| عنوان: | انجینئر محمد علی مرزا کے ایک مغالطے کا ازالہ (ائمۂ حدیث کا فقہی مسلک) |
|---|---|
| تحریر: | عمر سفیر رضوی پونچھ جموں کشمیر |
عنوان: انجینئر محمد علی مرزا کے ایک مغالطے کا ازالہ
عوامِ اہل سنت کو فقہی مسالک سے دور کرنے کے لیے انجینئر محمد علی مرزا اور ان کے ہمنوا اپنے بیانات اور پوڈکاسٹس میں ایک مخصوص مغالطے کا سہارا لیتے ہیں کہ "ہم صرف مسلمان ہیں، نہ حنفی، نہ شافعی، نہ مالکی اور نہ حنبلی"۔ خود کو علمی اور کتابی کہلانے والا یہ گروہ درحقیقت اسی پرانی فکر کی بازگشت ہے جسے غیر مقلدین برسوں سے دہراتے چلے آ رہے ہیں۔
موصوف اکثر و بیشتر اپنے بیانات میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالے دیتے ہیں اور انہیں اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ میں فرقۂ جہلمیہ کے بانی اور اس کے شاگردوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ جس بخاری و مسلم کو اپنا سب کچھ مانتے ہو، وہ ائمہ خود کسی نہ کسی امام کے مقلد تھے، بلکہ بڑے بڑے اجلہ محدثین کسی نہ کسی فقہی امام کے مقلد تھے؛ جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (متوفی 1176ھ) اپنی کتاب "الانصاف" میں متعدد مقامات پر امام بخاری کے مسلک کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کا مسلک شافعی لکھتے ہیں۔
امامِ بخاری اور دیگر ائمۂ حدیث کا فقہی مسلک
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ایک مقام پر فرماتے ہیں:
وَمِنْ هٰذَا الْقَبِيلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، فَإِنَّهُ مَعْدُودٌ فِي طَبَقَاتِ الشَّافِعِيَّةِ، وَمِمَّنْ ذَكَرَهُ فِي طَبَقَاتِ الشَّافِعِيَّةِ الشَّيْخُ تَاجُ الدِّينِ السُّبْكِيُّ، وَقَالَ: إِنَّهُ تَفَقَّهَ بِالْحُمَيْدِيِّ، وَالْحُمَيْدِيُّ تَفَقَّهَ بِالشَّافِعِيِّ، وَاسْتَدَلَّ شَيْخُنَا الْعَلَّامَةُ عَلَى إِدْخَالِ الْبُخَارِيِّ فِي الشَّافِعِيَّةِ بِذِكْرِهِ فِي طَبَقَاتِهِمْ، وَكَلَامُ النَّوَوِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ شَاهِدٌ لَهُ.
ترجمہ: "امام محمد بن اسماعیل البخاری کا فقہی مقام بھی ایسا ہی ہے (کہ وہ مجتہد منتسب تھے)۔ ان کا شمار بھی طبقاتِ شافعیہ میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے ان کو طبقاتِ شافعیہ میں شمار کیا ہے، شیخ تاج الدین السبکی بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'امام بخاری نے علمِ فقہ حمیدی سے اور حمیدی نے امام شافعی سے حاصل کیا' اور ہمارے استاد علامہ نے بھی امام بخاری کے شافعی ہونے پر یہی دلیل دی ہے کہ تاج الدین السبکی نے ان کا تذکرہ طبقاتِ شافعیہ میں ان ہی کے زمرہ میں کیا ہے۔ امام نووی کا کلام جو ہم نے اوپر ذکر کیا ہے وہ بھی اسی کا مؤید (تائید کرنے والا) ہے"۔ [الانصاف في بيان أسباب الاختلاف، ص: 86، طبع دار النفائس، بیروت]
علامۂ زماں حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (متوفی 1239ھ) اپنی شہرۂ آفاق کتاب "بستان المحدثین" میں ابو داؤد سجستانی رحمۃ اللہ علیہ کے فقہی مسلک کے متعلق فرماتے ہیں کہ بعض نے انہیں شافعی المسلک کہا اور بعض نے حنبلی المسلک؛ جیسا کہ تاریخ ابن خلکان میں ان کو طبقات الفقہاء میں امام احمد بن حنبل کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے۔ [بستان المحدثین اردو، ص: 192، طبع عرشی کتاب گھر، حیدرآباد]
یہی شاہ عبد العزیز محدث دہلوی امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا فقہی مسلک بھی شافعی لکھتے ہیں۔ [مرجع سابق، ص: 198]
حاجی خلیفہ (متوفی 1067ھ) نے امام مسلم کا فقہی مسلک شافعی لکھا ہے:
لِلْإِمَامِ الْحَافِظِ أَبِي الْحُسَيْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيِّ النَّيْسَابُورِيِّ (الشَّافِعِيِّ) الْمُتوفَّى سَنَةَ ٢٦١هـ
[کشف الظنون، ج: 1، ص: 555، دار إحياء التراث العربي، بیروت]
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ائمۂ ستہ کو مقلد ہی شمار کیا ہے، لیکن یاد رہے کہ یہ ائمہ مقلد ہونے کے ساتھ ساتھ مجتہد منتسب بھی تھے۔ تفصیلی مطالعے کے لیے "الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف" کا باب چہارم (حالات قبل از صدی چہارم) دیکھیں۔ اسی طرح شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے بھی تقریباً تمام محدثین کو مقلد شمار کیا ہے جن میں سے بعض مجتہد فی المسائل تھے۔ مزید تفصیلات کے لیے "بستان المحدثین" (عربی، اردو، فارسی) کا مطالعہ کریں۔
اکابرین سے دوری اور فکری انتشار کا فتنہ
افسوسناک المیہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے ائمۂ ستہ (امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابو داؤد، امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمہم اللہ) جیسے عظیم محدثین نے جس دین کو ہم تک پہنچایا، وہ خود بھی کسی نہ کسی فقہی مسلک سے وابستہ تھے اور فقہائے امت کی علمی خدمات کے معترف تھے؛ مگر آج ہمیں یہ فریب دے کر اکابر سے دور کیا جا رہا ہے کہ "دین صرف قرآن و حدیث ہے (ہمیں کسی فقہ کی ضرورت نہیں)"۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دین کا اصل ماخذ قرآن اور حدیث ہی ہے، لیکن یہ کہنا کہ ہم براہِ راست قرآن و حدیث سے خود دین سمجھ لیں گے اور ان اکابر فقہاء کی خدمات کو نظر انداز کر دیں گے، ایک ایسی گمراہی ہے جس نے امت کو منتشر کر دیا ہے۔ باطل قوتیں یہ جانتی ہیں کہ جب تک امت اپنے اکابر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تب تک اسے ورغلانا ممکن نہیں، لہٰذا وہ عوام کے دلوں میں اپنے اسلاف کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر کے انہیں بے سمت کر رہے ہیں۔
یاد رکھیے! اگر ہم اکابر کو درمیان سے ہٹا دیں تو ہمیں دین کی کوئی بات بھی صحیح معلوم نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ دین ہم تک پہنچا ہی انہی اکابرین کے واسطے سے ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے اپنے اسلاف سے تعلق توڑا، وہ فتنوں کی زد میں آ گئی۔ ان میں سے کچھ لوگ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کے منکر ہوئے، کچھ لوگوں نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ہستیوں کے خلاف زبانِ بد استعمال کی، اور کچھ لوگوں نے ہمیں فقہائے کرام، ائمۂ عظام اور محدثینِ کرام کے مستند راستے سے دور کر کے فکری انتشار میں ڈال دیا۔ انہی فتنہ پرور افراد میں سے ایک شخص انجینئر محمد علی مرزا المعروف جہلمی ہے۔
دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
