Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

افقِ شفاعت برحق و صداقت کا آفتابِ نو (قسط: دوم)

افقِ شفاعت برحق و صداقت کا آفتابِ نو (قسط: دوم)
عنوان: افقِ شفاعت برحق و صداقت کا آفتابِ نو (قسط: دوم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: سیدہ آمنہ جیلانی ونقشبندی
منجانب: جامعہ فاطمۃالزھراء گجرات

آج پوری دنیا میں اسلام مخالف عناصر اسلام کے خلاف متحرک اور سرگرم ہیں، ان کا طریقۂ کار نعرے اور جذباتی تقریریں نہیں، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لیے ان کے پاس منظم منصوبہ ہے۔ جس کے مطابق ان کا کام جاری ہے۔ عالمی سطح پر یہودی لابی کام کر رہی ہے، وہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی وسائل پر اس طرح اثر انداز ہیں کہ انہوں نے دنیا کو باور کرا دیا ہے کہ ہمارے بغیر دنیا کا کوئی کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انٹرنیشنل میڈیا پر انہیں کا کنٹرول ہے، عالمی بازار پر ان کی اجارہ داری ہے۔ عالمی بینک پر ان کا قبضہ ہے۔

بڑی بڑی صنعتیں وہ کنٹرول کرتے ہیں اور ان تمام ذرائع کے ساتھ وہ اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی کے درپے ہیں۔ اس کے لیے دھماکے دار بیانات یا انقلابی تقریریں نہیں کرتے، بلکہ ان کا ہدف دنیا کے وسائل پر قبضہ کر کے نہ صرف یہ کہ اپنے وجود کو مؤثر ثابت کرنا ہے بلکہ دوسروں کو عالمی بساط پر غیر مؤثر بنا دینا ہے۔ اس طرح ہندوستان کی سرزمین پر ہندو انتہا پسند تحریکیں جس طرح سرگرم ہیں اور مزید منظم ہوتی جا رہی ہیں، یہ سب کو معلوم ہے۔ لیکن ہماری قوم اپنے کردار و عمل سے مسلسل یہ ثابت کر رہی ہے کہ ہم جہاں بانی کی اہلیت تو بہت پہلے ہی کھو چکے ہیں، اب ہمارا اپنا جو کچھ بچا کھچا وجود ہے وہ بھی دنیا کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس دور میں نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ قوم کی علامت یہ ثابت کر دکھانا ہے کہ دنیا کی رونق اس کے دم قدم سے ہے۔ سرگرمیِ حیات اور دوڑتی بھاگتی زندگی میں اس کے خون کی حرارت کام کر رہی ہوتی ہے۔

لیکن ہماری قوم تو اس پورے منظرنامے سے ہی غائب ہے۔ وہ تو ابھی اپنے گھریلو معاملات میں ہی الجھی ہوئی ہے، بلکہ مزید الجھتی جا رہی ہے۔ اسے کب اور کہاں سے وہ موقع ملے گا کہ وہ کسی اور طرف توجہ کر سکے۔

دین ہماری سب سے بڑی دولت ہے، لیکن سب سے بڑی امانت بھی ہے۔ ہمیں رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی ذمہ داری دی ہے۔ لیکن ہم نے امکانات کو اپنے اپنے حلقوں کے تحفظ کی فکر تک محدود کر دیا ہے۔ دین کی امانت دوسروں تک پہنچانے کی نہ کوئی فکر ہے نہ کوئی نظام، نہ کوئی تحریک۔ ایسے عالم میں ہم ایک فکر لے کر چلے ہیں، لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا تو جلد ہی یہ فکر تحریک کی صورت اختیار کر جائے گی۔ ہماری حیثیت تو ایک مشتِ خاک کی ہے۔ لیکن کوشش کرنا ہی بندے کا کام ہے اور کامیابی بارگاہِ رب العزت سے مقدر ہوتی ہے۔ ہم پیغامِ شریعت کے پلیٹ فارم سے امام احمد رضا کا مشن لے کر چلیں گے، مثبت فکر کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے، غیر ضروری اور لایعنی اختلافات سے احتراز کریں گے۔ کوشش ہوگی کہ علم و تحقیق کا دور دورہ ہو، اور لوگوں کے جذبات کو کیش کرنے کی بجائے نئی نسل کو مثبت سوچ کے ساتھ علمی خدمات کی سمت پیش قدمی کا حوصلہ اور موقع دیا جائے۔

جہاں تک دورِ حاضر کے میڈیا کی بات ہے ہمیں خوب معلوم ہے کہ آج کا میڈیا اسلامی اصول تو دور کی بات ہے کسی اصول کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اس کے اپنے خود ساختہ اصول ہوتے ہیں۔ جس قدر وہ دوسرے اصول کی پروا کیے بغیر اپنے اصول پر کاربند رہے گا اسی قدر وہ مقبولِ عوام ہوگا۔ لیکن ہم اپنے لیے شریعت ہی کے اصول کو اصول تسلیم کرتے ہیں، اور انہیں اصول کے دائرے میں رہتے ہوئے پیغامِ شریعت کے پلیٹ فارم سے پیغامِ محبت عام کرنے کی کوشش کریں گے۔

حالات تقاضا کر رہے ہیں کہ میڈیا کے اس دور میں جب مختلف تنظیمیں اپنے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے میڈیا کوریج دیتی ہیں، اس کا لحاظ نہیں کیا جاتا کہ مفادِ عامہ کو نقصان پہنچے گا یا نہیں، ایک ایسے مجلے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو مفادِ عامہ کا خیال رکھے، قوم کی مجموعی حالت پر نظر رکھے، اور جس مواد اور فکر کی اشاعت کرے اس سے پہلے ہزار بار سوچ لے کہ کہیں یہ ملت کے لیے نقصان دہ تو ثابت نہ ہوگا۔

اس کا مقصد یہی ہے کہ مسلکِ اہل سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ باہمی تعاون اور یک جہتی کو فروغ دیا جائے۔ اور ایسے امور کو ہوا نہ دی جائے جو مضر اختلافات کی راہ دکھاتے ہیں۔ علمی، فقہی، تبلیغی، مذہبی تحریکات اور سرگرمیوں کو بھرپور کوریج دی جائے تاکہ ان کو فروغ ملے۔ علمائے کرام کو ایک میڈیا فراہم کیا جائے کہ وہ اپنی بات کہہ سکیں اور قوم کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکے۔

ہماری یہ بھی کوشش ہوگی کہ قارئین کے سوالات خواہ وہ فقہی ہوں یا سماجی یا فکری، ان کے تسلی بخش جواب تلاش کریں۔ نیز پوری دنیا میں اہل سنت و جماعت کے کام جہاں کہیں بھی ہو رہے ہیں ان کی ترجمانی کی جائے تاکہ ان کا آپسی رشتہ مضبوط ہو اور ان کے دینی کام کو مزید فیصل ہو، ہماری کامیابی صرف اللہ کے پاس ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!