Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

فتاویٰ و رسائل رضویہ کی خصوصیات (قسط: اوّل)

فتاویٰ و رسائل رضویہ کی خصوصیات (قسط: اوّل)
عنوان: فتاویٰ و رسائل رضویہ کی خصوصیات (قسط: اوّل)
تحریر: مولانا مفتی محمد کمال الدین مصباحی اشرفی (اتر دیناج پور، بنگال)
پیش کش: عائشہ صدیقہ بنت مجیب احمد
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

فقہائے کرام کے طبقات اور ان کے مقام و مرتبہ جاننے کے بعد اگر آپ مجدّدِ اسلام امام احمد رضا قدس سرہٗ کا طبقاتِ فقہاء کی روشنی میں جائزہ لیں گے اور ان کے فقہی مقام و مرتبہ کا تعین کریں گے تو آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگا کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ کی ذاتِ والا صفات میں بہت سی مجتہدانہ خصوصیات پائی جاتی ہیں اور آپ کے بیان و استدلال میں واضح طور پر اجتہاد کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مجتہدین فقہاء کی الگ الگ خوبیاں آپ کی ذات میں تنہا جمع نظر آتی ہیں اور آپ شانِ فقاہت کے مختلف رنگوں میں رنگے ہوئے ایک عدیم المثال، جید و عبقری فقیہ و مجتہد کی گوناگوں اوصاف و کمالات آپ کے اندر بدرجۂ اتم موجود ہیں اور آپ ان سب کے جامعِ کامل ہیں۔ چنانچہ جب قواعدِ شریعہ کے وضع کے لحاظ سے آپ کی ذات کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کے اندر ”مجتہدین فی الشرع“ جیسے ائمہ اربعہ کی جھلک پائی جاتی ہے، غیر منصوص احکام کو حضرتِ اِمام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے قواعد کی روشنی میں استنباط و استخراج کے اعتبار سے جب آپ کے فقہی مقام پر غور کرتے ہیں تو آپ کے اندر ”مجتہدین فی المسائل“ جیسے امام طحاوی اور خصاف وغیرہ کی صفتیں ملتی ہیں اور آپ ”مجتہدین فی المسائل“ کے طبقے میں نظر آتے ہیں۔ مسائلِ شرعیہ کی تفصیل کی حیثیت سے جب آپ کے فتاویٰ کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ امام رازی جیسے فقہاء کی صف میں نظر آتے ہیں اور جب مختلف اقوال و روایات کے درمیان تطبیق یا ترجیح کی نظر سے دیکھتے ہیں تو آپ ”امام ابوالحسن قدُوری“ جیسے فقہائے کرام کی صف میں نظر آتے ہیں۔

یہ ساری تو آپ کی فقہی بصیرت کی گوناگوں خوبیاں ہیں، لیکن تمام اربابِ علم و دانش و اصحابِ فقہ و افتاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ کے اندر فقہائے احناف کا تیسرا طبقہ یعنی 'مجتہدین فی المسائل' کے تمام شرائط و خصوصیات پائی جاتی ہیں، جن کے بے شمار شواہد فتاویٰ رضویہ کے اندر جابجا موجود ہیں۔ آپ کے دور میں جو جدید اور نئے حوادث و مسائل پیدا ہوئے جن کے بارے میں حضرت سیّدنا امام اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے کوئی روایت منقول نہیں تھی، آپ نے اپنی خداداد ذہانت و فطانت اور لاجواب فقہی اصول و فروع میں حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی اتباع سے ان تمام مسائلِ جدیدہ کے احکام کا استخراج و استنباط کیا۔ اس کی بے شمار مثالیں آپ کے فتاویٰ کے اندر موجود ہیں جن کا ذکر ان شاء اللّٰہ تعالیٰ آگے چل کر غیر منصوص احکام کے استنباط کے حوالے سے ہم اپنے مقالے میں کریں گے۔

کُتبِ فتاویٰ میں ”فتاویٰ رضویہ“ کا فقہی مقام

فتاویٰ رضویہ علمی و فقہی اداروں میں فقہِ حنفی کی ایک قابلِ اعتماد کتاب اور کُتبِ فتاویٰ میں نہایت ہی معتبر و مستند کتاب کی حیثیت سے مشہور و متعارف ہے۔ اربابِ فقہ و افتاء کے مابین اس کی حیثیت ماخذ و مصدر اور مرجع کی ہے۔ اہلِ علم کے درمیان جو بات فتاویٰ رضویہ کے حوالے سے کی جاتی ہے وہ قولِ فیصل اور حرفِ آخر کی حیثیت سے تسلیم کی جاتی ہے اور فتاویٰ رضویہ کی تحقیق کے خلاف دیگر تحقیقات کو مردود و مسترد تصور کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں ضروری ہے کہ فتاویٰ رضویہ کی حیثیت فقہائے احناف کی فقہی کتابوں کے درمیان کیا ہے؟ اس کی معرفت حاصل کی جائے تاکہ اس کی روشنی میں ان کے فتاویٰ کی قدر و قیمت کا اندازہ لگا سکیں، اور اس کے معیار کا بھی پتہ چل سکے۔

مقام و مرتبہ کے لحاظ سے اگر فتاویٰ رضویہ کے تحقیقی فتاویٰ پر غائرانہ نظر ڈالی جائے تو حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ فقہِ حنفی کی مستند کتابوں میں فتاویٰ رضویہ کی حیثیت صرف فتاویٰ کی ہی نہیں بلکہ شروح کی بھی ہے۔ اس بات کا اندازہ کوئی محقق ہی امام احمد رضا قدس سرہٗ کے فتاویٰ کے تحقیقی جائزے کی روشنی میں لگا سکتا ہے، تاہم زیادہ تفصیل میں نہ جاکر خود امام احمد رضا قدس سرہٗ کی زبانی، آپ کا مجموعہ فتاویٰ، فتاویٰ رضویہ کا فقہی مقام پیش کرتے ہیں تاکہ میرے دعوے کی تصدیق خود امام احمد رضا قدس سرہٗ کی تحریر سے ہو جائے اور اس میں کسی کو کوئی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ چنانچہ آپ فقہِ حنفی کی کتابوں کے مقام و مرتبہ کی تائید نیز متون و شروح اور فتاویٰ کا ذکر کرنے کے بعد فتاویٰ رضویہ کی معروضات میں یوں رقم طراز ہیں:

”ان میں جو چھان بین تنقیح و تصحیح پر مبنی ہوں وہ میرے نزدیک شروح کا درجہ رکھتے ہیں جیسے فتاویٰ خيريه والعقود الدريه للعلامة الشامى واطمع أن يسلك ربي بمنه و كرمه فتاواى هذه في سلكها فللارض من كاس الكرام نصيب، اور مجھے پوری اُمّید ہے کہ میرا رب اپنے احسان و کرم سے میرے ان فتاویٰ (العطایا النبويه في الفتاویٰ الرضويه) کو انہی کے زمرے میں شامل فرما لے گا کہ اہلِ کرم کے جام سے زمین کو بھی حصہ مل جاتا ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج: 1، ص: 510)

فقہ و افتاء میں امام احمد رضا کا امتیازی مقام

دنیائے اسلام میں ایسی شخصیتوں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنے علم و فضل اور عقل و بصیرت سے ساری دنیا کو مستفیض و متحیر کیا۔ حکیم بو علی سینا، عمر خیام، اِمام رازی، اِمام غزالی اور فارابی وغیرہ دنیائے علم و فن کی وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے علمی کارناموں پر رہتی دنیا تک فخر کیا جائے گا۔ ان میں کوئی حکمت و فلسفہ کا امام ہے، کوئی ریاضی و ہیئت کا، کوئی منطق و جغرافیہ کا، لیکن ان سب سے زیادہ حیرت انگیز شخصیت وہ ہے جو ہندوستان کی مردم خیز سرزمین میں پیدا ہوئی جنہیں دنیائے اہلِ سنت فقہِ اسلام، مجدّدِ اعظم، امام اہلِ سنت امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔

امام احمد رضا قدس سرہٗ کی شخصیت ایسی پہلو دار اور جامعِ علوم و فنون ہے کہ ان کی ذات کے کسی ایک پہلو اور ان کے علوم و فنون میں سے کسی ایک فن پر سیر حاصل بحث کے لیے اس فن کا ماہر ہی اس سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے اور کما حقّہ بحث کر سکتا ہے۔ اِمام احمد رضا قدس سرہٗ کے تمام علمی کمالات کا جائزہ لینا ہمارے علم اور دائرۂ فکر سے باہر ہے، یہاں پر ہم صرف فقہ و افتاء کے حوالے سے امام احمد رضا کا امتیازی مقام صرف ان کا مجموعہ فتاویٰ ”العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ“ کی روشنی میں بیان کرنے کی سعادت حاصل کریں گے، جس سے یہ بخوبی ظاہر ہوگا کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ فقہ و افتاء کے کس اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور میدانِ تحقیق و افتاء میں آپ کو کیا امتیازی مقام حاصل تھا۔

امام احمد رضا قدس سرہٗ کے مجموعہ فتاویٰ کا جائزہ لینے کے بعد ہر وہ شخص جس نے مشہور فقہائے کرام کی تصانیف کا مطالعہ کیا ہوگا وہ اس نتیجے پر باآسانی پہنچ سکتا ہے کہ امام ابنِ ہمام کی شانِ درایت اور رنگِ اجتہاد سے مزیّن فکر جو ان کی خصوصیت تھی، ان کے بعد صرف امام احمد رضا قدس سرہٗ کو نصیب ہوئی، اور مسائل کی تنقیح و توضیح کی جملہ متداول کتابوں پر نظر رکھتے ہوئے جو علامہ اجل ابنِ عابدین شامی کی ایک مسلّمہ خصوصیت تھی وہ بھی آپ ہی کے حق میں مقدّر ہوئی۔ گویا کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ کی ذات میں بیک وقت ابنِ ہمام کی خصوصیات بھی تھیں اور علامہ ابنِ عابدین شامی کی بھی۔

امام احمد رضا قدس سرہٗ جس مسئلہ پر بھی قلم اٹھاتے تھے خواہ وہ کلیہ ہو یا جزئیہ، تو اس کے ہر ایک پہلو پر تنقید و تحقیق کر کے اس سے متعلق ہر ممکنہ رخ اور صورت کو پیش فرماتے تھے، اس کے بعد ہی اس کے جواز یا عدم جواز یا استحباب کا حکم صادر فرماتے تھے۔ یہ ایک ایسی خوبی ہے جو ان کے ہم عصر دیگر فقہاء میں نظر نہیں آتی۔ بالخصوص وہ تعمقِ فکر، جودتِ طبع اور ذہنِ رسا کے ساتھ ساتھ علومِ قرآن، علومِ تفسیرِ حدیث اور اصولِ حدیث پر کمال و دسترس کے حوالے سے بھی وہ منفرد نظر آتے ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ علومِ منقولات پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے، علم کلام، فلسفہ، منطق، ہیئت، فلکیات، طبیعیات وغیرہ علوم پر بھی آپ کو کافی عبور تھا، اس لیے کہ ایک فقیہ اور مفتی کے پاس مختلف النوع مسائل آتے ہیں اگر وہ ان تمام علوم سے بہرہ ور نہیں تو جواب باصواب دینے سے قاصر رہے گا۔ فقہ کی دنیا بہت وسیع ہے اور اس میں جمیع علوم و فنون داخل ہیں اور یہ سب حسبِ ضرورت آپ کو حاصل تھے بلکہ آپ اس میں استادانہ کمال رکھتے تھے۔

ایک فقیہ کے لیے علمِ حدیث میں کامل مہارت و دسترس کا ہونا بے حد ضروری ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ جیسے بے مثال فقیہ تھے ویسے ہی بلند پایہ محدث بھی تھے۔ علمِ حدیث میں آپ کو کافی تبحر حاصل تھا، اور اس فن میں آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ چنانچہ جب آپ سے پوچھا گیا کہ حدیث کی کتابوں میں کون کون سی کتاب پڑھی یا پڑھائی ہے تو آپ نے جواب میں پچاس کتابوں کا ذکر فرمایا۔ (اظہار الحق، ص 24)

امام احمد رضا قدس سرہٗ کو اللہ رب العزت نے وہ ذہانت و فطانت اور علومِ اسلامیہ میں حیرت انگیز مہارت عطا کی تھی کہ آپ نے 14 رمضان المبارک 1282ھ میں صرف پونے چودہ سال کی عمر میں مروجہ علوم و فنون سے فارغ التحصیل ہو کر رضاعت سے متعلق ایک فتویٰ تحریر فرمایا، جسے آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ نے دیکھ کر نہ صرف پسند کیا بلکہ انتہائی مسرت و خوشی کا اظہار کیا اور اسی دن سے فتویٰ نویسی کی عظیم ذمہ داری آپ کے سپرد کر دی۔ آپ نے اس دن سے لے کر تا دمِ اخیر تحقیق و افتاء کی یہ گراں قدر ذمہ داری نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی، اور ایسی کئی تحقیقات کے وہ جواہر پارے لٹائے کہ عالمِ اسلام کے ایک عظیم مفتی اور فقیہِ اسلام کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔ آپ کا وصال 25 صفر المظفر 1340ھ مطابق 1921ء کو ہوا، اس حساب سے اگر دیکھا جائے تو آپ نے اپنی زندگی کا چون (54) سالہ ایک طویل عرصہ فتویٰ نویسی میں وقف کیا۔

امام احمد رضا قدس سرہٗ فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے مختلف علوم و فنون پر تقریباً ایک ہزار تصانیف امتِ مسلمہ کے حوالے کیں اور ہر چیز سے متعلق ان کی دینی رہنمائی فرمائی۔ آپ کی صرف عربی حواشی، شروح اور تصانیف کی تعداد دو سو سے متجاوز ہے۔ علمائے حرمین شریفین آپ کی عربی تصانیف کے منتظر رہتے تھے۔ آپ کی تمام تصانیف میں اس فن سے متعلق علم کا ایک دریا ہے، اس لیے قاری کو اطمینانِ کامل ہو جاتا ہے اور مکمل تشفی و سیرابی حاصل ہوتی ہے۔

علمِ فقہ میں امام احمد رضا فاضلِ بریلوی کی بے شمار تصنیفات ہیں جن میں بعض رسائل ہیں، بعض تحقیقی فتاویٰ ہیں، بعض شروح و حواشی ہیں۔ آپ کے حواشی میں ”جد الممتار علیٰ رد المحتار“ (حاشیہ شامی) جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے، بہت اہم ہے۔ بظاہر یہ حاشیہ ہے لیکن حقیقت میں متن، شرح اور حاشیہ کا مجموعہ ہے۔ اس سے نہ صرف حدیث و فقہ میں بلکہ بکثرت علوم و فنون میں امام احمد رضا کی جلالتِ شان کا اندازہ ہوتا ہے۔ امام احمد رضا قدس سرہٗ فاضلِ بریلوی کی بصیرت کے حوالے سے بے شمار شواہد موجود ہیں جو میرے عنوان پر خامہ فرسائی کے لیے کافی و وافی ہیں، اس لیے یہاں پر ہم صرف امام احمد رضا قدس سرہٗ کے قیمتی فتاویٰ ”العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ“ جو ضخیم بارہ جلدوں میں غیر مترجم اور تیس جلدوں میں مترجم 'فتاویٰ رضویہ' کے نام سے مشہور و متعارف ہے، اس کے حوالے سے امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فقہی تحقیق و افتاء کی بصیرت پر روشنی ڈالنے کی کچھ سعادت حاصل کریں گے۔

فتاویٰ رضویہ امام احمد رضا قدس سرہٗ کا وہ عظیم انسائیکلوپیڈیا ہے کہ جس کے مطالعہ سے بڑے بڑے اہلِ علم و فضل اور اربابِ فقہ و افتاء حیرت زدہ اور انگشت بدنداں ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!