Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمِ اخوت و مساوات|محمد عسجد رضا مصباحی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمِ اخوت و مساوات
عنوان: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمِ اخوت و مساوات
تحریر: محمد عسجد رضا مصباحی

عرب کی سرزمین بعثتِ نبوی سے ماقبل فطری غبار، اخلاقی انحطاط اور معاشرتی انتشار کا نمونہ بنی ہوئی تھی۔ انسانیت قبائلی تعصبات، نسلی تفاخر کی امتیازی لکیر اور طبقاتی سنگلاخ سرحدوں میں مقید ہو چکی تھی۔ دولت و نسب کی بنیاد پر آدمیت کو تولنے کا معیار مقرر تھا۔ طاقتور کمزور کا استحصال کرتا، اور عورت جسے خدا کی سب سے حسین تخلیق ہونا چاہیے تھا، وہ معاشرے میں محض ایک قابلِ نفرت وجود سمجھی جاتی تھی۔ غلاموں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا اخلاقی انحطاط اور اجتماعی گمراہی میں ڈوب چکی تھی۔ اخوت و مساوات کا تصور کرۂ ارض سے مفقود ہو چکا تھا۔

ایسے پرآشوب اور تباہ کن حالات میں محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تجلیِ منشائے الٰہی کا مظہر اور تکمیلِ کائنات کا مقصود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی تو کائنات کی شبِ تار کو عصرِ نو کی صبحِ صادق کا مژدۂ جاں فزا ملا۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف توحید کا پرچم بلند نہ کیا، بلکہ انسانیت کو وہ آفاقی نظامِ اخوت و مساوات عطا فرمایا جس نے بنی نوعِ انسان کو نئی زندگی بخشی۔

اخوت

اخوت کا مفہوم ہے بھائی چارہ، محبت، ہمدردی، اور ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کا برتاؤ۔ ربِ ذوالجلال نے قرآنِ حکیم میں اسلامی معاشرے کے اس جوہری رشتے کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ [سورۃ الحجرات: 10]

ترجمہ: بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

اسی سورۂ مبارکہ میں آگے ارشاد فرمایا:

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ [سورۃ الحجرات: 13]

ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔

یعنی نہ حسب معیار ہے، نہ نسب ترجیح۔ عزت و شرف کا واحد پیمانہ تقویٰ ہے۔

احادیثِ نبوی میں اخوت و مساوات کا نورانی پیغام

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اخوت و مساوات کی اہمیت کو اجاگر فرمایا:

“مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔” [صحیح البخاری]

یہ الفاظ اس مثالی معاشرے کی بنیاد ہیں جہاں نہ ظلم کا گزر ہو، نہ تنہائی کا سایہ ہو۔ ہر فرد دوسرے کا محافظ، مددگار اور غمخوار ہو۔

“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔” [صحیح البخاری و صحیح مسلم]

یہی تو اخوت کا جوہر ہے، جہاں خودی کی چوکھٹ پر دوسروں کے لیے ایثار و خلوص کی شمع روشن کی جاتی ہے۔

“تمام لوگ برابر ہیں جیسے کنگھی کے دندانے برابر ہوتے ہیں، کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ اور دین داری کے۔” [کنز العمال، شعب الایمان]

یہ تشبیہ نہایت بلیغ ہے۔ جہاں ہر انسان کی عزت یکساں ہو، اور معیارِ فضیلت صرف وہ ہو جس کی پیشانی خشیتِ الٰہی سے معمور ہو۔

رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تعلیمات

مواخاتِ مدینہ

مدینہ منورہ کی ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان معاہدۂ اخوت فرمایا، جس کے تحت ایک مہاجر کو ایک انصاری کا بھائی بنایا گیا۔ یہ محض ایک رسمی معاہدہ نہ تھا بلکہ عملی محبت، ہمدردی اور تعاون پر مبنی ایک مستحکم معاشرتی نظام تھا۔

مساوات

مساوات وہ زریں اصول ہے جو انسان کو برابری، عزت اور انصاف کا حق عطا کرتا ہے۔

خطبۂ حجۃ الوداع: مساوات کا عالمی منشور

سرورِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبۂ حجۃ الوداع تاریخِ انسانی کا وہ روشن مینار ہے جس میں تمام بنی نوع انسان کے لئے عدل و مساوات کی بنیادیں رکھ دی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم) بھی ایک ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔” [مسند احمد]

یہ صرف خطبہ نہ تھا بلکہ وہ چراغِ ہدایت تھا جو غلاموں، مظلوموں اور محروم طبقات کے لیے نورِ بصیرت بن کر چمکا۔

غلاموں کے ساتھ مساوات

جہاں دنیا غلاموں کو انسانی درجے سے کمتر سمجھتی تھی، وہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہ صرف انسان تسلیم کیا بلکہ ان کے لیے برابر کے حقوق کا اعلان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

“تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں، جو تم کھاتے ہو وہی ان کو کھلاؤ، جو تم پہنتے ہو وہی ان کو پہناؤ۔” [صحیح البخاری]

“اللہ سے ڈرو، نماز کی حفاظت کرو اور غلاموں کے حقوق ادا کرو۔” [سنن ابن ماجہ]

حتی کہ لونڈیوں کے متعلق بھی ارشاد فرمایا:

“جس کے پاس کوئی لونڈی ہو، وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کرے تو اسے دوہرا ثواب ملے گا۔” [سنن ابن ماجہ]

خواتین کے ساتھ مساوات

دورِ جاہلیت میں بیٹی کو بوجھ اور عورت کو جائیداد تصور کیا جاتا تھا، لیکن محبوبِ رب العلیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عزت و حرمت کا تاج پہنایا۔ آپ نے فرمایا:

“جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔” [سنن الترمذی]

“عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔” [سنن ابی داؤد]

“تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔” [تاریخ الطبری]

اقلیتوں کے ساتھ مساوات

اسلام کی روح صرف اپنے ماننے والوں تک محدود نہیں، بلکہ تمام انسانوں کی فلاح و امن، اس کا نصب العین ہے۔ ایک بار ایک یہودی کا جنازہ گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم احتراماً کھڑے ہو گئے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے؟ آپ نے فرمایا:

أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟ [صحيح البخاري]

کیا وہ انسان نہیں تھا؟

ایک غیر مسلم بیمار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کو گئے۔ [صحیح البخاری]

اسلامی معاشرت اور مساوات

اسلامی ریاست میں خلیفہ ہو یا عام شہری سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں قاضی شریح نے ایک مقدمے میں خلیفۂ وقت کو ایک عام شہری کے برابر کھڑا کر دیا، یہ عدل کی اعلیٰ مثال تھی۔

ایک مرتبہ ایک معزز خاندان کی عورت نے چوری کی۔ لوگوں نے سفارش کی، کہ اسے معاف کر دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئے اور فرمایا:

“تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ معززوں کو چھوڑ دیتے اور کمزوروں کو سزا دیتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا!” [صحیح البخاری]

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغامِ اخوت و مساوات صرف الفاظ کی گونج نہ تھا، بلکہ ایک انقلابی ضابطۂ حیات تھا جس نے دلوں کو جوڑا، مظلوموں کو انصاف دیا، عورت کو مقام بخشا، غلام کو آزادی عطا کی، اقلیت کو تحفظ دیا اور انسانیت کو وقار بخشا۔

اگر آج بھی امتِ مسلمہ تعلیماتِ نبویہ کو اپنا لے تو یقیناً دنیا سے ظلم، نفرت اور تعصب کا اندھیرا چھٹ جائے گا اور عدل و رحمت کا سورج ہر طرف چمکنے لگے گا۔

اللہ رب العزت ہم سب کو تعلیماتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین، بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!