Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: اول)|فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: اول)
عنوان: امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: اول)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: اول)

عربی زبان ایک تعارف

عربی زبان سامی زبانوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ زبان ہے۔ چنانچہ جرجی زیدان لکھتے ہیں:

”اَللُّغَةُ الْعَرَبِيَّةُ، هِيَ إِحْدَى اللُّغَاتِ السَّامِيَّةِ“

پھر آگے تحریر کرتے ہیں:

”وَالْعَرَبِيَّةُ أَرْقَاهَا جَمِيعًا“ [آداب اللغة العربية لجرجى زيدان، ج: 1، ص: 35]

اور مارون عبود لکھتے ہیں:

”لُغَةُ الْعَرَبِ أَصْلُهَا: إِحْدَى اللُّغَاتِ السَّامِيَّةِ“ [آداب العرب لمارون عبود، ص: 21، دار الثقافة، بیروت]

اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے چونکہ مختلف قبائل کے لوگ، جزیرہ عرب کے مختلف مقامات و مساکن میں قیام پذیر ہو گئے، اس لیے اس زبان کے لہجے بھی بہت زیادہ ہو گئے لیکن جزیرہ عرب کے تمام لہجوں پر قریش کے لہجے کو غلبہ حاصل ہوا۔ اور اسی کا زیادہ رواج ہو گیا اس لیے کہ اسی لہجے میں عربی زبان کو قرآن کی زبان ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہی ادب (نثر و نظم) کی زبان اور سیاست و تمدن اور علم جدید کی زبان رہی۔

دین کی زبان ہونے کی وجہ سے جیسے جیسے اسلام کا دائرہ وسیع ہوتا رہا ویسے ہی اس زبان میں بھی وسعت ہوتی رہی اس لیے کہ اسلام اور اسلامی حکومتوں نے مختلف قوموں اور امتوں کو اپنے دائرے میں لے لیا جس میں عربی، فارسی، ترکی، ہندی، شامی، عراقی، مصری، رومی، ارمنی، بربری، حبشی، سلاوی، وغیرہ شامل ہیں۔ جنہوں نے عربی زبان و اخلاق کو اختیار کرتے ہوئے عربی اشعار کہے، مختلف علوم و فنون میں عربی کتابیں تالیف کیں اور اپنی اصلی زبان کے بہت سے اسلوب غیر ارادی طور پر شامل کر دیے اس لیے دنیا کی سب سے زیادہ وسیع اور مالدار زبان بن گئی۔ اس زبان میں مترادفات اور مشترک الفاظ جس کثرت سے پائے جاتے ہیں دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں پائے جاتے چنانچہ جرجی زیدان نے “تاریخ آداب اللغة العربية” میں لکھا ہے کہ سن کے لیے 24، نور کے لیے 21، تاریکی کے لیے 52، سورج کے لیے 29، بادل کے لیے 50، بارش کے لیے 64، کنوئیں کے لیے 88، پانی کے لیے 170، دودھ کے لیے 13، اور اسی کے مثل شہد کے لیے، شراب کے لیے 100، شیر کے لیے 350، سانپ کے لیے 100، اور اسی کے مثل اونٹ کے لیے بھی، اونٹنی کے لیے 255 نام ہیں۔ حتیٰ کہ صفتوں کے لیے بھی مترادفات کا کثرت سے استعمال ہے۔ مثلاً طویل (لمبے) کے لیے 91، اور قصیر (پستہ قد) کے لیے 160 ہیں۔ اسی طرح بہادر، سخی اور بخیل کے لیے بہت سے الفاظ ہیں۔ اسی تاریخ آداب اللغة العربية میں ایک لفظ کے متعدد معانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی لفظ کے 3، کسی کے 4، کسی کے 5، کسی کے 25 اور اس سے زیادہ بھی معانی ہیں۔ مثلاً “الخال” کے 27، لفظ عین کے 35، اور لفظ “العجوز” کے 60 معانی ہیں۔

ادب

ادب کا لغوی معنی کسی کا اپنے آپ کو محاسن اخلاق سے مزین کرنا ہے۔ چنانچہ “المعجم الوسیط” میں ہے:

”اَلْأَدَبُ رِيَاضَةُ النَّفْسِ بِالتَّعْلِيمِ وَالتَّهْذِيبِ عَلَى مَا يَنْبَغِي“

(تعلیم و تہذیب کے ذریعہ نفس کو مناسب باتوں سے مزین کرنا) اسی معنی میں حدیث شریف میں بھی یہ لفظ آیا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

”مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ“ [رواہ الترمذی والبیہقی فی شعب الایمان، رقم الحدیث: 4988]

(کسی باپ نے اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا) اور اسی معنی میں حدیث:

”أَدَّبَنِي رَبِّي فَأَحْسَنَ تَأْدِيبِي“ [المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشہورۃ علی الالسنۃ، رقم الحدیث: 45]

(میرے رب نے مجھے تعلیم دی تو اچھی تعلیم دی) میں بھی آیا ہے لیکن صدیوں بعد یہ لفظ ایسے کلام کے لیے خواہ وہ نظم ہو یا نثر استعمال ہونے لگا، جو الفاظ کی چاشنی کے ساتھ ایسے عمدہ معانی اور اچھے اخلاق کا حامل ہو جو نفس کو مہذب کرے اور دلوں کو اپنی طرف مائل کرے۔

ادب میں بہت سے علوم شامل ہیں چنانچہ المعجم الوسیط میں ہے:

”عُلُومُ الْأَدَبِ عِنْدَ الْمُتَقَدِّمِينَ تَشْتَمِلُ: اللُّغَةَ وَالصَّرْفَ وَالِاشْتِقَاقَ وَالنَّحْوَ وَالْمَعَانِيَ وَالْبَيَانَ وَالْبَدِيعَ وَالْعَرُوضَ وَالْقَافِيَةَ وَالْخَطَّ وَالْإِنْشَاءَ وَالْمُحَاضَرَاتِ“

عربی زبان و ادب کو سمجھنے کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اتنی وسیع اور مالدار زبان کا سیکھنا آسان نہیں ہے، اس لیے کہ اس کے اصول و ضوابط، قواعد و قوانین دیگر زبانوں کی بنسبت زیادہ اور مشکل ہیں۔ اسی لیے عام طور سے غیر عربی کے لیے اس کے قواعد و قوانین کو سیکھنے، سمجھنے، پڑھنے، اور بولنے کے لیے ایک طویل مدت درکار ہوتی ہے پھر بھی کافی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کوشش کے باوجود کما حقہ نہ عربی سمجھتے ہیں اور نہ بولتے ہیں، کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذہانت و فطانت اور فطری صلاحیت و رغبت کی وجہ سے بہت جلد اس زبان میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔

امام احمد رضا کی عربی زبان میں مہارت

انہیں لوگوں میں سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی ذات گرامی ہے جنہوں نے اپنی ذہانت و فطانت، خداداد فطری صلاحیت، قلبی میلان اور والد ماجد کی خاص توجہ سے عربی زبان و ادب کے اصول و فروع میں ایسا کمال اور درک حاصل کر لیا جس کی کوئی نظیر اور مثال نظر نہیں آتی۔

بغیر کسی تکلف کے عربی بولتے، لکھتے اور پڑھتے تھے۔ نحو، صرف، معانی و بیان، صنائع و بدائع، عروض و قافیہ وغیرہ کے قواعد و قوانین اور وہ مسائل مستحضر رہا کرتے تھے جن سے عام طور پر لوگ واقف نہیں اور ضرورت پڑنے پر بلا کسی کتاب کی ورق گردانی کیے کتابوں کا حوالہ پیش فرماتے تھے محاورات و امثال کا برمحل مناسب استعمال فرماتے جو فصاحت بیان اور بلاغت کلام کی بنیاد ہے اور اس زبان کے اسلوبِ بیان پر عبور و مہارت کی دلیل ہے۔ آپ نے حضرت سیف اللہ المسلول فضل رسول علیہ الرحمہ والرضوان کی شان میں جو قصیدے کہے جن کا تاریخی نام “حمائد فضل الرسول” اور “مدایح فضل الرسول” ہے جن کو “قصیدتان رائعتان” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے حاشیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عربی زبان و ادب کے وہ قواعد و قوانین اور اسرار و رموز آپ کے پیش نظر رہا کرتے تھے، جن تک عام طور سے لوگوں کی نگاہیں نہیں پہنچتیں، مثلاً وہ فرماتے ہیں:

وَقَى حُرَّ وَجْهِي مَنْ لَظَاهَا بِالَّذِي
نَبَعَ الزُّلَالُ بِكَفِّهِ الْمُزْدَانِ

اس شعر کے پہلے مصرع میں ”حر وجھی“ کا استعمال لغت پر گہری نظر کی دلیل ہے، عام طور سے لوگ حر کا معنی آزاد اور شریف کے جانتے ہیں لیکن جن کی نگاہ لغت پر گہری ہوتی ہے وہ جانتے ہیں کہ حر کی اضافت جب وجہ کی طرف ہوتی ہے تو رخسار کے معنی میں ہوتا ہے اسی لیے آپ نے حر وجھی فرمایا، دوسرے مصرع میں لفظ کف (ہتھیلی) مؤنث ہے جو موصوف ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ موصوف کے مطابق صفت لائی جاتی ہے لیکن یہاں بظاہر مطابقت نظر نہیں آتی اس لیے کہ اس کی صفت المزدان مذکر ہے اس لیے اس شبہ اور اعتراض کو دور کرنے کے لیے آپ نے حاشیہ میں فرمایا:

”اِكْتَسَبَتِ التَّذْكِيرَ مِنَ الْمُضَافِ إِلَيْهِ كَالْسُّورِ اُكْتَسِبَتِ التَّأْنِيثَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي قَوْلِهِ لَمَّا أَتَى خَبَرُ الزُّبَيْرِ تَوَاضَعَتْ سُورُ الْمَدِينَةِ وَالْجِبَالُ الْخُشَّعُ، قَالَهُ صَاحِبُ غَايَةِ التَّحْقِيقِ.“

یعنی "بکفہ" میں "ہ" ضمیر مذکر ہے جو "الذی" کی طرف لوٹ رہی ہے، اس ضمیر سے "کف" نے تذكير حاصل کی ہے جس طرح شعر مذکر ہے سور مذکر ہے مگر اپنے مضاف الیہ المدینۃ سے تانیث حاصل کی ہے جس کی وجہ سے تواضعت مؤنث کا صیغہ لایا گیا اور یہ بات صاحب غایۃ التحقیق نے بیان فرمائی ہے۔

اور فرماتے ہیں:

أَبْدَلَهُمَا دَارًا وَجَارًا خَيْرًا
مِنْ هَؤُلَاءِ الدُّورِ وَالْجِيرَانِ

پہلے مصرع میں دارا وجارا دونوں کی صفت "خیرا" واحد ہے اس لیے بظاہر مطابقت معلوم نہیں ہوتی ہے، مطابقت اس وقت ہوتی ہے جب "خیران" ہوتا، اس اعتراض کو دفع کرنے کے لیے حاشیہ میں فرماتے ہیں: ”خَيْرِيَّةُ الدَّارِ وَالْجَارِ مُتَلَازِمَانِ فِي الْآخِرَةِ فَوَصْفُ أَحَدِهِمَا أَغْنَى عَنْ وَصْفِ الْآخَرِ“ (دار آخرت میں گھر اور پڑوسی کا اچھا ہونا لازم و ملزوم ہے یعنی گھر اچھا ہوگا تو پڑوسی بھی اچھا ہوگا اور پڑوسی اچھا ہوگا تو گھر بھی اچھا ہوگا اس لیے ان میں ایک کی صفت لانے نے دوسرے کی صفت سے بے نیاز کر دیا) اور مصرع ثانی میں "هؤلاء" اسم اشارہ ہے اور اس کا مشارالیہ "الدور والجيران" غیر ذوی العقول ہیں اور "هؤلاء" سے ذوی العقول کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یہاں ”ہٰؤلآءِ“ کا استعمال کیسے درست ہوگا؟ اس کا جواب حاشیہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

”أُولَاءِ رُبَّمَا يُشَارُ بِهَا إِلَى غَيْرِ ذَوِي الْعُقُولِ، قَالَ تَعَالَى: إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا، قَالَهُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْجَوْهَرِيُّ.“ [سورۃ الإسراء: 36]

(اولاء کے ذریعہ کبھی غیر ذوی العقول کی طرف بھی اشارہ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”ان السمع والبصر والفؤاد كل اولئک كان عنه مسئولا“ میں السمع والبصر والفؤاد غیر ذوی العقول ہیں، ان کی طرف اولئک سے اشارہ کیا گیا ہے، یہ بات ابو اسماعیل جوہری نے کہی ہے)

تشییب کے اشعار میں ایک شعر میں فرماتے ہیں:

مَا مَضْمَضَتْ عَيْنِي بِنَوْمٍ مُذْ مَضَتْ
وَكَذَلِكَ كُلُّ مُفَارِقِ الْخِلَّانِ

پہلے مصرع میں مضمضت کا لفظ آنکھ کے لیے استعمال کیا ہے، حالاں کہ کلی منہ سے ہوتی ہے آنکھ سے نہیں ہوتی، اس کی وجہ حاشیہ میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اَلْمَضْمَضَةُ أَصْلُهَا لِلْفَمِ لَكِنَّهَا تَقُولُهَا الْعَرَبُ إِذَا أَرَادُوا الْمُبَالَغَةَ فِي نَفْيِ النَّوْمِ“ (مضمضہ کا لفظ اصل میں منہ سے کلی کرنے کے لیے آتا ہے، لیکن عرب نیند کے نہ آنے میں مبالغہ کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کا استعمال آنکھ کے لیے کرتے ہیں)

مذکورہ مثالوں سے معلوم ہوا کہ لغت کے مفردات ان کے طریقۂ استعمال نحوی باریکیوں پر کیسی گہری نظر تھی اس لیے سیدنا اعلیٰ حضرت کی کسی عبارت میں بظاہر خلافِ قانون کوئی بات نظر آئے تو اس کی تہ تک اس کی گیرائی اور گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے فوراً بلا تامل و تفکر خلافِ قانون کا حکم نہیں لگانا چاہیے، تاج الفحول اکیڈمی بدایوں سے شائع ہونے والے ”قصیدتان رائعتان“ کے ترجمہ و تشریح میں فاضل مترجم مولانا عاصم اقبال مجیدی بدایونی نے ڈاکٹر رشید عبدالرحمن بغدادی کے حوالے سے کچھ کلمات کے خلاف قانون ہونے کا اظہار کیا ہے حالانکہ وہ قانون کے خلاف قطعاً نہیں ہیں۔ مثلاً:-

مَا لِي وَلِلْغَزَلِ الْمُهَيِّجِ فَلَا أَكُنْ
غَزِلًا وَلَمْ أَرْتَعِ الْغِزْلَانِ

کے پہلے مصرع میں فلا اکن کے بارے میں مترجم لکھتے ہیں ”اصل نسخے میں مصرعِ اول میں فلا اکن لکھا ہے، یہاں شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ”لا“ کے بعد فعل مضارع کو جزم کیوں دے دیا گیا؟ ڈاکٹر رشید عبیدی کو بھی یہ شبہ پیدا ہوا، انہوں نے فلا اکن کی جگہ ولم اکن کر دیا ہے۔ بہ نظرِ ظاہر یہی اصح معلوم ہوتا ہے۔“

میں کہتا ہوں کہ سیدنا اعلیٰ حضرت جو نسخہ لے کر بدایوں شریف تشریف لے گئے تھے وہ آپ ہی کے دستِ مبارک کا لکھا ہوا نسخہ ہے غور و فکر کرنا چاہیے تھا کہ فلا اکن مجزوم فعل کیوں استعمال فرمایا اگر ذرا بھی غور و فکر کرتے تو بات سمجھ میں آ جاتی کہ جملہ انشائیہ کا جملہ خبریہ کے معنی میں اور جملہ خبریہ کا جملہ انشائیہ کے معنی میں استعمال شائع و ذائع ہے یہاں فعل مجزوم اس لیے ہے کہ لا اکن فعلِ نہی واحد متکلم کا صیغہ ہے خبر کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو تاکید اور مبالغہ کا فائدہ دے رہا ہے۔

اسی طرح:-

يَا أَثِيمُ فَقَدْ أَظَلَّ زَمَانَةٌ
يُمْحَى بِهَا جَمٌّ مِنَ الْعِصْيَانِ

اس میں أظلّ زمانہ کے بارے میں مترجم صاحب نے لکھا ہے ”اصل نسخے میں واضح طور پر مصرعِ اول میں زمانہ لکھا ہے، ہم نے بھی وہی درج کر کے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے اس پر شبہ ہو سکتا ہے کہ جب زمانہ مؤنث ہے تو فعل أظلّ کیوں آیا أظلّت آنا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر رشید عبیدی نے غالباً اسی شبہ سے بچنے کے لیے اس کو ’زمانہ‘ لکھا ہے“۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ اتنی واضح بات نہ مترجم صاحب کو سمجھ میں آئی نہ ڈاکٹر رشید عبیدی صاحب کو حالانکہ نحو میر میں جمع مکسر جو واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے اور مؤنث غیر حقیقی کے لیے دونوں طرح کا فعل استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ قال العلماء اور قالت العلماء اور طلع الشمس اور طلعت الشمس کو مثال میں پیش کیا گیا ہے اور قرآن مجید میں تو مؤنث حقیقی کے لیے مذکر فعل کا ذکر ہے چنانچہ سورہ یوسف میں "قال نسوۃ" ارشاد ہے، اس لیے "اظل زمانۃ" بالکل صحیح اور بے غبار جملہ ہے۔

آپ کی عربی دانی میں مہارت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ مانوس اور غیر مانوس الفاظ میں تمیز کرنے میں دیر نہیں لگتی چنانچہ ماہر رضویات حضرت مولانا عبدالحکیم صاحب شرف قادری علیہ الرحمہ نے فتاویٰ رضویہ کی پہلی جلد کے "کلمات آغاز" میں اس کی ایک مثال پیش کی ہے وہ ارشاد فرماتے ہیں 'علامہ شامی علیہ الرحمہ نے لفظ "طف" بہ معنی پڑنے کے معنی میں استعمال کیا اور فرمایا:

”حَتَّى طَفَّ مِنْ جَوَانِبِهَا“

اس پر امام احمد رضا بریلوی نے فرمایا: مجھے یہ فعل اور مصدر، صحاح، صراح، قاموس، تاج العروس، مفردات، نہایہ، درنثیر، مجمع البحار اور مصباح میں نہیں ملا، ہاں قاموس میں صرف اتنا ہے:

”طَفَّ الْمَكُوكُ وَالْإِنَاءُ وَطَفَّفَهُ وَطَفَافُهُ“

وہ چیز جو اس برتن کے کناروں کو بھر دے''

پھر مولانا موصوف اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"امام احمد رضا بریلوی کو عربی زبان پر اس قدر عبور تھا کہ ایک نامانوس لفظ کو دیکھتے ہی اسے غریب سمجھا اور اس کی غرابت پر لغات کی دس مستند کتابوں کا حوالہ پیش کیا ان مآخذ میں عربی لغات بھی ہیں اور لغات حدیث بھی"۔

اور یہ معلوم ہے کہ سیدنا اعلیٰ حضرت کو ہم لوگوں کی طرح کسی لفظ کے معنی اور اس کے طریقہ استعمال کے لیے بار بار لغات کی کتابوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑا کرتی تھی، جس طرح احادیث کریمہ کے الفاظ ان کے رواۃ اور تخریجات مستحضر رہا کرتی تھیں اسی طرح لغات و مفردات مستحضر رہا کرتے تھے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!