Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سوڈان کی حالت اور عالمی طاقتوں کی خاموشی

سوڈان کی حالت اور عالمی طاقتوں کی خاموشی
عنوان: سوڈان کی حالت اور عالمی طاقتوں کی خاموشی
تحریر: حافظ افتخار احمد قادری
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

آج سوڈان میں انسانیت دم توڑ رہی ہے اور پوری دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ وہ سرزمین جو کبھی علم و تہذیب، اخوت و رواداری کی علامت تھی آج خاک و خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ایک طرف انسان کے وجود کو مٹانے کی سازشیں ہیں اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی۔ یہ دورِ جدید کا وہ المناک باب ہے جہاں انسان نے خود اپنے وجود کی نفی کر دی ہے۔ گزشتہ دنوں جب سوشل میڈیا پر سوڈان کے باشندوں کی کچھ ویڈیوز سامنے آئیں تو دل کی کیفیات زیر و زبر ہوئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے روح بدن سے نکل جائے، آنکھوں نے جو دیکھا وہ الفاظ کی گرفت میں نہیں آ سکتا۔ ان ویڈیوز میں ایسے دل دہلا دینے والے مناظر تھے جنہیں دیکھ کر مؤرخ کا قلم لرز جائے اور انسانیت کی بنیادیں ہل جائیں۔ زندہ انسانوں کو نذرِ آتش کیا جا رہا تھا، بھوک اور پیاس سے نڈھال اجسام کو زمین میں دفن کیا جا رہا تھا۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں انسانیت تڑپ رہی تھی، سڑکوں پر لاشوں کا فرش بچھا ہوا تھا۔ ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملے جہاں گلیوں کے کنارے لاشیں بکھری تھیں، مائیں اپنے بچوں کو آغوش میں لیے بیٹھی تھیں کہ شاید اگلا لمحہ آخری ہو، شاید سانس کا یہ سلسلہ اب ٹوٹنے والا ہے۔ بچوں کی سسکیاں، ماؤں کی آہیں، بزرگوں کی چیخیں، ہر منظر ایک نئی قیامت کا اعلان تھا۔ کہیں ایک باپ اپنی لختِ جگر کو ملبے تلے تلاش کر رہا تھا کہیں ایک ماں اپنے بیٹے کے چہرے کو مٹی سے صاف کر کے آخری بار بوسہ دے رہی تھی۔ سوڈان کی سرزمین گویا انسانیت کے قبرستان میں بدل چکی ہے جہاں ہر سانس میں خوف اور ہر خواب میں موت کی جھلک ہے۔ آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ کب تک مفادات کی خاطر انسانوں کی نسل کشی ہوتی رہے گی؟ کب تک بنی آدم قربان گاہوں پر پیش کیے جاتے رہیں گے؟ دنیا کی طاقتور اقوام جو انسانی حقوق کے نعرے لگاتی نہیں تھکتیں آج اس ظلم پر کیوں خاموش ہیں؟ کیا سوڈان کے انسان انسان نہیں؟ کیا وہاں بہنے والا خون خون نہیں؟

سوڈان کی تباہی صرف ایک ملک کی بربادی نہیں بلکہ یہ عالمی ضمیر کی شکست ہے۔ یہ اس دور کا اعلان ہے جس میں طاقتور کی خاموشی کمزور کی موت بن چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں لمبی لمبی تقریریں ضرور ہوتی ہیں مگر ان تقریروں کا کوئی حاصل ان خستہ حال بستیوں تک نہیں پہنچتا جہاں مائیں اپنے بچوں کے ساتھ بھوک اور خوف کی دوہری موت مر رہی ہیں۔ سوڈان کی گلیوں میں آج انسانیت سسک رہی ہے۔ نہ دوا ہے، نہ پناہ، نہ امن، نہ انصاف۔ ہر سمت ملبہ ہے، ہر دل زخمی ہے، ہر آنکھ سوالی ہے۔ لوگوں کے گھروں میں نہ بجلی ہے، نہ پانی، نہ خوراک صرف خاموشی ہے ایسی خاموشی جو چیخوں سے بھی زیادہ دردناک ہے۔ وہ ممالک جو اپنے دفاع کے نام پر اربوں ڈالر کے اسلحے بناتے ہیں آج ایک برباد قوم کے لیے چند الفاظِ ہمدردی تک ادا نہیں کر پا رہے۔ ان کی آنکھوں پر سیاسی مفادات کی پٹی بندھی ہے اور ان کے ضمیر پر تجارتی معاہدوں کی مہر لگی ہے۔ یہ المیہ صرف سوڈان کا نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی آواز نہیں اٹھائی تو کل یہی آگ کسی اور سرزمین کو جلا دے گی کیونکہ ظلم جب ایک جگہ برداشت کیا جاتا ہے تو وہ باقی دنیا تک پہنچنے میں دیر نہیں لگاتا۔ خاموشی دراصل ظالم کے لیے سب سے بڑی طاقت ہے اور ہم سب اس خاموشی کے شریکِ جرم ہیں۔ سوڈان کی ماؤں کے آنسو، ان کے بچوں کی لاشیں، ان کے گھروں کا ملبہ یہ سب ہم سے سوال کر رہے ہیں کہ کہاں گئے وہ عالمی اصول، وہ انسانی حقوق، وہ انصاف کے نعرے؟ کیا انسان صرف زبان سے انسان کہلانے کے لیے رہ گیا ہے؟ کیا ضمیر اب صرف تقریروں میں دیکھا جا سکتا ہے؟ وقت ہے کہ دنیا جاگے اور عالمی ضمیر ایک بار پھر اپنے وجود کا احساس دلائے۔ سوڈان کے لیے آواز اٹھانا صرف انسان دوستی نہیں بلکہ اپنی انسانیت کو زندہ رکھنے کی علامت ہے۔ یہ آواز شاید کمزور ہو مگر یہی کمزور آواز تاریخ بدل سکتی ہے۔ یہی فریاد نسلوں کو جگا سکتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ تاریخ ان اقوام کو معاف نہیں کرتی جو ظلم کے وقت خاموش رہتی ہیں۔ سوڈان کی خاک سے اٹھنے والی چیخیں آج بھی آسمان کو چیر رہی ہیں مگر زمین پر کوئی سننے والا نہیں۔ اگر ہم نے اب بھی نہ سنا تو شاید کل ہماری اپنی سرزمین پر یہی چیخیں گونجیں گی کیونکہ آج سوڈان کے جلتے ہوئے آسمان کے نیچے صرف انسانیت نہیں تڑپ رہی بلکہ مسلم امہ کی غیرت بھی دم توڑ رہی ہے۔ وہ امت جسے “خیرِ امت” کہا گیا، جسے مظلوم کا سہارا اور عدل و انصاف کا علمبردار بنایا گیا آج اپنے ہی بھائیوں کے خون پر خاموش ہے۔

وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [سورۃ الانفال: 72]

مگر آج ہم مدد تو کیا ان کی آواز سننے کے بھی روادار نہیں ۔ ایسے ماحول میں مسلم ممالک کی خاموشی صرف سیاسی نہیں بلکہ روحانی شکست ہے۔ یہ ہماری وحدتِ امت کے نعروں کا جنازہ ہے۔ ہم نے اپنے درمیان وہ دیواریں کھڑی کرلی ہیں جو ہمارے دشمن بھی نہ بنا پائے۔ کہیں عرب و عجم کا فاصلہ، کہیں ذات برادری کی تقسیم، کہیں زبان و نسل کی بنیاد پر نفرت۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے طیارے مغربی دارالحکومتوں کے چکر تو لگا رہے ہیں مگر خرطوم کی مٹی میں جلتے انسانوں کے لیے ایک قدم نہیں اٹھا پا رہے۔ ہمارے میڈیا چینل تفریحی شو نشر کر رہے ہیں مگر سوڈان کی خبر ان کی ترجیحات میں کہیں دفن ہے۔ کاش! ہم یہ سمجھ پاتے کہ سوڈان کی آگ صرف سوڈان کی نہیں یہ وہ شعلہ ہے جو کسی دن ہمارے اپنے گھروں تک پہنچ سکتا ہے۔ ظلم جب ایک خطے میں طاقت پکڑتا ہے تو اس کی تپش پوری امت کو جلا دیتی ہے۔ آج اگر ہم نے سوڈان کے لیے آواز نہ اٹھائی تو کل یہ آگ ہمارے اپنے دروازوں پر دستک دے گی۔ اپنے اتحاد کو صرف نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کریں۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر انسانیت کی خاطر متحد ہوں۔ سوڈان کے مظلوم چہروں پر پڑی خاک ہماری غیرت کو پکار رہی ہے۔ یاد رکھیں! قومیں اپنے اسلحے سے نہیں اپنے احساس سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر احساس مر جائے تو وجود کا کوئی معنیٰ باقی نہیں رہتا۔ سوڈان کے ملبے سے اٹھتی آہیں ہمیں یاد دلا رہی ہیں کہ ہم سب ایک ہی جسم کے اعضاء ہیں۔ اگر ایک حصہ زخمی ہو تو دوسرا کیسے سکون میں رہ سکتا ہے؟

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!