| عنوان: | زہر میں گھلتی حیات (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ڈاکٹر محمد سبطین رضا مرتضوی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
فضا میں تحلیل ہوتا زہر جو ہمارے پھیپھڑوں میں سست روی سے موت اتار رہا ہے، پانی میں گھلتا مٹیالا پن جو زندگی کے سر چشموں کو ہی خشک کر رہا ہے اور جنگلوں کی ویرانی جو دھرتی کے سبز لباس کو تار تار کر رہی ہے۔ یہ سب محض الفاظ نہیں، بلکہ اس دھرتی کا گہرا کرب ہے جو صدیوں سے ہماری آماج گاہ رہی ہے۔ یہ وہی دھرتی ہے جس کے سینے سے پھوٹتے شفاف چشموں نے نسلوں کی پیاس بجھائی، جس کے زرخیز دامن میں پہنچتی حیات نے ہمیں سانس لینے کی مہلت دی اور جس کی گود میں انسانیت نے تہذیب کے چراغ روشن کیے۔
آج یہی خوبصورت کرۂ ارض ماحولیاتی خطرات کے بھنور میں پھنس چکا ہے، جو محض سائنسی اصطلاحات کا گورکھ دھندا نہیں، بلکہ ایک ایسی روح فرسا حقیقت ہے جو ہماری سانسوں کو بھی اجنبی بنا رہی ہے اور ہمارے مستقبل پر سیاہ بادلوں کی طرح منڈلا رہی ہے۔ ہم آج ایک ایسے سنگین موڑ پر کھڑے ہیں جہاں قدرت کا بے مثال حسن انسان کی بے فکری، ہوس کی بھوک، اور نام نہاد ترقی کی قربان گاہ پر اپنی موت آپ مر رہا ہے۔ زمین کا ہر گوشہ، فضا کا ہر ذرہ، اور پانی کا ہر قطرہ گویا انسان کی بے حسی اور غفلت پر نوحہ کناں ہے۔
ترقی کا زہر اور فضائی آلودگی کا عفریت
یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب انسان نے ترقی کی راہ پر پہلا قدم رکھا صنعتی انقلاب کی چکا چوند روشنی جس نے ہر گلی کو دھوئیں سے بھر دیا اور منافع کی دوڑ میں اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈالا۔ اور قدرتی وسائل کا اندھا دھند، بے رحمانہ استعمال ان سب نے مل کر ایک ایسا عفریت جنم دیا جس کا نام ماحولیاتی آلودگی ہے۔ فیکٹریوں کی چمنیوں سے اگلتا دھواں جو بادلوں کو بھی شرما دے، جو فضا میں ایک گھنی اور زہریلی چادر کی صورت چھا جائے اور سورج کی زندگی بخش کرنوں کو دھرتی تک پہنچنے نہ دے، جس سے سورج کی شفاف روشنی بھی مٹیالی لگنے لگے۔ شہروں میں ٹریفک کا زہر آلود غبار جو سانسوں کی نالیوں میں سکون کے بجائے گھٹن بھر دے اور ہنستے کھیلتے چہروں پر وقت سے پہلے بیماریوں کی لکیریں کھینچ دے، اور کھیتوں میں کیمیائی کھادوں کا بے دریغ استعمال جو مٹی کے زرخیز پن کو فنا کر دے، اسے بنجر و بے روح بنا دے۔ یہ سب مل کر ہماری فضا کو اس قدر مسموم کر چکے ہیں کہ اب سانس لینا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ زندگی کی یہ بنیادی ضرورت جو کبھی فطری اور بلا قیمت تھی آج ایک مہنگی نعمت بن کر رہ گئی ہے، جسے ہم فلٹرز اور ایئر پیوریفائر کے ذریعے خریدنے پر مجبور ہیں۔
فضائی آلودگی نہ صرف پھیپھڑوں کے امراض، دمہ، الرجی، اور کینسر جیسے موذی امراض کو دعوت دے رہی ہے، بلکہ انسانی زندگی کے معیار کو بھی پست کر رہی ہے۔ اس کا سب سے خوفناک نتیجہ عالمی حدت (Global Warming) کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ گلیشیر پگھل رہے ہیں جیسے دھرتی کے آنسو بہ رہے ہوں، ان کا پگھلنا سمندروں میں پانی کا طوفان برپا کر رہا ہے، سمندروں کی سطح بے تحاشا بلند ہو رہی ہے اور دنیا کے خوبصورت جزیرے جہاں کبھی زندگی رقص کرتی تھی اب ہستی سے مٹتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیاں اپنی تباہ کاریاں دکھا رہی ہیں کبھی آسانی اور سہولت کا فریب دیتا ہے مگر درحقیقت ایک گہرا زخم ہے، وہ بھی کچرے کا انبار بن کر ماحولیات کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسا بھوت ہے جو برسوں تک ختم نہیں ہوتا، زمین میں دبایا جائے تو بھی تحلیل نہیں ہوتا، اور سمندروں میں جا کر آبی حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ مچھلیاں اور دیگر آبی جاندار اسے غذا سمجھ کر نگل لیتے ہیں، جو ان کی موت کا سبب بنتا ہے اور یوں سمندروں میں زندگی کے بجائے موت کا راج ہوتا جا رہا ہے۔ پلاسٹک کے چھوٹے ذرات جسے مائیکرو پلاسٹکس کہتے ہیں، اب ہماری غذا اور پانی میں بھی شامل ہو چکے ہیں اور یوں ایک خاموش زہر ہمارے جسم میں بھی داخل ہو رہا ہے۔
اس کے علاوہ شور کی آلودگی (Noise Pollution) جو ہمارے شہروں میں ہر وقت موجود رہتی ہے، گاڑیوں کا بے ہنگم شور، مشینوں کی گھن گرج، تعمیراتی کاموں کی آوازیں اور لاؤڈ اسپیکر کی آوازیں، انسانوں اور جانوروں دونوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس سے نہ صرف سماعت متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، چڑچڑاپن، اور دل کے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ پرندے اور جانور اپنے قدرتی ماحول میں سکون نہیں پاتے، اور ان کا طرز زندگی متاثر ہوتا ہے۔ یہ شور ہمارے اندرونی سکون کو بھی چھین رہا ہے اور ہماری روحوں میں بے چینی بھر رہا ہے۔ اس کے علاوہ روشنی کی آلودگی (Light Pollution)، جو رات کے وقت شہروں کی بے تحاشا مصنوعی روشنیوں سے پیدا ہوتی ہے، نہ صرف تاریک آسمان کے حسن کو چھین لیتی ہے اور ستاروں کے نظارے کو ناممکن بنا دیتی ہے بلکہ رات کے وقت کے جانداروں کی زندگی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے، ان کے قدرتی طرز زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی آلودگی ہے جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے مگر اس کے اثرات گہرے ہیں۔
نجات کا راستہ اور امید کی شمع
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ آج ہمیں درپیش بیماریاں، قدرتی آفات، اور وسائل کی کمیابی جیسے تمام خطرات ہمارے اپنے وجود کو کیسے کھوکھلا کر رہے ہیں؟ یہ سب کچھ آج ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، اور ہم محض تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ کیا ہم نے مکمل طور پر ہار مان لی ہے؟ کیا دھرتی کا یہ نوحہ کبھی نہیں تھمنے والا؟ کیا زہر میں گھلتی حیات کا یہ سلسلہ ہمیشہ یوں ہی چلنے والا؟
نہیں! ہرگز نہیں، امید کی کرن ابھی باقی ہے، یہ دھرتی ابھی مکمل طور پر ماتم کناں نہیں ہوئی، ابھی بھی اس میں سانس لینے کی طاقت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کو سمجھیں، خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی اس کرۂ ارض کو بچانے کی جدوجہد کریں، یہ محض سائنس دانوں یا حکومتوں کا کام نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
یہیں سے اسلام کی عالمی اور ہمہ گیر تعلیمات کی اہمیت ابھر کر سامنے آتی ہے، جو نہ صرف انسانوں کے حقوق کی بات کرتا ہے بلکہ تمام مخلوقات اور ماحول کے تحفظ کی بھی تلقین کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماحول کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے درست استعمال کے بارے میں جو تعلیمات دیں، وہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ذیل میں اسلامی تعلیمات کے چند اہم پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جو ہمیں اس مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔
صفائی اور پاکیزگی - نصف ایمان کا تقاضا
اسلام نے صفائی پر بے حد زور دیا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکی آدھا ایمان ہے۔
الطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ [رقم الحديث: 534]
اس حدیث کا ماحولیاتی تناظر یہ ہے کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم نہ صرف اپنی جسمانی اور روحانی پاکیزگی کا خیال رکھیں بلکہ اپنے گرد و پیش یعنی اپنے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھیں۔ اگر ہوا آلودہ ہو، پانی گدلا ہو اور زمین کچرے سے بھری ہو تو یہ ہماری مجموعی پاکیزگی کے خلاف ہے۔ یہ حدیث ہمیں صاف ستھرے ماحول کی فضیلت اور اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔
[مسلم، کتاب الطهارة، رقم الحديث: 534]
