Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور اسرائیلیات (قسط: چہارم)مولانا کمال احمد علیمی نظامی

امام احمد رضا اور اسرائیلیات (قسط: چہارم)
عنوان: امام احمد رضا اور اسرائیلیات (قسط: چہارم)
تحریر: مولانا کمال احمد علیمی نظامی (جمدا شاہی، یوپی)
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

امام احمد رضا کے نزدیک مقبول اسرائیلی روایات

اسرائیلیات کے حوالے سے امام اہل سنت کا مزاج یہ تھا کہ جو روایات قرآن و سنت کے مسلمہ اصولوں اور انبیاء علیہم السلام کی عصمت و شان کے خلاف نہ ہوں اور ان کی تائید آثارِ سلف یا کتبِ معتبرہ سے ہوتی ہو، انہیں قبول کرنے میں آپ کو کوئی تامل نہ تھا۔ اس ضمن میں چند اہم مثالیں درج ذیل ہیں:

1. استغفارِ آدم علیہ السلام

حضرت آدم علیہ السلام کا بارگاہِ الہی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے استغفار کرنا ایک مشہور روایت ہے۔ اگرچہ بعض معاصرین نے اسے موضوع قرار دیا، مگر امام اہل سنت نے اسے تلقی بالقبول اور اسنادِ معتبرہ کی بنیاد پر صحیح تسلیم کیا:

“طبرانی معجم کبیر میں، حاکم بافادۂ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں امیر المومنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لغزش واقع ہوئی عرض کی: یا رب! میں تجھے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما۔ ارشاد ہوا: اے آدم! تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیوں کر پہچانا حالاں کہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا؟ عرض کی: الٰہی! جب تو نے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ... فرمایا: اے آدم! تو نے سچ کہا، بیشک وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے اور جب تو نے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لیے مغفرت فرمائی، اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 633]

2. حضرت ادریس علیہ السلام کا واقعہ

حضرت ادریس علیہ السلام کے رفعِ مکانی اور جنت کی سیر و قیام کے قصے کو امام اہل سنت نے الملفوظ میں نقل فرمایا ہے اور اس پر کوئی نقد نہیں کیا، جو اس کے قبولِ علمی کی دلیل ہے۔

“آپ کے واقعہ میں علما کو اختلاف ہے، اتنا تو ایمان ہے کہ آپ آسمان پر تشریف فرما ہیں۔ قرآنِ عظیم میں ہے: وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا۔ (ہم نے ان کو بلند مقام پر اٹھا لیا)۔ روایات میں ہے کہ آپ نے عزرائیل علیہ السلام کے واسطے سے جنت و دوزخ کی سیر فرمائی... عزرائیل علیہ السلام نے جب آپ کو جنت سے واپس چلنے کو کہا تو آپ نے فرمایا: اب چلنا کیسا؟ جنت میں آ کر بھی کوئی واپس جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا: میرا بندہ ادریس سچا ہے، اس کو چھوڑ دو۔” [الملفوظ، ج: 4، ص: 41، 42]

مفسرین کے اقوال اور معراج النبی کی احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام چوتھے آسمان پر باحیات ہیں، لہذا اسے محض اسرائیلی خرافات قرار دینا درست نہیں۔

3. کوہِ قاف اور زلزلہ کا سبب

زلزلہ آنے کے ظاہری اسباب (جیسے بخارات کا اخراج) کے باوجود، امام احمد رضا اس کی اصلی وجہ 'کوہِ قاف' کے ریشوں کی جنبش کو قرار دیتے ہیں، جسے امام ابن ابی الدنیا نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:

“حق سبحانہ و تعالیٰ نے تمام زمین کو محیط ایک پہاڑ پیدا کیا ہے جس کا نام قاف ہے۔ کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اس کے ریشے زمین میں نہ پھیلے ہوں۔ جس جگہ زلزلہ کے لیے ارادۂ الٰہی ہوتا ہے، قاف کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے وہاں کے ریشے کو جنبش دے۔ صرف وہیں زلزلہ آئے گا جہاں کے ریشے کو حرکت دی گئی۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 27، ص: 96]

امام اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی جلیل القدر صحابی (جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما) کسی ایسی بات کی روایت کرے جو عقلی و نقلی اصولوں سے متصادم نہ ہو، تو وہ مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔ جدید جغرافیائی تحقیق (کوہِ قفقاز کا سلسلہ) بھی اس کے وجود کی تائید میں ایک اشارہ ہو سکتی ہے۔

خلاصۂ کلام: امام احمد رضا خان بریلوی کا اسرائیلیات کے تئیں رویہ نہایت محتاط اور علمی تھا۔ آپ نے تحقیق و تنقید کے ان پیمانوں کو اپنایا جو علمائے اہل سنت کے مسلک کا خاصہ ہیں۔ آپ کے نزدیک اسرائیلی روایات کا 'منبع' ہونا بذاتِ خود اس کے رد کے لیے کافی نہیں، بلکہ ان کا 'مضمون' معیارِ حق پر پرکھا جانا ضروری ہے۔ جو روایات شریعت کے مقاصد اور انبیاء کے فضائل و عصمت کے مطابق ہیں، انہیں قبول کرنا نہ صرف جائز بلکہ باعثِ برکت ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!