Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

منافق کا انجام|سائرہ الطاف امجدی

منافق کا انجام
عنوان: منافق کا انجام
تحریر: سائرہ الطاف امجدی
پیش کش: لباب اکیڈمی

إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ

”بیشک منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ (سورۂ النساء: 145)

یہ آیتِ مبارکہ منافقت کی برائی اور اس کے خوفناک انجام کو بیان کرتی ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو سچائی، اخلاص، وفاداری اور امانت داری کا درس دیتا ہے، جبکہ منافقت ان تمام صفات کے بالکل برعکس ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں سخت وعید نازل فرمائی اور ان کے انجام کو نہایت دردناک قرار دیا۔

منافق وہ شخص ہوتا ہے جو ظاہری طور پر اپنے آپ کو مسلمان، نیک اور مخلص ظاہر کرتا ہے لیکن اس کے دل میں ایمان کی سچائی اور اخلاص موجود نہیں ہوتا۔ وہ لوگوں کے سامنے کچھ اور ہوتا ہے اور تنہائی میں کچھ اور۔ اس کی زبان پر دین اور نیکی کی باتیں ہوتی ہیں مگر اس کے اعمال ان باتوں کے خلاف ہوتے ہیں۔ منافق ہمیشہ اپنے مفاد کو مقدم رکھتا ہے اور حق و سچائی کا ساتھ صرف اس وقت دیتا ہے جب اس میں اس کا کوئی فائدہ ہو۔

رسولِ اکرم ﷺ نے منافق کی چند علامات بھی بیان فرمائی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب منافق بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔ یہ ایسی بری عادتیں ہیں جو انسان کے کردار کو تباہ کر دیتی ہیں اور اسے لوگوں کی نظروں میں بھی گرا دیتی ہیں۔

منافقت صرف زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ دل کی بیماری بھی ہے۔ جب انسان جھوٹ، دھوکے، حسد اور ریاکاری کو اپنا معمول بنا لیتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ پھر اسے نیکی میں خوشی اور گناہ میں شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم میں منافقین کو دل کے مریض قرار دیا گیا ہے۔ وہ نہ پوری طرح ایمان والوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور نہ ہی کھل کر اپنے باطل نظریات کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ ہمیشہ دوغلے پن کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

معاشرے میں منافق لوگوں کی موجودگی بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ ایسے لوگ بظاہر خیرخواہ بن کر دوسروں کے درمیان نفرت، بداعتمادی اور اختلافات پیدا کرتے ہیں۔ وہ ایک شخص کے سامنے اس کی تعریف کرتے ہیں اور دوسرے کے سامنے اس کی برائی بیان کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے رشتے خراب ہوتے ہیں، دلوں میں کدورت پیدا ہوتی ہے اور معاشرے کا امن و سکون متاثر ہوتا ہے۔

آج کے دور میں بھی ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سچائی، دیانت داری اور اخلاص کو چھوڑ دیں، وعدوں کی پاسداری نہ کریں، دوسروں کے حقوق ادا نہ کریں اور دکھاوے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یہ نفاق کی طرف لے جانے والی باتیں ہیں۔ ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ اس کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہو، اس کی زبان اور دل میں ہم آہنگی ہو اور وہ ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو نفاق، ریاکاری اور دوغلے پن سے پاک کریں، سچائی کو اپنائیں، اپنے وعدوں کی حفاظت کریں، امانتوں کو صحیح طریقے سے ادا کریں اور اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، جبکہ آخرت کی کامیابی دائمی ہے۔ جو شخص اخلاص اور سچائی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت دونوں میں عزت عطا فرماتا ہے، اور جو منافقت کے راستے پر چلتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور سخت عذاب کا مستحق بنتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے نفاق سے محفوظ فرمائے، ہمارے دلوں کو ایمان و اخلاص سے منور کرے اور ہمیں سچے اور مخلص مسلمانوں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!