Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قربانی پر مخالفین کے شبہات اور ان کا رد (پہلی قسط) | محمد ذاکر علیمی

قربانی پر مخالفین کے شبہات اور ان کا رد (پہلی قسط)
عنوان: قربانی پر مخالفین کے شبہات اور ان کا رد (پہلی قسط)
تحریر: محمد ذاکر علیمی (دارالعلوم اسلامیہ قادریہ بفلیاز جموں کشمیر)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی امت کو کروڑوں نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے، انہی بے حساب نعمتوں میں سے ایک نعمتِ عظمیٰ، اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے، جس میں محبانِ خدا و رسول (عزوجل و ﷺ) اپنے پسندیدہ جانور کی قربانی پیش کر کے رب العالمین کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ لیکن بعض شریر اور اسلام دشمن، اپنی فطرتِ خبیثہ کے باعث مسلمانوں کے اس تہوار پر بیجا انگشت نمائی اور لایعنی اعتراضات کرتے ہیں۔ الحمد للہ! ہم کو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے کہ اسلام جیسے عالمگیر مذہب کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پسند فرمایا، ہمارے اسلاف نے ہر قسم کے شبہات کا تفصیل کے ساتھ تشفی بخش جواب دیا ہوا ہے، لیکن چوں کہ اس عیدِ سعید کو بہت کم وقت بچا ہے، لوگوں کو شبہات سے بچانے کے لیے اپنے قلم کو حرکت دینے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ اسلامی بھائی بہن اس الجھن سے قبل ہی جواب حاصل کر لیں۔

اعتراض اور اس کا مدلل جواب

اعتراض ۱: فقیر قادری نے خود دیکھا کہ اسلام دشمن جیسے ہی قربانی کا پیارا موقع آتا ہے، تو ہماری قوم کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان کتنے ظالم ہیں، مسلمان محض اپنی زبان کی لذت کے واسطے قربانی کرتے ہیں، یہ نہایت ہی سنگ دل و بے رحم ہوتے ہیں۔

جواب: سب سے پہلے تو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مسلمان صرف لذت حاصل کرنے کے لیے گوشت کا استعمال نہیں کرتے، یہ بہتانِ عظیم ہے، بل کہ اس کی وجوہِ کثیرہ میں سے ایک وجہ خاص اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ جیسا کہ احکم الحاکمین نے مومنین کے لیے مخصوص جانوروں کو حلال فرمایا اور ان کا گوشت کھانے کا حکم فرمایا۔

چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ؕ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ

"اے ایمان والو! اپنے قول پورے کرو! تمہارے لیے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگر وہ جو آگے سنایا جائے گا تم کو۔" [سورۂ مائدہ، آیت 1]

اس آیتِ کریمہ میں مولیٰ تعالیٰ نے واضح کر دیا، کہ تمہارے لیے چوپائے بنائے گئے ہیں، اس میں تمہارے لیے فائدہ کا سامان ہے، آخر آیت میں بیان فرمایا: ان کو کھانے کی اجازت ہے، ان کے کھانے سے تمہارے لیے نفع ہے۔ اسی طرح سمندری جانوروں کو بھی حلال کیا جیسا کہ ارشادِ مبارک ہے:

اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ

"حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو۔" [سورۂ مائدہ، آیت 96]

حلال کی اجازت، جب کہ حرام کی ممانعت فرماتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے، کہ حرام کی طرف جاؤ گے تو عذابِ الیم بھی تیار ہے۔ جیسا کہ زیرِ نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيْهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِيْ ۚ

"کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا۔" [سورۂ طٰہٰ، آیت 81]

گوشت انسان کی اصل غذا ہے

امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (1856ء-1921ء) فرماتے ہیں: کتبِ حکمت بھی شاہد ہیں کہ اصلِ غذا انسان کی گوشت ہے، عناصرِ غذا سے نباتات، نباتات غذا ہے حیوانات، حیوانات غذا ہے انسان، اور بیشک اس کے کھانوں میں جو منفعتیں اور ہمارے جسم کی اصلاحیں اور ہمارے قویٰ کی افزائش ہیں اس کے غیر سے حاصل نہیں، اور مرغوبی کی یہ کیفیت کہ ہر شخص اپنے وجدان سے جان سکتا ہے کہ کیسا ہی لذیذ کھانا ہو، چند روز متواتر کھانے سے طبیعت اس سے سیر ہو جاتی ہے اور زیادہ دن گزریں تو نفرت کرنے لگتی ہے، بخلاف نانِ گندم و گوشت کہ عمر بھر کھائے تو اس سے تنفر نہیں ہوتا۔
[انفس الفکر فی قربان البقر / ص 10 / پیش کش مجلس آئی ٹی دعوتِ اسلامی]

(جاری ہے...)

[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر 12 ذی الحجہ 1446 ھ تا 1447 ھ ص 38 تا 40]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!