Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حافظ ملت تعلیمی ماحول میں (قسط: دوم)|محمد احسان مصطفیٰ

حافظ ملت تعلیمی ماحول میں (قسط: دوم)
عنوان: حافظ ملت تعلیمی ماحول میں (قسط: دوم)
پیش کش: محمد احسان مصطفیٰ

(۲) بحیثیت صدر المدرسین: صدر المدرسین کا عہدہ بڑا نازک اور اس کی ذمہ داریاں بڑی پیچیدہ ہوتی ہیں۔ لیکن حافظ ملت کی عملی زندگی کے آخری سات سال کو چھوڑ کر سارا عرصہ حیات اسی عہدے کے ساتھ گزرا ہے۔ صدر المدرسین کو ایک طرف مجلس انتظامیہ کی ہدایت اور احکام کے تحت مدرسین و طلبہ کو کار بند بنانا پڑتا ہے، دوسری طرف مدرسین و طلبہ کے مطالبات و ضروریات کی طرف انتظامیہ کو متوجہ کرنا ہوتا ہے، تیسری طرف مدرسین و طلبہ کی نگرانی اور ان کے کاموں میں درستی و ترقی لانا، علمی و عملی فضا قائم کرنا اور تعلیمی ماحول کو مؤثر و فعال بنانا بھی اس کا اہم فریضہ ہوتا ہے، اور کسی مدرس و طالب علم کی خامیوں سے متعلق سب سے پہلے اسے نوٹس لینا اور جواب دہ ہونا بھی پڑتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حافظ ملت نے ان پر پیچ ذمہ داریوں کو بڑی خوش اسلوبی اور کامیابی سے نبھایا ہے، بلکہ اپنے فرض سے زیادہ انھوں نے کام کیا ہے۔ دارالعلوم کے تعلق سے عوامی ارتباط میں انتظامیہ سے زیادہ حافظ ملت کا کردار رہا ہے۔ اور اشرفیہ کی ملک گیر شہرت، نیک نامی اور مسلمانوں کے اندر اشرفیہ کے لیے جذبۂ ایثار و تعاون کی فراوانی میں حافظ ملت کی مساعیِ جمیلہ اور ان کی دل آویز شخصیت کا بہت بڑا دخل ہے۔

دارالعلوم اشرفیہ کی تعمیر کے موقع پر مسلمانانِ مبارک پور کا جوش و حوصلہ حافظ ملت کی مخلصانہ جدوجہد کا ہی ثمرہ ہے، اساتذہ کا انتخاب بھی لیاقت و صلاحیت کی بنیاد پر ہوتا، اور حافظ ملت کے خلوص و محنت کا اثر سب پر پڑتا اور سبھی اپنے فرائض ذمہ داری سے انجام دینے کی کوشش کرتے۔

طلبہ کے اندر علمی و عملی اسپرٹ تیز کرنے کے لیے وہ ہر دو تین ماہ بعد ایک آدھ گھنٹے کے لیے انھیں جمع کر کے خطاب کرتے، یہ خطاب بڑا مؤثر ہوتا، اور “از دل خیزد، بر دل ریزد” کا عکس صاف دکھائی دیتا، اس میں عموماً جو کچھ وہ بیان فرماتے اس کا مفہوم اور حاصل حسب ذیل ہوتا:

اشرفیہ میں قابل اساتذہ کا ایک متحرک و فعال کارواں جمع ہے جن کی یہ یہ خصوصیات اور خوبیاں ہیں۔

(مدرسین کے ناموں کے ساتھ ان کے کمالات بتاتے اور یہ حافظ ملت کا خاص فن تھا کہ وہ ہر شخص کے قرار واقعی فضل و کمال سے خود بھی آشنا رہتے اور دوسروں کو بھی آشنا کراتے) اس کے بعد فرماتے کہ ان سے اکتسابِ فیض اور تحصیلِ کمال تمھارا فریضہ ہے، تم نے طلبِ علم کی راہ میں قدم رکھا ہے تو اسی میں منہمک رہنا چاہیے، اور اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہیے۔ ایک تاجر اپنی تجارت کے فروغ اور دولت کے حصول کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے، کبھی سر پر بوجھ بھی لاد کر چلتا ہے اور کبھی سخت سست بھی سنتا ہے، ذلت بھی اٹھاتا ہے مگر اپنے مقصد اور اپنے کام سے دست بردار نہیں ہوتا۔ ایک درزی اپنے کام کی تکمیل کے لیے ہر وقت لگا رہتا ہے۔ دکان دار صبح بیٹھ جاتا ہے تو شام کو اٹھتا ہے، کھانے سے اور راحت و آرام سے بھی بے پروا ہو جاتا ہے۔ بنکر اپنی بنائی کے کام میں لگا رہتا ہے اور ہر طرح کی زحمت و صعوبت برداشت کرتا ہے۔ جب سب کام والے اپنے کام میں بھرپور دلچسپی اور محنت سے لگے رہتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ طالب علم اپنے کام سے غافل رہے، اور اپنا وقت برباد کرے۔ دینی طلبہ پر مجھے افسوس ہے کہ یہ تحفظِ وقت کا خیال نہیں رکھتے۔ ایک بار میں کلکتہ کی ایک بلڈنگ میں ٹھہرا ہوا تھا، قریب کے کمرے میں ایک بنگالی طالب علم کا قیام تھا۔ وہ کچھ دیر سوتا اور پھر اٹھ کر پڑھنے لگتا، رات بھر زیادہ تر اس نے پڑھتے ہوئے ہی وقت گزارا، اسے اپنی تعلیم سے اس قدر لگن اور اس کے لیے اتنی محنت تھی تو ہمارے طلبہ میں ایسی لگن اور محنت کیوں نہیں آتی۔ انھیں بھی اپنی تعلیم سے شغف، اپنے مقصد کے ساتھ اخلاص، اپنے وقت کی قدر شناسی، اپنے کام سے دلچسپی ہونا چاہیے (اس مضمون کو بھی متعدد شواہد و واقعات کے ذریعہ مزید مؤثر انداز میں بیان کرتے)۔

علم کے بعد عمل کی ترغیب پر آتے تو فرماتے: عالم کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو اگر اس میں عمل نہیں وہ نہ عِنْدَ اللّٰهِ مقبول ہو سکتا ہے اور نہ عِنْدَ النَّاسِ۔ ایک مقرر ردِ وہابیہ میں تقریر کر رہے تھے اور ٹھوس دلائل، مضبوط شواہد اور دل نشیں اندازِ بیان کے ساتھ بولتے جا رہے تھے، تقریر بڑی کامیاب ہوئی۔ تقریر ختم ہوتے ہی ایک شخص مجمع سے اٹھا اور کہا مولانا ذرا اپنے سر کے بال تو دیکھیے، دیکھا تو سر پر انگریزی بال تھا، دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے کہا مولانا ذرا اپنا پاجامہ تو دیکھیے، پاجامہ ٹخنے سے نیچے تھا۔ ان کے اعتراضات سے مولانا کی تقریر کا جواب تو نہ ہوا، جو حقائق انھوں نے بیان کیے وہ غلط تو نہ ہو گئے۔ مگر ان کی ذاتی اور عملی خامیوں کی وجہ سے ان کی تقریر بے اثر ہو گئی۔

ہم نے صدر الشریعہ سے علم سیکھا اور عمل بھی سیکھا، ہر بات وہ بتاتے نہ تھے۔ ہم نے تو انھیں دیکھ دیکھ کر سیکھا ہے۔ انھیں عمامہ باندھتے دیکھا تو عمامہ باندھنا سیکھ لیا، انھیں سر جھکا کر وقار سے چلتے ہوئے دیکھا تو چلنا سیکھ لیا، انھیں کھاتے ہوئے دیکھا تو کھانے کا طریقہ سیکھ لیا (ظاہر ہے کہ یہ وہی کہہ سکتا ہے جو خود علم و تقویٰ کا جامع اور سنتِ نبوی کا پابند ہو، ان کا مقصد یہ تھا کہ تلمذ اور شاگردی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے علم کے ساتھ ہمارا کردار و عمل بھی حاصل کرو، اور علم و عمل کے جامع بنو، جب ہی تم خدا اور رسول کی خوشنودی اور اپنی دینی خدمات کے میدان میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو سکتے ہو)۔ اس طرح کی تقریروں کا اثر یہ ہوتا کہ طلبہ میں ایک علمی و عملی لہر پیدا ہو جاتی۔ اور کھیلنے والوں میں بھی کچھ سیکھنے، کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہو جاتا۔

وہ طلبہ کو خارج بھی کرتے تھے مگر حتی الامکان ان کی اصلاح کی کوشش کرتے، اور اس طرح نہیں کہ معاف کر کے علیٰ حالہٖ چھوڑ دیا بلکہ طالب علم کے لیے ایسا ماحول اور ایسے اسباب فراہم کرتے کہ وہ صحیح روش پر آ جائے اور بے کار ہونے کے بجائے کام کا آدمی بن جائے۔

وہ ادارہ کی کامیابی کے لیے مدرسین میں اتحاد و اتفاق اور ہر ایک کے اعزاز و اکرام کو ضروری سمجھتے تھے، اور ان کے زمانے میں یک جہتی یا کم از کم رواداری اور انس و الفت کی فضا برابر دیکھنے میں آتی۔

طلبہ کی ضروریات کے معاملہ میں بھی بہت حساس تھے۔ اور ایسا نہیں کہ جب طالب علم ان کے پاس درخواست لے کر آئے اور بار بار تقاضا کرے جبھی اس کی ضرورت پر غور و خوض ہو بلکہ کسی طرح بھی حافظ ملت کو ضرورت کا علم ہو جانا کافی تھا۔ اس کے بعد وہ از خود اس کی تکمیل کی طرف فوراً توجہ کرتے، فیصلہ میں دیر اور کام میں ٹال مٹول تو وہ جانتے ہی نہیں تھے، جو کرنا ہوتا فوراً کرتے اور با سلیقہ و صائب اور مکمل طور پر کرتے۔ یوں ہی جو ان کی رائے ہوتی اس کے دو ٹوک اظہار سے بھی ان کے لیے کوئی مانع نہ تھا اس میں ان کے فہم و تدبر کا بھی دخل تھا اور جرات و استقامت کا بھی، پیرایۂ بیان کی ندرت و بلاغت کا بھی اور عدل پسندی اور صاف گوئی کا بھی۔

اگر مطبخ سے متعلق کسی خرابی کا علم ہوا تو فوراً ذمہ داروں کو اس کے تدارک کی طرف متوجہ کرتے، دوسری کسی پریشانی کا پتہ چلا تو فوراً اس کے ازالے کی کوشش کرتے۔ ایک بار قحط کی وجہ سے کنوؤں کا پانی بہت کم ہو گیا۔ طلبہ کی ضروریات کے لیے دارالعلوم میں ایک ہی کنواں تھا، جو صبح دو گھنٹوں میں خالی ہو جاتا، اور پھر کیچڑ آنا شروع ہو جاتی۔ طلبہ مسجدوں میں جاتے تو وہاں بھی لوگوں کی ترش روئی اور سخت کلامی کا سامنا کرنا پڑتا، اس صورتِ حال کا ایک بار یوں ہی مولانا شمس الحق صاحب مرحوم نے حافظ ملت سے ذکر کر دیا۔ حضرت نے سن لیا اور مولانا کے جانے کے بعد ناظم اعلیٰ کو بلایا۔ اور ان سے ضرورت و پریشانی بتانے کے ساتھ ہی فرمایا کہ آپ ٹیوب ویل لگوائیے۔ ناظم اعلیٰ نے قبول کر لیا، اگرچہ بعد میں مولانا شمس الحق صاحب سے خاصی افسردگی کے ساتھ فرمایا کہ آپ کی وجہ سے مدرسے کا اتنے ہزار روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔ خیر ٹیوب ویل لگا اور بہت سی صعوبتوں کا خاتمہ ہوا۔ اسی طرح طلبہ کی شرارتوں کا محض انھیں علم ہو جانا کافی تھا، پھر وہ خود ہی ان کی سزا و اصلاح کی فکر کرتے، اور فضا کو علمی و عملی رخ سے پاکیزہ و بہتر بنانے میں ذرا بھی تغافل و بے پروائی روا نہ رکھتے۔ اور اگر شکایات بے جا و مبالغہ آمیز ہوتیں تو ان کا جواب بھی متانت و سنجیدگی کے ساتھ خود ہی دے کر معاملہ رفع دفع کر دیتے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!