Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یادگار لمحات: حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت|سید شیر علی عطاری

یادگار لمحات: حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت
عنوان: یادگار لمحات: حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت
تحریر: سید شیر علی عطاری

سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی افسوسناک خبر موصول ہوئی کہ آبروئے صحافت، پیکرِ خلوص و وفا، محبوبِ بارگاہِ حافظِ ملت، حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی رحمۃ اللہ علیہ، چیف ایڈیٹر ماہنامہ “اشرفیہ” مبارک پور، اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ

میں اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ پاک حضرت کی بے حساب مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، اور تمام لواحقین و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

حضرت سے میری ملاقات

مجھے اپنی زندگی میں حضرت سے دو مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ دونوں ملاقاتیں نہایت پُرکیف اور یادگار تھیں۔ حضرت نے شفقت فرماتے ہوئے دعاؤں سے خوب نوازا اور دینی کاموں کے حوالے سے قیمتی تربیت بھی فرمائی۔

حضرت کے ساتھ چند یادگار لمحات

1۔ “ترکیب” کا لطیف واقعہ: بات 2017ء کی ہے۔ میں 12 ماہ کے مدنی قافلے میں تھا۔ ہمارے علاقے میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی رحمۃ اللہ علیہ خصوصی مقرر تھے۔ حضرت نے اپنے خطاب کے آخر میں دعوتِ اسلامی کی دینی خدمات کا تذکرہ فرمایا اور عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذہن سازی فرمائی کہ اس تنظیم سے وابستہ ہو کر اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح کریں۔ جلسے کے بعد ہم برکتیں سمیٹتے ہوئے حضرت کی قیام گاہ میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے محبت سے فرمایا: “آؤ میرے پاس بیٹھو”۔ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ کمرے میں مچھر بہت تھے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت نے فرمایا: “یہ تو پوری رات سونے نہیں دیں گے، یہاں تو مچھر دانی کا بھی انتظام نہیں ہے۔” میں نے اجازت لے کر فوراً میزبان سے عرض کیا کہ مچھر دانی کی کوئی ترکیب کی جائے۔ میزبان نے یقین دہانی کرائی۔ واپس آ کر حضرت نے پوچھا: “کیا ہوا مچھر دانی کا؟” میں نے عرض کیا: “حضور، مچھر دانی کی ترکیب ہو گئی ہے۔” یہ سن کر حضرت مسکرا پڑے اور فرمایا: “دعوتِ اسلامی والے الفاظ کا بہت اچھا چناؤ کرتے ہیں۔ مجھے بھی یہ لفظ ترکیب اچھا لگا، اسے کئی جگہ استعمال کر سکتے ہیں۔” میں نے عرض کیا: “حضور، ہم تو اس لفظ کو بہت استعمال کرتے ہیں، مثلاً بیان کی ترکیب، درس کی ترکیب، کھانے کی ترکیب وغیرہ۔” حضرت مزید مسکرائے اور فرمایا: “ہم تو صرف عربی عبارت کی ترکیب کرتے ہیں۔ اچھی بات ہے، اچھا لفظ چنا ہے۔”

2۔ سفر میں مہمان نوازی کا درس: علمائے کرام کی ایک نمایاں خصوصیت مہمان نوازی ہے۔ میرے ساتھ ایک اور اسلامی بھائی بھی تھے۔ حضرت نے ان سے فرمایا: “یہ بیگ میرے پاس لاؤ۔” حضرت نے اپنا بیگ کھولا، اس میں سے نمکین اور بسکٹ نکالے اور فرمایا: “آپ لوگ بھی کھائیے۔” پھر ارشاد فرمایا: “سفر میں کچھ نہ کچھ کھانے کی چیز رکھنی چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر کھا لیا جائے، اور کسی کی ہم مہمان نوازی بھی کر لیں تاکہ مہمان نوازی کا ثواب بھی مل جائے۔” اس واقعے سے مجھے یہ سبق ملا کہ سفر کی حالت میں بھی مہمان نوازی کا جذبہ زندہ رہنا چاہیے۔ ویسے بھی اسلام میں کھانا کھلانا بہت اعلیٰ عبادت ہے۔

اللہ کریم ہمیں بھی حضرت جیسا مخلص، باعمل عالمِ دین بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!