| عنوان: | پردے کی اہمیت اور آج کی خواتین |
|---|---|
| تحریر: | بنت سلیم عطاریہ |
پردہ اسلامی شعار ہے، ہمارے پیارے دینِ اسلام نے پردے کی صورت میں عورت کو وہ عزت و عظمت عطا فرمائی جو کسی اور مذہب میں نہیں۔
قرآن مجید کی مؤمنات کو پردے کی تعلیم
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی
ترجمہ کنزالایمان: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔ [الاحزاب: 33]
ام المؤمنین حضرت سودہ کا حکم باری تعالیٰ پر عمل کا پیارا انداز
ایک بار ام المؤمنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی: آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ باقی ازواج کی طرح حج کرتی ہیں نہ عمرہ؟ تو آپ نے فرمایا: میں نے حج و عمرہ کر لیا ہے، چونکہ میرے رب نے مجھے گھر میں رہنے کا حکم فرمایا ہے۔ لہٰذا خدا کی قسم! اب میں موت آنے تک گھر سے نہ نکلوں گی۔ راوی فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ گھر کے دروازے سے باہر نہ نکلیں یہاں تک کہ آپ کا جنازہ ہی گھر سے نکالا گیا۔ [تفسیر در منثور، ج: 6، ص: 599، اہرہ]
شہزادی کونین رضی اللہ عنہا کا پردہ
خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا نے موت کے وقت وصیت فرمائی کہ انتقال کے بعد مجھے رات کے وقت دفن کرنا تاکہ میرے جنازے پر کسی غیر کی نظر نہ پڑے۔ [مدارج النبوۃ، الجزء الثانی، ص: 461]
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام
دامن پر بھی کبھی نامحرم کی نظر نہ پڑی
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اخبار الاخیار میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ خشک سالی ہوئی، لوگوں نے بہت دعائیں کیں مگر بارش نہ ہوئی، تو شیخ نظام الدین ابو المؤید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی والدہ ماجدہ کے پاکیزہ دامن کا ایک دھاگہ اپنے ہاتھ میں لیا اور بارگاہِ رب العزت میں عرض کی: اے اللہ! یہ اس خاتون کے دامن کا دھاگہ ہے جس پر کبھی کسی نامحرم کی نظر نہ پڑی، مولا اس کے طفیل رحمت کی بارش نازل فرما۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابھی شیخ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ نے یہ جملہ کہا ہی تھا کہ چھما چھم بارش برسنے لگی۔ [اخبار الاخیار، ص: 294]
صحابیات و صالحات کی سیرت اور ہمارا انداز
غور فرمائیے کہ صحابیات و صالحات کس قدر حکم باری تعالیٰ کی پابند تھیں اور پردے کا کس قدر اہتمام فرماتی تھیں، مگر افسوس کہ دورِ حاضر میں کثیر خواتین بازاروں، پارکوں، شاپنگ سینٹرز وغیرہ میں بے پردہ نظر آتی ہیں۔ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جن کا اپنے اسلاف سے تعلق مضبوط ہوتا ہے لہٰذا ہمیں اپنی اسلاف خواتین کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
عورت کا کن سے پردہ ہے اور کن سے نہیں؟
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پردہ صرف ان سے نادرست ہے جو بسبب نسب کے عورت پر ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوں اور کبھی کسی حالت میں ان سے نکاح ناممکن ہو، جیسے نانا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، چچا، ماموں، بیٹا، پوتا، نواسا۔
ان کے سوا جن سے نکاح کبھی درست ہے اگرچہ فی الحال ناجائز ہو، جیسے بہنوئی جب تک بہن زندہ ہے، یا چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی کے بیٹے، یا جیٹھ، دیور، ان سے پردہ واجب ہے۔ اور جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے، کبھی حلال نہیں ہو سکتا مگر وجہِ حرمت علاقۂ نسب نہیں بلکہ علاقۂ رضاعت ہے، جیسے دودھ کے رشتے سے باپ، دادا، نانا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، چچا، ماموں، بیٹا، پوتا، نواسا، یا علاقۂ صہر ہو جیسے خسر، ساس، داماد، بہو، ان سب سے نہ پردہ واجب نہ نادرست ہے، کرنا نہ کرنا دونوں جائز، اور بحالتِ جوانی یا احتمالِ فتنہ پردہ کرنا ہی مناسب ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 22، ص: 235]
غیر محرم رشتہ داروں سے بھی پردہ لازم ہے
بعض خاندانوں میں غیر محرم رشتے داروں سے پردہ کو معیوب سمجھا جاتا ہے یا یوں کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ تو اپنے ہی ہیں، ان سے کیسا پردہ؟ تو سنیے! اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جیٹھ، دیور، بہنوئی، پھوپا، خالو، چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، خالہ زاد بھائی، یہ سب لوگ عورت کے لیے محض اجنبی ہیں بلکہ ان کا ضرر نرے بیگانے شخص کے ضرر سے زائد ہے کہ محض غیر آدمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا اور یہ آپس کے میل جول کے باعث خوف نہیں رکھتے، عورت نرے اجنبی شخص سے دفعتاً میل نہیں کھا سکتی اور ان سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے۔ ولہٰذا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر عورتوں کے پاس جانے کو منع فرمایا ایک صحابی انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ! جیٹھ دیور کے لیے کیا حکم ہے؟ فرمایا: الحمو الموت، رواه أحمد والبخاري عن عقبة بن عامر رضي الله تعالى عنه۔ جیٹھ دیور تو موت ہیں۔ [فتاوی رضویہ، ج: 22، ص: 217]
بے پردگی کی ہولناک سزا
بے پردگی گناہ اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔
حضرت امام شہاب الدین احمد بن محمد بن حجر مکی شافعی علیہ الرحمہ حدیث پاک نقل فرماتے ہیں، معراج کی رات سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بعض عورتوں کے عذابات کے ہولناک مناظر ملاحظہ فرمائے ان میں سے یہ بھی تھا کہ ایک عورت بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اور اس کا دماغ کھول رہا تھا، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سراپا شفقت میں عرض کی گئی کہ یہ عورت اپنے بالوں کو غیر مردوں سے نہیں چھپاتی تھی۔ [الزواجر عن اقتراف الکبائر، الکبیرہ 280، نشوز المرأۃ، ج: 2، ص: 86]
جو مسلمان خواتین اپنے بال یا اعضائے ستر غیر محارم کے سامنے ظاہر کرتی ہیں، ان کو رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے اور صحیح معنوں میں پردے کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا چاہیے۔
