Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

نماز (قسط: اول)|علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی

نماز (قسط: اول)
عنوان: نماز (قسط: اول)
تحریر: علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی
پیش کش: عائشہ صدیقہ بنت مجیب احمد
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ [سورۃ العنکبوت: 45]

بے شک نماز انسان کو تمام برائیوں اور بے شرمیوں سے منع کرتی ہے۔

آج کے دور میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی معاشرے میں پھیلی ہوئی وہ برائیاں اور بےحیائیاں ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔ دنیا کی تمام متمدن قومیں اس بات کی کوشش کر رہی ہیں کہ دنیا سے برائیوں کا خاتمہ ہو جائے، مگر ہزاروں کوششوں کے باوجود برائیاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں اور اب تو عالم یہ ہے کہ برے انسانوں کے دست برد سے دنیا کا کوئی فرد، کوئی سوسائٹی اور کوئی حکومت محفوظ نہیں ہے۔

حالانکہ جرم و سزا کے موضوع پر لٹریچر کی بھرمار ہے۔ جاسوسی کا نظام؛ جرائم کو کنٹرول کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ حکومتوں کے کارندے برائیوں کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ مجرموں کے لیے قید و بند کے علاوہ ان کی اصلاح کے لیے ہزاروں سائنٹیفک طریقے ایجاد کر لیے گئے ہیں۔ جرم کی دریافت کے لیے ہزاروں مسلح آنکھیں ہر وقت مصروف عمل ہیں۔ عقلائے روزگار اور دانشوران عالم برائیوں کے خلاف کتابوں کے انبار لگا رہے ہیں، مگر ان تمام کوششوں کے باوجود برائیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شر کی قوتوں نے پورے عالم انسانی کو اپنے آہنی پنجوں میں جکڑ رکھا ہے، اور اس کی مضبوط گرفت کے نیچے ہر انسان کراہ رہا ہے۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انسانی دنیا پر برائیوں کی بڑھتی ہوئی یلغار آج کے دور میں سب سے بڑا چیلنج ہے، جس کا جواب دنیا کے پاس نہیں مگر قرآن عظیم اس چیلنج کا جواب دے رہا ہے۔

“بے شک نماز انسان کو تمام برائیوں اور بے شرمیوں سے روک دیتی ہے۔”

خدائے واحد کی کتاب مقدس نے دنیا کے تمام جرائم، برائیوں اور بدکاریوں کو ختم کرنے کے لیے نماز کا نسخہ تجویز فرمایا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن برائیوں کو پوری دنیا اپنے تمام وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لا کر بھی دور نہیں کر سکتی ان کو نماز کس طرح دور کر سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا کی تمام کوششیں انسان کے ظاہری جسم کی پابندیوں سے متعلق ہیں، قید و بند کی صعوبتیں ہوں یا قوانین کی زنجیریں، یہ سب انسانی دست و پا کو پابند سلاسل کرتی ہیں، مگر نماز قلب انسانی کو آراستہ کرتی ہے اور اس کے اندر پوشیدہ خیر کی قوتوں کو بیدار کر کے شر کا خاتمہ کرتی ہے۔

قلب انسانی ہی جملہ اعضا اور جوارح کو حکم دیتا ہے۔ قلب انسان حاکم ہے اور دیگر اعضا و جوارح محکوم ہیں۔ اگر اس کی اصلاح ہو جائے تو پورا جسم سنور جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان کا حملہ قلب انسانی پر سب سے پہلے ہوتا ہے۔ طبعی اعتبار سے قلب کا کام پورے جسم انسانی میں خون کی سپلائی ہے لیکن اگر اس پر شیطان کا قبضہ ہو جائے تو خون کے ساتھ شر بھی انسانی رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الشَّيْطَانُ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ

“شیطان جسم انسانی میں خون کی طرح دوڑتا ہے”

لیکن جب نماز قلب انسانی کو شیطانی اثرات سے پاک کر دیتی ہے تو پھر شر کے بجائے خیر گردش کرتا ہے، اور انسان مجسمۂ خیر و خوبی بن جاتا ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جسم انسانی میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگر وہ سنور جائے تو پورا جسم سنور جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے آگاہ ہو جاؤ کہ وہ قلب ہے۔”

ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کے ساتھ کہیں تشریف لے جا رہے تھے آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگ باری باری ایک پتھر کو دھکا دے رہے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس پتھر کو کیوں دھکا دے رہے ہو، تو انہوں نے عرض کی: تاکہ ہم جان لیں کہ ہم میں سب سے زیادہ طاقت ور کون ہے۔ حضور نے ارشاد فرمایا:

الشَّدِيدُ مَنْ غَلَبَ عَلَى نَفْسِهِ

“طاقت ور وہ ہے جو اپنے دل کو قابو میں کر لے۔”

دل قابو میں ہو تو جسم کم زوروں کو سہارا دینے اور گرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے میں صرف ہو گی اور اگر نفس قابو میں نہ ہو تو تمام توانائیاں غریبوں کے استحصال اور بے کسوں کو تباہ کرنے میں خرچ ہوں گی۔ پتا چلا کہ قلب انسانی خیر و شر کا منبع ہے۔ اور نماز قلب انسانی کو شر سے پاک و صاف کر کے خیر کی آماج گاہ بنا دیتی ہے۔

نماز گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے:

أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالُوا لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالَ فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا [صحیح البخاری وصحیح مسلم]

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک دریا ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل باقی رہ جائے گا؟ حضور نے فرمایا یہی مثال پانچ وقت کی نمازوں کی ہے۔ اللہ ان نمازوں کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

اسلام میں جزا اور سزا کا قانون نافذ ہے قرآن کریم میں صراحتًا ارشاد فرمایا گیا:

فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَل * مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ [سورۃ الزلزال: 7۔8]

“انسان اس دنیا میں جو کچھ بھی کرے گا آخرت میں اسی کا بدلہ دیا جائے گا۔”

اس سلسلے میں خدائے شہید و بصیر جو کائنات کے ذرے ذرے کا مشاہدہ کر رہا ہے اور کائنات کی ہر شے اس کی نگاہِ قدرت کے سامنے ہے۔ اس نے اپنے بندے کو مطمئن فرمانے کے لیے یہ اہتمام فرمایا ہے کہ کراماً کاتبین نامۂ اعمال مرتب کر رہے ہیں۔ اعضائے جسمِ انسانی اپنی اپنی کرتوتوں کی گواہی دیں گے، فرشتے، کتاب الٰہی، اعمال اور زمینِ عمل یہ سب گواہ ہوں گے تاکہ بندہ کہیں یہ نہ محسوس کرے کہ اس کو سزا اس کے گناہوں کے تناسب سے زیادہ دی جا رہی ہے۔ جزا اور سزا کے اسی قانون کے پیشِ نظر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید و بصیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ مسیحی اپنے پیغمبر کو صرف بشیر مانتے ہیں اور یہودی نذیر، مگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم بشیر و نذیر دونوں ہیں۔ قرآن کریم میں کہیں ان کی مبشرانہ حیثیت کو پیش کیا گیا ہے اور کہیں وہ منصبِ انذار پر فائز نظر آتے ہیں، کہیں وہ اعمالِ حسنہ کی جزا کے طور پر جنت کی بشارت دیتے ہیں اور کبھی وہ بد اعمالیوں کی سزا کے نتیجے میں دوزخ کے درد ناک عذاب سے ڈراتے ہیں۔

حضور کا بشیر و نذیر ہونا اس بات کی بین دلیل ہے کہ اسلام میں جزا اور سزا کا قانون نافذ ہے، یہی اصل ہے اور اسی کے مطابق فیصلے ہوں گے۔ [مقالاتِ خطیب اعظم، ص: 126 تا 129]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!