| عنوان: | فتاویٰ و رسائل رضویہ کی خصوصیات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا مفتی محمد کمال الدین مصباحی اشرفی (اتر دیناج پور، بنگال) |
| پیش کش: | عائشہ صدیقہ بنت مجیب احمد |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مارہرہ شریف کے مشہور عالمِ دین سید شاہ اولادِ رسول محمد میاں مارہروی فرماتے ہیں: "اعلیٰ حضرت کو میں ابنِ عابدین پر فوقیت دیتا ہوں کیونکہ جو جامعیت اعلیٰ حضرت کے ہاں ہے، وہ ابنِ عابدین شامی کے ہاں نہیں۔" (مقدمہ امام احمد رضا کی فقہی بصیرت، ص: 24)
صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: "علمِ فقہ میں حضرت ممدوح (امام احمد رضا) کو تبحر و کمال حاصل تھا جس کو عرب و عجم، مشارق و مغارب کے علماء نے گردنیں جھکا کر تسلیم کیا۔ تفصیل تو ان کے فتاویٰ دیکھنے پر موقوف ہے مگر اجمال کے ساتھ دو لفظوں میں یوں سمجھئے کہ موجودہ صدی میں دنیا بھر کا ایک مفتی تھا جس کی طرف تمام عالم کے لوگ حوادث و وقائع میں استفتاء کے لیے رجوع کرتے تھے۔ ایک قلم تھا جو دنیا بھر کے لیے فقہی فیصلے دیتا جا رہا تھا، وہی قلم بدمذہبوں کے جواب میں بھی چلتا اور اہلِ باطل کی تصانیف کا بالغ رد بھی کرتا تھا اور زمانہ بھر کے سوالوں کا جواب بھی دیتا تھا۔"
سید اسماعیل بن خلیل مکی نے آپ کے فتاویٰ کے فقہی عناصر کو دیکھ کر کہا: "ہمارے آقا نے فتاویٰ پر مشتمل ہمیں نمونے کے طور پر چند اوراق عنایت فرمائے، ہمیں اللّٰہ عزشانہٗ سے امید ہے کہ ان کی تکمیل کے لیے آپ کے اوقات میں آسانی اور جلدی کے مواقع عطا فرمائے گا، چونکہ وہ خالص علمیت پر مبنی ہیں ان کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ آپ کو آخرت میں سرخروئی عطا فرمائے گا، اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ ان فتووں کو اگر امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ دیکھتے تو یقیناً ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی اور اس کے مؤلف کو اپنے تلامذہ میں شامل فرماتے۔" (الاجازات المتینہ، ص: 9)
امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فقہی بصیرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عوام سے زیادہ اہلِ علم آپ کے قریب تھے اور فقہ و افتاء کے ماہرین بھی آپ کی حیرت انگیز فقہی بصیرت کے گن گایا کرتے تھے۔
مولانا سراج احمد خان پوری اپنے دور کے جلیل القدر فاضل تھے اور علمِ میراث میں تو انہیں تخصص حاصل تھا۔ ”الزبدۃ السراجیہ“ لکھتے وقت ذوی الارحام کی صنفِ رابع کے بارے میں مفتیٰ بہ قول دریافت کرنے کے لیے دیوبند، سہارنپور اور دیگر علمی مراکز کی طرف رجوع کیا لیکن کہیں سے تسلی بخش جواب ان کو نہیں ملا۔ پھر انہوں نے وہ سوال بریلی شریف بھجوا دیا، ایک ہفتہ کے اندر انہیں جواب موصول ہو گیا جسے دیکھ کر ان کا دل باغ باغ ہو گیا اور تاحیات امام احمد رضا قدس سرہٗ کے فضل و کمال اور فقہی تبحر کے گن گاتے رہے۔
پاکستان کے ایک غیر مقلد مولوی نظام الدین احمد پوری نے امام احمد رضا قدس سرہٗ کا رسالہ ”الفضل الموہبی اذا صح الحدیث فہو مذہبی“ دیکھ کر یہ کہا: "یہ سب منازلِ فہمِ حدیث مولانا کو حاصل تھے؟ افسوس میں ان کے زمانے میں رہ کر بھی بے خبر و بے فیض رہا، علامہ شامی اور صاحبِ فتح القدیر مولانا کے شاگرد ہیں، یہ تو امامِ اعظم ثانی معلوم ہوتے ہیں۔" (المیزان کا امام احمد رضا نمبر، ص: 186)
مرجعِ علماء و دانشور
مفتیانِ کرام سے عموماً عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور جن چیزوں کے بارے میں انہیں حکمِ شرعی معلوم نہیں ہوتا ان کی واقفیت حاصل کرتے ہیں، لیکن فتاویٰ رضویہ کی تمام مجلدات کے مطالعہ کرنے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ سے رجوع کرنے اور احکامِ شرعی جاننے والوں میں ایک بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جو خود ماہرینِ علوم و فنون تھے، زینتِ درسگاہ تھے، مسندِ دارالافتاء تھے، اور علم و فن میں مشہورِ زمانہ تھے۔ مزید تفصیل کے لیے تو فتاویٰ رضویہ کی تمام مجلدات کے سائلین اور مستفتیان کے اسمائے گرامی اور ان میں اہلِ علم کی معرفت کے بعد ہی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
تاہم بطور نمونہ جامعہ نظامیہ لاہور کے فاضل محقق مولانا خادم حسین کے تحقیقی مقالے کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں، جو انہوں نے فتاویٰ رضویہ کی نو جلدوں (پہلی سے ساتویں، اور دسویں و گیارہویں) کے سائلین کے اسمائے گرامی کی تحقیق کرنے کے بعد لکھا ہے، جس کا عنوان ”امام احمد رضا بحیثیت مرجع العلماء“ ہے۔ ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان جلدوں میں چار ہزار پچانوے (4095) استفتاء ہیں، جن میں سے تین ہزار چونتیس (3034) عوام الناس کے استفتاء ہیں اور ایک ہزار اکسٹھ (1061) استفتاء علماء اور دانشوروں کے پیش کردہ ہیں۔ (مقدمہ فتاویٰ رضویہ ج: 1)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ استفتاء کرنے والوں کی ایک چوتھائی تعداد علماء اور دانشوروں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ کسی مسئلے کا جواب دیتے وقت صرف 'ہاں' یا 'نہیں' میں جواب نہیں دیتے بلکہ سائلین کے معیار کے حساب سے دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے ہیں۔
امام احمد رضا کی فقہی مہارت کے کچھ خاص نمونے
مذکورہ بالا سطور میں، میں نے فتاویٰ رضویہ کی جن خوبیوں کا اجمالاً ذکر کیا ہے، اس اجمال کی تفصیل کے لیے میں نے چند عنوانات کا انتخاب کیا ہے اور ہر عنوان سے متعلق فتاویٰ رضویہ کی الگ الگ جلدوں سے چند اقتباسات شواہد کے طور پر پیش کیے ہیں، نیز اپنی بساط کے مطابق اس پر روشنی بھی ڈالی ہے، جس کی پوری تفصیل اگلے صفحات میں آ رہی ہے۔ پہلے ان عناوین کی فہرست کی ایک جھلک دیکھ لیں، پھر آگے ان میں سے ہر ایک پر تفصیلی مطالعہ کریں:
- 1۔ سائل اور مستفتی کی زبان کی رعایت
- 2۔ فتاویٰ رضویہ کے ابتدائی خطبے کی براعتِ استہلال
- 3۔ تمام رسائل کی چار خصوصیات
- 4۔ متعارض اقوال میں تطبیق یا ترجیح
- 5۔ جدید مسائل کا استنباط اور ان کا حل
اب آئیے کچھ تفصیلی مطالعہ کے لیے آگے بڑھیں اور فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فقہی تحقیق، تفقہ کے تینوں اور جملہ علوم و فنون میں وسعتِ معلومات کے حسین جلوؤں کا دلکش نظارہ کریں۔
مستفتی کی زبان و بیان کی رعایت
امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فقہی بصیرت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کی ذاتِ ستودہ صفات ”كلموا الناس على قدر عقولهم“ کی عملی تفسیر ہے۔ آپ کی بارگاہ میں جب کسی عالمِ دین کی طرف سے کوئی سوال پیش کیا جاتا تو آپ اس کا جواب بھی عالمانہ رنگ میں مرحمت فرماتے۔ اگر مستفتی عام یا معمولی لیاقت رکھنے والے شخص کی جانب سے سوال ہوتا (جس کا اندازہ امرِ مسئولہ اور سائل کی زبان و بیان سے ہی ہو جاتا ہے)، تو آپ اس کا جواب صرف سوال کے اندازِ بیان میں ہی نہیں بلکہ آسان اور سادہ اسلوب میں دیتے۔
اسی طرح آپ کے فتاویٰ میں سائل کی زبان کی رعایت بھی کافی حد تک موجود ہے۔ اگر مستفتی اردو زبان میں استفتاء کرتا تو آپ جواب اردو زبان میں عنایت فرماتے، اگر سوال عربی زبان میں کیا جاتا تو آپ جواب بھی عربی زبان میں مرحمت فرماتے۔ اسی طرح اگر سائل فارسی زبان میں سوال کرتا تو جواب بھی فارسی ہی زبان میں دیتے، اگر کہیں سے انگریزی زبان میں استفتاء آتا تو آپ جواب انگریزی زبان میں ارسال فرماتے اور حکمِ شرعی سے آگاہ کرتے۔ صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ منظوم سوالوں کے جوابات بھی منظوم انداز میں دیتے۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں، بلکہ اندازِ جواب بھی اس قدر نرالا ہے کہ منظوم سوال جس زبان میں ہوتا، آپ اسی زبان میں منظوم جواب مرحمت فرماتے، بلکہ حد تو یہ ہے کہ جس بحر میں سوال قائم کیا جاتا، آپ جواب بھی اسی بحر میں دیا کرتے تھے۔
امام احمد رضا قدس سرہٗ کی یہ ایک ایسی اہم خوبی ہے کہ جو برصغیر پاک و ہند میں ان کے ہمعصر فقہائے کرام کے فتاویٰ میں نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمِ اسلام کی تاریخِ فتاویٰ میں آپ کے فتاویٰ کو ایک نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے۔ آپ کی ایک امتیازی خصوصیت کے نمونے آپ کے مجموعۂ فتاویٰ ”فتاویٰ رضویہ“ کی مختلف جلدوں میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہاں پر اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور منظوم فتاویٰ کی کچھ مثالیں ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔
سوال بزبان اردو (غیر منظوم)
مسئلہ: از بازار جام تحصیل بہیڑی ضلع بریلی، مسئولہ: محمد سعید صاحب، 18 جمادی الآخرہ 1338ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اس طرح سے روزگار میں شرکت کرنا کہ زید نے عمرو کو سو روپے دیئے اور کہا کہ تم اس سے جو چاہو روزگار، جو چاہو کر یا فلاں، لیکن مجھ کو دس روپے تم فیصدی دینا یا یوں کہا کہ جو تیری طبیعت میں آئے وہ دینا یا آنہ روپیہ کا نفع تعین کر دیا، آیا عمرو کو بیشی ہو کہ کمی، خالد کہتا ہے کہ تعین کرنا سود ہے، فقط۔
جواب بزبان اردو:
الجواب: یہ کہ جو طبیعت میں آئے دینا ناجائز ہے کہ تعین نہ ہوا اور یہ کہ دس فیصدی یا آنہ روپیہ دینا، اگر اس سے مراد ہے کہ جتنے روپے اس کو تجارت کے لیے دیئے ہیں ان پر فیصدی دس یا فی روپیہ ایک آنہ مانگتا ہے تو حرامِ قطعی اور سود ہے اور اگر یہ مراد کہ جو نفع ہوا اس میں سلیم دسواں یا سولہواں حصہ دینا تو یہ حلال ہے، واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم: ج 19، ص 151]
سوال بزبان اردو (منظوم)
مسئولہ: نواب صاحب، محلہ بہاری پور بریلی
عالمانِ شرع نے کیا حکم ہے اس میں دیا
اگر کسی نے ٹھیکہ دکانوں کا مالک سے لیا
لے کے ٹھیکہ پھر یہ ہے اس نے انتظام اپنا کیا
سب دکانوں کا کرایہ اس نے زائد کر لیا
پس یہ زائد جو اسے حاصل ہوا ہے اس سے زر
اس کے استعمال میں ہے فائدہ یا کچھ ضرر
اگر اس شخص کو ٹھیکہ سے کم آمد ہوئی
اور پوری کر دی اس نے پاس سے اپنے کمی
اس کمی کا لینا کیا مالک کو جائز ہو گیا
اس میں جو حکمِ شریعت ہو مجھے دیجئے بتا
جواب بزبان اردو (منظوم):
الجواب:
جتنی اجرت پر کہ مستاجر نے لی مالک سے شے
اس سے زائد پر اٹھانا چاہے تو یہ شکل ہے
اپنا کوئی مال جو قابل اجارہ کے ہوئے
اس کو اس شے سے ملا کر دونوں کو ایک ساتھ دے
یا زیادہ شے میں کردے ہیں مثلِ تعمیرِ مکان
کھونٹیا کہگل کنواں چونہ مرمت ایں و آں
یا ہے بدل دے جنسِ اجرت جیسے واں ٹھہرے روپے
اس کے یاں آنے میں گو بدلے میں لے ان کے روپے
یا کوئی کام اپنے ذمہ کر لے اس ایجار میں
تا زیادت اس عمل کے بدلے ہو اقرار میں
جیسے جاروبِ دکاں اصلاحِ اسبابِ دکاں
اور جو خدمت کے ہو شایانِ اجرت بے گماں
اور اگر یہ ہے کم پہ دیتا ہے تو دے مختار ہے
مالک اجرت پوری لے گا اس سے جو اقرار ہے
یوں خالی ڈال رکھتا جب بھی تو لیتا وہ دام
اب قمیضیں کیا اسے واللّٰہ اعلم والسلام
(ج 19، ص 559، تا 560)
سوال بزبان اردو (منظوم)
مسئولہ: نواب سلطان احمد خان صاحب، بریلی
عالمانِ شرع سے ہے اس طرح میرا سوال
دیں جواب اس کا برائے حق مجھے وہ خوشخصال
اگر کسی نے ترجمہ سجدہ آیت کا پڑھا
تب بھی سجدہ کرنا کیا اس شخص پر واجب ہوا
اور ہوں سجدے تلاوت کے ادا کرنے جسے
پھر ادا کرنے سے ان سجدوں کے پہلے وہ مرے
پس سبکدوشِ گنہ اس کی شکل کیا ہوگی جناب!
چاہئے ہے آپ کو دینا جوابِ باصواب
جواب بزبان اردو (منظوم):
ترجمہ بھی اصلِ قرآں ہے وجہِ سجدہ بالیقیں
فرق یہ ہے فہمِ معنی اس میں شرط اُس میں نہیں
آیتِ سجدہ سنی جانا کہ ہے سجدہ کی جا
اب زباں سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہو گیا
ترجمہ میں اُس زباں کا جاننا بھی چاہئے
نظم و معنی دو ہیں ان میں ایک تو باقی رہے
تاکہ من وجہ تو صادق ہو سنا قرآن کو
ورنہ ایک موجِ ہوا تھی چھو گئی جو کان کو
ہے یہی مذہب به يُفتى عليه الاعتماد
شامی از فیض و نہر واللّٰہ اعلم بالرشاد
سجدہ فدیہ ہے نہیں اشباہ میں تصریح کی
صیرفیہ میں اسی انکار کی تصحیح ہے
کہتے ہیں واجب نہیں اس پر وصیت وقتِ موت
فدیہ گر ہوتا تو کیوں واجب نہ ہوتا جبرِ فوت
یعنی اس کا شرع میں کوئی بدل ٹھہرا نہیں
جز ادا یا توبہ وقتِ عجز کچھ چارہ نہیں
یہ نہیں معنی کہ جائز ہے یا یہ بے کار ہے
آخیر اک نیکی ہے نیکی ماحیِ اوزار ہے
قلته آخذاً من التعليم في أمر الصلاة
وهو بحث ظاهر والعلم حقاً للإله
[فتاویٰ رضویہ مترجم، ج 8، ص 238]
