Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شاتیلون: ایک بدترین گستاخ (دوسری قسط) | محمد قاسم القادری الازہری

شاتیلون: ایک بد ترین گستاخ (دوسری قسط)
عنوان: شاتیلون: ایک بد ترین گستاخ (دوسری قسط)
تحریر: محمد قاسم القادری الازہری (کلیۃ اصول الدین، قاہرہ، مصر)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

سائپرس پر مظالم اور پادریوں سے سلوک

جب سائپرس کے عیسائیوں پر، شاتیلیون کے اس ظلم کے بارے میں قسطنطنیہ کے بادشاہ نے سنا تو انطاکیہ کی طرف سفر شروع کیا۔ جب شاتیلیون کو یہ خبر پہنچی تو وہ بری طرح سے ڈر گیا، اور کھسیانا کر پھر سے سائپرس کے لوگوں پر ٹوٹ پڑا۔ 'ولیم آف ٹائر' آگے صفحہ نمبر 276 پر لکھتا ہے:

"....بادشاہ کے آنے کا دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ شاتیلیون کے اس وحشیانہ ظلم کا حساب ہونا تھا، جو اس نے سائپرس کے لوگوں پر کیا، جیسے کہ وہ اس کے دینی دشمن اور مکر وہ لوگ تھے.....
.....جب اس نے یہ خبر سنی تو بادشاہ کے آنے سے کچھ پہلے ہی وہ پھر سے سائپرس کے لوگوں پر ٹوٹ پڑا۔ ان کی عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہ حرام کاریاں کیں، جس سے خدا اور انسان سب نفرت کریں...."

پھر صفحہ نمبر 277 پر لکھا کہ:
"....he was a man of violent impulses, both in sinning and in repenting".
".... وہ گناہ کرنے اور معافی مانگنے ، دونوں میں تشدد مزاج تھا۔"

اس نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ہر کسی پر ظلم کیا۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے عیسائی پادریوں پر بھی رحم نہیں کیا؛ مشہور مورخ: 'ڈاکٹر برائن کیٹلوس' نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ : ".... شاتیلیون نے 1153ء میں انطاکیہ کی شہزادی: 'ہٹ ول (ت: 1163ء)' سے خفیہ طور پر شادی کی، جس پر وہاں کے سب سے طاقتور اور امیر پادری: 'ایمری (ت: 1196ء)' نے اعتراض اٹھایا۔ شیطان 'شاتیلیون' کے دل میں یہی کینہ رہا، یہاں تک کہ اس نے سائپرس پر حملہ کرنے سے پہلے، پادری سے 1156ء میں مالی مدد مانگی تو اس نے منع کر دیا۔ پھر اس نے اس پادری کو ننگا کر کے ، مار مار کر خون میں لتھ پتھ کردیا، اور دہکتی ہوئی دھوپ میں، قلعے کی فصیل پر باندھ دیا، اور پورے جسم پر شہد چِپڑ دیا تاکہ مکھی وغیرہ کیڑے اس کے جسم پر بیٹھیں۔..."
[حوالہ: Infidel Kings and unholy warriors, Page no. 179-180, Publication: Farrar, Straus & Giroux (New York), 2014 CE]
یہی واقعہ 'ولیم آف ٹائر' نے بھی اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔
[حوالہ: A history of deeds done beyond the sea, Vol. 2, Book no. 18, Page no. 235, Publication: Columbia University Press (New York), 1943 CE]

حرمین شریفین پر حملے کی ناپاک سازش

پھر حلب کی زنگی فوج نے اسے پکڑ کر قید کر لیا۔ تقریباً 15-16 سالوں تک جیل میں رہا۔ پھر رہا ہو کر، قدس کے بادشاہ 'بالڈون رابع (جو کوڑھ کی بیماری میں مبتلا تھا)' کی خدمت میں لگ گیا، اور اسے 'کرک' شہر کا امیر بنا دیا گیا۔ اس بار اس کی مکاری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی۔ لوٹ مار دوگنی ہو گئی۔ مسلمانوں کی مذہبی جگہوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔ حاجیوں کے راستے کاٹنے لگا۔ اس کے بڑے مقاصد میں سے ایک مقصد 'حرمین شریفین' پر حملہ کرنا، اور آقا کریم (ﷺ) کی قبرِ اطہر سے جسمِ انور کو نکالنا تھا۔ کو شش کرنے کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ کچھ روایات کے مطابق، اس نے غزہ میں موجود، آقا کریم (ﷺ) کے پردادا 'حضرت ہاشم (رضی اللہ عنہ)' کے مزار پر حملہ کیا، اور مسلمانوں کو بری طرح شہید کیا؛

معرکہ حطین اور عیسائیوں کی عبرتناک شکست

آخر کار، بیت المقدس کی فتح سے تین ماہ پہلے جب 'معرکہ حطین' کا میدان سجا، اسلام کی مقدس جگہوں کو پامال کرنے والوں، یا اس کا خواب دیکھنے والوں سے زبردست انتقام لیا گیا۔ سلطان کی فوج نے بڑے بڑے عیسائی سرداروں کو دھول چٹائی۔ بھاری تعداد میں گردنیں اڑائی گئیں، اور بھاری تعداد میں قیدی بنائے گئے۔ اس دوران، دنیا کی سب سے بڑی عیسائی دہشت گرد ٹولیاں: 'نائٹس ٹیمپلر'، اور 'نائٹس ہاسپٹلر'، دونوں کے ہر ہر گرفتار دہشت گرد کی گردن ماری گئی، اور بچے کچے، جیسے تیسے، ادھر ادھر بھاگ کر چھپ چھپا گئے؛

اس ہیبت ناک منظر کے بارے میں 'امام ابن اثیر جزری (ت: 630ھ)' نے لکھا ہے کہ:

... كثر القتل والأسر فيهم، فكان من يرى القتلى لا يظن أنهم أسروا واحدا، ومن يرى الأسرى لا يظن أنهم قتلوا أحدا، وما أصيب الفرنج، منذ خرجوا إلى الساحل، وهو سنة إحدى وتسعين وأربعمائة إلى الآن، بمثل هذه الواقعة

"... انہیں بھاری تعداد میں قتل کیا گیا، اور غلام بنایا گیا۔ ایسا منظر تھا کہ اگر کوئی مقتولین کو دیکھے، تو اسے لگے کہ کسی کو قیدی نہیں بنایا گیا ہے۔ اور اگر قیدیوں کو دیکھے، تو سوچے کہ کسی کو قتل ہی نہیں کیا گیا ہے؛ 491ھ میں ساحل کی طرف نکلنے سے لے کر آج تک، انگریزوں میں ایسی مار کہیں نہیں پڑی۔"
[حوالہ: الكامل في التاريخ، جلد: 10، صفحہ: 26، مطبع: دار الكتاب العربي (بيروت)، طبع اولیٰ، 1417ھ/1997ء]

اسی جنگ میں، عیسائیوں کی وہ صلیب جسے یہ 'True Cross' مانتے تھے، ضبط کر لی گئی۔ ان کے باطل عقیدے کے مطابق، اسی پر حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو سولی دی گئی تھی؛ یا اس میں، اس اصل صلیب کی کچھ لکڑی لگی ہوئی تھی؛ [نعوذ باللہ]

سلطان صلاح الدین ایوبی کا انتقام اور شاتیلون کا انجام

جنگ میں جب صلیبیوں کے دانت کھٹے ہوئے، اور گھٹنے ٹیکنے پڑے، تب سلطان نے اپنے خیمے کے باہر سارے بڑے سرداروں کو اکٹھا کیا۔ جن میں قدس کا مشترک بادشاہ: 'گائے آف لوزینیان (ت: 1194ء)'، اور 'شاٹیلون' سب سے اہم تھے۔ سلطان نے سب کو ان کے سیاسی عہدوں کے حساب سے اپنے دائیں بائیں کھڑا کیا۔ کچھ مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ اس وقت کا قانون تھا کہ سلطان جسے کھانے یا پینے کو کچھ دے، تو اسے قتل نہیں کر سکتا؛

قدس کا بادشاہ، پیاس سے بے حال تھا۔ سلطان نے اسے ٹھنڈا پانی پینے کو دیا۔ اس نے تھوڑا پی کر، باقی کا 'شاتیلیون' کو دے دیا، اور وہ گٹا گٹ چڑھا گیا۔ سلطان نے کہا کہ: "میں نے تمہیں دیا تھا، اس ملعون کو نہیں۔ اس نے بغیر میری اجازت کے پیا ہے۔"

پھر سلطان نے 'شاتیلیون' کا حساب لینا شروع کیا، اور ایک ایک کر کے اس کے جرم گنانے شروع کیے۔ آخر میں اس سے اسلام قبول کرنے کو کہا، اس نے منع کر دیا۔ پھر سلطان نے دھاڑتے ہوئے کہا:
"تو نے میرے آقا کریم (ﷺ) کے بارے میں ایسے ایسے کہا تھا نہ؟ لے دیکھ! آج میں آقا کریم (ﷺ) کا نائب بن کر، ان کی امت کو بچانے آیا ہوں۔"

یہ کہتے ہوئے سلطان نے اس کی گردن مار دی؛ پھر گرجتے ہوئے کہا: "میں نے دو بار قسم کھائی تھی کہ اسے اپنے ہاتھوں سے ماروں گا۔ ایک بار تب، جب یہ مکہ مدینہ پر حملہ کرنے نکلا تھا۔ دوسری بار تب، جب اس نے حاجیوں کے قافلوں پر حملہ کیا تھا۔" پھر اس کی لاش کو کھینچ کر، باہر لوگوں کے سامنے پھینک دیا گیا۔ یہ دیکھ کر قدس کا بادشاہ کانپنے لگا، تو سلطان نے اسے تسلی دی کہ گھبرا مت، میں تجھے قتل نہیں کروں گا؛
پھر اس کے تقریباً تین ماہ بعد، بیت المقدس فتح ہو گیا۔

[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر 12 ذی الحجہ 1446 ھ تا 1447 ھ ص 34 تا 37]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!