بہر اعتبار متحد تھا عقائد و نظریات میں منتشر ہو کر شاملیانہ توحید کے نیچے رہتے ہوئے بھی شیعیت، خارجیت، رافضیت اور تفضیلیت وغیرہ میں بٹ گئے۔

لیکن قربان جاؤں وارثینِ انبیاء پر کہ جب ہر سمت سے فتنے اٹھنے لگے نئی نئی جماعتیں معرضِ وجود میں آئیں اور غیر دینی عقائد تراشے جانے لگے تو ضرورت محسوس ہوئی اس بات کی کہ ان گمراہ کن عقائد کا پردہ چاک کر کے عقائدِ حقہ کو واضح کیا جائے اور علمائے حق ان بد مذہبوں کا کھل کر رد کریں۔ عہدِ رسالت سے لے کر اب تک یہی ہوتا آیا ہے، انہی علمائے حق میں سے ایک نور العارفین، خاتم الاکابر، مرشدِ اجازت و خلافت و استاذِ اعلیٰ حضرت و مرشدِ برحق حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری علیہ الرحمہ ہیں جنہوں نے چند کتابیں لکھ کر مسلکِ اہلِ سنت والجماعت کے عقائدِ حقہ ثابتہ اور بد مذہبوں کے عقائدِ باطلہ کا رد کر کے بتا دیا کہ یہی ہمارے اسلاف کا طریقہ کار اور شیوہ رہا ہے۔ خاص کر "دلیل الیقین من کلمات العارفین" اور "سراج العوارف فی الوصایا والمعارف" نیز "العسل المصفیٰ فی عقائد ارباب سنة المصطفیٰ" جیسی مایہ ناز کتابیں تصنیف فرما کر رافضیت و تفضیلیت و غیرہا جیسے فرق باطلہ کا ردِ بلیغ فرما کر جماعت اہلسنت کے عقائد کی حفاظت فرمائی۔

نوری میاں اور ردِ بدمذہباں

نور العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں علیہ الرحمہ ہندوستان میں قادری سلسلہ کی عظیم خانقاه، خانقاهِ برکاتیہ کے عظیم بزرگ اور ان ہفت اقطاب مارہرہ میں سے آخری قطب ہیں جن کی قطبیت کی بشارت سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے دی تھی۔ آج سنیوں کے بھیس میں نام نہاد مولائی پیر حضرات نیز چند لوگ سیادت کی آڑ میں رافضیت و تفضیلیت کو فروغ دینے والے عقل سے پیدل، علم سے پرے شیعوں کے دام فریب میں آنے والے سادات ہوش کے ناخن لیں کہ مسلک اہل سنت و جماعت کے موقف سے ہٹ کر مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرات شیخین کریمین رضی اللہ عنہما پر فضیلت دینا، کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابو سفیان کے بارے میں سوئے ظن رکھنا، ان پر زبان طعن دراز کرنا، علاوہ ازیں خلیفہ اول افضل البشر بعد الانبیاء با تحقیق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم پیکر عدل وانصاف حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کو سب و شتم کرنا، ان نفوس قدسیہ کی شان میں بھونکنا، مولائے کائنات کو ان کے فرمان حق نشان کے خلاف خلیفہ اول قرار دینا وغیرہا اس طرح کے گندے اور فاسد عقائد بلا شبہ یہ رافضیت اور تفضیلیت ہے۔

آج کل اس طرح کے فتنے اپنے عروج پر ہیں اور کیونکر نہ ہوں کہ اس میں وہی لوگ گرفتار ہیں جو دین کے ٹھیکے دار بنے بیٹھے ہیں یعنی کہ ڈھونگی پیر فقیر، عصیاں شعار، شہرت کے بھوکے لوگ۔ ان جیسے جعلی اور گھٹیا لوگوں نے سادہ لوح سنیوں کو اپنے دام فریب میں پھنسا لیا ہے، ان میں وہ بھی ہیں جو اپنے آپ کو مشائخ مارہرہ مطہرہ کا ترجمان کہتے ہیں اور جن کی زبان خود ستائی اور خود کو صاحب سجادہ کہتے نہیں تھکتی۔ در اصل یہ اور ان جیسے تمام لوگ مثل دندان فیل کے ہیں اور مشائخ مارہرہ مطہرہ کے جھوٹے ترجمان ہیں۔ مشائخ مارہرہ کے سچے اور حقیقی ترجمان امین ملت، شرف ملت، رفیق ملت اور امان اہل سنت دامت برکاتہم القدسیہ ہیں، پس عوام و خواص اہل سنت و حامی مسلک اعلیٰ حضرت کو چاہیے کہ انہی کی کہی باتوں پر اعتماد کیا جائے۔ پس اس دور پر فتن میں اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کس طرح نوری میاں علیہ الرحمہ نے عقائد اہل سنت کی ترجمانی اور رافضیوں، تفضیلیوں جیسے بد مذہبوں کا دندان شکن رد بلیغ فرما کر بد مذہبیت کا سد باب کیا ہے، اس کے لیے حضرت کی کتابوں کی ہی روشنی میں چند سطریں قلم بند کی ہیں ملاحظہ فرمائیں:

فرقہ رافضیت کی تعریف کرتے ہوئے حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ رقم طراز ہوتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کی شان میں یہ فرقہ نہایت گستاخ ہے، یہاں تک کہ اُن پر سب و شتم ان کا عام شیوہ ہے۔ [بہار شریعت]

حضور نوری میاں علیہ الرحمہ اپنی کتاب (العسل المصفى في عقائد ارباب سنة المصطفی) میں تحریر فرماتے ہیں کہ پیغمبروں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا درجہ ہے، امت کا کوئی ولی کیسے ہی بڑے رتبہ کا ہو کسی صحابی کے مرتبے کو نہیں پہنچتا، خدا کی بارگاہ میں جو نزدیکی و عزت انہیں حاصل ہے، امت میں دوسرے کو نہیں۔ ان سب کی تعظیم فرض اور ان کی شان میں گستاخی گمراہی، ان کی محبت ایمان کی علامت، ان میں کسی سے دل کشیدہ رکھنا نفاق کی نشانی، وہ سب کے سب اللہ کے بڑے محبوب اور نہایت نیک بندے، خدا سے بڑے ڈرنے والے تھے۔ ایمان ان کے دلوں میں پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا، جو ان میں سے کسی کو فاسق بتائے وہ خود فاسق و بددین ہے۔

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کئی ہزار سے اوپر کم و بیش ایک لاکھ تھے، ان میں سے ہیں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار اور بڑے جاں نثار، ان کی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی پیاری بیوی تھیں۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ، ان کے سایہ سے شیطان بھاگتا، آپ کی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں تھیں، اور یہ دونوں صاحبان (یعنی حضرت شیخین رضی اللہ تعالی عنہما) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر اور ہر کام میں مشیر تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ان کی بڑی قدر تھی۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ انہیں حضور کی دو بیٹیاں حضرت بی بی رقیہ اور حضرت بی بی ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہما بیاہی تھیں، مولی علی حضور کے چچازاد بھائی تھے ان کے نکاح میں حضور کی سب سے زیادہ پیاری بیٹی خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا آپ کی زوجیت میں تھیں۔ چاروں صحابی رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے خلیفہ تھے، ایک کے بعد دوسرے حضور کی جگہ مسند پر بیٹھے اور دین کے کام خوب جاری کئے۔ ہر ایک خلیفہ برحق تھا، ان میں کوئی ظالم اور غیر کا حق چھیننے والا نہ تھا، جو ایسا گمان کرے اپنے ایمان کا دشمن ہے۔

اور حضرت زبیر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے، اور حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زید، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، چھ یہ اور چار وہ ان دسوں کو عشرہ مبشرہ کہتے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ جنت کی بشارت دی اور یہ دسوں قطعی جنتی ہیں۔ [العسل المصفی فی عقائد ارباب سنة المصطفی، ص ۲۲]

یہ وہ مبارک جماعت ہے جس کے بارے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

وہ دسوں جن کو جنت کا مژدہ ملا
اس مبارک جماعت پہ لاکھوں سلام

فرقہ رافضیت ان مقدس صحابہ کرام پر سب و شتم کرنے سے کسی بھی وقت اپنی زبان کو خاموش نہیں کرتا ہے، اور ان حضرات (یعنی عشرہ مبشرہ) کے سوا اور صحابہ بھی قطعی جنتی ہیں، اور صحابیوں میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ، ان کے والد حضرت ابو سفیان اور ان کی بیٹی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن جن کا نام پاک حضرت ام حبیبہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں، یہ سب حضرات اور باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب بڑے رتبہ والے تھے، ان میں سے کسی پر طعن کرنا اپنے دین کی شامت لگانا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا دامن پاک، جھوٹوں کی بہتان سے بری تھا، اللہ تعالی قرآن کریم میں ان کے پاک ستھرے ہونے کی گواہی دیتا ہے، پھر جو ایسی تہمت سے اپنی زبان کو گندی کرے وہ کافر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سب بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ [عقائد اہلسنت]

بشارت یافتہ صحابہ کرام کے بعد اجلہ صحابہ کے بجائے مذکورہ اصحاب رسول کا ذکر اس بات پر تنبیہ کے لئے ہے کہ ان کے متعلق کسی بھی بد گمانی کو جگہ نہ دی جائے بلکہ ان کی تعظیم و توقیر واجبی طور پر بجالائی جائے، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے:

أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ

میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان عالی شان سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام صحابہ ہدایت یافتہ اور جنتی ہیں، ان کی شان میں ادنیٰ گستاخی یہ گمراہی اور بد دینی ہے لہذا ہم پر لازم ہے کہ ہم تمام صحابہ کی تعظیم و توقیر کریں اور جو ان سے عداوت اور دشمنی یا ان پر سب و شتم کرنے والے ہیں ان سے اجتناب کریں، اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے مولا قدیر ہم سب کو صحابہ کی تعظیم و توقیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ طہ ویسین علیہ الصلوۃ والتسلیم۔

[حوالہ: سہ ماہی القلم شمارہ 10 جمادی الاخریٰ تا شعبان المعظم 1446ھ]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!