Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علمِ توقیت (قسط: دوم)|مفتی محمد رفیق الاسلام نوری منظری

محلِ وقوع

جس جگہ کا نظام الاوقات مطلوب ہو وہ کس ملک یا صوبہ میں ہے پھر وہ خطِ استواء کے جنوب میں ہے یا شمال میں؟ اس کی معرفت ہو گئی تو پھر دیکھیں کہ یہ "گرینچ" لندن سے مغربی ہے یا مشرقی؟ ساتھ ہی اس کا بھی لحاظ ضروری ہے کہ یہ مقام سطح سمندر سے کس قدر بلند ہے۔ اب گھڑی پر نظر ڈالیں کہ اس میں کون سا وقت رائج ہے؟ حرکتِ شمس کی کس مقدار کے مطابق ہے؟ جیسا کہ ہمارے ہندوستان کی گھڑیوں میں 82.5 ڈگری مشرقی کا وقت رائج ہے جو الہ آباد و مغل سرائے کے درمیان کا وقت ہے۔ لہٰذا یہاں کی گھڑیاں وہاں کا صحیح وقت بتائیں گی نہ کہ کولکاتا، ممبئی کا۔

لہٰذا باقی شہروں کے لیے ان گھڑیوں میں مزید اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر مروج مقامی وقت سے مغرب کی آبادی ہے تو اصل بلدی وقت پر اس مغربی فصل میں کچھ وقت کا اضافہ کیا جائے گا یعنی ہر ایک ڈگری فصلِ طولِ مغربی میں چار منٹ کا اضافہ ہوگا۔ اور مشرقی آبادی کے لیے اسی مقدار میں ساقط کیا جائے گا لیکن یہ صرف نصف النہار کے لیے ہے نہ کہ ہر وقت کے لیے۔

اسی طرح طول اور عرض کی جانکاری بھی لازم ہے۔ دائرۂ معدل جس نے ہمارے کرۂ عالم کو دو برابر حصے شمال اور جنوب میں تقسیم کیا ہے۔ اسی دائرہ کا نام طولِ بلد ہے۔ گرینچ کے نصف النہار نے جہاں اس دائرہ کو قوسِ نہاری میں قطع کیا وہیں سے ڈگری یا درجات کی ابتدا ہے۔ یہ دائرہ تین سو ساٹھ حصوں میں منقسم ہے۔ لہٰذا ابتدا سے انتہا تک ایک سو اسی ڈگری مشرقی اور اسی قدر مغربی ہیں۔

اب ارتفاعِ مقام کی طرف توجہ کریں عام طریقے پر نظامِ الاوقات میں اس طرف توجہ نہیں ہوتی ہے۔ حالانکہ اس سے نصف النہار عرفی کے علاوہ باقی سارے اوقات میں کافی نشیب و فراز کا سامنا ہے۔ اسی کی رہنمائی کرتے ہوئے امام احمد رضا نے فرمایا:

"اگر دو ہزار فٹ بلندی ہے تو غروب تقریباً چار منٹ بعد ہوگا اور طلوع اسی قدر پہلے"۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 648]

سائل نے مجدد اعظم کی بارگاہ میں فریاد کی اور اپنی آبادی کے لیے طلوع و غروبِ آفتاب کے اوقات کا سوال کیا تھا جبکہ یہ آبادی پہاڑ پر تھی۔ اس پہاڑ کی بلندی کیا تھی اسے بھی معلوم نہیں۔ سائل خود پریشان ہے لیکن یہ بارگاہِ مجدد اعظم کی ہے۔ فیضانِ کرم کا دریا جوش میں آیا اور آپ نے ارشاد فرمایا:

"جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ وہ جگہ کس قدر بلند ہے جواب نہیں ہو سکتا، اگر کسی دن کے طلوع یا غروب کا وقت صحیح گھڑی سے دیکھ کر لکھو تو میں اس سے حساب کر لوں کہ وہ جگہ کتنی بلند ہے"۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 648]

تخریجِ اوقات

سورج اپنی طبیعی چال سے چوبیس گھنٹے میں ایک دورہ مکمل کرتا ہے۔ پورا دائرہ تین سو ساٹھ ڈگریوں پر مشتمل ہے اسے چوبیس گھنٹے پر تقسیم سے ہر ایک گھنٹے میں پندرہ درجے آئے۔ اب افقِ بلد پر توجہ کریں اس کی تین صورتیں ہیں: (1) افقِ استوائی (2) افقِ حقیقی (3) افقِ حسی۔

افقِ استوائی میں مشرق سے مغرب تک ایک سو اسی ڈگری بالائے افق اور اسی قدر زیرِ افق ہیں۔ لہٰذا بارہ گھنٹے بالائے افق کو چاہیے اور بارہ گھنٹے زیریں افق کو۔ طلوعِ آفتاب سے نصف النہار تک چھ گھنٹے۔ اور یہاں سے غروب تک چھ گھنٹے پھر اس میں نصف قطرِ شمس 22.5 دقیقے اور انکسار شعاع کے 33 دقیقے کے ساتھ ارتفاعِ مقام کی انحطاطی مقدار بھی شامل ہوگی۔ پھر ان تینوں کے مجموعہ سے اختلافِ منظر کے نو ثانیے کو منہا کیا جائے، باقی میں ہر ایک درجہ کے مقابلہ میں چار منٹ اور ہر ایک دقیقہ کے مقابلہ میں چار سیکنڈ کا اضافہ دن میں ہوگا غروب میں۔ یہی مقدار طلوع میں بھی زائد ہوگی۔ استوائی عرفی دن کا حصول ہوگیا۔ اسی کی تعلیم دیتے ہوئے سیدنا سرکارِ اعلیٰ حضرت نے فرمایا ہے:

"یہ انکسار وہ چیز ہے جس نے صدہا سال موقتین کو پیچ و تاب میں رکھا اور طلوع و غروب کا حساب ٹھیک نہ ہونے دیا۔ اور یہی وہ بھاری پیچ ہے جس سے آج کل عام جنتری والوں کے طلوع اور غروب غلط ہوتے ہیں۔ اس انکسار کی مقدار مدتِ دراز تک کرنے کو عقل کے پاس کوئی قاعدہ نہ تھا جس سے وہ محتاجِ رؤیت نہ رہتی۔ ہاں سالہا سال کے مکرر مشاہدہ نے ثابت کیا کہ اس کی مقدار اوسطاً 33 دقیقہ فلکیہ ہے۔ اب ضابطہ ہمارے ہاتھ آگیا کہ ان 33 دقیقوں سے اختلافِ منظر کے 9 ثانیہ منہا کر کے باقی پر اس کا نصف قطرِ شمس زائد کریں"۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 645]

امام احمد رضا فرماتے ہیں: "اوجِ آفتاب شمالی اور حضیض جنوبی ہے اور اس کی رفتار اوج میں سست اور حضیض میں تیز ہے"۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 5، ص: 147]

یہی سستی اور تیزی نصف النہار کو برقرار رہنے نہیں دیتی ہیں۔ 15 اپریل، 14 جون، 31 اگست اور 24 دسمبر میں اپنا وقت ہر ایک آبادی کے نصف النہار پر بالکل منطبق ہوگا، باقی دن کے اوقات نشیب و فراز کے شکار ہیں۔

بریلی شریف، 28 ڈگری 22 منٹ عرضِ شمالی اور 79 ڈگری 27 منٹ طولِ مشرقی میں جلوہ فگن ہے۔ بریلی کی گھڑیاں بارہ منٹ بارہ سیکنڈ سست ہیں۔ یعنی چودہ جون کو بارہ بج کر بارہ منٹ اور بارہ سیکنڈ پر سورج بریلی کے نصف النہار پر ہوگا۔

اکیس بائیس جون کو بریلی کا عرفی دن تیرہ گھنٹے ستاون منٹ اور چھتیس سیکنڈ کا ہوگا۔ سات بج کر چودہ منٹ پر وہاں غروبِ آفتاب ہوگا، اور پانچ بج کر پندرہ منٹ بتیس سیکنڈ میں آفتاب طلوع کرے گا۔

[ماہ نامہ پیغام شریعت دہلی، اکتوبر، نومبر، دسمبر 2018، ج: 4، شمارہ: 36، ص: 471 تا 475]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!