Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دو جنتیں مل گئیں|صغری انجم حنفی

دو جنتیں مل گئیں (ماخوذ از کتاب: جہنم میں لے جانے والے اعمال)
عنوان: دو جنتیں مل گئیں (ماخوذ از کتاب: جہنم میں لے جانے والے اعمال)
پیش کش: صغری انجم حنفی

منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ایک نوجوان تھا جو متقی، پرہیز گار اور مسجد میں کثرت سے آتا جاتا تھا۔ اس سے ایک عورت محبت کرتی تھی، ایک مرتبہ اس عورت نے اسے اپنے پاس بلایا یہاں تک کہ وہ اس کے ساتھ خلوت میں آ گیا، پھر اسے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کا خیال آیا تو وہ غش کھا کر گر گیا۔ اس عورت نے اسے وہاں سے اٹھا کر اپنے دروازے پر ڈال دیا، پھر اس نوجوان کا والد آیا اور اسے اٹھا کر اپنے گھر لے گیا لیکن اس نوجوان کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا اور وہ مسلسل کانپ رہا تھا یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا، اس کی تجہیز و تکفین کر کے اسے دفن کر دیا گیا۔ تو حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ

ترجمہ کنز الایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔
[پ ۲۷، الرحمن: ۴۶]

تو اس کی قبر سے آواز آئی: ”اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! بے شک اللہ عزوجل نے مجھے دو جنتیں عطا فرما دی ہیں اور وہ مجھ سے راضی بھی ہو گیا ہے۔“

حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”سب سے بڑا دھوکا اور سب سے بڑی جرات یہ ہے کہ گناہگار بندہ اپنے گناہ پر ندامت کا اظہار کیے بغیر اللہ عزوجل سے عفو کی اُمید رکھے، اعمالِ صالحہ کیے بغیر اللہ عزوجل کی بارگاہ سے نیکیوں کے حصول کی اُمید رکھے، عمل کیے بغیر جزا کا انتظار کرے اور حد سے بڑھنے کے باوجود اللہ عزوجل سے مغفرت کی تمنا کرے۔“

خوفِ خدا عزوجل کے حصول اور اس میں اضافہ کا سب سے بڑا ذریعہ علم ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ

ترجمہ کنز الایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
[پ ۲۲، فاطر: ۲۸]

یہی وجہ ہے کہ علمائے صحابہ کرام علیہم الرضوان اور ان کے بعد والے علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ پر خوفِ خدا عزوجل کا غلبہ رہتا تھا، یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”کاش میں کسی مؤمن کے سینے کا ایک بال ہوتا۔“

حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی موت کے وقت فرمایا: ”عمر ہلاک ہو جائے گا اگر اس کی مغفرت نہ ہوئی۔“ حضرت سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”کاش مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہ کیا جائے۔“ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول پر کفریہ کلمات میں کیے گئے اعتراضات کے ذریعے کچھ اشکال وارد ہوتے ہیں مگر ان اشکالات کا جواب یہ ہے کہ ان کی یہ تمنا حقیقت پر مبنی نہ تھی بلکہ اس بات کا اظہار مقصود تھا کہ میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جن پر مجھے دوبارہ زندگی ملنے کے بعد مواخذے کا خوف ہے۔

اسی کی نظیر حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب ابنِ محبوب حضرت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ایسے شخص کو جو کلمہ پڑھتا تھا، یہ گمان کرتے ہوئے قتل کر دیا کہ یہ حقیقت میں کلمہ نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنی جان بچانے کے لیے پڑھ رہا ہے؛ لیکن جب یہ بات نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر عتاب فرمایا اور بار بار یہ ارشاد فرماتے رہے: ”تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا۔“

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ شفیعِ روزِ شمار، دو عالم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اتنی مرتبہ ارشاد فرمائی کہ میں تمنا کرنے لگا: ”کاش میں اس دن (سے پہلے) مسلمان نہ ہوتا۔“
[المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عمران بن حصین، الحدیث: ۱۹۹۵۷، ج ۷، ص ۱۷]

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفر کی تمنا نہیں کی تھی بلکہ اپنے مسلمان ہونے کے اس واقعے سے مؤخر ہونے کی تمنا کی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر یہ واقعہ اسلام لانے سے پہلے کا ہوتا تو اسلام اسے مٹا دیتا۔ یہ مقامِ فکر ہے لہذا یہاں خوب غور کرنا چاہئے۔

جب لوگ علم سے دور ہوئے تو انہوں نے اپنے اعمال کو ملاحظہ کیا تو یہ پایا کہ ان میں سے کچھ افراد سے اتفاقاً کچھ ایسے امور صادر ہو رہے ہیں جو کرامات کے مشابہ ہیں، لہذا انہوں نے مختلف قسم کے دعوے کرنے شروع کر دیے اور سلفِ صالحین کے دعویٰ نہ کرنے کے طریقے کی پیروی چھوڑ دی، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہاں تک کہہ دیا: ”میں چاہتا ہوں کہ قیامت جلد ہی قائم ہو جائے تاکہ میں جہنم پر اپنا خیمہ نصب کر سکوں۔“ تو ایک شخص نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا: ”مجھے یقین ہے کہ جب جہنم مجھے دیکھے گی تو اس کی آگ بجھ جائے گی اور اس طرح میں مخلوق پر رحمت کا سبب بن جاؤں گا۔“

یہ انتہائی بدترین اور برا کلام ہے، کیونکہ اس میں اللہ عزوجل کے بیان کردہ جہنم کے عظیم معاملہ کی تحقیر پائی جاتی ہے، حالانکہ اللہ عزوجل نے جہنم کے اوصاف کثرت سے بیان فرمائے ہیں، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ

ترجمہ کنز الایمان: تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
[پ ۱، البقرة: ۲۴]

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا

ترجمہ کنز الایمان: جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا۔
[پ ۱۸، الفرقان: ۱۲]

دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحر و بر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”تم جو آگ جلاتے ہو یہ جہنم کی آگ کے ستر اجزا میں سے ایک جزو ہے۔“ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! اللہ عزوجل کی قسم! اگر جہنم ہماری یہی دنیوی آگ بھی ہوتی تب بھی کافی تھی۔“ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہنم کی آگ کو دنیوی آگ سے انہتر (۶۹) گنا زیادہ تیز کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر جزو کی گرمی دنیوی آگ کی طرح ہے۔“
[جامع الترمذی، کتاب صفة جہنم، باب ماجاء ان نارکم هذه..... الخ، الحدیث: ۲۵۸۹، ص: ۱۹۱۲]

حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”قیامت کے دن جب جہنم کو لایا جائے گا تو اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر کھینچتے ہوں گے۔“
[جامع الترمذی، کتاب صفة جہنم، باب ماجاء فی صفة النار، الحدیث: ۲۵۷۳، ص: ۱۹۱۱]

*جہنم میں لے جانے والے اعمال، صفحہ ۹۴ تا ۹۷*

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!