| عنوان: | کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | حافظ افتخار احمد قادری |
| پیش کش: | ناظم اسماعیلی |
20 سال تک اپنے شیخ کی خدمت میں رہ کر علومِ روحانی و فیوضِ باطنی میں درجۂ کمال حاصل کیا۔ حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو 562 عیسوی میں شرفِ خلافت و اجازت سے سرفراز فرما کر اپنے تبرکات عصا، خرقہ، تسبیح، مصلیٰ، نعلین عطا فرمائے اور اسمِ اعظم کی خصوصی تعلیم دے کر رخصت کیا۔ بخارا سے سیر و سیاحت و سفرِ حج کے بعد 588 عیسوی میں آپ نے سرزمینِ ہندوستان کو قدم بوسی کا شرف عطا فرمایا۔ بروایتِ مختلف 589 عیسوی میں دار الخیرات اجمیر شریف تشریف لائے اور تقریباً 45 سال تک قیام فرمایا۔ اسی عرصے میں آپ نے اپنی روحانیت، خرقِ عادات، اخلاقِ حسنہ، صوفیانہ طریقۂ تبلیغ سے تقریباً 90 لاکھ افراد کو مشرف بہ اسلام فرما کر ہزارہا بندگانِ خدا کو خدائے پاک کا قرب عطا فرما دیا۔ [ہند الولی غریب نواز، ص: 13، 14]
کراماتِ خواجہ غریب نواز
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب تک میں حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کی خدمتِ اقدس میں تھا کبھی آپ کو ناراض ہوتے نہیں دیکھا البتہ ایک روز حضرت خواجہ غریب نواز کے ہمراہ میں اور ایک دوسرا خادم شیخ علی نامی باہر جا رہے تھے کہ اچانک راستے میں ایک شخص نے شیخ علی کا دامن پکڑ کر سخت و سست کہنا شروع کیا۔ حضرت پیر و مرشد نے اس شخص سے جھگڑے کی وجہ دریافت کی۔ اس نے جواب دیا کہ یہ میرا قرض دار ہے اور میرا قرض ادا نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو تمہارا قرض ادا کر دے گا۔ لیکن وہ شخص نہیں مانا اس پر حضرت پیر و مرشد کو غصہ آ گیا اور فوراً اپنی چادر مبارک اتار کر زمین پر ڈال دی اور فرمایا جس قدر تیرا قرض ہے اس چادر سے لے لے مگر خبردار! زیادہ لینے کی کوشش نہ کرنا۔ اس شخص نے اپنے قرضے سے زیادہ لے لیا اسی وقت اس کا ہاتھ خشک ہو گیا اور نہایت ادب سے معافی کا خواستگار ہوا۔ آپ نے کمالِ مہربانی سے معاف کر دیا۔ اس کا ہاتھ فوراً درست ہو گیا اور حلقۂ ارادت میں شامل ہو گیا۔ [ہند الولی غریب نواز، ص: 88]
ایک مرتبہ جب آپ اپنے مریدوں کے ساتھ سیاحت فرما رہے تھے تو آپ کا گزر ایک جنگل سے ہوا۔ وہاں آتش پرستوں کا ایک گروہ آگ کی پرستش میں مشغول تھا۔ اس گروہ کی ریاضت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ چھ چھ ماہ تک بغیر آب و دانہ رہ جاتے تھے۔ اکثر لوگ ان کی ریاضت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان سے اظہارِ عقیدت کرنے لگے اور ان کی اس کیفیت سے ایک خلقت گمراہ ہوتی جاتی تھی۔ حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ نے جب ان کی یہ حالت دیکھی تو ان سے استفسار فرمایا۔ اے گمراہو! خدا کو چھوڑ کر آگ کی پوجا کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا آگ کو ہم اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں دوزخ میں تکلیف نہ پہنچائے۔ آپ نے فرمایا یہ طریقہ دوزخ سے نجات کا نہیں ہے جب تک خدا کی پرستش نہ کرو گے کبھی آگ سے نجات نہ پاؤ گے۔ تم لوگ اتنے دنوں سے آگ کی پرستش کر رہے ہو ذرا اس کو ہاتھ میں لے کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ آتش پرستی کا صلہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ بے شک یہ ہم کو جلا دے گی کیوں کہ آگ کا کام ہی جلا دینے کا ہے۔ مگر ہم کو یقین کیسے ہو کہ خدا پرستوں کو آگ نہ جلا سکے گی۔ اگر آپ آگ کو ہاتھ میں اٹھا لیں تو ہمیں اطمینان ہو جائے۔ آپ نے جوش میں آ کر فرمایا! مجھ کو تو کیا؟ خدا کے بندے معین الدین کی جوتیوں کو بھی آگ نہیں جلا سکتی۔ آپ نے اسی وقت اپنی نعلین مبارک اس آگ کے الاؤ میں ڈالتے ہوئے آگ کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا اے آگ! اگر یہ جوتیاں خدا کے کسی مقبول بندے کی ہیں تو ان کو ذرا بھی آنچ نہ آئے۔ جوتیوں کا آگ میں پہنچنا تھا کہ فوراً آگ سرد ہو گئی اور جوتیاں صحیح و سلامت نکل آئیں۔ اس کرامت کو دیکھ کر آتش پرستوں نے کلمہ پڑھ لیا اور دل سے اسلام قبول کر کے حلقۂ ارادت میں داخل ہو گئے۔ [سیرت خواجہ معین الدین چشتی، ص: 107]
ایک روز ایک عورت کی پردرد فریاد سے آپ کے جذباتِ رحم و ہمدردی میں ہیجان پیدا ہوا کہ آپ فوراً عصائے مبارک ہاتھ میں لے کر اٹھے اور بڑھیا کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ بہت سے خدام اور حاضرین بھی آپ کے ہمراہ ہوئے جب آپ لڑکے کی بے جان لاش کے پاس پہنچے تو بہت دیر تک خاموش کھڑے اس کی طرف دیکھتے رہے پھر آگے بڑھے اور اس کے جسم پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: اے مقتول! اگر تو بے گناہ مارا گیا ہے تو اللہ رب العزت کے حکم سے زندہ ہو جا۔ ابھی آپ کی زبانِ فیض ترجمان سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ مقتول زندہ ہو گیا۔ آپ نے اس وقت فرمایا بندہ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر نسبت پیدا کرنی چاہیے کہ جو کچھ خدا کی بارگاہ میں حاضر کرے قبول ہو جائے۔ [سیرت خواجہ معین الدین چشتی، ص: 109]
وصال خواجہ غریب نواز
633 ہجری شروع ہوتے ہی حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کو علم ہو گیا کہ یہ آخری سال ہے۔ آپ نے اپنے مریدوں کو ضروری ہدایتیں اور وصیتیں فرمائیں، جن لوگوں کو خلافت دینی تھی ان کو خلافت سے سرفراز فرمایا اور ساتھ ہی حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کو اجمیر بلا بھیجا۔ حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ ایک روز اجمیر شریف کی جامع مسجد میں تشریف فرما تھے مقربین اور احبابِ خاص حاضر خدمت تھے۔ آپ ملک الموت سے باتیں کر رہے تھے کہ معہ الشیخ علی سنجری سے مخاطب ہوئے اور ان سے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت کا فرمان لکھوایا۔ قطب صاحب حاضر خدمت تھے حضرت خواجہ غریب نواز نے اپنی کلاہ مبارک قطب صاحب کے سر پر رکھی اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھا۔ خرقۂ اقدس پہنایا۔ عصا مبارک ہاتھ میں دیا۔ مصلیٰ، کلام پاک اور نعلین مبارک مرحمت فرما کر ارشاد فرمایا: یہ نعمتیں میرے بزرگوں سے سلسلہ بہ سلسلہ فقیر تک پہنچی ہیں۔ اب میرا آخری وقت آ پہنچا ہے یہ امانتیں تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ حقِ امانت حتی الامکان ادا کرنا تاکہ قیامت کے دن مجھے اپنے بزرگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ پھر اور کئی نصیحتیں فرمائیں اور آپ کو رخصت کر دیا۔ وصال سے چند روز قبل آپ نے اپنے بڑے صاحب زادے حضرت خواجہ سید فخر الدین کو نصیحت فرمائی: دنیا کی تمام چیزیں مٹنے والی ہیں اور فنا ہونے والی ہیں۔ ہر دم خدا کی خوشنودی طلب کرتے رہنا اور کسی چیز پر بھروسہ نہ رکھنا۔ تکلیف و مصیبت کے وقت صبر و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ 633 ہجری میں 5 اور 6 رجب کی درمیانی شب کو حسبِ معمول عشا کی نماز کے بعد آپ اپنے حجرے میں داخل ہوئے اور اندر سے دروازہ بند کر کے یادِ خدا میں مشغول ہو گئے۔ رات بھر درود اور ذکر کی آواز آتی رہی۔ صبح ہونے سے پہلے ہی یہ آواز بند ہو گئی۔ جب دروازہ نہیں کھلا تو خدام نے دستکیں دیں اس پر بھی کوئی جواب نہیں ملا تو پریشانی بڑھ گئی۔ آخر مجبوراً دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ آپ واصل بحق ہو چکے ہیں اور آپ کی نورانی پیشانی پر سبز اور روشن حروف میں لکھا ہوا ہے: “هَذَا حَبِيبُ اللّٰهِ مَاتَ فِي حُبِّ اللّٰهِ”۔
حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کے انتقالِ پرملال کی خبر فوراً شہر کے گلی کوچوں اور مضافات میں پھیل گئی۔ لوگ محبت کے آنسو بہاتے ہوئے اپنے محبوب کے جنازے پر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو گئے، آپ کے بڑے صاحب زادے خواجہ سید فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ جس حجرے میں آپ نے انتقال فرمایا تھا اسی حجرے میں آپ کو دفن کیا گیا تب ہی سے آپ کا آستانۂ مبارک تمام ہندوستان کا روحانی مرکز بنا ہوا ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک بنا رہے گا۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال 6 رجب المرجب کو بڑے اہتمام و انصرام کے ساتھ منعقد ہوتا ہے۔ [ہند الولی غریب نواز، ص: 73]
ارشاداتِ خواجہ غریب نواز
-
جس نے حرص و ہوا کو ترک کیا اس نے مقصود حاصل کیا۔
-
جس نے اپنی خواہشات کو روکا اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔
-
جو تصوف کی ماہیت سے واقف ہونا چاہے وہ خواہشات کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لے۔
-
عارف آفتاب صفت ہوتے ہیں ان سے عالم منور ہوتا ہے۔
-
راہِ محبت میں عاشق وہ ہے جو دونوں جہاں سے دل اٹھا لے۔
-
گناہ تمہیں اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا مسلمان بھائی کو ذلیل و خوار کرنا۔
-
کافر سو برس تک “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ” کہنے سے مسلمان نہیں ہوتا لیکن ایک مرتبہ “مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ” کہنے سے صد سالہ کفر دور ہو جاتا ہے۔
-
عارف وہ ہے جو راہِ عشق میں کسی کو نہ دیکھے۔
-
بندہ پر فقیری کا لفظ اس وقت صادق آتا ہے کہ جب آٹھ سال تک بائیں ہاتھ کا فرشتہ جو بدی تحریر کرنے پر مامور ہے اس کے نامۂ اعمال میں ایک بدی بھی تحریر نہ کرے۔
-
نماز مومنین کی معراج ہے اس کی حفاظت کامل طور پر کرنی چاہیے۔
-
جو شخص فجر کی نماز پڑھ کر طلوعِ آفتاب تک اسی جگہ بیٹھا رہے اور نمازِ اشراق پڑھ کر اٹھے تو حق تعالیٰ اسے معہ ستر ہزار آدمیوں کے جو اس کے اہل ہوں بخش دیتا ہے۔
-
مذہبِ اہل سلوک میں پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے خواہ وہ چیزیں الگ الگ کیوں نہ دیکھی جائیں: والدین کا دیکھنا، قرآنِ مجید کا دیکھنا، علمائے ربانی کا دیکھنا، خانۂ کعبہ کا دیکھنا، اپنے پیرِ طریقت کا دیکھنا۔
-
محبت کے پانچ درجے ہیں: ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔ ذکرِ الٰہی بدرجۂ اتم کرنا اور اس کے ذکر میں خوش و خرم رہنا۔ وہ اذکار و اشغال اختیار کرنا جو دنیاوی محبت کے مانع ہوں۔ ہمیشہ روتے رہنا۔ جو شخص چاہتا ہے کہ محشر کے المناک عذاب سے محفوظ اور مامون رہے تو اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ مصیبت زدوں کی فریاد رسی کرے، عاجزوں کی حاجت روائی کرے اور بھوکوں کی حاجت روائی کرے۔
-
چار عمل نفس کے لیے زینت ہیں: بھوکوں کو کھانا کھلانا، مظلوم کی امداد کرنا، حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنا، دشمن سے مہربانی اور سلوک سے پیش آنا۔
-
صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے بری صحبت سے برا اثر اور نیک صحبت سے اچھا اثر ہوتا ہے۔
-
شقی وہ ہے جو گناہ کرے اور امید رکھے کہ میں مقبول بندہ ہوں۔
-
عالم کی زیارت اور درویشوں کی دوستی نزولِ رحمت کا سبب ہوتی ہے۔ [ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ: 2023، ص: 38 تا 40]
