Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

مسلم معاشرے میں رسم ہلدی: شرعی نقطۂ نظر ،مجمع التصانیف

مسلم معاشرے میں رسم ہلدی - شرعی نقطۂ نظر
عنوان: مسلم معاشرے میں رسم ہلدی - شرعی نقطۂ نظر
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

مسلم معاشرہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ایسا پاکیزہ اور متوازن نظامِ حیات کا حامل ہے جس کی بنیاد وحیِ الٰہی، تعلیماتِ نبویہ ﷺ اور اسلافِ امت کے معتدل و مہذب طرزِ عمل پر قائم ہے۔ اسلام نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کو واضح اصولوں اور ضابطوں کے ساتھ مربوط کیا ہے، یہاں تک کہ خوشی اور مسرت کے مواقع بھی ایک خاص وقار، حیا اور اعتدال کے ساتھ منانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ نکاح، جو انسانی معاشرت کی اساس اور نسلِ انسانی کے تسلسل کا ذریعہ ہے، اسلام میں ایک مقدس عبادت اور باعثِ برکت عمل قرار دیا گیا ہے، جسے سادگی، آسانی اور پاکیزگی کے ساتھ انجام دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے میں ایسی متعدّد غیر اسلامی رسوم داخل ہوچکی ہیں جنھوں نے نکاح جیسے بابرکت عمل کو بوجھل، مہنگا اور خرافات کا مجموعہ بنادیا ہے۔ انھی رسومات میں ایک نمایاں اور تیزی سے فروغ پانے والی رسم "ہلدی" کی ہے، جو بظاہر ایک خوشی کی تقریب معلوم ہوتی ہے مگر اپنے اندر کئی شرعی، اخلاقی اور تہذیبی قباحتیں سموئے ہوئے ہے۔

تاریخی پس منظر اور موجودہ تشویش ناک صورتِ حال

رسمِ ہلدی کا تاریخی پس منظر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ دراصل برصغیر کی ہندو تہذیب سے ماخوذ ایک روایت ہے، جس میں شادی سے قبل دولہا اور دلہن کو ہلدی لگانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو نہ صرف جسمانی خوبصورتی بلکہ بعض توہماتی تصورات کے تحت نحوست کو دور کرنے اور برکت کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ جب مسلمان اس خطے میں آباد ہوئے تو رفتہ رفتہ یہ رسم بھی ان کے معاشرتی ڈھانچے میں داخل ہوگئی۔ ابتدا میں شاید یہ محض ایک ثقافتی اثر تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس نے ایک مستقل اور لازمی تقریب کی حیثیت اختیار کرلی۔

موجودہ دور میں اس رسم کی صورتِ حال نہایت تشویش ناک ہوچکی ہے۔ ہلدی کی تقریب اب محض ہلدی لگانے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک مکمل "ایونٹ" بن چکی ہے جس میں گانے بجانے، رقص و سرود، مخلوط محافل، بے پردگی، فیشن کی نمائش اور فضول خرچی کا کھلا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ دولہا اور دلہن کو مجمع کے سامنے بٹھا کر ان پر ہلدی ملنا، مخصوص گیت گانا، اور قہقہوں کے ذریعے اس مقدس موقع کو ایک تماشا بنادینا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

شرعی زاویے سے رسمِ ہلدی کا جائزہ

اگر اس رسم کا شرعی زاویے سے جائزہ لیا جائے تو کئی اہم اصول سامنے آتے ہیں جو اس کی حیثیت کو واضح کردیتے ہیں:

  • تشبہ بالکفار کا مسئلہ: اسلامی تعلیمات میں غیر مسلم اقوام کی مذہبی اور مخصوص تہذیبی علامات کی نقالی سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ "جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انھی میں سے ہے"۔ رسمِ ہلدی چونکہ غیر مسلم تہذیب سے ماخوذ ہے، اس لیے اسے بطورِ رسم اپنانا اور شعائر کی طرح اہتمام کرنا شرعاً محلِ نظر ہے۔
  • بدعت اور غیر ثابت امور: اسلام نے عبادات اور معاشرت میں حدود مقرر کی ہیں۔ قرآن و سنت میں نکاح کا جو طریقہ بیان ہوا ہے، اس میں سادگی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی ایسی رسم کو جو شریعت میں نہ ہو، شادی کا لازمی حصہ سمجھ لینا بدعت کے دائرے میں آتا ہے۔
  • بے پردگی اور اخلاقی قباحتیں: بے پردگی، نامحرموں کا اختلاط، موسیقی اور لغویات اس رسم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسلام نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ ایسی تقریبات حیا کو مجروح کرتی ہیں اور معاشرے میں بے راہ روی کو فروغ دیتی ہیں۔
  • اسراف اور فضول خرچی: قرآن کریم نے فضول خرچی کو شیطانی عمل قرار دیا ہے۔ ہلدی کی تقریبات پر جس طرح پیسہ لٹایا جاتا ہے، اس سے شادی ایک مشکل اور مہنگا مرحلہ بن جاتی ہے اور غریب و متوسط طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔

معاشرتی نقصانات اور اصلاح کی ضرورت

یہ رسم شادی کو سادگی اور برکت کے بجائے نمود و نمائش اور مقابلہ بازی کا ذریعہ بنادیتی ہے، جس سے ریاکاری کا رجحان فروغ پاتا ہے۔ نوجوان نسل یہی سمجھتی ہے کہ شادی کا اصل مقصد محض تفریح اور ہنگامہ آرائی ہے، جس سے نکاح کی اصل روح پسِ پشت چلی جاتی ہے۔

ان حالات میں اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ علما اور خطبا کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمت کے ساتھ صحیح اسلامی تعلیمات کو اجاگر کریں۔ والدین اور سرپرستوں کو چاہیے کہ اولاد کی شادیوں میں سادگی اپنائیں۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر بھی سادہ شادیوں کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

رسمِ ہلدی بظاہر ایک معمولی اور خوشی کی علامت سمجھی جانے والی تقریب ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی غیر اسلامی روایت ہے جو مسلم معاشرے میں بدعت، اسراف اور بے حیائی کو فروغ دے رہی ہے۔ ضروری ہے کہ مسلمان اپنی دینی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایسی تمام رسومات سے اجتناب کریں اور نکاح کو اس کی اصل روح کے مطابق سادگی اور وقار کے ساتھ انجام دیں۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!