Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: چہارم)|فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: چہارم)
عنوان: امام احمد رضا اور عربی زبان وادب (قسط: چہارم)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

عربی شاعری

آپ کی شاعری اردو ہو یا عربی پاکیزہ شاعری ہے۔ اس لیے کہ آپ نے دنیا طلبی کے لیے شعر نہیں کہا۔ چنانچہ جب نواب نانپارہ کی شان میں قصیدہ کی فرمائش کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا:

کروں مدحِ اہلِ دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ ناں نہیں

اور نہ ہی غزل کے اشعار کہے، اس لیے کہ غزل ایک دیندار متقی و پرہیز گار فقیہ کے وقار کے خلاف ہے اگرچہ کچھ ابیات اردو یا عربی میں غزل یا تشبیب کے ہیں تو وہ عام غزل کی طرح نہیں بلکہ وہ پاکیزہ خیالات پر مبنی ہیں، جو قطعاً وقار کے خلاف نہیں ہیں چنانچہ آپ تشبیب کے اشعار کے بارے میں جن سے بظاہر ایک عاشق، معشوق کی جدائی میں غمزدہ اور پریشان حال ہے، وصالِ یار کا مشتاق ہے اور ہلالِ عید سے اپنے محبوب کا پتہ پوچھ رہا ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں:

أَنَا قَيْسُ نَجْدٍ فِيهِ نُزْهَةُ جَنَّةٍ
هِيَ جُنَّةٌ مِنْ جُنَّةٍ لِجِنَانِ

(میں اس نجد کا قیس ہوں جس میں باغ کی سیر و تفریح ہے وہ لوگوں کی دیوانگی کے لیے ڈھال ہے)

لَيْلَايَ لَيْلٌ كُنْتُ فِيهِ مُنَادِمًا
لِعَرَائِسِ عَرَبٍ حَلَلْنَ جَنَانِي

(میری لیلیٰ وہ رات ہے جس میں میں ان شوہر دوست عورتوں کا ہم نشیں رہا جو میرے دل میں اتریں)

أَعَلِمْتَ مَاذَا النَّجْدُ نَجْدُ تَعَلُّمٍ
وَاللَّيْلُ لَيْلُ الْفِكْرِ وَالْإِمْعَانِ

(کیا تجھے معلوم ہے کہ نجد کیا ہے؟ وہ علم و تعلم کا نجد ہے اور رات غور و فکر کی رات ہے)

اور اس غزل کے بارے میں جو ہوس پرستی پر مبنی ہے فرماتے ہیں:

مَالِي وَلِلدِّمْيَاتِ مِنْ دُرَرٍ عَلَى
سُرُرٍ وَلَسْتُ بِعَابِدِ الْأَوْثَانِ

(مجھے تختوں پر رکھی ہوئی موتی کی گڑیوں سے کیا لینا دینا؟ اور میں بتوں کا پجاری نہیں ہوں)

مَالِي وَلِلْغَزَلِ الْمُهَيِّجِ فَلَا أَكُنْ
غَزِلًا وَلَمْ أَرَ مَرْتَعَ الْغِزْلَانِ

(مجھے جذبات برانگیختہ کرنے والی غزل سے کیا لینا دینا ہے؟ اس لیے کہ میں عشق باز مرد نہیں ہوا اور نہ میں نے ہرنوں کی چراگاہ دیکھی ہے)

مَالِي وَلِلْأَهْوَاءِ إِلَى مَهْوَى الْهَوَى
أَفَلِي غِنَاءٌ فِي غِنَاءِ غَوَانِ

(عشق و محبت کے غار کی طرف میلان سے مجھے کیا مطلب؟ کیا میرے لیے خوبصورت عورتوں کے گانے میں کوئی فائدہ ہے؟)

مَا كَانَ هَذَا دَيْدَنِي لَكِنَّهُ
تَشْبِيبُ شِعْرٍ لَا دَدُ الشُّبَّانِ

(یہ حسن و جمال اور عشق و محبت کی باتیں میری عادت نہیں ہے لیکن عشق و محبت کی جو باتیں میں کہی ہیں وہ قصیدہ کی تشبیب ہے، جوانوں کا کھیل کود نہیں)

إِذْ مَا دَدٌ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْ دَدٍ
إِذْ جِئْتُ أَمْدَحُ زُحْلَةً لِأَوَانِي

(اس لیے کہ نہ کھیل کود مجھ سے ہے اور نہ میں کھیل کود سے ہوں کیونکہ میں اس عظیم شخصیت کے لیے آیا ہوں جو زمانہ کے لیے مرجع ہے)

مذکورہ اشعار سے معلوم ہوا کہ قصیدے کے آغاز میں جو حسن و جمال اور عشق و محبت کی باتیں بیان کی گئی ہیں عرب شعراء کے دستور کے مطابق قصیدے کی تشبیب و تمہید ہے نہ کہ جوانوں کا لہو ولعب اور کھیل کود یہی وجہ ہے کہ وہ تشبیب کے اشعار پاکیزہ محبت اور پاکیزہ خیالات پر مبنی ہیں چنانچہ ناظمِ قصیدہ نے خود فرمایا کہ میں عشق و محبت میں قیس ہوں مگر میری لیلیٰ مجنوں کی لیلیٰ کی طرح نہیں ہے۔ بلکہ میں اس نجد کا قیس ہوں جس میں سیر و تفریح کا باغ ہے جو جنون اور دیوانگی سے بچانے والا ہے اور میری لیلیٰ وہ رات ہے جو غور و فکر میں گزرتی ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے اصنافِ سخن میں حمد و نعت، اولیاء اللہ کے فضائل و مناقب ان کی بارگاہ میں استغاثہ خراجِ عقیدت اور دشمنانِ دین کی ہجو اور رد کو منتخب فرمایا۔

جب آتشِ شوق بھڑکتی تو جذبات اشعار کی شکل میں ڈھل جاتے تو کبھی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے، کبھی بارگاہِ رسالت ﷺ میں عقیدت و محبت کے ہار اشعار کی شکل میں نذر کرتے، کبھی اولیائے کرام بالخصوص سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے استغاثہ پیش کرتے اور کبھی اپنے زمانہ کے مشاہیر علمائے ربانین کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے اور اپنی عادتِ کریمہ کے مطابق اللہ و رسول ﷺ کے دشمنوں کی ہجو اور ان کا رد بھی کرتے، اور ہر صنفِ سخن کے لیے اسی کے مطابق الفاظ و کلمات کا استعمال کرتے، یعنی حمد و نعت اور استغاثہ اور امداد کے لیے نرم و نازک الفاظ جن سے تواضع و انکساری، عاجزی اور مسکینیت ظاہر ہوتی اور ہجو اور رد کے لیے بھاری بھرکم کلمات لاتے ہیں جس کو اصطلاح کی زبان میں ائتلاف اللفظ مع المعانی کہتے ہیں، اس اصطلاحی لفظ سے پورا دیوان آراستہ اور مزین ہے۔ معانی کو ایسے آسان اور سہل انداز میں بیان فرماتے ہیں کہ شعر دیکھنے یا سننے کے بعد معنی مراد کو آسانی سے سمجھ لیا جاتا ہے۔ آپ اپنی فنکارانہ عربی شاعری میں برمحل اور برجستہ امثال و محاورات استعمال کرتے ہیں اس کو اصطلاح کی زبان میں ”عقد“ کہتے ہیں جس سے کلام کا حسن و جمال دوبالا ہو جاتا ہے اور محسنات لفظیہ اور معنویہ کے استعمال سے کلام کے حسن و جمال میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔

آپ کی عربی شاعری کے مطالعہ سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ قادر الکلام فی البدیہہ ایسے شاعر ہیں کہ معاصرین میں آپ کی نظیر و مثال نظر نہیں آتی اس کا اعتراف عرب کے شعراء اور ادباء نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر حسین مجیب مصری صاحب ”صفوۃ المدیح“ کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں:

”فَقَدْ كَانَ يَمْلِكُ نَاصِيَةَ الْعَرَبِيَّةِ وَيُحْسِنُهَا كَمَا لَمْ يُحْسِنْهَا سِوَاهُ مِنْ مُوَاطِنِيهِ وَمُعَاصِرِيهِ وَشِعْرُهُ فِيهَا رَفِيعُ الطَّبَقَةِ مَتِينُ السَّبْكِ وَكِتَابُهُ الْمَنْظُومُ بِالْعَرَبِيَّةِ الْمُسَمَّى بِبَسَاتِينِ الْغُفْرَانِ الَّذِي قَامَ بِجَمْعِهِ وَتَرْتِيبِهِ الدُّكْتُورُ حَازِمُ مُحَمَّدٍ أَحْمَدَ مَحْفُوظٍ يَشْهَدُ لَهُ بِعُلُوِّ الْكَعْبِ وَطُولِ الْبَاعِ“ [صفوۃ المدیح، مقدمہ]

(انھیں عمدہ عربی زبان پر قدرت حاصل تھی اس کو ایسے اچھے انداز میں استعمال فرماتے کہ آپ کے ہم وطنوں اور معاصرین میں سے آپ کے علاوہ کسی نے اس انداز میں استعمال نہیں کیا، اس زبان میں آپ کا شعر بلند مرتبہ اور ٹھوس ترکیب میں ڈھلا ہوتا ہے، عربی زبان میں آپ کی منظوم کتاب جو ”بساتین الغفران“ کے نام سے موسوم ہے جس کو ڈاکٹر حازم محمد احمد محفوظ صاحب نے جمع اور مرتب کیا ہے، آپ کی بلند شان و شوکت اور فیاضی کی گواہی دے رہی ہے)۔

ان کے علاوہ بغداد شریف کے مشہور و معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر رشید عبدالرحمن عبیدی بغدادی جو اپنے علمی اور ادبی کارناموں کی وجہ سے عرب دنیا کے علمی اور ادبی حلقوں میں مشہور ہیں انھوں نے جب ’’قصیدتان رائعتان‘‘ کا مطالعہ کیا تو معانی و بیان، فصاحت وبلاغت اور شعری محاسن سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان دونوں قصیدوں کی عربی زبان میں تشریح کر ڈالی، وہ شرح تو دستیاب نہ ہوسکی لیکن ان دونوں سے متعلق جو تاثرات مقدمہ میں تحریر کیے ہیں ان کے کچھ اقتباسات اس اردو ترجمہ و تشریح میں درج کیے گئے ہیں جو تاج الفحول اکیڈمی سے شائع ہوا ہے ان میں سے کچھ اقتباسات کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ تاکہ واضح ہوجائے کہ سیدنا اعلیٰ حضرت کا عربی شعر و سخن میں بھی بہت بلند مقام ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف تحقیق و تشریح کی وجہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

”إِنَّمَا قُمْتُ بِتَحْقِيقِ هَذَيْنِ النَّصَّيْنِ الشِّعْرِيَّيْنِ لِمَا لَمَسْتُ فِيهِمَا مِنَ الْمَعَانِي الرَّائِعَةِ الَّتِي نَظَّمَهَا الشَّاعِرُ وَمَا تَضَمَّنَتَا مِنَ الْأَمْثَالِ الْعَرَبِيَّةِ وَالصُّوَرِ الْقُرْآنِيَّةِ وَالدَّلَالَاتِ الْحَدِيثِيَّةِ وَدِقَّةِ الْإِشَارَاتِ الْبَارِعَةِ إِلَى ذَلِكَ كُلِّهِ بِأُسْلُوبٍ شِعْرِيٍّ رَشِيقٍ جَمِيلٍ“ [قصیدتان رائعتان، ص: 52]

(میں نے ان دونوں قصیدوں کی تحقیق کا کام ان عمدہ معانی کو دیکھنے کی وجہ سے کیا جن کو شاعر نے نظم کیا ہے اور امثالِ عربیہ، قرآنی صور، دلالاتِ حدیثیہ اور عمدہ اشارات کی باریکی کو دیکھنے کی وجہ سے جن پر اشعار مشتمل ہیں اور یہ سب کچھ خوبصورت، عمدہ شعری اسلوب میں بیان کیا گیا ہے)

اور دوسری جگہ لکھتے ہیں:

”لَقَدْ رَأَيْتُ أَنَّ الْقَصِيدَتَيْنِ تَدُلَّانِ عَلَى قُدْرَةٍ فَائِقَةٍ مِنَ الْبَرِيلْوِيِّ فِي اللُّغَةِ وَأُصُولِ التَّعْبِيرِ بِهَا“ [قصیدتان رائعتان، ص: 52]

(بلا شبہ میں نے دیکھا کہ دونوں قصیدے، لغت اور اس کے اصولِ تعبیر پر علامہ بریلوی کی اعلیٰ درجہ کی قدرت پر دلالت کر رہے ہیں)

مذکورہ تاثرات سے معلوم ہوا کہ سیدنا اعلیٰ حضرت عربوں کے نزدیک بھی فی البدیہہ ایسے عمدہ شاعر ہیں جن کی نظیر و مثال نہیں۔ اب ہم ذیل میں چند اشعار کے ترجمہ پر اکتفا کرتے ہوئے صرف حسن و جمال کو بیان کر رہے ہیں تاکہ ہمارے دعوٰی کا ثبوت ہو جائے قصیدہ نونیہ کا پہلا شعر یہ ہے:

رَنَّ الْحَمَامُ عَلَى شُجُونِ الْبَانِ
يَا مَا أُمَيْلِحَ ذِكْرَ بِيضِ الْبَانِ

(کبوتر نے درختِ بان کی شاخوں پر نغمہ سنجی کی، واہ مقامِ بان کی گوری عورتوں کا ذکر کتنا ملیح ہے)

(ملاحظہ: مترجم نے پہلے مصرع میں الحمام کا معنی فاختہ کیا ہے جو صحیح نہیں ہے اس لیے کہ ’الحمام‘ کبوتر کو کہتے ہیں اور فاختہ کے لیے یمامہ اور یمام کا لفظ آتا ہے۔ اور دوسرے مصرع میں ’بیض‘ کو ابیض کی جمع بتایا ہے، یہ بھی صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ یہاں گوری عورتوں کے معنی میں ہے، لہذا یہاں بیضاء کی جمع ہے) اس شعر کے پہلے مصرع میں ’الباَن‘ درخت کے معنی میں ہے جو سیدھا اور اونچا ہوتا ہے اس درخت سے بلند قامت اور خوبصورت کو تشبیہ دی جاتی ہے چنانچہ ناظمِ قصیدہ فرماتے ہیں ”شجرة عربية تشبه بها قدود الحسان فى الاستواء والرشاقة“، اور دوسرے مصرع میں ’الباَن‘ ایک جگہ کا نام ہے جہاں کے لوگ حسن و جمال میں مشہور ہیں، چنانچہ ناظمِ قصیدہ بین السطور میں فرماتے ہیں ”اسم موضع أهلها معروفون بالحسن والجمال“ دونوں ’البان‘ تعدادِ حروف اور شکل و صورت میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اور دونوں اسم ہیں لیکن دونوں کا معنی مختلف ہے اس لیے ان دونوں میں جناسِ متماثل ہے

بَانَتْ وَمَا لَانَتْ فَبَانَتْ لَوْعَتِي
يَا خَيْبَتِي فِي الصَّبْرِ وَالْكِتْمَانِ

(محبوب جدا ہو گیا اور نرمی نہیں برتی سوزشِ عشق ظاہر ہو گئی، وائے میری ناکامی، عشق کے چھپانے اور صبر کرنے میں)

پہلے مصرع میں دو جناس ہیں، بانت اور لانت میں جناسِ غیرتام کی قسم جناس لاحق ہے اس لیے کہ ’ب‘ اور ’ل‘ دونوں مختلف حرف بعید المخرج ہیں اور دونوں ’بانت‘ میں جناس متماثل ہے اس لیے کہ تعداد حروف، ہیئت اور نوعیت میں بالکل ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن دونوں کے معنی مختلف ہیں پہلا بانت جدا ہونے اور دوسرا بانت ظاہر ہونے کے معنی میں ہے۔

رَاحَتْ أَزِمَّةُ رَاحَتِي مِنْ رَاحَتِي
كَذَلِكَ كُلُّ مُوَدِّعِ الْأَخْدَانِ

(میری ہتھیلی (ہاتھ) سے آرام وراحت کی لگامیں چلی گئی اور معشوقوں کو الوداع کہنے والے ہر شخص کا یہی حال ہوتا ہے) اس میں راحت اور راحتہ میں جناس محرف ہے اس لیے کہ راحت فعل ہے اور راحتہ اسم ہے اور دونوں راحتہ میں جناس متماثل ہے اس لیے دونوں تعداد حروف، ہیئت اور نوعیت میں مشابہ ہیں اور معنی میں مختلف ہیں پہلا راحتہ آرام کے معنی میں اور دوسرا راحتہ ہتھیلی کے معنی میں ہے۔

إِذْ مَا دَدٌ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْ دَدٍ
إِذْ جِئْتُ أَمْدَحُ زُحْلَةً لِأَوَانِي

(اس لیے کہ نہ کھیل کود مجھ سے ہے اور نہ میں کھیل کود سے ہوں کیونکہ میں اس عظیم شخصیت کی مدح سرائی کے لیے حاضر ہوا ہوں جو زمانہ کے لیے مرجع ہے) حدیث شریف میں ہے:

”لَسْتُ مِنْ دَدٍ وَلَا دَدٌ مِنِّي“ [مجمع الزوائد هيثمي، ج: 8، ص: 229، بحوالہ قصیدتان رائعتان]

(میں کھیل کود سے نہیں ہوں اور نہ کھیل کود سے ہوں) اس لیے پہلے مصرع میں اقتباس کی صنعت ہے اس لیے کہ قرآن کی آیت یا اس کا جز یا حدیث یا اس کا کوئی حصہ ذکر کرنے کو اقتباس کہتے ہیں

الْوَدْقُ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِ سَحَابِهِ
فَالرَّعْدُ يَنْدُبُ أَيْنَ مَنْ ظَمْآنِ

(اس (ممدوح) کے جودوسخا کے بادل کے درمیان سے بارش نکلتی ہے اور بجلی کی کڑک پکارتی ہے کہ پیاسے کہاں ہیں کہ (میں سیراب کروں) پہلے مصرع میں "الْوَدْقُ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِ سَحَابِهِ" قرآن کی آیت "فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ" [سورۃ النور: 43] کا حصہ ہے جو شعر میں ذکر کیا گیا ہے لہذا یہاں بھی اقتباس کی صنعت ہے۔

يَأْتِيهِ قَلْبٌ كَالْهَشِيمِ فَيَنْثَنِي
خَضِرًا نَضِيرًا نَاعِمَ الْأَغْصَانِ

(ان کے پاس کوئی خشک گھاس کی طرح دل آتا ہے تو سرسبز تروتازہ نرم شاخوں والا ہو کر واپس لوٹتا ہے) اس شعر میں ہشیم (خشک گھاس) اور خضرا (سرسبز)، نصیرا (تروتازہ)، ناعم (نرم) کے درمیان تضاد و طباق ہے اس لیے کہ دو متقابل اور متضاد چیزوں کے ذکر کرنے کو طباق یا تضاد کہتے ہیں اور یاتی اور ینثنی کے درمیان بھی تضاد ہے اس لیے کہ یاتی کے معنی آنے اور ینثنی کے معنی لوٹنے اور واپس جانے کے ہیں

أَرْفِقْ بِنَفْسِكَ يَا مُذَكِّرَ هَمِّهِ
هُوَ عَالِمُ الْأَسْرَارِ وَالْإِعْلَانِ

(اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اے اس کے غم کو یاد دلانے والے! اپنی جان پر نرمی کر وہ ذاتِ بابرکت پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کی جاننے والی ہے تو پھر غم کس بات کا؟) اس میں الأسرار (پوشیدہ چیزیں) اور الأعلان (ظاہر چیزیں) کے درمیان تضاد ہے۔

لَيْلٌ إِذَا أَرْخَى سِتَارَ ظَلَامِهِ
رَفَعَ السِّتَارَةَ عَنْ نُجُومِ مَعَانِ

(وہ ایسی رات ہے کہ جب اس میں تاریکی کے پردے ڈالے تو معانی کے ستاروں سے پردے اٹھا دیے) اس میں أرخى ستار اور رفع الستارة کے درمیان تضاد و طباق ہے اور نجومِ معان میں تشبیہ ہے اس لیے کہ معانی کو ستاروں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ جس طرح ستاروں سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے اسی طرح معانی سے بھی حاصل ہوتی ہے۔

سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے جن اصنافِ سخن میں طبع آزمائی فرمائی ہے ان سب میں معانی کے مطابق کلمات و الفاظ کا استعمال فرمایا ہے، حمد و ثنا میں اللہ تعالیٰ کی جلالتِ شان پر دلالت کرنے والے الفاظ، بارگاہِ رب العزت میں اپنی عاجزی، بندگی اور مسکینیت پر دلالت کرنے والے الفاظ کے ساتھ اس کے محبوبین و مقربین کو دعا کی مقبولیت کے لیے وسیلہ بنایا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

اَلْحَمْدُ لِلْمُتَوَحِّدِ بِجَلَالِهِ الْمُتَفَرِّدِ
وَصَلَاةُ مَوْلَانَا عَلَى خَيْرِ الْأَنَامِ مُحَمَّدٍ
وَالْآلِ أَمْطَارِ النَّدَى وَالصَّحْبِ سُحُبِ عَوَائِدِ
لَا هُمَّ قَدْ هَجَمَ الْعِدَى مِنْ كُلِّ شَأْوٍ أَبْعَدِ
لَكِنَّ عَبْدَكَ آمِنٌ إِذْ مَنْ دَعَاكَ يُؤَيَّدِ
لَا أَخْتَشِي مِنْ بَأْسِهِمْ يَدُ نَاصِرِي أَقْوَى يَدِ
فَإِلَى الْعَظِيمِ تَوَسُّلِي بِكِتَابِهِ وَبِأَحْمَدٍ
وَبِمَنْ أَتَى بِكَلَامِهِ وَبِمَنْ هَدَى وَبِمَنْ هُدِي
وَبِطِيبَةٍ وَبِمَنْ حَوَتْ وَبِمِنْبَرٍ وَبِمَسْجِدِ
وَبِكُلِّ مَنْ وَجَدَ الرِّضَا مِنْ عِنْدِ رَبٍّ وَاجِدِ
لَا هُمَّ فَادْفَعْ شَرَّهُمْ وَقِنِي مَكِيدَةَ كَائِدِ

(سب خوبیاں اس ذات کے لیے جو یکتا ہے، اپنے جلال میں منفرد ہے؛ ہمارے مالک و مولیٰ تبارک و تعالیٰ کی رحمتِ کاملہ نازل ہو محمد مصطفیٰ ﷺ پر جو مخلوق میں سب سے بہتر ہیں؛ اور ان کی آل پر جو عطا و بخشش کی بارشیں ہیں اور آپ کے ان اصحاب پر جو منافع کے بادل ہیں؛ اے اللہ! دشمنِ قریب و بعید ہر جانب سے حملہ آور ہو چکے ہیں؛ لیکن تیرا بندہ مامون و محفوظ ہے اس لیے کہ جس نے تجھے پکارا اس کی تائید اور حمایت کی جاتی ہے؛ میں ان کی طاقت و قوت سے نہیں ڈرتا اس لیے کہ میرے ناصر و مددگار کا دستِ قدرت سب سے طاقتور ہے؛ تو رب العالمین کی عظیم بارگاہ میں اس کی کتاب (قرآن) اور اس کے رسول احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کو وسیلہ بناتا ہوں؛ اور اس کو جو اس کا کلام لایا اور اس کو جس نے رہنمائی فرمائی اور ان کو جنہیں ہدایت ملی؛ اور مدینہ طیبہ اور اس کے باشندگان اور منبر رسول اور مسجد نبوی کو وسیلہ بناتا ہوں؛ اور ہر اس ذات کو وسیلہ بناتا ہوں جس نے اللہ رب العزت کی بارگاہ سے خوشنودی حاصل کی؛ تو اے اللہ! ان کے (دشمنانِ دین) کے شر کو دور فرما اور فریب کار و مکار کے مکر و فریب سے بچا)

تشریح و وضاحت

مذکورہ اشعار میں حذف و ایجاز ہے، مختصر الفاظ میں کثیر معانی کو بیان کیا گیا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ حضور اقدس ﷺ کی نعت بھی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے فضائل و مناقب اور ان کے وسیلہ سے دعا بھی ہے۔ والآل اور الصحب میں مضاف الیہ محذوف ہے اس کے عوض میں ”ال“ داخل کر دیا گیا ہے ”بمن اتی بکلامہ“ میں ”من“ سے مراد حضرت جبرئیل علیہ السلام ”بمن هدی“ میں ”من“ سے مراد حضور اقدس ﷺ اور ”بمن هُدي“ میں ”من“ سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔ ”لاهم“ کے بارے میں ناظمِ قصیدہ فرماتے ہیں ”لغة شائعة في اللهم“ (اللهم میں ”لاهم“ بھی ایک لغت ہے جو شائع و ذائع ہے) ناظمِ قصیدہ نے لاهم مختصر لغت کا استعمال فرمایا اس لیے کہ اگر اللهم فرماتے تو شعر ساقط الوزن ہو جاتا۔ اس کے علاوہ الآل کو امطار الندى اور الصحب کو سحب عوائد فرمایا ان دونوں میں استعارہ ہے۔

سیدنا غوثِ اعظم محبوبِ سبحانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں فرماتے ہیں:

مَنْ قَالَ لَيْسَ وَرَاءَ عَبَّادَانَ شَيْءٌ
أَنْتَ وَرَاءَ وَرَاءَ عَبَّادَانَ

(کس نے کہا کہ عبادان کے بعد کوئی شے نہیں آپ عبادان کے ماوراء ہیں) اس میں "لَيْسَ وَرَاءَ عَبَّادَانَ شَيْءٌ" ایک مثل ہے جو ایسے موقع پر استعمال ہوتی ہے کہ جب کوئی ایسے مقام و مرتبہ پر فائز ہو جائے کہ اس سے اونچا کوئی مرتبہ اس کے لیے تصور نہ ہو تو ليس وراء عبادان قرية بولتے ہیں۔ عبادان ایک بستی تھی جس کے بعد کوئی گاؤں نہیں تھا اس لیے مذکورہ بالا مفہوم کو ادا کرنے کے لیے اس مثل کا استعمال ہوا۔ چنانچہ ناظمِ قصیدہ خود اس کی وضاحت فرماتے ہیں ”مثل للعرب اذا ارادوا ان فلانا منتهى النهايات، قالوا ليس وراء عبادان قرية“ اس مثل کو بڑی برجستگی اور خوبصورتی سے استعمال فرمایا جس سے سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام و مرتبہ کی بلندی ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے شعر میں عقد کی صنعت ہے اس لیے نثر خواہ وہ قرآنی آیت ہو، یا حدیث یا مثل یا حکمِ مشہورہ میں سے کوئی حکمت ہو اس کو نظم کی صورت میں پیش کرنے کو عقد کہتے ہیں۔

اور اپنے پیر و مرشد کی شان میں فرماتے ہیں:

يَوْمًا أَحَاطَ بِيَ الْعِدَى وَدَنَا الرَّدَى
إِذْ جَاءَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَرَعَانِي

(اس دن جس دن دشمنوں نے مجھے گھیر لیا اور ہلاکت قریب ہو گئی تو اچانک اپنی چادرِ مبارک کھینچتے ہوئے تشریف لائے اور میری حفاظت فرمائی) اس شعر میں جاء کے ہمزہ کو تخفیفاً حذف کر دیا گیا ہے اور جاء يجر رداءه بھی ایک مثل اور محاورہ ہے جب کمالِ عجلت کو بتانا مقصود ہوتا ہے تو جاء يجر ردائه بولتے ہیں، اس میں بھی عقد کی صنعت ہے ۔

ذیل میں چند اشعارِ ہجو کے پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ کتنے عمدہ انداز میں مخالفین و معاندین کی ہجو کی ہے اور ان کے لیے ایسے الفاظ استعمال فرمائے جن کے وہ مستحق ہیں۔ فرماتے ہیں:

يَا لَلْحَيَا وَأَرَى عُرَاةً عَالَةً
يَتَطَاوَلُونَ عَلَيْهِ فِي الْبُنْيَانِ

(کس قدر شرم کی بات ہے کہ میں کچھ ننگے بھوکے لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اس محل (جو اس سے پہلے شعر میں مذکور ہوا) سے بلند عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں) اس شعر میں "عُرَاةً عَالَةً يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ" قیامت کی نشانیوں والی حدیث سے اقتباس ہے، حدیث شریف کا ایک حصہ یہ ہے "أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ" (قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ) باندی اپنے مالک کو جنے گی اور یہ کہ تم ننگے پاؤں، ننگے جسم والے تنگ دست چرواہوں کو دیکھو گے کہ لمبی اور بڑی عمارتوں کے بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ اور فخر کریں گے) اس شعر سے حضرت سیف اللہ المسلول علامہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان کے مخالفین ومعاندین کا رد شروع کیا ہے یہ دشمنانِ دین اپنی گستاخیوں سرکشی کی وجہ سے جن الفاظ و کلمات کے مستحق تھے ویسے ہی الفاظ و کلمات استعمال فرمائے لہذا اس شعر میں اقتباس کے ساتھ ائتلاف اللفظ مع المعنی کی صنعت واضح ہے۔ اس کے بعد والے اشعار میں بھی مخالفین کا رد ہے اس لیے اسی کے مناسب الفاظ استعمال فرماتے ہوئے رد فرمایا۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں:

فَتَرَاهُمُ رُسِنُوا بِأَرْسَانِ الْبَلَا
وَالْهَوْنِ كَالشَّيْطَانِ فِي أَشْطَانِ

(تو تو ان کو دیکھے گا کہ ذلت و رسوائی اور مصیبت کی رسیوں میں اس طرح باندھے اور جکڑے گئے ہیں جس طرح شیطان رسیوں میں جکڑا ہوا ہے) اللہ ورسول کی شانِ اقدس میں گستاخوں کا رد حضور سیف اللہ المسلول نے بھرپور کیا۔ جس سے وہ دشمنانِ دین ذلیل و رسوا ہوئے۔ اس ذلت و رسوائی کا داغ مٹانے کے لیے حضور موصوف کی شدید مخالفت پر آمادہ ہو گئے۔ انھیں کے بارے میں ناظمِ قصیدہ نے فرمایا ہے کہ وہ ذلت و رسوائی اور آفت و مصیبت کی رسیوں سے اس طرح جکڑے گئے جس طرح شیطان رسیوں میں جکڑا ہوا ہے، جس طرح شیطان کو کبھی عزت نہیں ملے گی ہمیشہ ذلیل و رسوا رہے گا اسی طرح یہ دشمنانِ دین ہمیشہ ذلیل و رسوا ہی رہیں گے کبھی معزز نہیں ہوں گے۔ ایسے گستاخوں کے لیے ناظمِ قصیدہ نے جن کلمات کا استعمال فرمایا ہے وہ بالکل معنی کے مطابق ہیں اس لیے اس شعر میں بھی ائتلاف اللفظ مع المعنی کی صنعت ہے ساتھ ہی ارسان اور اشطان میں سجع ہے اور شیطان اور اشطان میں جناس غیر تام کی قسم قلب البعض بھی ہے اور ساتھ ہی تشبیہ بھی:

فَأَمِيرُهُمْ وَبَشِيرُهُمْ وَنَذِيرُهُمْ
كُلٌّ بِرُمَّتِهِ رَبِيظُ هَوَانِ

(تو ان کا امیر ان کا بشیر اور ان کا نذیر سب کے سب ذلت و رسوائی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں) اس میں تین الفاظ امیر، بشیر، اور نذیر، ہم وزن ہیں ان تینوں کے قریب کے معانی پیشوا، خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا اور دور کے معانی مولوی امیر حسن سہوانی، مولوی بشیر قنوجی اور مولوی نذیر حسین دہلوی ہیں، یہ تینوں اسماعیل دہلوی کے حامی اور حضور سیف اللہ المسلول کے شدید مخالف تھے اور یہاں یہی مراد ہیں اس لیے اس میں توریہ کی صنعت ہے۔ مترجم نے تشریح میں بتایا ہے کہ ”مصرع اول میں امیر، بشیر اور نذیر کے لفظی معنی مراد ہیں مگر اس میں توریہ بھی ہے“ راقم الحروف کہتا ہے کہ لفظی معانی قریب کے معانی ہیں اگر یہ مراد ہوں گے تو توریہ ہوگا ہی نہیں اس لیے کہ توریہ میں بعید کا معنی مراد ہوتا ہے۔ اس کے پیش نظر شعر کا معنی یہ ہوگا ان کا امیر ان کا بشیر اور ان کا نذیر سب کے سب ذلت و رسوائی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس میں بھی توریہ ائتلاف اللفظ مع المعنی کی صنعت واضح ہے۔

ذیل میں چند اشعار حماسہ (دلیری و بہادری) کے پیش کیے جا رہے ہیں جن میں ناظمِ قصیدہ نے مقام و محل کے اعتبار سے دلیری اور بہادری کے کلمات کو بحسن و خوبی استعمال فرمایا ہے چنانچہ دشمنانِ دین اور ممدوح کے مخالفین و معاندین کو چیلنج دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

هَا فَلْيَكِدْنِي مَنْ يَشَاءُ
وَلْيَعْلُ وَلْيَسْتَنْجِدِ
وَلْيَجْمَعَنَّ شُرَكَاءَهُ
أَنَا فِي حِمَايَةِ وَاحِدِ
فَلْيَدْعُ نَادِيَ نَجْدِهِ
نَدْعُو زَبَانِيَ أَنْجُدِ
أُسَيْدٍ صَؤُولٍ ضَامِرٍ
بَطَلٍ كَأَغْبَرَ آسِدِ
فَضْلُ الرَّسُولِ هُوَ الَّذِي
وَالْإِلَهُ كُلٌّ مُسَدِّدِ

(سن لو! جو چاہے میرے ساتھ مکر و فریب کرے اور بغاوت و سرکشی کرے اور دلیری کرے؛ اور اپنے شریکوں اور مددگاروں کو جمع کر لے، میں صرف ایک ذات کی حمایت و پناہ میں ہوں؛ وہ اپنے نجد کی انجمن (والوں) کو پکارے، ہم (حق و صداقت) کے بہادر سپاہی کو پکارتے ہیں؛ بہادر، بھوکے، سخت حملہ آور شیر کو پکارتے ہیں جو خاکستر رنگ والے شیروں کی طرح شدید ترین حملہ آور ہے؛ فضلِ رسول وہ ہیں جن سے ہر راہِ حق پر چلنے والے کو محبت ہے) ان تمام اشعار میں ائتلاف اللفظ مع المعنی کی صنعت پورے طور پر موجود ہے اور فَلْيَدْعُ نَادِيَ نَجْدِہ والے شعر میں اقتباس کی صنعت بھی ہے۔ أُسَيْدٍ صَؤُوْلٍ والے شعر میں استعارہ بھی ہے اور تشبیہ بھی۔ سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے عربی شاعری میں کچھ جدت بھی پیدا کی ہے وہ یہ ہے کہ عربی شاعری میں مستزاد اور ردیف نام کی کوئی چیز نہیں اور نہ ہی عرب شعرا تخلص کے طور پر اپنا نام ذکر کرتے ہیں مگر آپ نے مستزاد اور ردیف پر مشتمل اشعار بھی کہے اور تخلص کے طور پر نام بھی ذکر فرمایا ہے سب سے پہلے ان تینوں الفاظ کی وضاحت کر دوں تاکہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے۔

مستزاد:- غزل، قصیدہ، نعت یا منقبت کے ہر مصرع یا شعر کے بعد ایسا زائد ٹکڑا لگا ہوا ہو جو اسی مصرع کے رکنِ اول اور رکنِ آخر کے برابر ہو مثلاً:

حَمْدًا يَا مُضِلُّ عَبْدَ الْقَادِرِ يَا ذَا الْأَفْضَالِ
يَا مُنْعِمُ يَا مُجْمِلُ عَبْدَ الْقَادِرِ أَنْتَ الْمُتَعَالِ
مَوْلَايَ بِمَا مَنَنْتَ بِالْجُودِ
عَلَيْهِ مِنْ دُونِ سُؤَالِ
أُمْنُنْ وَأَجِبْ سَائِلَ عَبْدَ الْقَادِرِ جُدْ بِالْآمَالِ

ردیف:- وہ لفظ جو غزل یا قصیدہ وغیرہ کے مصرعوں یا بیتوں کے اخیر میں قافیے کے پیچھے بار بار آئے مثلاً:

لِتَكُنِ الرُّوحُ وَالْقَلْبُ مِنِّي فِدَاءً لِسَيِّدِ الْبَطْحَاءِ
وَلِتَكُنْ هَامَةُ هَذَا الْمَكْدُودِ الْقَدَمِ لِسَيِّدِ الْبَطْحَاءِ
لَنْ تَتَّسِعَ قَطْرَةٌ لِمَدِيحِ الْخِضَمِّ
وَلَا لِوَصْفِ رَبِّ سَيِّدِ الْبَطْحَاءِ
طَائِرُ السِّدْرَةِ أَوَّلُ مَا تَرَنَّمَ
تَغَنَّى بِخِصَالِ سَيِّدِ الْبَطْحَاءِ

تخلص:- شاعر کا وہ نام جو نعت و منقبت اور قصیدہ وغیرہ کے آخری شعر میں مذکور ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منظوم کلام یہاں سے ختم ہو جائے گا مثلاً:

دَعْ عَنْكَ مِثْلَ (رِضَا) كُلَّ مَا هُوَ شَاغِلُكَ
وَاطْلُبْ فِي كُلِّ أَمْرِكَ رِضَا سَيِّدِ الْبَطْحَاءِ

حاصلِ کلام یہ کہ سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل میں ایسے علوم و فنون اور ان میں مہارتِ تامہ کی نعمت عطا فرمائی جس کی نظیر نہ آپ کے زمانۂ اقدس میں نظر آئی اور نہ آپ کے بعد اب تک نظر آئی بلا شبہ آسمانِ علم فن کے آفتاب اور ہر علم و فن کے امام نظر آتے ہیں یہ مبالغہ آرائی نہیں بلکہ حقیقت بیانی ہے۔ سچ فرمایا۔

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

عربی زبان و ادب میں یدِ طولیٰ اور مہارتِ تامہ پر آپ کی عربی تصنیفات اور عربی شاعری شاہدِ عدل ہیں، آپ کی عربی نثر نگاری اور شاعری، عربی زبان و ادب کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ ربِ کریم اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل ہم تمام اہلِ سنت و جماعت کو مجددِ اعظم اور مصنفِ اعظم کے فیوض و برکات سے مستفیض فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وعلیٰ آلہ واصحابہ واھل بیتہ اجمعین۔

رضوان احمد نوری شریفی (خادم الجامعۃ البرکاتیہ گھوسی)
15/ محرم الحرام 1440ھ بمطابق 26/ ستمبر 2018ء
موبائل نمبر: 9839178545

امام احمد رضا کی شان میں مفتی شبیر حسن صاحب قبلہ کے کلمات

امام احمد رضا کی ذاتِ والا صفات عالمِ اسلام میں محتاجِ تعارف نہیں۔ محققین و محبّین نے مختلف جہات سے قوم کے سامنے تعارف پیش فرمایا لیکن حق یہ ہے کہ "حقِ تعارف کما حقہ" اب تک ادا نہ ہو سکا۔ میں اپنے اس دعوے کو بحمد اللہ مبرہن کر سکتا ہوں۔ چونکہ تعارف و تعریف معرفت کی فرع ہے اور کسی شے کی جب تک معرفت صحیح نہ ہو جائے اس کی صحیح تعریف و معرفت کیسے کرائی جا سکتی ہے؟ مگر جب مقتدر محققین نے تعارف پیش فرمایا، الحمد للہ فقیر کا بھی ایک مضمون "امام احمد رضا بحیثیت منطقی و فلسفی" کے عنوان سے شائع ہوا، بعض محبّین نے اظہارِ خیال فرمایا کہ وہی مضمون مزید بسط و شرح کے ساتھ پھر شائع کیا جائے۔ مجھ بے بضاعت کے لیے یہ امر بڑا ہی دشوارِ عسیر کہ بڑے بڑے دانشورانِ قوم اور ماہرینِ زمانہ نے اس میدان میں تگ ودو کی، سب نے قلم اٹھایا اور بالآخر انہیں کہنا پڑا کہ:

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!