| عنوان: | امام احمد رضا اور اسرائیلیات (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا کمال احمد علیمی نظامی (جمدا شاہی، یوپی) |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
امام احمد رضا کے نزدیک مردود اسرائیلی روایات
اسرائیلیات کی علمی تحقیق کے بعد اب ہم ان چند معروف روایات اور قصص کا جائزہ لیتے ہیں جن پر امام اہل سنت نے اپنی محققانہ رائے کا اظہار فرمایا ہے۔
1. قصۂ ہاروت و ماروت
قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے: وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ۔ اس آیت کی تفسیر میں کتبِ تفاسیر میں بہت سے ایسے قصے ملتے ہیں جن میں فرشتوں کی معصیت اور ان کے بابل کے کنویں میں لٹکائے جانے کا ذکر ہے، جو کہ اسرائیلی خرافات کا مجموعہ ہیں۔ اس بارے میں امام اہل سنت کی تحقیق ملاحظہ فرمائیں:
“قصہ ہائے ہاروت و ماروت جس طرح عام شائع ہے ائمہ کرام کو اس پر سخت انکارِ شدید ہے۔ یہاں تک کہ امامِ اجل قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: هَذِهِ الْأَخْبَارُ مِنْ كُتُبِ الْيَهُودِ وَافْتِرَائِهِمْ (یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اور ان کی افتراؤں سے ہیں)۔ اور راجح یہی ہے کہ ہاروت و ماروت دو فرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لیے مقرر فرمایا کہ جو سحر سیکھنا چاہے اسے نصیحت کریں کہ: إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ۔ جو نہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں ڈالے۔ اسے تعلیم کریں تو وہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔” [فتاویٰ رضویہ قدیم، ج: 12، ص: 20]
2. کشتیِ نوح علیہ السلام
طوفانِ نوح اور کشتی کے بارے میں مروی محیر العقول روایات کے برعکس اعلیٰ حضرت نے تاریخی و مستند حقائق کی روشنی میں بیان فرمایا:
“نوح علیہ السلام کی امت پر جس روز عذابِ طوفان نازل ہوا پہلی رجب تھی، کشتی 10 رجب کو تیرنے لگی، اس پر 80 آدمی سوار تھے، جس میں دو نبی تھے (حضرت نوح و آدم علیہما السلام)۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کشتی پر حضرت آدم علیہ السلام کا تابوت رکھ لیا تھا۔ دسویں محرم کو چھ ماہ کے بعد سفینہ مبارکہ جودی پہاڑ پر ٹھہرا۔” [الملفوظ، ج: 1، ص: 64]
3. یاجوج و ماجوج کی تخلیق
یاجوج و ماجوج کے بارے میں اسرائیلی روایات میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے نطفہ احتلام سے بنے ہیں۔ اس نظریہ کو امام اہل سنت نے شدید رد کیا ہے:
“کعب احبار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے جو مروی ہوا کہ یاجوج و ماجوج نطفۂ احتلامِ سیدنا آدم علیہ السلام سے بنے ہیں، اول تو کعب ہی سے اس کا ثبوت صحت کو نہ پہنچا... پھر کعب صاحب اسرائیلیات ہیں، ان کی روایت کہ مقرراتِ دین کے خلاف ہو مقبول نہیں۔ اور حدیثِ ابن عباس کے حصر کے خلاف ہے کہ احتلام نہیں مگر شیطان کی طرف سے، ولہذا عامۂ علمائے کرام نے اسے مقبول نہ رکھا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 155]
4. تابوتِ سکینہ
قرآن میں مذکور 'تابوت' اور 'سکینہ' کے حوالے سے مفسرین نے کثیر روایات نقل کی ہیں۔ امام اہل سنت نے ان روایات کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے تبرکاتِ انبیا کی اہمیت کو واضح کیا ہے:
“وہ تبرکات کیا تھے؟ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عصا اور ان کی نعلینِ مبارک اور ہارون علیہ الصلوٰۃ و السلام کا عمامہ مقدسہ وغیرہ۔ ان کی برکات تھیں کہ بنی اسرائیل اس تابوت کو جس لڑائی میں آگے کرتے فتح پاتے اور جس مراد میں اس سے توسل کرتے اجابت دیکھتے۔” [جامع الاحادیث، ج: 7، ص: 273]
5. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع
مسیحی عقیدۂ صلب (مصلوب کیے جانے) کے رد میں امام اہل سنت نے قرآن کے مطابق حقیقت بیان کی ہے:
“حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شبیہ انہیں میں سے ایک کافر پر ڈال کر شبہہ ڈال دیا گیا، جب اس خبیث پر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شبیہ آ گئی انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا۔” [جامع الاحادیث، ج: 7، ص: 523]
6. الواحِ توریت کو زمین پر ڈالنے کا سبب
بعض اسرائیلی روایات یہ کہتی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے امتِ محمدیہ کے فضائل دیکھ کر غصے میں تورات کی تختیاں پھینک دیں، امام اہل سنت نے اس توہین آمیز روایت کو مسترد کرتے ہوئے صحیح واقعہ یوں بیان کیا:
“موسیٰ علیہ السلام جب توریت لے آئے، یہاں دیکھا کہ لوگ گئو سالہ کے آگے سجدہ کرتے اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔ آپ کی شانِ جلالی کی یہ حالت تھی کہ جس وقت جلال طاری ہوتا آدھ گز شعلہ کلاہِ مبارک سے اوپر کو اٹھتا، جلال میں آ کر الواحِ توریت پھینک دیں، وہ ٹوٹ گئیں۔” [الملفوظ، ج: 3، ص: 6، 5]
