Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ذوقِ علم | محمد ثاقب رضا نوری

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ذوقِ علم
عنوان: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ذوقِ علم
تحریر: محمد ثاقب رضا نوری مراد آبادی (جامعۃ المدینہ، فیضانِ صدیقِ اکبر، آگرہ)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مختصر سیرت

تعارف: آپ کا نام عمر، کنیت ابو حفص، اور لقب فاروق ہے۔ آپ کا سلسلۂ نسب نویں پشت میں رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن ریاح بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی بن غالب القرشی العدوی۔ آپ عام الفیل کے تیرہ (13) سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ کا نام حنتمہ تھا، جو ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کی بیٹی تھیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے دوسرے خلیفہ، عشرہ مبشرہ میں شامل، اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ کی سیرت عدل، شجاعت، علم، عبادت اور زہد کا نمونہ تھی۔

قبولِ اسلام اور رسول اللہ سے تعلق: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دارِ ارقم میں اسلام قبول کیا۔ ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو تقویت ملی اور نمازوں کا علانیہ آغاز ہوا۔ آپ نے ہجرت کی، غزوات میں شرکت کی، اور ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ

ترجمہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔ [ترمذی]

خلافت کا آغاز اور اہم کارنامے: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد آپ 13 ہجری میں خلیفہ بنے۔ آپ کا دورِ خلافت اسلام کی تاریخ کا زریں دور شمار ہوتا ہے۔ آپ کے اہم کارناموں میں عدلیہ کا نظام قائم کرنا، دیوان، بیت المال اور فوج کی تنخواہوں کا نظام رائج کرنا، ہجری تقویم کا آغاز کرنا، مساجد، مدارس اور علمی مراکز قائم کرنا اور 22.5 لاکھ مربع میل پر اسلامی حکومت کو وسعت دینا شامل ہے۔

شخصی اوصاف و شہادت: آپ زہد و تقویٰ کے پیکر، نرم دل اور رقیق القلب، عبادت گزار اور قرآن سے محبت رکھنے والے تھے، اور راتوں کو گلیوں میں گشت کرتے تھے تاکہ رعایا کی خبر رکھ سکیں۔ ذوالحجہ 23 ہجری میں نمازِ فجر کے دوران ابو لؤلؤ مجوسی نے آپ پر حملہ کیا۔ زخموں کی تاب نہ لا کر آپ شہید ہو گئے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ذوقِ علم

علم کی جستجو اور علمی استفادہ: اسلام سے قبل ہی آپ قریش کے ان چند افراد میں شامل تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علمی استفادہ کے دوران متعدد مواقع پر آپ کی رائے کی تائید میں قرآن کی آیات نازل ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر جاری فرما دیا ہے۔ [ترمذی]

قرآن سے محبت اور فقہ و اجتہاد: آپ اکثر قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور رقتِ قلب سے رو پڑتے۔ آپ روایتِ حدیث میں سخت احتیاط برتتے اور مکمل تحقیق کے بعد حدیث کو قبول کرتے۔ آپ نے قضاۃ (قاضیوں) کا تقرر کیا اور ان کے لیے قرآن و سنت کا علم لازمی قرار دیا۔ آپ کے اجتہادات نے فقہی اصولوں کی بنیادیں فراہم کیں اور آپ کی رائے امت میں ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی گئی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي فِي الْمَنَامِ، قُدِمَ إِلَيَّ قَدَحُ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ

ترجمہ: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا، میں نے اس میں سے اتنا پیا کہ میں نے سیرابی کو اپنے ناخنوں سے نکلتا محسوس کیا، پھر میں نے وہ بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب کو دے دیا۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا فرمائی؟ فرمایا: "العِلْم" یعنی علم۔ [بخاری]

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اقوال

لَوْ وُضِعَ عِلْمُ النَّاسِ فِي كِفَّةٍ وَعِلْمُ عُمَرَ فِي كِفَّةٍ لَرَجَحَ عِلْمُ عُمَرَ

ترجمہ: اگر تمام لوگوں کا علم ایک پلڑے میں رکھا جائے اور حضرت عمر کا علم دوسرے پلڑے میں، تو عمر کا پلڑا بھاری ہوگا۔

ذَهَبَ عُمَرُ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ

ترجمہ: حضرت عمر علم کے نو دسویں حصے لے گئے۔

لَمَجْلِسٌ أُجَالِسُهُ مَعَ عُمَرَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ

ترجمہ: حضرت عمر کے ساتھ ایک مجلس میرے لیے ایک سال کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے۔

نتیجہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن و حدیث کے عظیم عالم، مجتہد، اور ذی شعور خلیفہ تھے۔ ان کا ذوقِ علم آج بھی طلبہ و علما کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

اللّٰہم ارزقنا حُبَّ العلم والعمل بہ آمین

[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر 12 ذی الحجہ 1446 ھ تا 1447 ھ ص 49 تا 52]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!