| عنوان: | حافظ ملت کے علمی افادات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | زینب ظفر |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
دیگر افادات
جمعہ کی اذان ثانی اور حضرت کی فقہی بصیرت:
ایک بار درس گاہ میں حضرت نے فرمایا: بنارس سے کچھ لوگ آئے، انھوں نے کہا: امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل شہر سے فرمایا: "جب بین یدی الخطیب اذان ہو اس وقت نہ چلو بلکہ جب پہلی اذان ہو اس وقت چلو۔"
اس میں ”بین یدی الخطیب“ کا لفظ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب کے یہاں اذان ثانی خطیب کے قریب ہوا کرتی تھی۔ میں نے کہا: اس سے اذان ثانی کا بیرونِ مسجد ہونا ثابت ہوتا ہے، کوفہ جیسے شہر کے لوگ اذانِ ثانی سن کر اپنے گھروں سے مسجد چلتے، یہ لوگ اذانِ ثانی اسی وقت سن سکتے تھے جب بیرونِ مسجد ہوتی رہی ہو۔ اندرونِ مسجد کی اذان بھلا اس وسیع شہر میں لوگوں کے گھروں کے اندر تک کب پہنچتی کہ وہ سن کر آتے۔
اعلیٰ حضرت کا ترجمہ قرآن:
نیچریوں کا عقیدہ ہے کہ رام، کرشن وغیرہ بھی نبی تھے اس پر ”وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ“ سے استدلال کرتے ہیں کہ ہر قوم کے لیے ایک ہادی اور رسول ہے تو آخر ہندی قوم کے لیے بھی کوئی ہادی اور رسول ہوگا۔
وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ [سورۃ الرعد: 7]
حالانکہ کسی شخص کو بھی نبی ماننے کے لیے نصِ یقینی ضروری ہے، رام، کرشن وغیرہ کا تو کسی اسلامی دلیل سے وجود بھی ثابت نہیں اور جن غیر اسلامی ناقابلِ التفات کتابوں سے ان کا وجود معلوم ہوتا ہے خود اُن ہی کتابوں سے ان کے وہ حالات بھی معلوم ہوتے ہیں جو کسی نبی تو کیا، کسی ”مومن“ میں بھی نہ ہوں گے۔ بہرحال، حافظِ ملت نے ایک بار فرمایا: نیچریوں کے قول کی ساری بنیاد ”لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ“ پر قائم ہے۔ مگر اعلیٰ حضرت نے اپنے ترجمہ ہی سے ان کا سارا قصہِ استدلال بالکل منہدم کر دیا ہے۔ آیتِ کریمہ ہے: ”اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ“ اعلیٰ حضرت نے ترجمہ فرمایا: ”تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی۔“ یعنی یہ فرمان صرف ہمارے رسولِ گرامی ﷺ سے متعلق ہے کہ تم ہر قوم کے لیے ہادی اور نذیر ہو۔ اب ”وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ“ سے نیچریوں کے استدلال کی گنجائش ہی نہ رہی۔
حاضر و گواہ:
انجمنِ امجدیہ، بھیرولی پور، عظیم گڑھ کے اجلاس میں ایک بار حضرتِ الاستاذ، مفتی عبد المنان صاحب قبلہ دام ظلہ نے آیتِ کریمہ
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا [سورۃ الفتح: 8]
پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ شاہد کا معنیٰ حاضر ہے، نمازِ جنازہ کی وہ دعا جس میں ہے ”لِشَاہِدِنَا وَغَائِبِنَا“ (مغفرت فرما) ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاہد بمعنیٰ حاضر آتا ہے لہٰذا آیتِ کریمہ سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو حاضر و ناظر بنا کر بھیجا۔ بعدہٗ حافظِ ملت نے تقریر کی تو حضرت نے مفتی صاحبِ قبلہ کی تحسین کے ساتھ حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: یہیں مان لو کہ شاہد کے معنیٰ گواہ ہیں۔ تو بتاؤ گواہ کون ہوتا ہے؟ کیا وہ شخص گواہ ہو سکتا ہے جو واقعہ کے وقت موجود نہ ہو؟ یا موجود ہو مگر بے چشم خود دیکھا نہ ہو؟ ہرگز نہیں۔ گواہ وہی ہوتا ہے جو واقعہ کے وقت حاضر بھی ہو اور ناظر بھی۔ لہٰذا ”اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا“ میں شاہد کے معنیٰ گواہ لینے پر بھی حضور ﷺ کا حاضر و ناظر ہونا اپنی جگہ بعینہٖ ثابت ہے۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
نمازِ نصفِ شعبان:
شبِ براءت 1393ھ میں اختلاف رہا، بعض اضلاع میں 29 رجب کو ہلالِ شعبان کی رویت ہو گئی تھی لیکن جمشید پور میں کوئی شرعی ثبوت نہ ملنے کے باعث 30 کے حساب سے شبِ براءت تھی۔
حافظِ ملت نے پندرہویں شعبان کے اجلاس (منعقدہ جمشید پور) میں شبِ براءت کی فضیلت پر تقریر فرمائی اور اس میں حاشیہ جلالین للعلامہ احمد الصاوی المالکی علیہ الرحمہ کے حوالے سے یہ حدیث پیش کی:
مَنْ صَلّٰى فِیْہَا مِائَةَ رَکْعَةٍ اَرْسَلَ اللہُ تَعَالٰى اِلَیْہِ مِائَةَ مَلَکٍ: ثَلٰثُوْنَ یُبَشِّرُوْنَہٗ بِالْجَنَّةِ وَثَلٰثُوْنَ یُؤَمِّنُوْنَہٗ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَثَلٰثُوْنَ یَدْفَعُوْنَ عَنْہُ اٰفَاتِ الدُّنْیَا وَعَشَرَةٌ یَدْفَعُوْنَ عَنْہُ مَکَایِدَ الشَّیْطَانِ. [صاوی، سورہ دخان، پ: 25]
جس نے اس شب میں سو رکعت نماز پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے پاس سو فرشتے بھیجتا ہے۔ تیس اسے جنت کا مژدہ سناتے ہیں، تیس اس کو عذابِ دوزخ سے مامون رکھتے ہیں، تیس آفاتِ دنیا سے اس کی حفاظت کرتے ہیں، اور دس فرشتے شیطان کے مکر و فریب سے اسے دور کرتے ہیں۔
حافظِ ملت نے فرمایا: ”ان عظیم فوائد کے پیشِ نظر شبِ براءت میں نماز پڑھ لینی چاہیے، سو رکعت پڑھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی، بس ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے۔ میں اس نماز کا پابند ہوں، امسال شبِ براءت میں اختلاف رہا، تو میں نے کل بھی سو رکعتیں پڑھیں اور آج بھی پڑھیں۔“
حافظِ ملت ایک زمانے سے بلاناغہ، شبِ براءت جمشید پور میں کیا کرتے۔ اسی شب میں مدرسہ فیض العلوم کا جلسہ دستار بندی منعقد ہوتا ہے جس میں حضرت کی شرکت لازمی سمجھی جاتی۔ میں نے چار سال تو خود مشاہدہ کیا کہ حضرت جلسہ گاہ تشریف لے جانے سے پہلے بعدِ مغرب فوراً اور کبھی ذرا دیر بعد یہ نماز ضرور پڑھتے۔ آخری سال 1395ھ جس میں حضرت کی طبیعت مشغول اور نقاہت زیادہ تھی، اس سال بھی یہ نماز فوت نہ ہونے دی۔ ”اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ اَدْوَمُہَا“ (بہترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ رہے) کا جلوہ اگر دیکھنا ہو تو کوئی حافظِ ملت کے شب و روز اور مشقتوں سے لبریز اعمالِ زندگی دیکھے۔
نشانِ سجدہ اور داغِ جبیں:
اسی سال 13 شعبان کو جب حافظِ ملت مدرسہ فیضِ العلوم میں تشریف فرما تھے، علامہ رشید القادری صاحب نے ایک صاحب کا ذکر کیا کہ یہ نمازوں کے تو پابند نہیں، مگر پیشانی پر ایک نمایاں داغ بنا رکھا ہے۔ حضرت نے فرمایا:
”بہت بری چیز ہے۔ قرآن میں اس علامتِ سجدہ کی تعریف کی گئی ہے جو چہرے میں نمایاں ہوتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ”سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ“ ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے۔ قرآنِ کریم میں ”فِیْ جِبَاہِہِمْ“ (ان کی پیشانیوں میں) نہیں ہے۔ حضرت کے پاس تفسیرِ صاوی شریف رکھی ہوئی تھی۔ فرمایا: اسی صاوی میں داغِ سجدہ کی مذمت میں ایک حدیث ذکر کی ہے۔“
یہ سن کر فوراً میں نے صاوی شریف سے یہ مقام نکالا۔
(سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ) وَہُوَ نُوْرٌ وَبَیَاضٌ یُعْرَفُوْنَ بِہٖ فِی الْاٰخِرَةِ اَنَّہُمْ سَجَدُوْا فِی الدُّنْیَا. [جلالین]
(ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے) وہ ایک نور اور سفیدی ہے جس سے آخرت میں اس کی شناخت ہوگی کہ انھوں نے دنیا میں سجدے کیے ہیں۔ (جلالین) علامہ احمد صاوی فرماتے ہیں:
اِخْتُلِفَ فِیْ تِلْکَ السِّیْمَا فَقِیْلَ: اِنَّ مَوَاضِعَ سُجُوْدِہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ تُرٰى کَالْقَمَرِ لَیْلَةَ الْبَدْرِ وَقِیْلَ ہُوَ صُفْرَةُ الْوُجُوْہِ مِنْ سَہَرِ اللَّیْلِ وَقِیْلَ: الْخُشُوْعُ الَّذِیْ یَظْہَرُ عَلَى الْاَعْضَاءِ حَتّٰى یَتَرَاءٰى اَنَّہُمْ مَرْضٰى وَلَیْسُوْا بِمَرْضٰى وَلَیْسَ الْمُرَادُ بِہٖ مَا یَصْنَعُہٗ بَعْضُ الْجَہَلَةِ الْمُرَائِیْنَ مِنَ الْعَلَامَةِ فِی الْجَبْہَةِ. فَاِنَّہٗ مِنْ فِعْلِ الْخَوَارِجِ. وَفِی الْحَدِیْثِ ”اِنِّیْ لَاَبْغَضُ الرَّجُلَ وَاَکْرَہُہٗ اِذَا رَاَیْتُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ اَثَرَ السُّجُوْدِ.“ [صاوی شریف، سورہ فتح، پ: 26]
اس علامت میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کے اعضائے سجدہ روزِ قیامت چودہویں کے چاند کی طرح روشن نظر آئیں گے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ چہرے کی زردی ہے جو شبِ بیداری کے باعث پیدا ہو جاتی ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے وہ خشوع مراد ہے جو اعضا پر نمایاں ہوتا ہے، جس سے کچھ ایسا خیال ہوتا ہے کہ وہ بیمار ہیں حالانکہ بیمار نہیں۔ اس سے وہ ”داغ“ مراد نہیں جسے بعض ریاکار جاہلین اپنی ”پیشانیوں“ میں بنا لیتے ہیں۔ یہ تو خوارج کا فعل ہے۔ حدیثِ شریف میں ہے: ”میں تو اس شخص کو دشمن اور ناپسند رکھتا ہوں جس کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) نشانِ سجدہ دیکھتا ہوں۔“
حضورِ حافظِ ملت کی توجیہ، علامہ احمد صاوی کی تصریح، اور اس حدیثِ پاک سے ہم لوگوں کو ایک عجیب انشراحِ صدر ہو گیا۔ مولانا رشید القادری صاحب نے کہا: میرے دل میں ایک انقباض رہتا تھا کہ قرآن علامتِ سجدہ کی تعریف کرتا ہے اور ہم لوگ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا داغِ سجدہ قرآن کا پسندیدہ اور محمود ہے۔ مگر آج شرحِ صدر ہو گیا کہ ”داغِ پیشانی“ تو مذکورِ قرآن ہی نہیں۔ بلکہ اس میں تو نورِ چہرہ کی تعریف فرمائی گئی ہے۔
موت کیا ہے؟
حافظِ ملت نے تقریروں میں بارہا اس پر روشنی ڈالی۔ فرماتے:
انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ جب کہا جاتا ہے: فلاں آدمی مر گیا تو بتاؤ جسم و روح میں سے کون سی چیز ہے جو مر گئی یعنی فنا ہوئی، کیا روح مر جاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اہلِ اسلام ہی نہیں بلکہ فلاسفہ کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ روح نہیں مرتی، پھر کیا جسم مر جاتا ہے؟ یہ بھی نہیں۔ اسے تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو، ہاتھوں سے ٹٹولتے ہو۔ تمام اعضا اپنی جگہ سلامت ہیں کوئی عضو فنا نہیں ہوا۔ پھر موت کیا ہے؟ میں کہتا ہوں موت جسم اور روح کے اختلاف کا نام ہے۔ جب تک روح اور جسم کا اتصال و اتفاق تھا، آدمی زندہ تھا۔ جب دونوں میں اختلاف اور جدائی ہو گئی کہہ دیا انسان مر گیا۔
معلوم ہوا اتفاق زندگی ہے اور اختلاف موت۔ ایک جسم و روح کا اختلاف شخص کی موت ہے۔ افرادِ خانہ کا اختلاف گھر کی موت ہے۔ ایک محلہ، ایک گاؤں، ایک شہر، یا ایک ملک کا اختلاف اس محلہ، گاؤں، شہر یا ملک کی موت ہے۔
مدرسہ اور مسجد:
حضرت کو مدرسہ اور تدریس سے پوری زندگی شغف رہا۔ بہت سارے مدارس کی بنیاد رکھی، کسی مدرسے کے جلسہِ تاسیس کی دعوتِ حتی الامکان رد نہ فرماتے۔ اور ایسے اجلاس میں مدرسہ کی اہمیت پر خصوصی تقریر کرتے۔
مسجد اور مدرسہ کی عمومی افادیت کا فرق بیان کرتے ہوئے حضرت سے ہم نے بار بار سنا کہ:
اگر کسی نے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا تو اس مسجد میں ہر نماز پڑھنے والے کا ثواب لے گا، لیکن اگر وہی شخص دوسری مسجد یا کسی دوسری جگہ نماز پڑھے تو اس کے نماز پڑھنے کا ثواب پہلی مسجد تعمیر کرانے والے کو نہ ملے گا۔ اور اگر کسی نے مدرسہ کی تعمیر میں حصہ لیا تو اس مدرسہ سے نماز و روزہ، احکامِ شرع، اور علومِ دینیہ سیکھ کر جانے والا ہر ایک طالبِ علم جہاں بھی رہے، جس جگہ نماز پڑھے، روزہ رکھے، اور کوئی کارِ خیر کرے، اس مدرسہ کی تعمیر میں حصہ لینے والا اس طالبِ علم کے ہر کارِ خیر کا ثواب پائے گا۔ اور خود اس مدرسہ کے اندر اساتذہ و طلبہ یا دیگر حضرات کے تعلّم و تعلیم اور عملِ خیر کا ثواب مزید برآں ہے۔
حافظِ ملت کے یہ افادی جملے معانیِ کثیرہ کا گنجینہ، حسنِ ایجاز کا بہترین نمونہ، فقہی دقتِ نظر، اور ان کی گہر شناسی کی شاندار مثال ہیں۔ ان مختصر جملوں کی اگر تفصیل کی جائے تو ایک مبسوط اور لمبی تقریر ہو سکتی ہے۔
خدا کے نافرمان سے متارکت اور دعائے قنوت:
حافظِ ملت فرماتے ہیں: مجھے دورِ طالبِ علمی میں تقریر کی پوری مشق ہو گئی تھی اور کسی بھی موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کر سکتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ لوگوں سے کہا: مجھے کوئی بھی موضوع دے دیا جائے ایک گھنٹہ تقریر کروں گا۔
لوگوں نے معروف ”دعائے قنوت“ میری تقریر کا عنوان تجویز کیا۔ میں نے اس پر ایک گھنٹہ برجستہ تقریر کی۔
”اس دعائے قنوت میں توکل، ایمان، شکر، کفرانِ نعمت، عبادت، نماز وغیرہ کا مضمون تو ہے ہی مگر میں نے ”وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ“ پر خاص روشنی ڈالی، بتایا کہ رب العالمین کے حضور کھڑے ہو کر روزانہ اقرار کیا جاتا ہے کہ ”ہم جدا ہوتے ہیں اور اس شخص کو چھوڑتے ہیں جو تیری نافرمانی کرے“ لیکن اس اقرار کے مطابق عمل کہاں تک ہوتا ہے۔ یہ تو ہر فاجر اور خدا کے نافرمان سے قطعِ تعلق کا اقرار ہے۔ اور کافر و مرتد تو سب سے بڑا فاجر اور نافرمانِ خدا ہے اس سے تعلق اور دوستی بھلا کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟“
یہ چند افادات میں نے برجستہ پیش کر دیے ہیں۔ اشرفیہ کے حافظِ ملت نمبر کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ افسوس کہ میں نے یہ کام پہلے شروع نہ کیا۔ ورنہ اس طرح کے اور بھی افادات ذہن میں محفوظ ہیں۔ خدا کرے انھیں جلد ہی کہیں لکھ کر پیش کر سکوں۔ آمین۔
ملفوظات و واقعات:
حضرت مولانا عبدالحق خیرآبادی:
معقولات میں حافظِ ملت کا سلسلہِ تلمذ بواسطہ صدر الشریعہ (م 1367ھ) از مولانا ہدایت اللہ خاں رامپوری (م 1326ھ) حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادی (متوفی 1278ھ) علیہم الرحمہ سے ملتا ہے۔ ان کے صاحبزادے مولانا عبدالحق خیرآبادی کے بارے میں فرمایا کہ وہ جامعہ ازہر مصر پہنچے۔ وہاں ایک جگہ منطق کی مشکل و اہم اور معرکۃ الآراء کتاب ”افق المبین“ پڑھائی جا رہی تھی۔ مولانا عبدالحق صاحب بھی اس درس گاہ میں پہنچے اور طلبہ کی صف میں بیٹھ گئے۔ استاذ کی ان سے کوئی شناسائی نہ تھی۔ دورانِ درس استاذ نے ایک تقریر کی اس پر مولانا نے اعتراض کیا، استاذ نے اس کا جواب دیا۔ اس جواب پر مولانا نے سات اعتراضات قائم کر دیے۔ استاذ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا: آپ مولانا عبدالحق خیرآبادی ہیں۔ ”افق المبین“ کے اس سوال پر میرے مذکورہ جواب کے بعد سات اعتراضات قائم کرنے والا آج دنیا میں مولانا عبدالحق خیرآبادی کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
طریقۂ اصلاح اور ظرافتِ طبع:
-
ایک بار ایک طالبِ علم نے ہدایۃ النحو پڑھتے وقت عبارت یوں پڑھی، ”مِنْ حَیْثُ الْاِعْرَابِ وَالْبِنَاءُ“ فرمایا: بتائے کیا؟ بگاڑ دیا۔ ہونا چاہیے تھا: وَالْبِنَاءِ۔
-
مدارکِ شریف ج: 3 ص: 20 (سورہ کہف) کی عبارت ہے: ”یَعْنِیْ اَنَّ قَوْلَہُمْ ہٰذَا لَمْ یَصْدُرْ عَنْ عِلْمٍ وَلٰکِنْ عَنْ جَہْلٍ مُّفْرِطٍ“ اسے میں نے یوں پڑھا ”عَنْ جَہَلٍ“ فرمایا: جَہَل پڑھنا خود جَہل ہے۔ اب عبارت درست کر کے میں نے پڑھ دیا ”عَنْ جَہْلٍ مُّفْرِطٍ“۔
-
ایک بار کہیں نماز پڑھی۔ امام صاحب کو اس نماز میں بہت زیادہ کھانسی آتی رہی یا کہا جائے کہ کھانستے رہے، بعدِ نماز حضرت نے فرمایا: ”امام صاحب کی کھانسی کھانسیوں کی امام ہے۔“ (بروایت مولانا تاج الحسین اختر مصباحی)
عیادت:
حافظ ابراہیم صاحب مبارکپوری مرحوم رشتے میں والد صاحب کے بھائی ہوتے ہیں۔ اکثر ہمارے گھر ان کی آمد ہوتی۔ بڑی محبت رکھتے تھے۔ ایک بار والد صاحب بیمار ہوئے، اور حافظ ابراہیم صاحب سے کہا کہ مبارک پور جا کر حافظِ ملت سے دعائے شفا کرائیں۔ اور ہو سکے تو حضرت سے ایک تعویذ لے کر بھیج دیں۔ موصوف نے حضرت سے پیغام عرض کیا اور تعویذ بھیج دیا۔ اس کے چند دنوں بعد حضرت کا محمد آباد گونڈہ ایک اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لانا ہوا۔ (مبارک پور سے براہِ ابراہیم پور محمد آباد جانے کے لیے راستہ میں خیرآباد سے تھوڑے دھمریا گھاٹ پڑتا ہے جہاں سے اتر کر نؤس ندی پار کر کے ہمارے وطن گھیرہ تک رسائی ہوتی ہے۔ ندی سے گھیرہ تک پیدل تقریباً ہر منٹ کا راستہ ہے) اس دن اچانک حافظِ ملت، اور حضرت مولانا سید حامد اشرف صاحب غریب خانہ پر تشریف لائے، اس وقت میں خیرآباد مدرسہ ضیاء العلوم میں زیرِ تعلیم تھا۔ آواز دی تو ننگے سر باہر نکلا حضرت کو ناگہاں دیکھ کر سخت تعجب ہوا، ملاقات کی اور حضرت اندر تشریف لائے، فوراً والد صاحب بھی ملے۔ والد صاحب کو دیکھ کر فرمایا: آپ کو صحت یاب دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ عیادت کے لیے محمد آباد کا رُخ چھوڑ کر یہاں آ گیا۔
سادگی اور محنت کی قدر:
والد صاحب نے کچھ مٹھائی منگائی اور وہی پیش کی۔ یہ قریباً تین بجے کا وقت تھا۔ چائے کے لیے میں دودھ کی تلاش میں نکلا۔ اس وقت گھیرہ میں چائے کا کوئی ہوٹل بھی نہ تھا۔ پورب محلہ سے پچھم محلہ اور دکھن محلہ تک میں نے دوڑ لگائی، پر مشکل تمام دکھن پورہ میں لعل محمد صاحب کے یہاں دودھ ملا، وہ بھی وہی جمانے کے لیے رکھا ہوا تھا۔ موصوف کے لڑکے محمد رفیق نے اس سے ایک پاؤ دودھ نکال کر دیا۔ اُدھر سے واپس آیا تو طولِ انتظار کے باعث سادی چائے حضرت کے سامنے رکھی جا چکی تھی۔ اب دودھ لے کر حاضر ہوا تو فرمایا: دودھ کی ضرورت نہیں، سادی چائے پی جا سکتی ہے۔ والد صاحب نے عرض کیا: ”بڑی محنت سے ملا ہے“ فرمایا: ”جب اس پر محنت صرف ہوئی ہے تو لاؤ“۔ یعنی محنت کی قدر ضروری ہے اور محنت رائیگاں نہیں کی جا سکتی۔
چند منٹ مزید قیام رہا۔ دعائیں دیں۔ مولانا سید حامد اشرف صاحب قبلہ سے بھی دعائیں کرائیں۔ اور ہم پیادہ پا محمد آباد کے لیے روانہ ہو گئے۔ محمد آباد گھاٹ تک میں نے مشائیت یا متابعت کا فریضہ انجام دیا۔ اس سخت عیادت پر حیرت ہوتی ہے کہ دھمریا گھاٹ سے گھیرہ پیدل آنا، اور پھر وہاں سے محمد آباد پیدل جانا ”کارے دارد“۔ میں وہاں کا باشندہ ہوں مگر جوانی میں بھی یہ مسافت طے کرنے کے لیے مجھے بڑی ہمت کرنی پڑتی ہے۔ ایک بار ادھر محترم مولانا تاج القادری نے میرے ساتھ محمد آباد سے گھیرہ پہنچنے وقت کہا: اگر آپ کا وطن نہ ہوتا تو شاید آپ بھی ایسی زحمت یہاں وہاں برداشت نہ کرتے، میں نے کہا: بالکل مگر حضورِ حافظِ ملت کے لیے صرف سنتِ عیادت کی ادائیگی میں یہ ساری زحمتیں گوارا تھیں۔ درحقیقت ان کے نزدیک ہر ایسے شخص کی بے پناہ قدر و قیمت جو نیت سے بھی ہمدردی رکھتا ہو اور سب کا سچا خادم ہو۔ کبھی کبھی یہ قدر شناسی و محبت انھیں اپنے خدا کی دل جوئی کے لیے ایسی مشقتیں جھیلنے پر بلا تکلف آمادہ کر دیا کرتا تھا۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا نَصِیْبًا مِّنْہُ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
