Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کیا یہ حدیث ہے؟ (عالم اور طالب علم کا بستی سے گزرنا) | سفیر رضوی

کیا یہ حدیث ہے؟ (عالم اور طالب علم کا بستی سے گزرنا)
عنوان: کیا یہ حدیث ہے؟ (عالم اور طالب علم کا بستی سے گزرنا)
تحریر: سفیر رضوی پونچھ جموں و کشمیر انڈیا

عنوان: کیا یہ حدیث ہے؟
تلاشِ بسیار کے بعد بھی محدثینِ عظام کو اس روایت کی کوئی سند نہیں مل سکی۔ یہی وجہ ہے کہ محققین اور محدثین نے اس کو غیر ثابت اور بے اصل قرار دیا ہے، اس لیے احتیاطاً اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنے سے سخت بچنا چاہیے!

ائمۂ جرح و تعدیل اور محدثین کے اقوال

علامہ عجلونی نے "کشف الخفا" میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے نقل کیا ہے:

إِنَّ الْعَالِمَ وَالْمُتَعَلِّمَ إِذَا مَرَّا عَلَى قَرْيَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْفَعُ الْعَذَابَ عَنْ مَقْبَرَةِ تِلْكَ الْقَرْيَةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. قَالَ السُّيُوطِيُّ: لَا أَصْلَ لَهُ.

یعنی: "بیشک عالم اور طالبِ علم جب کسی بستی پر سے گزرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان سے چالیس دن تک عذاب کو اٹھا لیتا ہے۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس کی کوئی اصل نہیں (یعنی یہ حدیث نہیں ہے)"۔ [کشف الخفاء، جلد اول، حدیث نمبر: 672، ص: 254، مکتبۃ العلم الحدیث]

موضوعاتِ صغریٰ (کتاب المصنوع) میں ہے:

قَالَ الْحَافِظُ جَلَالُ الدِّينِ: لَا أَصْلَ لَهُ

ترجمہ: "حافظ جلال الدین سیوطی نے فرمایا: اس کی کوئی اصل نہیں"۔ [کتاب المصنوع، حدیث نمبر: 57، ص: 65]

اسی طرح علامہ ابن یوسف نے "الفوائد الموضوعۃ" میں بھی اس کو بے اصل کہا ہے۔ [الفوائد الموضوعہ، رقم الحدیث: 171، ص: 113]

علامہ ابن حجر ہیتمی کا تحقیقی فتویٰ

فتاویٰ فقہیہ میں علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:

ذَكَرَ التَّفْتَازَانِيُّ فِي "شَرْحِ الْعَقَائِدِ" عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الْعَالِمَ وَالْمُتَعَلِّمَ إِذَا مَرَّا عَلَى قَرْيَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْفَعُ الْعَذَابَ عَنْ مَقْبَرَةِ تِلْكَ الْقَرْيَةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. هَلْ لِهٰذَا الْحَدِيثِ أَصْلٌ وَهَلْ رَوَاهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ السُّنَنِ أَوْ لَا؟ فَأَجَابَ بِقَوْلِهِ: لَمْ أَرَ لِهٰذَا الْحَدِيثِ وُجُودًا فِي كُتُبِ الْحَدِيثِ الْجَامِعَةِ الْمَبْسُوطَةِ وَلَا فِي غَيْرِهَا، ثُمَّ رَأَيْتُ كَمَالَ بْنَ أَبِي شَرِيفٍ صَاحِبَ الْإِسْعَادِ قَالَ إِنَّ الْحَدِيثَ لَا أَصْلَ لَهُ وَهُوَ الْمُوَافِقُ لِمَا ذَكَرْتُهُ.

ترجمہ: "امام تفتازانی نے 'شرح العقائد' میں نبی کریم ﷺ سے یہ نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: 'بیشک جب عالم اور طالبِ علم کسی بستی پر سے گزرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان سے چالیس دن تک عذاب کو اٹھا لیتا ہے'۔ پھر یہ سوال کیا گیا: 'کیا اس حدیث کی کوئی اصل ہے؟ اور کیا اسے سنن کی کسی کتاب میں کسی نے روایت کیا ہے یا نہیں؟' تو آپ (علامہ ابن حجر ہیتمی) نے جواب دیا: میں نے اس حدیث کو جامع اور مفصل حدیث کی کتابوں میں کہیں بھی موجود نہیں پایا، اور نہ ہی دیگر کتابوں میں؛ پھر میں نے کمال بن ابی شریف، صاحبِ 'الإسعاد' کو یہ کہتے ہوئے دیکھا کہ: 'یہ حدیث بے اصل ہے' اور یہی وہ بات ہے جو میں نے بھی کہی ہے"۔ [الفتاویٰ الفقہیہ، ج: 2، کتاب الجنائز، ص: 32، طبع مصر]

اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کو سمجھنے، قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں حضور ﷺ کی ذاتِ گرامی کی طرف جھوٹ منسوب کرنے کی لعنت سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!