Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

فتاویٰ رضویہ کی تاریخِ طباعت|حسان المصطفیٰ قادری امجدی

فتاویٰ رضویہ کی تاریخِ طباعت
عنوان: فتاویٰ رضویہ کی تاریخِ طباعت
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری امجدی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

فتاویٰ رضویہ کی تاریخِ طباعت

فتاویٰ رضویہ کی ترتیب سب سے پہلے اعلیٰ حضرت کے دور میں 1327ھ میں ہوئی تھی، اور یہ سات ضخیم جلدوں پر مرتب کی گئی تھی۔ ہر جلد کے صفحات چودہ سو سے سولہ سو تک محیط تھے۔ جلدیں زیادہ ضخیم ہو گئی تھیں، اس لیے احباب کے مشورے پر اعلیٰ حضرت نے ان سات جلدوں کو 12 جلدوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ بارہ جلدوں میں منقسم ہونے کے باوجود صفحات کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہی رہی، جب کہ فتاویٰ غیر مکرر تھے۔ اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ کی نقل کا آغاز 1297ھ سے ہوا، اور فتاویٰ رضویہ کی ترتیب 1327ھ میں ہوئی۔ اس حساب سے کل 29 سال کے فتاویٰ ہی اس میں شامل ہو سکے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے 1286ھ میں فتویٰ نویسی کا آغاز کر دیا تھا۔ 1286ھ سے لے کر 1297ھ تک نقلِ فتاویٰ کا کوئی انتظام نہ تھا، اس لیے ان بارہ سالوں کے فتاویٰ کی نقل محفوظ نہ رہ سکی۔ یوں ہی آپ کی سنِ وفات 1340ھ ہے، اور فتاویٰ رضویہ کی ترتیبِ اول کا سن 1327ھ ہے، لہذا اس لحاظ سے بھی بعد کے 13 سال کے فتاویٰ یقیناً ترتیبِ اول میں شامل نہیں ہوئے ہوں گے، البتہ بعد میں ان تیرہ سال کے کتنے فتاویٰ شامل کیے گئے، اس کا اندازہ لگانا بڑا مشکل ہے۔ فتاویٰ رضویہ جدید ایڈیشن میں بڑی تلاش و جستجو کے بعد رسائل و مسائل کا کافی اضافہ ہوا ہے، لیکن اب بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کے سارے فتاویٰ شاملِ اشاعت ہو گئے۔

فتاویٰ رضویہ کی اشاعت

فتاویٰ رضویہ کی پہلی جلد تقریباً 1335ھ میں اعلیٰ حضرت کی حیات میں شائع ہو گئی تھی۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی انتہائی محنت، لگن اور جانفشانی کے سبب مطبع اہل سنت بریلی شریف سے اس کی اشاعت ہوئی تھی۔ نو (9) سال کے بعد 1344ھ میں دوسری جلد بھی زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئی۔ اسے بھی حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ہی نے مطبع اہل سنت بریلی شریف سے شائع کیا تھا۔ حضور صدر الشریعہ مطبع اہل سنت کے روحِ رواں تھے۔ اکثر کتابوں کی اشاعت آپ ہی کے زیرِ نگرانی ہوتی۔ فتاویٰ رضویہ کی ابتدائی دو جلدوں کے علاوہ اعلیٰ حضرت کے تقریباً 35 رسائل بھی آپ کی نگرانی میں شائع ہوئے۔

پرانی ترتیب کے حساب سے جلد چہارم کا آخری حصہ اور موجودہ قدیم جلدوں کے اعتبار سے جلد پنجم کا ابتدائی حصہ یعنی کتاب النکاح چار قسطوں میں 1346ھ یا 1347ھ میں حضور مفتیِ اعظم ہند اور علامہ حسنین رضا خان علیہما الرحمۃ والرضوان کی نگرانی میں شائع ہوا۔ پہلی، دوسری اور پانچویں جلد حصۂ کتاب النکاح کی اشاعت کے بعد طباعت کا سلسلہ ایک لمبے عرصے تک موقوف رہا۔

انتیس سال کے ایک طویل وقفے کے بعد فتاویٰ رضویہ کی بقیہ جلدوں کی اشاعت کا سلسلہ مبارکپور سے شروع ہوا۔ اس اہم کام کا بیڑا مولانا عبد الرؤف صاحب بلیاوی علیہ الرحمہ نائب شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارکپور نے اٹھایا۔ مولانا عبد الرؤف صاحب بلیاوی علیہ الرحمہ کے دل میں پہلے ہی اس کی اشاعت کی آرزو تھی، اعلیٰ حضرت کے اس عظیم کارنامے کو اربابِ علم و فضل تک پہنچانے کی خواہش مچل رہی تھی، پھر اسباب کچھ یوں پیدا ہوئے کہ ایک مرتبہ حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ جامعہ اشرفیہ مبارکپور تشریف لائے۔ حضرت مولانا عبد الرؤف صاحب نے حضور مفتیِ اعظم ہند سے فتاویٰ رضویہ کی اشاعت کے بارے میں استفسار کیا۔ مفتیِ اعظم ہند نے فرمایا: ”آپ لوگوں کے علاوہ کس سے اس کام کی امید رکھی جا سکتی ہے۔“ اس تاریخی جملے نے مولانا عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے حوصلے کو مزید تقویت بخشی۔ مولانا موصوف نے اشاعت کی اجازت حاصل کی اور بریلی شریف سے جلد سوم (3) سے جلد ہشتم (8) تک کا مسودہ حاصل کیا گیا۔ مولانا عبدالرؤف علیہ الرحمہ نے اس اہم کام کے لیے مبارکپور میں سنی دارالاشاعت کی بنیاد رکھی اور کام شروع ہو گیا۔ مولانا کے اس اہم کام میں ان کے رفیقِ کار تین افراد اور تھے: بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ، مولانا محمد شفیع علیہ الرحمہ (نائب ناظم دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور)، مولانا قاری محمد یحیٰی علیہ الرحمہ (ناظم دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور)۔

محرم 1379ھ مطابق جولائی 1959ء میں کام کی ابتدا ہوئی۔ 33 سالوں میں جلد سوم سے جلد ہشتم تک کی چھ جلدیں سنی دارالاشاعت مبارکپور کی نگرانی میں شائع ہوئیں۔ سنی دارالاشاعت کا یہ عظیم الشان کام شعبان 1412ھ مطابق فروری 1992ء کو اختتام پذیر ہوا۔

ماہِ محرم الحرام 1379ھ میں جب کام کا آغاز ہوا، تو دو جلدیں پہلے ہی شائع ہو چکی تھیں، لہٰذا اب تیسری جلد منتظرِ طباعت تھی۔ دو سال کی مسلسل جدوجہد اور محنت کے بعد 1381ھ میں تیسری جلد منصۂ شہود پر جلوہ گر ہو گئی۔ اس جلد کی تصحیح کا کام مولانا عبدالرؤف اور مفتی بحرالعلوم علیہما الرحمہ نے کیا اور فہرست تنہا مولانا عبدالرؤف صاحب نے تیار کی۔ تقریباً دو سال بعد 1383ھ میں چوتھی جلد بھی کتابت کے لیے بھیج دی گئی اور 2 سال بعد 1385ھ میں یہ جلد شائع ہو سکی۔ اس جلد کی فہرست سازی بھی مولانا عبدالرؤف صاحب نے کی۔ پانچویں جلد 1389ھ میں پریس کے حوالے کی گئی اور آٹھ سال بعد 1397ھ میں شائع ہو سکی۔

جلد پنجم کی تیاری کے دوران ہی مولانا عبدالرؤف علیہ الرحمہ کا انتقال ہو گیا، لہٰذا اب ساری ذمہ داری مفتی بحرالعلوم علیہ الرحمہ کے کاندھوں پر آ گئی۔ مفتی صاحب نے اپنی محنت و مشقت سے اس عظیم کام کو بحسن و خوبی اختتام تک پہنچایا اور جلد پنجم سے جلد ہشتم کی ترتیب و طباعت اور فہرست سازی آپ کے زیرِ نگرانی پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ چھٹی جلد کی اشاعت 1401ھ میں ہوئی۔ ساتویں جلد چھ سال بعد 1407ھ میں طباعت کے مراحل سے گزر کر لوگوں تک پہنچی۔ آٹھویں جلد کی اشاعت 1412ھ میں ہوئی۔ اس طرح یہ چھ جلدیں 33 سالوں میں اشاعت پذیر ہوئیں۔ نویں اور دسویں جلد کی اشاعت مکتبہ ایوانِ رضا بیسل پور سے ہوئی۔ گیارہویں جلد حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی نگرانی میں ادارۂ تصنیفاتِ رضا بریلی شریف سے شائع ہوئی، لیکن یہ تینوں جلدیں ناقص ہی ملیں۔ بارہویں جلد اعلیٰ حضرت کے پچھترویں عرس کے موقع پر مکمل سیٹ کے ساتھ پہلی مرتبہ 1415ھ میں رضا اکیڈمی ممبئی سے شائع ہوئی۔

فتاویٰ رضویہ مترجم

رضویات سے دلچسپی رکھنے والے حضرات اور اداروں نے فتاویٰ رضویہ کو نئے اور جدید طرز پر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ چنانچہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ فتاویٰ رضویہ قدیم 12 جلدوں کی تخریج کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی عبارات و رسائل کا اردو ترجمہ کروایا، اور 30 ضخیم جلدوں میں رضا فاؤنڈیشن لاہور سے شائع کر کے ایک اہم ترین فریضہ سے قوم کو سبکدوش کیا۔ ہندوستان میں علامہ عبدالستار ہمدانی صاحب نے 2003ء میں اپنے اشاعتی ادارہ ”مرکزِ اہل سنت برکاتِ رضا“ پوربندر گجرات سے اسے شائع کیا۔

فتاویٰ رضویہ جدید

حضرت مولانا حنیف خاں رضوی بریلوی نے فتاویٰ رضویہ قدیم کو انتہائی خوبصورت، دیدہ زیب اور جدید طرز پر 22 مجلدات میں شائع کیا ہے۔ یہ 22 جلدیں امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف سے 2016ء میں شائع ہوئیں۔ اس اشاعت میں دورِ جدید کے تمام تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ تصحیح کے ساتھ تخریج کا مکمل اہتمام، رموز و اوقاف کی رعایت، جدید املا کا لحاظ اور مسائل کے عناوین قائم کیے گئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ تمام جلدوں کو ابوابِ فقہ کے اعتبار سے مرتب کیا گیا ہے اور بکھرے ہوئے مسائل کو اسی کے باب کے تحت ذکر کر دیا گیا ہے۔ یوں ہر رسالے کو بھی موضوع کے اعتبار سے اس کے باب کے تحت شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔ چوں کہ مولانا حنیف خاں صاحب رضوی کا ارادہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کے اصل فتاویٰ کی اشاعت کا تھا، اس لیے ترجمے سے گریز کیا گیا ہے۔ البتہ اکابرین کے ترجمے، جو پہلے سے شائع شدہ تھے، اسے بھی شامل کر لیا ہے۔ یہ اہم ترین کارنامہ ”امام احمد رضا اکیڈمی“ بریلی شریف اور ”ادارہٴ اہل سنت کراچی“ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔

اپنی بات

برادرِ اکبر حضرت مولانا مفتی فیضان المصطفیٰ قادری مدیرِ اعلیٰ ماہنامہ پیغامِ شریعت (دہلی) کے حکم پر ہم نے فتاویٰ رضویہ کی اجمالی فہرست ”کتاب“ اور ”ابواب“ کے اعتبار سے تیار کر دی ہے۔ اس فہرست کو تیار کرنے کے لیے ہم نے ان تین نسخوں کا انتخاب کیا، جو فی الحال ہندو پاک میں شائع و متداول ہیں اور جس سے لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔

  1. فتاویٰ رضویہ قدیم 12 مجلدات، جو رضا اکیڈمی ممبئی نے شائع کیا ہے۔

  2. امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف کی شائع کردہ فتاویٰ رضویہ، جو 22 جلدوں میں ہے۔

  3. فتاویٰ رضویہ مترجم جو 30 جلدوں میں مرکزِ اہل سنت پوربندر گجرات سے شائع ہوئی ہے۔

ان تینوں نسخوں میں شامل رسائلِ اعلیٰ حضرت کی فہرست سازی بھی ہم نے کر دی ہے۔ قدیم جلدوں میں رسائل کی تعداد 120 ہے، جب کہ فتاویٰ رضویہ مترجم میں 206 رسائل شامل ہیں، اور 22 جلدوں والی جدید فتاویٰ رضویہ میں 244 رسائل ہیں۔ اعلیٰ حضرت کے متعدد ایسے رسالے ہیں جو مفقود ہیں، اس لیے وہ شاملِ اشاعت نہ ہو سکے۔ رسائل کی فہرست جدید فتاویٰ رضویہ سے ماخوذ ہے، یعنی جس طرح جدید فتاویٰ رضویہ میں رسائل کی ترتیب ہے، اسی اعتبار سے ہم نے رسالوں کی ترتیب رکھی ہے۔

اعلیٰ حضرت کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ اپنے رسالے کا عربی اور تاریخی نام رکھتے ہیں، اس لیے ہم نے رسالے کے سامنے سنِ کتابت بھی تحریر کر دیا ہے۔ رسالوں کے نام عربی میں ہونے کی وجہ سے اسے درست پڑھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ انہیں اعراب سے مزین کر کے ہدیہٴ ناظرین کیا جاتا، لیکن وقت کی تنگی دامن گیر رہی۔ رسالوں کے نام کا اردو ترجمہ بھی لکھنے کا خیال تھا، لیکن اس مختصر سی فہرست میں ہمیں یہ کام زیادہ نفع بخش معلوم نہ ہوا، کیوں کہ اگر اردو ترجمہ کر بھی دیا جائے، پھر بھی رسالے کے اصل موضوع تک پہنچنا عام قارئین کے لیے انتہائی مشکل اور دشوار ہے، اس لیے ہم نے رسالے کا اصل موضوع اردو میں تحریر کر دیا ہے، تاکہ قارئین رسالے کے اصل موضوع تک بیک نظر پہنچ سکیں۔ رسائل کی ترتیب حروفِ تہجی کے اعتبار سے نہیں کی گئی ہے۔ بعد میں ہمیں اس کمی کا کافی شدت سے احساس ہوا۔ اگر رسائل کی ترتیب حروفِ تہجی کے اعتبار سے کی گئی ہوتی، تو رسالے کی تلاش و جستجو میں بڑی آسانی پیدا ہو جاتی۔

سب سے پہلے ہم نے قدیم فتاویٰ رضویہ (12 مجلدات)، پھر جدید فتاویٰ رضویہ (22 مجلدات) اور آخر میں مترجم فتاویٰ رضویہ کی فہرست سازی کی ہے۔ ابواب و کتب کی فہرست میں ضرورت کی جگہ ہم نے مشمولات کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ اس باب یا کتاب میں کس قسم کے فقہی مسائل کا بیان ہوگا۔ اعلیٰ حضرت نے اردو، عربی اور فارسی تینوں زبان میں رسالے تحریر فرمائے ہیں، ہم نے ان تمام رسائل کی زبان کی بھی وضاحت کر دی ہے۔ فتاویٰ رضویہ کی اجمالی فہرست اور رسائلِ رضویہ کی مع موضوعات فہرست سازی یہ دونوں کام بظاہر معمولی لیکن کافی محنت طلب ہیں۔ اس کا احساس ہمیں اس وقت ہوا جب ہم نے اس کام کی ابتدا کی۔ خیر بفضلِ الہیٰ یہ کام پایہٴ تکمیل کو پہنچا۔ بشری تقاضے کے مطابق ابواب و رسائل کی فہرست سازی یا رسائل کے موضوعات میں غلطی کا امکان ہے، قارئین اگر ملاحظہ کریں، ضرور مطلع کریں۔

حسان المصطفیٰ قادری امجدی
پیغام شریعت کا خصوصی شمارہ، مصنف اعظم نمبر
ص 892 از 894 تا

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!