| عنوان: | غوث اعظم کے چند انقلاب آفریں ارشادات |
|---|---|
| تحریر: | غلام مصطفیٰ رضوی |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
حضور غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اشاعتِ حق اور اصلاح و فلاح کے لیے اپنے ارشادات سے ذہن و فکر کی تربیت فرمائی، آپ کے ملفوظات و ارشادات کو موضوعاتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سیکڑوں موضوعات پر مشتمل ہیں اور زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتے ہیں، یہاں ہم بطورِ نمونہ چند ملفوظات ذکر کرتے ہیں جنھیں طاقِ حیات میں سجا لیا جائے تو من کی دنیا میں رونق چھا جائے گی:
1۔ جو شخص آدابِ شریعت نہیں اپناتا قیامت کے دن آگ اسے ادب سکھائے گی۔
2۔ جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا، ایک ہاتھ میں آپ کی شریعت اور دوسرے ہاتھ میں قرآن پاک نہیں تھامتا اس کی رسائی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک نہیں ہو سکتی۔
3۔ اے عالم! اگر تو دنیا و آخرت کی بھلائی چاہتا ہے تو اپنے علم پر عمل کر اور لوگوں کو علم سکھا۔
4۔ صاحبِ ایمان کو چاہیے کہ پہلے فرائض ادا کرے، جب ان سے فارغ ہو تو سنتیں ادا کرے پھر نوافل میں مشغول ہو۔
5۔ جو آخرت کا طلب گار ہو اسے دنیا سے بے نیاز ہو جانا چاہیے اور جو اللہ تعالیٰ کا طالب ہو اسے آخرت سے بھی بے نیاز ہو جانا چاہیے۔
6۔ تصوف میں سچا صوفی وہ ہے جو اپنے دل کو اپنے مولا کے ماسوا سے پاک کر لے۔
7۔ آج تم فقہاء، علماء اور اولیاء سے بغض رکھتے ہو جو ادب اور علم سکھاتے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ تم دوا حاصل نہیں کر پاتے۔
8۔ ان لوگوں کی بات نہ سنو جو اپنے نفس کو خوش کرتے ہیں۔
9۔ جہالت تمام تر فساد کا باعث ہے۔
10۔ میں نے تمام اعمال کی چھان بین کی مگر ان میں کھانا کھلانے سے افضل اور حسنِ اخلاق سے زیادہ شرافت والا کوئی عمل نہ پایا۔ (شاید اسی لیے یہ فطری عمل بن گیا ہے کہ نیازِ غوثیہ سارے عالمِ اسلام میں بڑے اہتمام سے کی جاتی ہے اور ہر طبقے کے مسلمان خواہ امیر ہوں یا غریب اسے کھاتے اور خوش ہوتے ہیں، کھانا کھلانا تو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور یہ عمل غوثِ اعظم کو پسندیدہ تھا) [الفتح الربانی، فتوح الغیب، اہل سنت کی آواز مارہرہ، غوث اعظم نمبر]
آپ نے عظمتِ توحید کے ساتھ ہی عظمتِ رسالت کا نقش بھی دلوں میں بٹھایا، اتباعِ سنت اور محبتِ نبوی کا درس دیا، ایک مقام پر مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: “ہر شخص کی بیداری اس کے حال کے مطابق ہے، کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیداری کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی کوئی آپ کی خصوصیات میں شریک ہو سکتا ہے۔” [مرجع سابق، ص: 89]
یہاں مجھے امام شرف الدین بوصیری کا یہ شعر یاد آ رہا ہے:
مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيكٍ فِي مَحَاسِنِهِ
فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيهِ غَيْرُ مُنْقَسِمِ
ترجمہ: آپ اپنی خوبیوں میں شریک سے پاک ہیں تو آپ کا جوہرِ حسن و جمال قابلِ تقسیم نہیں۔
چشمۂ بغداد سے سیرابی کرنے والوں نے بعد کے ادوار میں بھی اصلاحِ ایمان و عمل کی تحریک جاری رکھی اور تعلیماتِ غوثِ اعظم کے مشن کو آگے بڑھایا اور اسے ساری کائنات میں عام کیا۔ فکر کی تطہیر کے لیے آپ کے مواعظ و ارشادات کی ضرورت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ عہدِ غوثیت میں تھی۔
