| عنوان: | فرض عین علوم کا تحقیقی جائزہ (قسط: 1) |
|---|---|
| تحریر: | سلمیٰ شاہین امجدی کردار فاطمی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
علم دین کا حصول ہر مسلمان پر لازم ہے مگر یہ سوال کہ کون سا علم فرض عین ہے اور کون سا فرض کفایہ اس کا جواب علمائے کرام نے بڑی تفصیل اور گہرائی سے دیا ہے۔ فتاوی رضویہ جلد ششدہ کتاب الحظر والاباحہ میں اس موضوع پر نہایت جامع بحث موجود ہے۔ اس کے علاوہ درمختار، ردالمحتار، احیاءالعلوم، اور دیگر معتبر کتب میں بھی یہ مسئلہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہ مضمون انھی مصادر کی روشنی میں لکھ رہی ہوں۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِى الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ ۚ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ [سورۃ المجادلہ: 11]
"اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمھیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو اللہ تمھارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمھارے کاموں کی خبر ہے۔"
وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ ؕ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ [سورۃ فاطر: 28]
"اور آدمیوں اور جانوروں اور چارپایوں کے رنگ یوں ہی طرح طرح کے ہیں اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں بے شک اللہ عزت والا بخشنے والا۔"
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "جو شخص اللہ تعالیٰ کو جتنا زیادہ جانتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے۔" [تفسیر ابن کثیر: 553/3]
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ [سنن ابن ماجہ: 224]
"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔"
نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
"جس کے ساتھ اللہ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔"
فرض عین اور فرض کفایہ کا فقہی فرق
فرض عین کی اصطلاحی تعریف:
امام غزالی رحمہ اللہ نے احیاء علوم الدین میں فرمایا:
فَرْضُ الْعَيْنِ مَا لَا يَتِمُّ أَدَاءُ الْفَرِيضَةِ إِلَّا بِهِ كَالْعِلْمِ بِصِفَةِ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ لِمَنْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ
"فرض عین وہ ہے جس کے بغیر فریضے کی ادائیگی مکمل نہیں ہوتی جیسے نماز کی صفت کا علم اور زکات کا علم اس شخص کے لیے جس پر واجب ہو۔" [احیاء علوم الدین: جلد 1، کتاب العلم: 14]
امام ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے ردالمحتار میں فرمایا:
فَرْضُ عَيْنٍ عَلَى كُلِّ مُكَلَّفٍ بَعْدَ تَعَلُّمِهِ عِلْمَ الدِّينِ وَالْهِدَايَةِ تَعَلُّمُ عِلْمِ الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَعِلْمِ الزَّكَاةِ لِمَنْ لَهُ نِصَابٌ وَالْحَجِّ لِمَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ وَالْبُيُوعِ عَلَى التُّجَّارِ
"ہر مکلف پر فرض عین ہے کہ علم دین اور ہدایت سیکھنے کے بعد وضو، غسل، نماز اور روزے کا علم سیکھے، اگر نصاب ہو تو زکات کا علم سیکھے، اگر حج فرض ہو تو حج کا علم سیکھے اور تاجروں پر تجارت کے مسائل سیکھنا فرض ہیں۔" [ردالمحتار على الدر المختار: جلد 1، مقدمہ 29 دار الفکر بیروت]
فرض کفایہ کی تعریف:
امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا:
فَرْضُ الْكِفَايَةِ مَا إِذَا قَامَ بِهِ الْبَعْضُ سَقَطَ عَنِ الْبَاقِينَ
"فرض کفایہ وہ ہے جس کے کچھ لوگوں کے ادا کرنے سے باقی سب سے ساقط ہو جاتا ہے۔" [شرح المہذب: جلد 1، ص: 24، مطبوعہ دار الفکر]
امام ابن نجیم رحمہ اللہ نے البحر الرائق میں ایک اہم قاعدہ بیان کیا:
كُلُّ مَنْ اشْتَغَلَ بِشَيْءٍ يُفْرَضُ عَلَيْهِ عِلْمُهُ وَحُكْمُهُ لِيَمْتَنِعَ عَنِ الْحَرَامِ فِيهِ
"جو شخص جس کام میں لگا ہو اس پر اس کام کا علم اور حکم جاننا فرض ہے تاکہ اس میں حرام سے بچ سکے۔" [البحر الرائق شرح کنز الدقائق: 13/1 مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی]
فرض عین علوم کی مکمل تفصیل:
سب سے پہلا فرض عین:
امام تفتازانی رحمہ اللہ نے شرح العقائد النسفیہ میں فرمایا:
أَوَّلُ وَاجِبٍ عَلَى الْمُكَلَّفِ مَعْرِفَةُ اللَّهِ تَعَالَى بِصِفَاتِهِ الْوَاجِبَةِ وَالْمُسْتَحِيلَةِ وَالْجَائِزَةِ
"مکلف پر سب سے پہلا واجب اللہ تعالیٰ کی واجب، مستحیل اور جائز صفات کی معرفت ہے۔" [شرح العقائد النسفیہ: 23، مطبوعہ مکتبہ الکلیات الازہریہ]
علم عقائد کے فرض عین مسائل:
پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات واجبہ کا علم ضروری ہے جیسے وجود، قدم، بقا، وحدانیت۔ دوسری یہ کہ توحید کا صحیح عقیدہ سیکھنا ضروری ہے۔ تیسری یہ کہ رسالتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کی تفصیل جاننا ضروری ہے۔ چوتھی یہ کہ آخرت، فرشتوں، کتابوں اور تقدیر پر ایمان کی تفصیل جاننا ضروری ہے۔ پانچویں یہ کہ کفر اور شرک کی اقسام جاننا ضروری ہے تاکہ ان سے بچا جا سکے۔
امام احمد رضا قدس سرہ نے فرمایا: "عقائدِ صحیحہ کا علم سب سے پہلے فرض عین ہے کیوں کہ اس کے بغیر کوئی عمل صحیح نہیں ہوتا۔" [فتاوی رضویہ: جلد 23، صفحہ 348، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]
امام کاسانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
عِلْمُ الطَّهَارَةِ فَرْضُ عَيْنٍ عَلَى كُلِّ مُكَلَّفٍ لِأَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَصِحُّ إِلَّا بِهَا
"طہارت کا علم ہر مکلف پر فرض عین ہے کیوں کہ نماز طہارت کے بغیر صحیح نہیں ہوتی۔" [بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: جلد1، 3، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت]
وضو کے فرائض چار ہیں چہرہ دھونا، دونوں ہاتھ دھونا، سر کا مسح کرنا اور دونوں پاؤں دھونا، یہ جاننا ضروری ہے۔ وضو توڑنے والی چیزیں جیسے قضائے حاجت، بے ہوشی، نیند وغیرہ جاننا ضروری ہے۔ غسل کے فرائض تین ہیں کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا اور پورے بدن پر پانی بہانا۔ غسل واجب کرنے والی چیزیں تیمم کے احکام۔ پاک ناپاک کی پہچان یہ سب جاننا ضروری ہے۔
امام مرغینانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
الطَّهَارَةُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ الصَّلَاةِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَالْإِجْمَاعِ
"طہارت نماز کی صحت کے لیے شرط ہے کتاب، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔" [الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی 12/1]
فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِكُمْ ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا [سورۃ النساء: 103]
"پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب دستور نماز قائم کرو بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔"
نماز کے شرائط چھ ہیں: طہارت، وقت، ستر، استقبالِ قبلہ، نیت اور تکبیر تحریمہ، یہ جاننا ضروری ہے۔ نماز کے ارکان جیسے قیام، رکوع، سجود، قعدہ اخیرہ وغیرہ۔ نماز کے واجبات جیسے سورۃ فاتحہ پڑھنا، قعدہ اولیٰ وغیرہ۔ نماز کے مفسدات جیسے کھانا پینا، بات کرنا وغیرہ نماز کے مکروہات۔ قضا نماز کے احکام۔ اور سجدہ سہو کے مسائل جاننا ضروری ہے۔
امام ابن عابدین رحمہ اللہ نے فرمایا:
يَجِبُ تَعَلُّمُ أَحْكَامِ الصَّلَاةِ مِنْ فَرَائِضِهَا وَوَاجِبَاتِهَا وَمُفْسِدَاتِهَا عَلَى كُلِّ مُكَلَّفٍ
"ہر مکلف پر نماز کے فرائض، واجبات اور مفسدات کا علم سیکھنا واجب ہے۔" [ردالمحتار علی الدر المختار: جلد 1 / 372 مطبوعہ دار الفکر بیروت]
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ [سورۃ البقرہ: 183]
"اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمھیں پرہیزگاری ملے۔"
روزے کی نیت اور اس کے شرعی حکم سے واقفیت ضروری ہے۔ روزہ توڑنے والی چیزیں، جیسے کھانا پینا اور جماع، واضح طور پر معلوم ہونی چاہئیں۔ روزے کی قضا اور کفارہ کے احکام سے آگاہی بھی لازم ہے۔ اسی طرح روزے کے مکروہات، جیسے بلاضرورت کسی چیز کو چکھنا، سے پرہیز کا شعور ہونا چاہیے۔ نیز مریض اور مسافر کے لیے دی گئی رخصتوں اور ان کے احکام سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔
امام کاسانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَالِغٍ عَاقِلٍ تَعَلُّمُ أَحْكَامِ الصَّوْمِ قَبْلَ دُخُولِ رَمَضَانَ
"ہر بالغ عاقل مسلمان پر رمضان سے پہلے روزے کے احکام سیکھنا واجب ہے۔" [بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: 85/2، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت]
وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ [سورۃ البقرہ: 43]
"اور نماز قائم رکھو اور زکات دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔"
نصاب کی مقدار، سونے میں ساڑھے سات تولہ اور چاندی میں ساڑھے باون تولہ، سے واقفیت ضروری ہے۔ زکات کی شرح، جو چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد ہے، واضح طور پر معلوم ہونی چاہیے۔ زکات کے مستحقین، جیسے فقیر، مسکین اور دیگر آٹھ مصارف، کی پہچان بھی ضروری ہے۔ زکات کے اموال، مثلاً سونا، چاندی، نقد رقم اور مالِ تجارت، کے احکام سے آگاہی لازم ہے۔ نیز سال پورا ہونے، یعنی حولانِ حول، کے حکم کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے: ”جس شخص کے پاس نصاب کے برابر مال ہو اس پر زکات کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے۔“ [فتاوی رضویہ: جلد 10، صفحہ 92، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور]
فِيْهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِيْمَ ۬ۚ وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا ؕ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ [سورۃ آل عمران: 97]
"اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو اس میں آئے امان میں ہو اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے۔"
حج کے فرائض، جیسے احرام، وقوفِ عرفہ اور طوافِ زیارت، سے واقفیت ضروری ہے۔ حج کے واجبات، مثلاً وقوفِ مزدلفہ، سعی اور رمی وغیرہ، کا علم بھی لازم ہے۔ احرام کی ممنوعات، جیسے خوشبو، سلا ہوا لباس اور شکار وغیرہ، سے پرہیز کے لیے ان کے احکام معلوم ہونا چاہیے۔ دم اور جزا کے مسائل سے آگاہی بھی ضروری ہے۔ اسی طرح حج کی اقسام، یعنی افراد، قران اور تمتع، کی سمجھ رکھنا بھی لازم ہے۔
