| عنوان: | دوران حمل سکریننگ |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر ام فرح |
| پیش کش: | سعدیہ نوری قادری |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد |
دورانِ حمل خواتین کی صحت اور آنے والے بچے کی حفاظت ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصد کے لیے سکریننگ ٹیسٹ ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ ایچ آئی وی (ہیومن امیونو ڈیفینسی وائرس)، ہیپاٹائٹس بی، اور آتشک جیسے خطرناک انفیکشنز کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ان بیماریوں کا بروقت پتا لگانا ماں اور بچے کو انفیکشن سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ یہ مضمون سکریننگ کے مقصد، ان بیماریوں کی تفصیلات، ٹیسٹ کے طریقہ کار، نتائج، اور علاج کے اختیارات کو آسان اور واضح انداز میں بیان کرتا ہے تاکہ ہر خاتون اس کی اہمیت کو سمجھ سکے۔
سکریننگ کا مقصد
سکریننگ ٹیسٹ کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا حاملہ خاتون کو ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، یا آتشک جیسا کوئی انفیکشن ہے۔ اگر ان بیماریوں کی تشخیص ہو جاتی ہے تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ یہ ماہرین ماں اور بچے کی صحت کے لیے مناسب علاج اور نگہ داشت کا بندوبست کرتے ہیں۔ ان ٹیسٹوں کا مقصد نہ صرف ماں کی صحت کو محفوظ رکھنا ہے، بلکہ بچے کو ان خطرناک بیماریوں سے بچانا بھی ہے جو ماں سے بچے میں منتقل ہو سکتی ہیں۔
تفصیل
ہیپاٹائٹس بی: یہ ایک وائرس ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بیماری دو قسم کی ہو سکتی ہے: شدید (عارضی)؛ یہ چند ہفتوں یا مہینوں تک رہتی ہے اور خود بخود ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اور طویل المیعاد؛ یہ مستقل ہوتی ہے اور جگر کی شدید بیماریوں، جیسے کہ جگر کا انفیکشن یا کینسر، کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر کوئی بچہ پیدائش کے وقت یا زندگی کے پہلے سال میں اس وائرس کا شکار ہو جائے تو 90 فیصد امکان ہوتا ہے کہ اسے تاحیات ہیپاٹائٹس بی کا انفیکشن رہے گا۔ اس لیے اس کی روک تھام بہت ضروری ہے۔
ایچ آئی وی: یہ جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے، جس سے جسم دیگر بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ماں سے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر دورانِ حمل مناسب علاج کیا جائے، جیسے کہ اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کا استعمال، تو بچے کو ایچ آئی وی ہونے کا خطرہ 25 فیصد سے کم ہو کر صرف 0.5 فیصد رہ جاتا ہے۔ یہ علاج ماں اور بچے دونوں کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آتشک: ایک جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری ہے جو سیفلس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ماں سے بچے میں منتقل ہو سکتی ہے، جس سے بچے کی صحت کو شدید نقصان (قبل از وقت پیدائش، کم پیدائشی وزن، ہڈیوں اور دانتوں کی پریشانیاں، سماعت کی پریشانیاں، نظر کی پریشانیاں، نشوونما میں کمی، تاخیر، اسقاطِ حمل، یا مزید پیدائشی نتائج سامنے آ سکتے ہیں)۔ بروقت علاج سے ان خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
سکریننگ ٹیسٹ کا طریقہ
سکریننگ ٹیسٹ ایک سادہ اور محفوظ عمل ہے۔ اس کے لیے ہیلتھ پروفیشنل آپ کے بازو سے خون کا ایک چھوٹا نمونہ لیتا ہے۔ یہ خون لیبارٹری میں بھیجا جاتا ہے جہاں ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، اور آتشک کی موجودگی کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس ٹیسٹ سے ماں یا بچے کو کوئی خطرہ نہیں ہے، اور یہ ایک معمول کا طبی عمل ہے جو ہر حاملہ خاتون کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔
سکریننگ ٹیسٹ
کرانا مکمل طور پر آپ کا ذاتی فیصلہ ہے۔ تاہم، ڈاکٹر اس کی پرزور سفارش کرتے ہیں کیونکہ یہ ٹیسٹ آپ کی صحت کو بروقت علاج کے ذریعے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ آپ کے بچے، جنسی ساتھی، اور خاندان کے دیگر افراد کو انفیکشن سے بچاتے ہیں۔ یہاں سے بچے میں انفیکشن منتقل ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر آپ ٹیسٹ نہ کروانے کا فیصلہ کرتی ہیں تو آپ کو حمل کے تقریباً 20 ہفتوں کے قریب دوبارہ سکریننگ کی پیشکش کی جائے گی تاکہ آپ کے پاس دوبارہ موقع ہو۔
ٹیسٹ کے نتائج کی تفہیم
سکریننگ ٹیسٹ کے نتائج دو طرح کے ہو سکتے ہیں: منفی یا مثبت۔
منفی: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس وقت ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، یا آتشک سے پاک ہیں۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ آپ حمل کے دوران خود کو انفیکشن سے بچائیں کیونکہ نیا انفیکشن ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی علامت نظر آئے، جیسے کہ بخار، تھکاوٹ، خارش، یا غیر معمولی درد، تو فوراً اپنی مڈوائف یا جنرل پریکٹیشنر (جی پی) سے رابطہ کریں۔
کچھ حالات میں دوبارہ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہو سکتی ہے، جیسے کہ:
اگر آپ اپنا جنسی ساتھی تبدیل کرتی ہیں۔
اگر آپ کے ساتھی کو کوئی انفیکشن ہے۔
اگر آپ کو کوئی جنسی طور پر منتقل ہونے والا انفیکشن (STI) تشخیص ہوا ہے۔
مثبت: اگر ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آتا ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ماہر ڈاکٹرز آپ کی رہنمائی کریں گے اور مناسب علاج سے آپ اور آپ کے بچے کی صحت کو محفوظ بنائیں گے (آپ اپنے ساتھ اپنے جنسی ساتھی کا بھی ٹیسٹ کرائیں تاکہ ان کا علاج بھی شروع ہو جائے)۔ ہر بیماری کے لیے علاج کا طریقہ مختلف ہے:
اگر آپ کو ہیپاٹائٹس بی ہے تو:
ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم حمل سے پہلے اور بعد میں آپ کی صحت کی نگرانی کرے گی۔
آپ کے جنسی ساتھی، دیگر بچوں، یا قریبی خاندان کے افراد کو بھی ٹیسٹ اور حفاظتی ٹیکوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
بچے کو ہیپاٹائٹس بی سے بچانے کے لیے 6 حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول ضروری ہے:
پیدائش کے 12-24 گھنٹوں کے اندر پہلا ٹیکہ۔ پہلے ٹیکے کے ساتھ بچے کو ہیپاٹائٹس بی امیونوگلوبولین کا انجیکشن بھی دیا جائے گا تاکہ فوری تحفظ مل سکے۔ 4، 2، اور 6 مہینے کی عمر پر تین ٹیکے (بچپن کے معمول کے ٹیکوں کے ساتھ)۔ ایک سال کی عمر پر آخری ٹیکہ۔
آخری ٹیکے کے وقت بچے کا خون ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ انفیکشن سے محفوظ ہے۔ اگر یہ ٹھیک نہ آئے تو اپنے جی پی, نرس، یا ہیلتھ ورکر سے رابطہ کریں۔
اگر آپ کو ایچ آئی وی ہے تو:
ماہر ڈاکٹرز آپ کو خصوصی ادویات دیں گے جو حمل کے دوران محفوظ ہیں اور ایچ آئی وی کو کنٹرول کرتی ہیں۔
زچگی کے لیے منصوبہ بند نگہداشت کی جائے گی، جیسے کہ سیزیرین ڈلیوری، تاکہ بچے کو انفیکشن نہ پھیلیں، کیوں کہ اس سے ایچ آئی وی منتقل ہو سکتا ہے۔
آپ کو مشورہ دیا جائے گا کہ بچے کو اپنا دودھ نہ پلائیں، کیونکہ اس سے ایچ آئی وی منتقل ہو سکتا ہے۔ ان اقدامات سے بچے کو ایچ آئی وی ہونے کا خطرہ 0.5 فیصد سے بھی کم ہو جاتا ہے۔
