| عنوان: | شاتیلون: ایک بدترین گستاخ (پہلی قسط) |
|---|---|
| تحریر: | محمد قاسم القادری الازہری (کلیۃ اصول الدین، قاہرہ، مصر) |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش |
سلطان صلاح الدین ایوبی (ت: 1193ء) نے ’جنگِ حطین (1187ء)‘ میں جس گستاخِ رسول کو جہنم پہنچایا تھا، اس کا نام: ’رينالڈدی شاتیلون (Raynald of Châtillon / Reynald / Reginald / Renaud)‘ تھا، جسے عربی دنیا میں: ’آرناط‘، یا ’ارناط‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے تاریخ کے صفحات میں، اسلام کے بدترین دشمنوں میں سے ایک بتایا گیا ہے۔ خود عیسائی مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ بیت المقدس عیسائیوں کے ہاتھوں سے جانے کا ایک بڑا سبب یہ مکار بھی تھا۔ نہ کسی معاہدے کو مانتا تھا، اور نہ ہی جنگ کے کسی قانون پر عمل کرتا تھا۔ معاہدے توڑنے میں بہت مشہور تھا، اور صرف مسلمانوں کے خون کا پیاسا رہتا تھا۔
کچھ مؤرخین نے کہا ہے کہ اس کی یہ حرکتیں، ’سلطان صلاح الدین ایوبی‘ کے غصے کا خاص سبب تھیں، کہ سلطان نے اسلامی فوجوں کو اکٹھا کر کے بیت المقدس کو 1187ء میں عیسائیوں سے آزاد کرایا۔
یہ فرانس کی پیداوار تھا۔ دوسری صلیبی جنگ (1146ء) کے دوران یہ بیت المقدس آیا، اور وہیں ٹھہر گیا۔ پھر اس کے بعد عیسائی دنیا کا سب سے ظالم دہشت گرد بن کر ابھرا، جس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ گرائے۔
عیسائی دہشت گرد تنظیمیں
اُسی زمانے میں، انسانیت کی خدمت کرنے کے نام پر، ملکِ شام میں دو عیسائی تنظیمیں ظاہر ہوئیں۔ جن کا ظاہر انسانی خدمت، جبکہ باطن عیسائی فوجوں کی ہر ممکن مدد کرنا تھا۔ ان دونوں گروہوں کا تعلق کیتھولک فرقے سے تھا۔ یہ دونوں دہشت گرد تنظیمیں یہ ہیں:
-
نائٹس ہاسپٹلر (Knights Hospitaller): اسے کئی ناموں سے جانا جاتا ہے، جیسے: 'اسپتاریہ'، 'Order of Sovereign Military، knights of the hospital of Saint John of Jerusalem'، 'Order of Malta, or Rhodes' وغیرہ۔
-
نائٹس ٹیمپلر (Knights Templar): ان کے بھی کئی نام ہیں، جیسے: 'داعیہ'، 'فرسان الھیکل'، 'فرسان المعبد'، 'Poor fellow-soldiers of Christ and of the Temple of Solomon' وغیرہ۔
اس موضوع پر، مشہور مورخ: 'ڈاکٹر مصعب حمادی نجم زیدی' کا ایک زبردست مقالہ، 'موصل یونیورسٹی (عراق)' کی: 'کلیۃ العلوم الاسلامیہ (Faculty of Islamic Sciences)' سے جاری ہونے والی میگزین میں چھپا۔ جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان دونوں خونی تنظیموں کا 'شاتیلیون' سے بہت مضبوط رابطہ تھا۔ ان سب نے مل کر 1181ء میں اسلامی دنیا پر بہت ظلم ڈھائے۔
[حوالہ: مجلہ کلیۃ العلوم الاسلامیہ، جامعہ موصل (عراق)، جلد: 3، شمارہ: 6، صفحہ: 85-114، 2009ء/1430ھ]
شاتیلون کی گستاخی اور سلطان کی قسم
ان عیسائی دہشت گردوں نے مل کر، حاجیوں کے قافلوں پر حملے کیے، اور مردوں، بچوں، عورتوں سب کو قتل کیا، اور خوب لوٹ مار کی۔ اسی دوران اس 'شاتیلیون' خبیث نے آقا کریم ﷺ کی گستاخی کی تھی، اور مظلوم مسلمانوں سے کہا کہ: "بلاؤ اپنے نبی کو، کہ تمہیں بچائیں۔" [العیاذ باللہ]
مگر کچھ مورخین نے ذکر کیا ہے کہ جب اس شاتیلیون نے حاجیوں پر حملہ کر کے، ان میں سے کئی لوگوں کو قید کر لیا تھا، تب سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے کچھ ایلچیوں کے ذریعے پیغام بھیجا کہ انہیں آزاد کر دے، تب اس نے ڈائریکٹ ان سفیروں سے ہی یہ گستاخی والے الفاظ بولے تھے۔ جیسا کہ اس سب معاملے کے زمانے میں موجود، مشہور مورخ: 'بہاؤ الدین ابن شداد (ت: 632ھ)' نے اپنی کتاب: 'النوادر السلطانیہ والمحاسن الیوسفیہ (سیرت صلاح الدین ایوبی)' میں ذکر کیا ہے۔ یہی بات، 'الشارقہ یونیورسٹی (عرب امارات)' میں تاریخِ وسطیٰ کے پروفیسر: 'ڈاکٹر مونس عوض'، اور 'ڈاکٹر عائشہ سعید قتیبی' نے بھی اپنی تحقیق میں ذکر کی ہے۔
پھر اُسی وقت سلطان نے قسم کھائی تھی کہ اسے اپنے ہاتھوں سے ماروں گا۔
عیسائی مؤرخین کی نظر میں شاتیلون
یہ کرائے کا جنگجو تھا، جسے قدس کے بادشاہ 'بالڈون ثالث (ت: 1163ء)' نے 1153ء میں عسقلان کی جنگ کے وقت اپنی فوج میں شامل کیا تھا۔ یہ اتنا غلیظ شیطان تھا کہ اس کے بارے میں اکثر مؤرخین نے برا ہی لکھا ہے۔ اسی کے زمانے کے مؤرخ: 'ولیم آف ٹائر (ت: 1186ء)'—جو کہ بیت المقدس کے بادشاہ: 'اعموری اول (ت: 1174ء)' کا مشیرِ خاص تھا—نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ:
"...the foolish prince..." "...بیوقوف شہزادہ..."
[حوالہ: A history of deeds done beyond the sea, Vol. 2, Book no. 18, Page no. 235, Publication: Columbia University Press (New York), 1943 CE.]
پھر صفحہ نمبر 253 پر، عیسائیوں کی اکثریت والے علاقے 'سائپرس' پر، 'شاتیلیون' کے حملے کے بارے میں لکھتا ہے:
"....یہ شخص اپنے مغرورانہ اور غداری والے کاموں کے سبب، اکثر بادشاہ کی ناراضگی کا شکار ہوتا تھا، اور ڈانٹ کھاتا تھا...."
پھر صفحہ نمبر 254 پر کہتا ہے کہ:
"...پھر اس نے عیسائی مرد اور عورتوں کی خانقاہوں پر چڑھائی کر دی۔ راہبات اور بھولی بھالی بچیوں سے بے شرمی کے ساتھ گالی گلوچ کی۔ وہ جس بھاری مقدار میں زیور، سونا، چاندی لے گیا تھا، اس کا نقصان اُس کے مقابلے میں کچھ نہیں تھا جو اس نے اُن کی حُرمت و پاکیزگی کو پہنچایا؛ کچھ دنوں تک شاتیلیون کی فوج پورے علاقے پر چڑھائی کرتی رہی، تب بھی ان سے کوئی لڑنے والا موجود نہیں تھا۔ انہوں نے عمر اور مرد و عورت کا بھی لحاظ نہیں کیا، نہ ہی کسی کی حالت کا خیال کیا..."
(جاری ہے...)
[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر (12) ذی الحجہ 1446ھ تا صفر المظفر 1447ھ ص 31 تا 33]
