| عنوان: | حافظ ملت کے علمی افادات |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
حافظ ملت کے علمی افادات (قسط: اول)
حافظ ملت نے پوری زندگی درس و تدریس اور تقریر و تبلیغ کا شغل رکھا۔ مصروفیات بہت زیادہ تھیں، مبارک پور تشریف لائے تو تیرہ اسباق روزانہ پڑھاتے جس میں سب سے چھوٹا سبق شرح جامی کا تھا۔ آپ کے بڑھتے ہوئے اثرات اور علمی وجاہت دیکھ کر دیوبندی مکتب فکر کے مولوی شکر اللہ مبارک پوری نے تقریروں کے ذریعے مذہبی چھیڑ چھاڑ شروع کر دی اور پھر دونوں طرف سے مقابلے کی تقریریں شروع ہو گئیں۔ ایک دن حضرت کی تقریر ہوتی اور ایک دن مولوی شکر اللہ کی۔ اس وقت حضرت کے طلبہ بھی بڑی محنت و مستعدی کے ساتھ حضرت کی معاونت کرتے، حافظ ملت فرمایا کرتے کہ ”وہ طلبہ میرے لیے قوتِ بازو تھے“۔ مخالف مقرر کی پوری تقریر نوٹ کرتے اور شام کو سارے مشاغل سے فراغت کے بعد حضرت اُسے سنتے، عصر سے مغرب تک کی درمیانی مدت جوابی تقریر کی سماعت اور جواب الجواب کے لیے طلبہ کی تیاری میں صرف ہوتی۔ اگرچہ یہ سلسلہ مسلسل ساڑھے چار ماہ تک تھا، مگر تدریسی مشاغل، غیر درسی اوقات میں چھوٹی کتابوں کی تدریس، اہل محلہ اور ملاقاتیوں کی دل داری اور اس طرح کے بہت سے مشاغل کا ہجوم رہتا۔ غالباً 1393ھ میں ایک بار بزمِ امجد یہ عزیزیہ (واقع محلہ جگلانی، جمشید پور) کی دعوت پر حضرت جمشید پور تشریف لے گئے تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا، بعد ملاقات، نماز مغرب جگلانی جامع مسجد میں حضرت کے پیچھے ادا کی۔ حضرت نماز پڑھ کر اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔ میں امام جامع مسجد حضرت مولانا محمد حسین صاحب عظمی سے گفتگو اور حضرت کے حالات پر تبادلہ خیال میں مصروف ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ حافظ ملت نے کوئی خاص تصنیفی سرمایہ نہیں چھوڑا جس کے باعث ان کے افادات اور علوم سے آنے والی نسل محروم رہ جائے گی۔
کثرت تصنیف سے موانع
اس گفتگو کے بعد میں حضرت کی قیام گاہ پر حاضر ہوا تو حضرت نے فرمایا: ”بفضلہ تعالیٰ تصنیفی صلاحیت مجھے ضروری ملی اور قلم کی قوت بھی......“ یہ کہہ کر فرمایا: ”کیا کہوں، ہر حال مجھے لکھنے پر قدرت تھی، جس کا نمونہ ”العذاب الشدید“ ہے، اسے ”مفتاح الحدید“ کے جواب میں چند ایام کی مختصر مدت میں تیار کیا، مگر چونکہ اسے عجلت میں لکھا تھا اس لیے خاطر خواہ نہ ہوئی، کتاب اپنے تلمیذِ عزیز مولانا محبوب احمد صاحب کے نام سے منسوب کر دی۔ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (حضرت کے استاذ گرامی مولانا امجد علی صاحب قبلہ متوفی 1367ھ) نے کتاب دیکھ کر فرمایا: ”کتاب بڑی محرکِ الآرا اور جلیل القدر ہے، حافظ صاحب کو اسے اپنے نام سے شائع کرنا چاہیے تھا۔“
ارشد (رئیس التحریر مولانا ارشد القادری صاحب) کا کہنا ہے: ”اس کتاب نے مجھے مناظرہ سکھایا۔“
قوت تصنیف کے باوجود، جو ہمیشہ عوامل و موانع در پیش رہے، مصروفیات نے گھیرے رکھا، جس کے باعث میں کچھ لکھ نہ سکا، ایک طالب علم نے (حضرت نے نام بتایا تھا، مگر مجھے یاد نہ رہا) مرقات (علامہ فضلِ امام خیر آبادی کی شرح مصنف مولانا عبدالحق خیر آبادی، جس کا درجہ قاضی مبارک کے مساوی ہے) پڑھنا شروع کی تو ان کے اصرار پر میں نے شرح مرقات کا حاشیہ لکھنا شروع کیا، مگر طالب علم موصوف فراغت حاصل کر کے چلے گئے، جس کے باعث یہ حاشیہ نامکمل رہ گیا اور پھر کوئی ایسا باذوق طالب علم نہ ملا کہ اس کے لیے حاشیہ کی تکمیل ہو سکے۔
اس میں شبہ نہیں کہ حضرت کی جو بھی تحریریں، مقالے اور خطوط وغیرہ پیش نظر ہیں وہ انشا پردازی کا بہترین نمونہ ہیں۔ اور ان کی مصروفیات سے بھی اہل تعلق باخبر ہیں، ورنہ یقیناً ہمارے لیے عظیم تصنیفی سرمایہ بھی ضرور چھوڑ جاتے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ حافظ ملت نے اگرچہ زیادہ تصنیفات نہ چھوڑیں مگر بے شمار مصنفین ضرور پیدا کر دیے۔ طلبہ کے اندر تحریری ذوق پیدا کرنے میں ہمیشہ ان کا زبردست ہاتھ رہا۔ خصوصاً جس طالب علم کے اندر تصنیفی صلاحیت اور تحریری ذوق دیکھتے اُسے اسی طرف لگا دیتے جس کے باعث آج حافظ ملت کے تلامذہ میں اردو، عربی، فارسی کے جید اہل قلم دیکھے جا سکتے ہیں۔ مولٰی تعالیٰ تمام حضرات کی کاوشیں بروئے عام لائے اور انھیں افادہ عامہ کے اجر سے نوازے۔ وہو الموفق و خیر معین۔
درسی افادات
حضرت کی تقریر، تحریر اور گفتگو کی طرح تعلیم بھی حسنِ ایجاز، اور کمالِ تفہیم دونوں کی جامعیت کا بے مثال نمونہ تھی۔ بعض مقامات پر خصوصی بسط اور تفصیل سے کام لیتے، اگرچہ اس بسط کے الفاظ اور ان کے معانی کا تناسب دیکھا جائے تو اسے بھی ایجاز ہی سے موسوم کرنا پڑے گا۔ الغرض حضرت کا اطناب ہو یا ایجاز بہت جاندار اور باریک تحقیقات کا حامل ہوتا۔ مگر یہ ہماری ناقابلِ تلافی کوتاہی اور لا پروائی ہے کہ حضرت کے خطبات، ملفوظات اور واقعات کی طرح ہم نے یہ افادات بھی قید تحریر سے آزاد رکھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت غور و خوض اور حافظہ پر زور ڈال کر بھی صرف چند افادات آج قلم کی گرفت میں لا سکا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے قوی الحافظ حضرات کا بھی یہی حال ہوگا کہ سو ڈیڑھ سو سے زیادہ نہ کر سکے ہوں گے، خیر اس طرح بھی اگر متعدد تلامذہ نے کوشش کی ہے تو افادات کا ایک ضخیم مجموعہ تیار ہو سکتا ہے۔
سوال سے زیادہ جواب دیا جا سکتا ہے
بخاری شریف کی حدیث ہے:
عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ فَقَالَ لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ فَإِنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ. [رقم الحديث: 1542، ج: 1، ص: 25]
”حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی کریم ﷺ سے راوی ہیں، کہ ایک شخص نے حضور سے دریافت کیا: احرام باندھنے والا کیا پہنے؟ فرمایا: کرتا، عمامہ، پاجامہ، اور ٹوپی نہ پہنے، نہ ہی وہ کپڑا جس میں ورس اور زعفران لگا ہو۔ اگر جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انھیں کاٹ دے تاکہ ٹخنوں کے نیچے ہو جائیں۔“
اس حدیث پر دوسرے افادات اور مکمل تقریر کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ:
آخری حصہ فإن لم یجد النعلین (اگر جوتے نہ پائے) سائل نے دریافت نہیں کیا تھا، جواب میں ذکر فرمایا گیا تاکہ یہ مسئلہ بھی معلوم ہو جائے۔
اس پر فرمایا: ایک بار محمد آباد گوہنہ (مبارکپور سے قریباً 8 میل پورب واقع ہے) سے ایک استفتا آیا۔ رافضی کی نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ میں نے جواب میں دوسرے مباحث کے ساتھ لکھا: رافضی، قادیانی، وہابی، دیوبندی سب کی نمازِ جنازہ حرام، سخت حرام ہے۔
بعد میں معلوم ہوا یہ استفتا دیوبندی مکتب فکر کے کچھ لوگوں نے بھیجا تھا اور اس سے اُن کا مقصد سنی شیعہ فساد و اختلاف برپا کرنا تھا۔ مگر اس جواب سے اُن کی ساری اسکیم فیل ہو گئی۔ یہ تھا حافظ ملت کا حسنِ تدبر اور ان کی سیاسی بصیرت جسے ان کی سوانح کا مستقل موضوع بنایا جا سکتا ہے۔
قانونِ اصولِ فقہ
بخاری شریف میں یہ حدیث متعدد روایات و طرق سے بفرقِ اجمال و تفصیل مختلف مقامات پر آئی ہے:
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أُتِيَ بِلَحْمٍ تَصَدَّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ. [رقم الحديث: 2578، ج: 1، ص: 202]
”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں حضور ﷺ کے پاس ایک گوشت حاضر کیا گیا، جو حضرت عائشہ کی کنیز جناب بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا، فرمایا: اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
اس کی تفہیم کے لیے حضرت نے بجائے لمبی چوڑی تقریر کے اصولِ فقہ کا ایک ایسا قاعدہ بتایا جو آج تک یاد رہا اور بہت سے مواقع پر مفید ثابت ہوا۔ فرمایا: ”تبدلِ ملک سے تبدلِ عین ہو جاتا ہے حکماً۔“
جب وہ گوشت حضرت بریرہ کے قبضے میں پہنچا تو صدقہ ہوا اور جب انھوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو اب صدقہ نہ رہا بلکہ ہدیہ ہو گیا، اس لیے آقا ﷺ کے لیے اسے تناول کرنا جائز ہو گیا۔ اسی حدیث سے فقہا نے یہ اصول مستنبط کیا کہ ملکیت بدل جانے سے حکماً اصل حقیقت بدل جاتی ہے۔ فقہ کے بہت سارے مسائل اسی اصل اور قانون پر مبنی ہیں۔
ایک تاویل کا ردِ بلیغ
ترمذی شریف پڑھنے کے زمانے میں یہ حدیث بھی آئی:
أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ. [رقم الحديث: 158]
”ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو اس لیے کہ سخت گرمی جہنم کی تپش سے ہے۔“ تو کسی سے اس حدیث کی تاویل یوں سننے میں آئی کہ اگر سخت گرمی جہنم کی تپش کے باعث ہے تو ہر جگہ گرمی ہونی چاہیے، جب کہ کشمیر اور یخنی تال میں ٹھنڈک ہوتی ہے، اس لیے یہ حدیث برسبیلِ تفہیم و تمثیل ہے جیسے کہ جب خوش گوار ہوا چلتی ہے تو کہا جاتا ہے ”جنت سے ہوا آ رہی ہے۔“
مولانا فضلِ حق غازی پوری وغیرہ چند ساتھیوں نے حافظ ملت کے سامنے یہ تاویل پیش کرتے ہوئے استصواب کیا تو آپ نے فرمایا: ”تجھے یہ ہے۔“ (یہ طریقہ تجھے یوں ہی کا ہے کہ صریح نصوص کو ظاہر سے منحرف کر دیتے ہیں، اور بالکل بے سروپا تاویلات اڑاتے ہیں) اور اس کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اگلے سال جب بخاری شریف میں یہ حدیث آئی تو خود میں نے بھی سنا کہ حضرت نے تاویلِ مذکورہ پیش کرتے ہوئے فرمایا:
”یہ تاویل کسی طرح صحیح نہیں، گرمی کے موسم میں کشمیر اور یخنی تال میں بھی وہ ٹھنڈک نہیں رہ جاتی جو موسمِ سرما میں وہاں ہوتی ہے۔ بلکہ نسبتاً وہی فرق ہوتا ہے جو ہمارے یہاں جاڑے اور گرمی میں ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں بعض عوارض کی وجہ سے وہ موسم نہیں ہوتا جو ہمارے یہاں ہوتا ہے۔ حدیث کو بلا دلیل اس کے ظاہر سے پھیرنا ہرگز درست نہیں۔“
اپنی بڑائی کرنا بھی ایک موقع پر جائز ہے
درس گاہ میں ایک بار حضرت نے اس مسئلے سے متعلق افادہ فرمایا تھا جسے میں نے اسی دن لکھ رکھا تھا، خوش قسمتی سے یہ تحریر مل گئی جو یہاں نقل کر رہا ہوں۔ 15 جمادی الآخرہ 1389ھ / 30 اگست 1969ء بروز شنبہ۔ درسِ بخاری شریف میں حضور حافظ ملت نے فرمایا:
”مومن عزت اسی وقت حاصل کر سکتا ہے جب اعدائے دین کی تذلیل کرے۔ اور بروقتِ مقابلہ انھیں حقیر و ذلیل ثابت کر دے۔ اگر ان کے سامنے انکسار و تواضع سے پیش آئے تو اس میں اس کی ذلت ہے۔ محدثِ اعظم ہند علیہ الرحمہ (علامہ سید محمد صاحب کچھوچھوی شاگردِ رشیدی حضرت متوفی 1381ھ) کا بیان ہے کہ میرا عبد الشکور کاکوروی سے مناظرہ ہوا جس میں اس نے ”صرفی مسئلہ“ پر بحث کرتے ہوئے مجھ سے بطورِ طعنہ کہا کہ آپ نے شرح مائۃ بھی نہیں پڑھی، اس پر میں نے اس کی بھرپور تذلیل و تحقیر کی اور اپنے کو اس کے مقابلے میں بہت کچھ بڑھایا جس سے وہ رسوا ہو کر شکست خوردہ ہو گیا۔ میں نے مناظرہ میں فتح تو حاصل کر لی، لیکن میرے دل میں اپنے ان جملوں سے جو اپنی بڑائی میں کہہ ڈالے تھے، انقباض پیدا ہو گیا کہ میں کبر و عجب کا مرتکب ہوا جو قطعاً مذموم ہے۔ طبیعت میں ایک تکدر رہا کرتا تھا، جس کے باعث میں نے اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کی طرف رجوع کرنا چاہا۔ حاضرِ بارگاہ ہوا۔
وہاں تو دل کی دھڑکنیں دیکھی جاتی تھیں اور وسطِ دماغ پر ابھرتے ہوئے اعتراضات کا چشمِ بصیرت مشاہدہ ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ بعد میں فرمانے لگے: ”فقیر کو کبھی اپنی بڑائی پسند نہیں آئی، خدا کا فضل ہے جو کچھ ملا ہے اپنے کو اس پر غرور و ناز نہیں، تکبر و عجب بہت ہی مذموم ہے، آدمی کسی بھی بلند مرتبے پر پہنچ جائے اسے فخر نہیں کرنا چاہیے۔“ محدثِ اعظم بیان فرماتے ہیں: اتنے جملے سننے کے بعد میں دم بخود رہ گیا، اب تو مجھے پوچھنے کی بھی مجال نہ رہی اور میں اپنے نفس پر بہت زیادہ ملامت کرنے لگا۔ لیکن اعلیٰ حضرت نے پھر اس کے بعد فرمایا:
”مگر دشمنِ رسول اور اعدائے دین کے مقابلے میں کبھی انکساری نہیں برتنا چاہیے، وہاں تو شخص دینِ حق کا ذمہ دار ہوتا ہے، اسے دین کو بلند و برتر ثابت کرنا ہوتا ہے اور حمایتِ رسول ﷺ میں ان کی عظمتِ شان کا اظہار اس کا فریضہ ہوتا ہے، وہاں تواضع و انکسار سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ان کے مقابلے میں اپنے کو بلند و بالا کہنا جائز اور دینِ متین کی حمایت ہے۔“
محدث صاحب فرماتے ہیں: ”میں اتنا سننے کے بعد بہت مسرور ہوا۔ دل کا انقباض اور تکدر دور ہوا اور انشراحِ صدر ہو گیا۔“ فالحمد للہ علی ذلک۔
حلوا اور مٹھائی
بخاری شریف پارہ 22 میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ حدیث ہے:
كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ. [رقم الحديث: 5431]
”رسول اللہ ﷺ کو حلوا اور شہد پسند تھا۔“ رفیقِ گرامی مولانا عبد الستار پھرولیاوی ذکر کرتے ہیں (1391ھ / 1971ء میں) یہ حدیث پڑھاتے وقت حضرت نے فرمایا: اس سے حلوا کا مرغوب اور رسول اللہ ﷺ کا بھی پسندیدہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ مولانا عبد الرحمٰن پورنوی نے عرض کیا: حلوا کا معنی تو مطلق ”میٹھی چیز“ ہے معروف حلوا مراد نہیں۔ فرمایا:
”جب بھی تو حلوا کی پسندیدگی اور استحباب ثابت ہے کہ یہ بھی اسی مطلق کا ایک فرد ہے (بلا تخصیص) مطلق کا استحباب اس کے فردِ خاص کے استحباب کو مستلزم ہے۔“
جاری ہے
